فوائد:… آخری د و احادیث سے معلوم ہوا کہ سانڈ کا مالک اس کی جفتی کی قیمت وصول نہیں کر سکتا۔
سیدنا انس بن مالک bسے مروی ہے کہ بنو کلاب کے ایک آدمی نے آپ a سے سانڈ کی جفتی کے بارے میں سوال کیا، آپ a نے اس کو اس سے منع کر دیا، اس نے کہا: جب ہم جفتی کے لیے سانڈ دیتے ہیں تو ہمیں بطورِ عزت و کرامت کوئی چیز دے دی جاتی ہے، فَرَخَّصَ لَہُ فِیْ الْکَرَامَۃِ، پس آپ a نے اس کو کرامت کی رخصت دے دی۔ (ترمذی: ۱۲۷۴، نسائی: ۷/ ۳۱۰)
یعنی وہ عطیہ جو بغیر کسی شرط کے سانڈ کے مالک کو عزت و توقیر کے طور پر پیش کیا جائے، وہ مالک کے لیے لینا جائز ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی معاملہ نیت کا ہے، سانڈ کے مالک کی نیت کمائی کی نہیں ہونی چاہیے، اس کا مقصد احسان ہو، اگر کوئی آدمی کم یا زیادہ قیمت پر مشتمل کوئی چیز بطورِ کرامت و توقیر دیتا ہے تو مالک قبول کر لے اور اگر وہ کچھ نہ دے تو مالک کو ناراض ہونے کییا اجرت کا سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی اور ہمیشہ مالک کو اجرت اور کرامہ میں فرق کرنا پڑے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کے بہانے کمائی شروع کر دے۔