۔ (۵۸۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنْ بَیْعِ الْوَلَائِ وَھِبَتِہِ۔ (مسند احمد: ۵۴۹۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ولاء کو فروخت کرنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۵۸۲۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۳۵، ومسلم: ۱۵۰۶(انظر: ۵۴۹۶)
Explanation
فوائد:… ولائ، نسب کی طرح کا ایک حق ہے ، اس لیے جیسے نسب کو فروخت یا ہبہ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح ولاء کی خرید و فروخت بھی نہیں کی جا سکتی۔
وَلاء : یہ ایک تعلق ہے جو کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے سے اس کا اس کے مالک کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔
5820
Sahih