TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو

Chapter 35 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 35 of 48 · 5 Hadith
۔ (۵۹۳۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَیَبْلُغُ بِہٖقَالَ: قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلَقَّوُا الْبَیْعَ وَلَا تُصَرُّوْا الْغَنَمَ وَالْاِبِلَ لِلْبَیْعِ، فَمَنِ ابْتَاعَہَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ اِنْ شَائَ أَمْسَکَہَا وَاِنْ شَائَ رَدَّھَا بِصَاعِ تَمْرٍ لَا سَمْرَائَ۔)) (مسند احمد: ۷۳۰۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سامان تجارت لانے والے قافلوں کو (منڈییا بازار میں پہنچنے سے پہلے راستوں میں جا کر) نہ ملو اور نہ بکریوں اور اونٹنیوں کو بیچنے کے لیے ان کا دودھ روکو، پس جو شخص ایسا جانور خرید لے گا تو اس کو دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہو گا، اگر وہ چاہے تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رہنے دے اور چاہے تو اس کو واپس کر دے، لیکن ایک صاع کھجور کا بھی ساتھ واپس کرے، نہ کہ گندم کا۔
Takhreej
(۵۹۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۴۸، ۲۱۵۱، ومسلم: ۱۵۲۴ (انظر: ۷۳۰۵)
5933
Sahih
۔ (۵۹۳۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَنِ اشْتَرٰی لِقْحَۃً مُصَرَّاۃً اَوْ شَاۃً مُصَرَّاۃً فَحَلَبَہَا فَہُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَیْنِ بِالْخِیَارِ اِلٰی أَنْ یَحُوْزَھَا أَوْ یَرُدَّھَا وَإِنَائً مِنْ طَعَامٍ۔)) (مسند احمد: ۷۵۱۵)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے وہ اونٹنی یا بکری خرید لی، جس کادودھ روکا گیا ہو، تو اسے دو معاملے میں ایک کا اختیار ہو گا، یا تو اس کو اپنی ملکیت میں رکھ لے یا واپس کر دے، لیکن اس کے ساتھ (صاع کے بقدر) برتن اناج کا بھی دے۔
Takhreej
(۵۹۳۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: ((فَھُوَ بِالْخِیَارِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) … ’’اسے تین دنوں تک ایسا جانور واپس کر دینے کا اختیار ہے۔‘‘
5934
Sahih
۔ (۵۹۳۵)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُتَلَقّٰی جَلَبٌ وَلَایَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَمَنِ اشْتَرٰی شَاۃً مُصَرَّاۃً أَوْ نَاقَۃً فَہُوَ بِآخِرِ النَّظَرَیْنِ اِذَا ھُوَ حَلَبَ إِنْ رَدَّھَا رَدَّ مَعَہَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، قَالَ الْحَکَمُ: ((أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۲۵)
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مالِ تجارت لانے والے قافلے کو راستے میں نہ ملا جائے اور نہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے اور جو آدمی دودھ روکی ہوئی بکرییااونٹنی خرید لے تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دومیں ایک اختیار ملے جائے گا، اگر وہ اس کو لوٹانا چاہے تو اناج یا کھجور کا ایک صاع بھی ساتھ لوٹائے گا۔
Takhreej
(۵۹۳۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۴/ ۱۱(انظر: ۱۸۸۱۹)
5935
Sahih
۔ (۵۹۳۶)۔ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ: مَنِ اشْتَرٰی مُحَفَّلَۃً وَرُبَمَا قَالَ: شَاۃً مُحَفَّلَۃً، فَلْیَرُدَّھَا وَلْیَرُدَّ مَعَہَا صَاعًا وَنَہَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ تَلَقِّی الْبُیُوْعِ۔ (مسند احمد: ۴۰۹۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی، وہ (اگر چاہے تو) اسے واپس لوٹا دے، لیکن اس کے ساتھ ایک صاع بھی لوٹائے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قافلوں کو راستے میں ملنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۵۹۳۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۴۹، ۲۱۶۴(انظر: ۴۰۹۶)
5936
Sahih
۔ (۵۹۳۷)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَالصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ: ((بَیْعُ الْمُحَفَّـلَاتِ خِلَابَۃٌ وَلَا تَحِلُّ الْخِلَابَۃُ لِمُسْلِمٍ)) (مسند احمد: ۴۱۲۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، جو صادق اور مصدوق ہیں، نے فرمایا: دودھ روکے ہوئے جانوروں کی بیع کرنا دھوکہ ہے اور مسلمان کے لیے دھوکہ کرنا حلال نہیں ہے۔
Takhreej
(۵۹۳۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جابر بن یزید الجعفی، وروی مرفوعا وموقوفہ ھو الصحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۴۱ (انظر: ۴۱۲۵)
Explanation
فوائد:… ان احادیث کا واضح ترین مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی آدمی دودھ روکا ہوا جانور خرید لیتا ہے تو اس کو تین ایام کے اندر اندر سودا واپس کرنے کا اختیار مل جاتا ہے، البتہ واپسی کی صورت میں اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ جانور کے ساتھ ساتھ کھجوروں کا ایک صاع مالک کو واپس کرے، یہ دراصل روکے ہوئے دودھ کا عوض ہے، امام شافعی اور امام احمد سمیت جمہور اہل علم کییہی رائے ہے۔ احناف میں سے زفر نے جمہور سے اتفاق کیا ہے، البتہ وہ کھجور کے ایک صاع اور گندم کے نصف صاع میں اختیار دیتے ہیں۔ عام احناف نے اس عیب کی وجہ سے بیع کو فسخ کرنے کا اختیار دیا ہے اور قیاس جلی کی روشنی میں اس حدیث میں بیان کیے گئے کھجوروں کے ایک صاع کو بھی تسلیم کرنے سے دوری اختیار کی ہے، اس مقصد کے لیے کبھی تو انھوں نے یہ کہہ دیا کہ سیدنا ابو ہریرہb فقیہ نہیں ہے، اس لیے ان کی وہ روایت قابل قبول نہیں ہو گی، جو قیاس جلی کے خلاف ہو گی۔ ہماری گزارش یہ ہو گی کہ سیدنا ابو ہریرہbبہت زیادہ احادیث کے حافظ تھے اور یہی صفت فقیہ کے شایان شان ہے، نیز اسی حدیث کو روایت کرنے والے سیدنا عبد اللہ بن مسعود b بھی ہیں کہ احناف جن کو فقہ اور اجتہاد کا امام سمجھتے ہیں؟ اس معاملے میں احناف کی سب سے بڑی غلطییہ ہے کہ وہ بعض واضح معاملات کی روشنی میں قانون بنا لیتے ہیں، پھر اس قانون کی روشنی میں مختلف حیلے بہانے تلاش کر کے شرعی نصوص کو ردّ کرنا شروع کر دیتے ہیں، اس کی ایک مثال یہاں بیان کی گئی ہے۔ ہمارا نظریہیہ ہے کہ تمام قوانین و ضوابط شرعی نصوص کے تابع ہیں، قرآن و حدیث کو دیکھ کر قانون بنایا جائے گا اور آیات و احادیث کو دیکھ کر اس قانون میں سے مخصوص چیزوں کو مستثنی قرار دیا جائے گا، یہ قانون شریعت نے دیا ہے کہ چیز کو دیکھ کر اس کی قیمت طے کی جائے گی، لیکن روکے ہوئے دودھ کے عوض میں ایک صاع کھجوریں دے دینا،یہ بھی شرعی قانون ہے، اس لیے اس مخصوص مقام پر دوہے جانے والے پانچ دس کلو دودھ کی قیمت ادا نہیں کی جائے گی، بلکہ صرف ایک صاع کھجوریں دی جائیں گی، ایک صاع کا وزن دو کلوسو گرام ہو تا ہے۔
5937
Zaeef

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.