۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادھار پر حیوان کے عوض حیوانیعنی دو کے بدلے ایک جانور کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے، اگر نقد و نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادھار پر حیوان کے عوض حیوان کی تجارت کرنے سے منع کیا ہے۔
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا صفیہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آ گئی تھیں، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک خوبصورت لونڈی سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آ گئی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سات افرادکے عوض خرید لیا تھا۔
۔ عمر بن حریش کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہم ایک ایسے علاقے میں ہیں کہ جہاں دینارہے نہ درہم، اس لیے ہم ادھار کی ایک مدت تک کے لئے اونٹ اور بکریوں کا لین دین کرتے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے اس مسئلہ کے بارے میں باخبر آدمی سے سوال کیا ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں سے ایک لشکر تیار کیا، مگر ابھی تک تیاری مکمل نہ ہوئی تھی کہ اونٹ ختم ہوگئے، جبکہ لوگوں کی ضرورت ابھی تک باقی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ہمارے لئے صدقہ کی اونٹنیوں کے عوض اونٹ خرید لو،جب میسر آئیں گی تو ہم مالکان کو ادا کردیں گے۔ پھر میں نے دو تین تین اونٹنیوں کے عوض ایک ایک اونٹ خریدا،یہاں تک کہ تعداد مکمل ہو گئی، پھر جب صدقہ کے اونٹ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ادا کر دیئے۔