TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5935 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 5 in this chapter
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
۔ (۵۹۳۵)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُتَلَقّٰی جَلَبٌ وَلَایَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَمَنِ اشْتَرٰی شَاۃً مُصَرَّاۃً أَوْ نَاقَۃً فَہُوَ بِآخِرِ النَّظَرَیْنِ اِذَا ھُوَ حَلَبَ إِنْ رَدَّھَا رَدَّ مَعَہَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، قَالَ الْحَکَمُ: ((أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۲۵)
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مالِ تجارت لانے والے قافلے کو راستے میں نہ ملا جائے اور نہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے اور جو آدمی دودھ روکی ہوئی بکرییااونٹنی خرید لے تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دومیں ایک اختیار ملے جائے گا، اگر وہ اس کو لوٹانا چاہے تو اناج یا کھجور کا ایک صاع بھی ساتھ لوٹائے گا۔
5935
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۹۳۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۴/ ۱۱(انظر: ۱۸۸۱۹)

Related Chapters

403
1
جس جانور کا دودھروکا گیا ہو ‘اس کی بیع
Sahih Muslim
2
Chapter: What Has Been Related About The Animal That Has Not Been Milked
باب: جس جانور کا دودھ تھن میں روک دیا گیا ہو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
3
CHAPTER: One Who Buys An Animal Whose Udders Have Been Tied Up.
باب: کوئی شخص ایسا جانور خریدے جس کے تھن میں کئی دن کا دودھ اکٹھا کیا گیا ہو اور بعد میں اس دھوکہ کا علم ہونے پر اس کو یہ بیع ناپسند ہو تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
4
Chapter: What Has Been Related About Selling Al-Muhaffalat (Animals That Have Not Been Milked)
باب: تھن میں دودھ روکے ہوئے جانور کی بیع کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Eat Masburah
باب: بندھا ہوا جانور جسے تیر مار کر ہلاک کیا گیا ہو کا کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Consuming The Flesh Of The Jallalah And Milking It
باب: گندگی کھانے والے جانور کے گوشت اور دودھ کا بیان
Jam e Tirmazi
7
ذبیحہ سے نرمی کرنے، اس کو جلدی جلدی ذبح کر دینے، چھری کو تیز کرنے اور دودھ والے جانور کو چھوڑ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
8
(57) CHAPTER. If somebody buys some goods or (an) animal and let it with the seller, or it dies before he takes it into his possession.
اگر کسی شخص نے کچھ اسباب یا ایک جانور خریدا اور اس کو بائع ہی کے پاس رکھوا دیا اور وہ اسباب تلف ہو گیا یا جانور مر گیا اور ابھی مشتری نے اس پر قبضہ نہیں کیا تھا
Sahih Bukhari
9
(8) CHAPTER. No animal may be milked without the permission of its owner.
کسی جانور کا دودھ اس کے مالک کی اجازت کے بغیر نہ دوہا جائے
Sahih Bukhari
10
(4) CHAPTER. It is permissible to mortgage an animal used for riding or milking.
گروی جانور پر سواری کرنا اس کا دودھ پینا درست ہے
Sahih Bukhari
11
(16) CHAPTER. Animals that are sacrificed (slaughtered) on An-Nusub and for the idols.
وہ جانور جن کو تھانوں اور بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہوان کا کھانا حرام ہے ۔
Sahih Bukhari
12
وہ اوقات جن میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے
Sahih Muslim
13
Chapter: The virute of giving gifts
دودھ پینے کے لیے جانور دینے کی فضیلت
Sahih Muslim
14
مسلمان )بھائی کی بیع پر بیع کرنا ‘اس کے سودے پر سودا بازی کرنا ‘بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانا اور جانور کے تھنوں میں دودھ روکنا حرام ہے
Sahih Muslim
15
Chapter: Hospitality etc
جانور کا دودھ دوہنا بغیر مالک کی اجازت کے حرام ہے
Sahih Muslim
16
CHAPTER: Regarding A Wayfarer Eating Dates And Drinking Milk He Passes By.
باب: مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے ۔
Sunnan Abu Dawood
17
CHAPTER: Regarding Whoever Said That He May Not Milk (An Animal Without Permission).
باب: بغیر اجازت کے کسی کے جانور کا دودھ نہ نکالے ۔
Sunnan Abu Dawood
18
CHAPTER: The prohibition of eating al Jallalah and its milk.
باب: گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
19
رہن کے جانور پر سواری کرنا اور اس کا دودھ دوہنا جائز ہے
Sunnan Ibn e Maja
20
آدمی نے قربانی کا جانور صحیح سالم خریدا، اس میں عیب پیدا ہو گیا تو کیا کرے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
21
دودھ والے جانور کو ذبح کرنا منع ہے
Sunnan Ibn e Maja
22
جن جانوروں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے
Sunnan Ibn e Maja
23
باب: «جلّالہ» (گندگی کھانے والے جانور) کا دودھ پینے کی ممانعت۔
Sunnan Nisai
24
باب: جانور کے تھن میں دودھ روک کر اسے بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
باب: «مصراۃ» (تھن باندھے جانور) کی بیع منع ہے «مصراۃ»: اس اونٹنی یا بکری کو کہتے ہیں: جس کے تھن کو باندھ دیا جاتا ہے اور دو تین دن اسے دوہنا ترک کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا دودھ اکٹھا ہوتا رہتا ہے، خریدنے والا اس کا دودھ زیادہ دیکھ کر اس کی قیمت بڑھا
Sunnan Nisai
26
(54)Chapter: [What Has Been Related] About Sprinkling Water On The Urine Of Young Boy Before (He reaches The Age That) He Eats Food
باب: دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر پانی چھڑک لینا کافی ہے
Jam e Tirmazi
27
(55)Chapter: What Has Been Related About The Urine Of That Whose Meat Is Eaten
باب: جس جانور کا گوشت کھانا حلال ہو اس کے پیشاب کا حکم
Jam e Tirmazi
28
(66)Chapter: [About] Rinsing Out The Mouth After Drinking Milk
باب: دودھ پینے پر کر کلی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: [What Has Been Related] About One Who Catches A Rak'ah Of The Friday Prayer
باب: جسے جمعہ کی صرف ایک رکعت ملی اس کو جمعہ مل گیا
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Mentioned About Sprinkling Water On The Urine Of A Male Child Of Suckling Age
باب: دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related That The Injuries Caused By The Animal Are Without Liability And The Khumus Is Due On Rikaz
باب: جانوروں کا زخم رائیگاں ہے یعنی اس میں تاوان نہیں اور مدفون مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا​
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About What Creatures The Muhrim May Kill
باب: محرم کون کون سے جانور مار سکتا ہے؟
Jam e Tirmazi
34
Chapter: (Purchasing the Hadi)
باب: قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Garlanding The Hadi Fr The Resident
باب: مقیم ہدی کے جانور کو قلادہ (پٹہ) پہنائے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About What Is Done With The Hadi When It Is Afflicted
باب: ہدی کا جانور جب راستے میں مرنے لگے تو کیا کیا جائے؟
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What has been related about a man's milk
باب: دودھ کی نسبت مرد کی طرف ہو گی
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What has been related about: One sip or two sips will not make a prohibition
باب: ایک بار یا دو بار چھاتی سے دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What has been related about: Suckling does not make a prohibition except during infancy less than two years
باب: رضاعت کی حرمت دو سال سے کم کی عمر ہی میں دودھ پینے سے ثابت ہو گی
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Barter Animals For Animals On Credit
باب: جانور کو جانور سے ادھار بیچنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Stipulation For Riding An Animal At The Time Of The Sale
باب: جانور بیچتے وقت اس پر سواری کی شرط لگا کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Milking Livestock Without Permission Of The Owners
باب: مالک کی اجازت کے بغیر جانور کے دوہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Taking A Camel Or Other Animals On Loan
باب: اونٹ یا کوئی اور جانور قرض لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About One Whose Head Was Fractured With A Rock
باب: جس کا سر پتھر سے کچل دیا گیا ہو اس کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About One Who Commits Bestiality
باب: جانور سے وطی (جماع) کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering With Al-Marwah (Granite)
باب: پتھر سے ذبح کئے ہوئے جانور کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About: Whatever Is Cut From Something Living, Then It Is Dead Flesh
باب: زندہ جانور سے کاٹا ہوا گوشت مردار کے حکم میں ہے
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended To Slaughter
باب: کس قسم کے جانور کی قربانی مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Is Not Allowed For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Is Disliked For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

4
Musnad Ahmad
5933
۔ (۵۹۳۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَیَبْلُغُ بِہٖقَالَ: قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلَقَّوُا الْبَیْعَ وَلَا تُصَرُّوْا الْغَنَمَ وَالْاِبِلَ لِلْبَیْعِ، فَمَنِ ابْتَاعَہَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ اِنْ شَائَ أَمْسَکَہَا وَاِنْ شَائَ رَدَّھَا بِصَاعِ تَمْرٍ لَا سَمْرَائَ۔)) (مسند احمد: ۷۳۰۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سامان تجارت لانے والے قافلوں کو (منڈییا بازار میں پہنچنے سے پہلے راستوں میں جا کر) نہ ملو اور نہ بکریوں اور اونٹنیوں کو بیچنے کے لیے ان کا دودھ روکو، پس جو شخص ایسا جانور خرید لے گا تو اس کو دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہو گا، اگر وہ چاہے تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رہنے دے اور چاہے تو اس کو واپس کر دے، لیکن ایک صاع کھجور کا بھی ساتھ واپس کرے، نہ کہ گندم کا۔
Musnad Ahmad
5934
۔ (۵۹۳۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَنِ اشْتَرٰی لِقْحَۃً مُصَرَّاۃً اَوْ شَاۃً مُصَرَّاۃً فَحَلَبَہَا فَہُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَیْنِ بِالْخِیَارِ اِلٰی أَنْ یَحُوْزَھَا أَوْ یَرُدَّھَا وَإِنَائً مِنْ طَعَامٍ۔)) (مسند احمد: ۷۵۱۵)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے وہ اونٹنی یا بکری خرید لی، جس کادودھ روکا گیا ہو، تو اسے دو معاملے میں ایک کا اختیار ہو گا، یا تو اس کو اپنی ملکیت میں رکھ لے یا واپس کر دے، لیکن اس کے ساتھ (صاع کے بقدر) برتن اناج کا بھی دے۔
Musnad Ahmad
12433
۔ (۱۲۴۳۳)۔ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَمْرُو بْنُ سَعِیدٍ إِلٰی مَکَّۃَ بَعْثَہُ یَغْزُو ابْنَ الزُّبَیْرِ أَتَاہُ أَبُو شُرَیْحٍ، فَکَلَّمَہُ وَأَخْبَرَہُ بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلٰی نَادِی قَوْمِہِ فَجَلَسَ فِیہِ، فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَجَلَسْتُ مَعَہُ فَحَدَّثَ قَوْمَہُ، کَمَا حَدَّثَ عَمْرَو بْنَ سَعِیدٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَمَّا قَالَ لَہُ عَمْرُو بْنُ سَعِیدٍ، قَالَ: قُلْتُ: ہٰذَا إِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ افْتَتَحَ مَکَّۃَ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ عَدَتْ خُزَاعَۃُ عَلٰی رَجُلٍ مِنْ ہُذَیْلٍ فَقَتَلُوہُ وَہُوَ مُشْرِکٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِینَا خَطِیبًا، فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَکَّۃَیَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَہِیَ حَرَامٌ مِنْ حَرَامِ اللّٰہِ تَعَالٰی إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، لَا یَحِلُّ لِامْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ فِیہَا دَمًا، وَلَا یَعْضِدَ بِہَا شَجَرًا، لَمْ تَحْلِلْ لِأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ یَکُونُ بَعْدِی، وَلَمْ تَحْلِلْ لِی إِلَّا ہٰذِہِ السَّاعَۃَ غَضَبًا عَلٰی أَہْلِہَا، أَ لَا ثُمَّ قَدْ رَجَعَتْ کَحُرْمَتِہَا بِالْأَمْسِ، أَ لَا! فَلْیُبَلِّغْ الشَّاہِدُ مِنْکُمْ الْغَائِبَ، فَمَنْ قَالَ لَکُمْ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ قَاتَلَ بِہَا فَقُولُوْا: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَلَّہَا لِرَسُولِہِ وَلَمْ یُحْلِلْہَا لَکُمْ، یَا مَعْشَرَ خُزَاعَۃَ وَارْفَعُوا أَیْدِیَکُمْ عَنِ الْقَتْلِ، فَقَدْ کَثُرَ أَنْ یَقَعَ لَئِنْ قَتَلْتُمْ قَتِیلًا لَأَدِیَنَّہُ، فَمَنْ قُتِلَ بَعْدَ مَقَامِی ہٰذَا، فَأَہْلُہُ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ إِنْ شَائُ وْا فَدَمُ قَاتِلِہِ، وَإِنْ شَائُ وْا فَعَقْلُہُ۔)) ثُمَّ وَدٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ الَّذِی قَتَلَتْہُ خُزَاعَۃُ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَعِیدٍ لِأَبِی شُرَیْحٍ: انْصَرِفْ أَیُّہَا الشَّیْخُ! فَنَحْنُ أَعْلَمُ بِحُرْمَتِہَا مِنْکَ، إِنَّہَا لَا تَمْنَعُ سَافِکَ دَمٍ، وَلَا خَالِعَ طَاعَۃٍ، وَلَا مَانِعَ جِزْیَۃٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ کُنْتُ شَاہِدًا وَکُنْتَ غَائِبًا، وَقَدْ بَلَّغْتُ، وَقَدْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُبَلِّغَ شَاہِدُنَا غَائِبَنَا، وَقَدْ بَلَّغْتُکَ فَأَنْتَ وَشَأْنُکَ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۹۰)
ابوشریح خزاعی سے مروی ہے کہ جب عمرو بن سعید نے سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکربھیجا تو ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے پاس آکر اس سے گفتگو کی اور انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جو سنا تھا اسے وہ بتلایا، اس کے بعد وہ اپنی قوم میں آکر بیٹھ گئے، تو میں بھی اٹھ کر ان کے پاس جا بیٹھا، تو انہو ںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی جو بات عمرو بن سعید کو سنائی اور اس کے جواب میں عمرو بن سعید نے جو کچھ کہا، انہوں نے وہ ساری بات قوم کو سنائی،انہوں نے بتلایا کہ میں نے اس سے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو دوسرے ہی دن بنو خزاعہ نے بنو ہذیل کے ایک آدمی پر حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا، مقتول مشرک تھا، ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ دور جاہلیت میں اس نے ان کے کسی آدمی کو مارا تھا، تو انہوں نے اس کا انتقام کے لیا، کیونکہ وہ مدت سے اسی تاک میں تھے تو اس واقعہ کے بعد اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ تعالیٰ نے جب سے آسمان اور زمین بنائے ہیں اس نے اسی دن سے مکہ کو حرمت والا قرا ردیا ہے، لہٰذ ا یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق قیامت تک حرم ہی رہے گا، جس آدمی کا اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس شہر میں کسی کا ناحق خون بہائے، وہ ان اس کے کسی درخت کو کاٹے مجھ سے پہلے اور میرے بعد اس میں لڑائی کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں اور اہل مکہ پر غضب کی وجہ سے مجھے بھی صرف اس تھوڑے سے وقت کے لیے اجازت دی گئی تھی، خبردار! اب دوبارہ اس کی حرمت اسی طرح ہے جیسے کل تھی، خبردار! تم میں سے جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، اگر کوئی تم سے کہے کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو مکہ میں لڑائی لڑی ہے، توتم اس سے کہنا:کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے تو مکہ میں لڑائی کی اجازت دی تھی، اس نے تمہیں اس کی اجازت نہیں دی ہے، اے خزاعہ کے خاندان! تم قتل سے اپنے ہاتھوں کو روک لو، یہ کام بہت ہو چکا، تم ایک آدمی کو قتل کر چکے ہو، اس کی دیت یعنی خون بہا میں ادا کروں گا، اس وقت کے بعد جو آدمی مارا گیا تو اس کے ورثاء کو دو بہترین میں سے کسی ایک کا اختیار ہو گا، وہ چاہیں گے تو قاتل کو قتل کر یں گے اور اگر چاہیں گے تو خون بہا وصول کریں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کا خون بہا ادا کر دیا، جو بنو خزاعہ نے مارا تھا،یہ ساری حدیث سن کر عمرو بن سعید نے ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا ارے بوڑھے! جا جا مکہ کی حرمت کو ہم تم سے بہتر جانتے ہیں، یہ حرمت ناحق خون بہانے والے اطاعت سے منہ موڑنے والے اور کسی مجرم کے لیے نہیں ہے، ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتلایا کہ عمرو کی یہ بات سن کر میں نے ان سے کہا: کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی، میں وہاں موجود تھا، تم نہیں تھے اور میں یہ حدیث تم تک پہنچا چکا کیونکہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم سے جو بھی وہاں موجود ہے وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچادے جو وہاں ا س وقت موجود نہ تھے، میں یہ بات تم تک پہنچاچکا ہوں، اب تم جانو اور تمہارا کام۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی۔
Musnad Ahmad
12588
۔ (۱۲۵۸۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا الْوَلِیْدُ الْاَوْزَاعِیُّ ثَنَا یَحْیٰی عَنْ اَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ أَبِی، وَأَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ، حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمَعْنَی قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہِمْ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْفِیلَ، وَسَلَّطَ عَلَیْہَا رَسُولَہُ وَالْمُؤْمِنِینَ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ، ثُمَّ ہِیَ حَرَامٌ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، لَا یُعْضَدُ شَجَرُہَا، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہَا، وَلَا تَحِلُّ لُقْطَتُہَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ، إِمَّا أَنْ یَفْدِیَ، وَإِمَّا أَنْ یَقْتُلَ۔)) فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِیُقَالُ لَہُ: أَبُو شَاہٍ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اکْتُبُوا لِی، فَقَالَ: ((اکْتُبُوا لَہُ۔)) فَقَالَ عَمُّ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّہُ لِقُبُورِنَا وَبُیُوتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِلَّا الْإِذْخِرَ۔)) فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِیِّ: وَمَا قَوْلُہُ: اکْتُبُوا لِأَبِی شَاہٍ، وَمَا یَکْتُبُوْنَ لَہُ؟ قَالَ: یَقُولُ: اکْتُبُوا لَہُ خُطْبَتَہُ الَّتِی سَمِعَہَا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَیْسَیُرْوَی فِی کِتَابَۃِ الْحَدِیثِ شَیْئٌ أَصَحُّ مِنْ ہٰذَا الْحَدِیثِ، لِأَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَہُمْ قَالَ: ((اکْتُبُوْا لِأَبِی شَاہٍ۔)) مَا سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَتَہُ۔ (مسند احمد: ۷۲۴۱)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے مکہ مکرمہ فتح کر ادیا تو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک لیاتھا اور اللہ نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو مکہ پر تسلط دیاہے، میرے لیے دن کے کچھ حصہ کے لیے اس شہر میں لڑائی کی اجازت دی گئی اب یہ قیامت تک کے لیے حرم ہے، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ دھمکایا جائے، یہاں پر گری ہوئی چیزوں کے ملنے پر اس کااٹھانا ناجائزہے، ہاں اگر کوئی اس کا اعلان کر سکتا ہو تو وہ اٹھا سکتا ہے اور جس کا کوئی آدمی قتل ہوجائے اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے، وہ یا تو فدیہ قبول کر لے یا قاتل کو قتل کرے۔ ایک یمنی آدمی، جس کا نام ابو شاہ تھا، نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! یہ احکامات میرے لیے لکھوادیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے درخواست کی کہ حددو حرم میں سے اذخر گھا س کے کاٹنے کی اجازت دے دیں، کیونکہ یہ قبروں اور گھروں کے عام استعمال کی چیز ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذخر کاٹنے کی اجازت ہے۔ ولید راوی کہتے ہیں: میںنے اوزاعی سے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد ابو شاہ کے لیے لکھ دو کا کیا مطلب ہے؟ صحابہ نے اس کے لیے کیا لکھا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ کا مقصد تھا کہ جو خطبہ اس آدمی نے سنا ہے، وہ اس کے لیے لکھ دیا جائے، ابو عبدالرحمن نے کہا ہے کہ جواز کتابت حدیث کے بارے میں اس سے بڑھ کر کوئی حدیث صحیح نہیں، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا تھا کہ ابو شاہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ لکھا جائے۔