TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 975 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
ظہر کی پہلی رکعت میں لمبا قیام کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ الْقَنَّادُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ يُصَلِّي بِنَا الظُّهْرَ فَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ كَذَلِكَ وَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَةَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالرَّكْعَةَ الْأُولَى يَعْنِي فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ .
Abdullah bin Abi Qatadah narrated that: His father said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to lead us in prayer, and he would recite in the first two rak'ahs and make us hear some verses. And he would make the (first) Rak'ah lengthy in Zuhr, and also the first rak'ah. Meaning in Subh.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ آپ ہمیں ظہر پڑھاتے تھے تو آپ پہلی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے، اور یونہی کبھی ایک آدھ آیت ہمیں سنا دیتے، اور ظہر اور فجر کی پہلی رکعت بہ نسبت دوسری رکعت کے لمبی کرتے تھے ۱؎۔
975
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 974 In-book reference : Book 11, Hadith 99 English translation : Vol. 2, Book 11, Hadith 975
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 975
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان ۹۶ (۷۵۹)،۹۷ (۷۶۲) مختصراً، ۱۰۷ (۷۷۶) مطولاً، ۱۰۹ (۷۷۷)،۱۱۰ (۷۷۹)، صحیح مسلم/الصلاة ۳۴ (۴۵۱)، سنن ابی داود/الصلاة ۱۲۹ (۷۹۸، ۷۹۹)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۸ (۸۲۹)، (تحفة الأشراف: ۱۲۱۰۸)، مسند احمد ۴/۳۸۳، و ۵/۲۹۵، ۲۹۷، ۳۰۰، ۳۰۱، ۳۰۵، ۳۰۷، ۳۰۸، ۳۰۹، ۳۱۰، ۳۱۱، سنن الدارمی/الصلاة ۶۳ (۱۳۲۸، ۱۳۲۹، ۱۳۳۰) (صحیح)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎: تاکہ لوگ پہلی رکعت کی فضیلت سے محروم نہ ہونے پائیں۔

Related Chapters

387
1
ظہر کی دوسری رکعت میں (پہلی رکعت کی بہ نسبت) قیام مختصر کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
امام کا پہلی رکعت کو لمبا کرنے اوراس شخص کا انتظار کرنے کا بیان جس کو وہ داخل ہوتا ہوا محسوس کرے، تاکہ وہ رکعت پا لے
Musnad Ahmad
3
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
Musnad Ahmad
4
(18) CHAPTER. The first Raka of the eclipse prayer is longer (than the second).
گرہن کی نماز میں پہلی رکعت کا لمبا کرنا
Sahih Bukhari
5
نماز ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں کی قرأت کا بیان۔
Sunnan Nisai
6
Chapter: What Has Been Related About the Length Of The Sitting After The First Two Rak'ah
باب: پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ (تشہد کے لیے بیٹھنے) کی مقدار کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Says The Taslim After Two Rakah During The Zuhr Or Asr Prayers
باب: غلطی سے ظہر یا عصر کی دو ہی رکعت میں سلام پھیر دینے والے کا حکم
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Four Rak'ah Before Az-Zuhr
باب: ظہر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Az-Zuhr
باب: ظہر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
11
(110) CHAPTER. To prolong the first Raka.
پہلی رکعت ( میں قرآت ) طویل ہونی چاہئے
Sahih Bukhari
12
(142) CHAPTER. Sitting straight in a Witr prayer (i .e., an odd Raka) and then getting up.
اس شخص کے بارے میں جو شخص نماز کی طاق رکعت ( پہلی اور تیسری ) میں تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر اٹھ جائے
Sahih Bukhari
13
(9) CHAPTER. To prolong the standing posture in the Tahajjud prayer.
رات کے قیام میں نماز کولمبا کرنا ( یعنی قرآت بہت کرنا )
Sahih Bukhari
14
(34) CHAPTER. To offer two Raka before the Zuhr prayer.
ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھنا
Sahih Bukhari
15
Chapter: The best prayer is that in which one stands for a long time (tuwlul-qunut)
بہترین نماز وہ ہے جس میں تواضع بھر المبا قیام ہو
Sahih Muslim
16
CHAPTER: Standing Up In The Single (Odd Numbered Rak’ah).
باب: پہلی اور تیسری رکعت سے اٹھنے کی کیفیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
17
CHAPTER: The Four Rak’ahs Before And After Dhuhr.
باب: ظہر سے پہلے اور اس کے بعد کی چار رکعت سنت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
18
ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
19
جو ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں نہ پڑھ سکا ہو اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
20
جس کی ظہر کے بعد کی دو رکعت سنت چھوٹ جائے اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
21
ظہر سے پہلے اور اس کے بعد چار چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
22
بھول کر ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
23
تہجد (قیام اللیل) دو دو رکعت پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
24
نماز میں قیام لمبا کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
25
عصر کی پہلی دونوں رکعتوں کی قرأت کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
عشاء کی پہلی رکعت میں قرأت کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
پہلی دونوں رکعتوں میں قرأت لمبی کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
Chapter: , What Has Been Related About One Who Caught A Rak'ah About One Asr Before The Sun Has Set
باب: جسے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت مل جائے اسے عصر مل گئی
Jam e Tirmazi
29
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of The First Row
باب: پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related That The Prophet (saws) Would Not Raise His Hands Except For The First Time
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے تھے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About 'When One Of You Enters The Masjid Let Him Perform Two Rak'ah'
باب: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں پڑھے
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Imam Getting Up Forgetfully After Two Rak'ah
باب: امام دو رکعت کے بعد بیٹھنے کے بجائے بھول کر کھڑا ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Lengthy Standing During Salat
باب: نماز میں دیر تک قیام کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Prostrations Of As-Sahw Before The Salaam
باب: سلام سے پہلی سجدہ سہو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About 'The First Thing The Slave (Of Allah) Will Be Reckoned For On The Day Of Judgement Is The Salat'
باب: قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے محاسبہ کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About One Who Prays Twelve Rak'ah Of Sunnah In A and Night, And What Virtues He Will Have For That
باب: دن و رات میں بارہ رکعتیں سنت پڑھنے کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Brevity Of The Two Rak'ah Of Fajr And What The Prophet (S) Would Recite In Them
باب: فجر کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھنے اور ان سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Talking After The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں رکعتوں کے بعد گفتگو کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat After Fajr Begins Except For Two Rak'ah'
باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Four (Rak'ah) Before Asr
باب: عصر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Al-Maghrib And The Recitation In Them
باب: مغرب کے بعد دو رکعت پڑھنے اور ان میں قرأت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Him (S) Praying Them In The House
باب: مغرب کی دو رکعت سنت گھر میں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Isha
باب: عشاء کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Salat Of The Night Is Two By Two
باب: رات کی (نفل) نماز دو دو رکعت ہے
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Recitation During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) میں قرأت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Seven (Rak'ah) For Al-Witr
باب: سات رکعت وتر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Five (Rak'ah) For Al-Witr
باب: پانچ رکعت وتر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Three (Rak'ah) For Al-Witr
باب: تین رکعت وتر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

180
Sahih Bukhari
776
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ وَيُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، وَهَكَذَا فِي الْعَصْرِ ، وَهَكَذَا فِي الصُّبْحِ .
Narrated `Abdullah bin Abi Qatada: My father said, The Prophet uses to recite Al-Fatiha followed by another Sura in the first two rak`at of the prayer and used to recite only Al-Fatiha in the last two rak`at of the Zuhr prayer. Sometimes a verse or so was audible and he used to prolong the first rak`a more than the second and used to do the same in the `Asr and Fajr prayers.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دو پہلی رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سنا بھی دیا کرتے تھے اور پہلی رکعت میں قرآت دوسری رکعت سے زیادہ کرتے تھے۔ عصر اور صبح کی نماز میں بھی آپ کا یہی معمول تھا۔
Jam e Tirmazi
366
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ . قَالَ شُعْبَةُ:‏‏‏‏ ثُمَّ حَرَّكَ سَعْدٌ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقُولُ:‏‏‏‏ حَتَّى يَقُومَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ حَتَّى يَقُومَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ أَنْ لَا يُطِيلَ الرَّجُلُ الْقُعُودَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وَلَا يَزِيدَ عَلَى التَّشَهُّدِ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنْ زَادَ عَلَى التَّشَهُّدِ فَعَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رُوِيَ عَنْ الشَّعْبِيِّ وَغَيْرِهِ.
Ubaidullah bin Abdullah bin Mas'ud narrated from his father (Abdullah bin Mas'ud) that he said: When Allah's Messenger sat for the first two Rak'ah it was as if he was on hot stones. Shu'bah (one of the narrators) said: Then Sa'd's lips moved (saying) something. So I said: 'Until he stood?' He said: 'Until he stood.'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی دونوں رکعتوں میں بیٹھتے تو ایسا لگتا گویا آپ گرم پتھر پر بیٹھے ہیں ۱؎، شعبہ ( راوی ) کہتے ہیں: پھر سعد نے اپنے دونوں ہونٹوں کو کسی چیز کے ساتھ حرکت دی ۲؎ تو میں نے کہا: یہاں تک کہ آپ کھڑے ہو جاتے؟ تو انہوں نے کہا: یہاں تک کہ آپ کھڑے ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، مگر ابوعبیدہ کا اپنے باپ سے سماع نہیں ہے، ۲- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ اسی کو پسند کرتے ہیں کہ آدمی پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ کو لمبا نہ کرے اور تشہد سے زیادہ کچھ نہ پڑھے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس نے تشہد سے زیادہ کوئی چیز پڑھی تو اس پر سہو کے دو سجدے لازم ہو جائیں گے، شعبی وغیرہ سے اسی طرح مروی ہے ۳؎۔
Jam e Tirmazi
481
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ غَدَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي صَلَاتِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَبِّرِي اللَّهَ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَسَبِّحِي اللَّهَ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَاحْمَدِيهِ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلِي مَا شِئْتِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ نَعَمْ نَعَمْ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ حَدِيثٍ فِي صَلَاةِ التَّسْبِيحِ وَلَا يَصِحُّ مِنْهُ كَبِيرُ شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَأَى ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ صَلَاةَ التَّسْبِيحِ وَذَكَرُوا الْفَضْلَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو وَهْبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَنِ الصَّلَاةِ الَّتِي يُسَبَّحُ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يُكَبِّرُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَتَعَوَّذُ وَيَقْرَأُ:‏‏‏‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 وَفَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ عَشْرَ مَرَّاتٍ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْكَعُ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَسْجُدُ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَسْجُدُ الثَّانِيَةَ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عَلَى هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ تَسْبِيحَةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ‏‏‏‏‏‏يَبْدَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِخَمْسَ عَشْرَةَ تَسْبِيحَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُسَبِّحُ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ صَلَّى لَيْلًا فَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُسَلِّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ صَلَّى نَهَارًا فَإِنْ شَاءَ سَلَّمَ وَإِنْ شَاءَ لَمْ يُسَلِّمْ قَالَ أَبُو وَهْبٍ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ يَبْدَأُ فِي الرُّكُوعِ بِ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ رَبِيَ الْعَظِيمِ وَفِي السُّجُودِ بِ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ رَبِيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُسَبِّحُ التَّسْبِيحَاتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ إِنْ سَهَا فِيهَا يُسَبِّحُ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ عَشْرًا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا إِنَّمَا هِيَ ثَلَاثُ مِائَةِ تَسْبِيحَةٍ.
Anas bin Malik narrated that : Umm Sulaim came upon the Prophet and said: Teach me some words that I can say in my Salat. So he said: Mention Allah's Greatness (saying: Allahu Akbar) ten times, mention Allah's Glory (saying: Subhan Allah) ten times, and mention Allah's praise (saying: Al-Hamdulilah) ten times. Then ask as you like, (for which) He says: 'Yes. Yes.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی الله عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئیے جنہیں میں نماز ۱؎ میں کہا کروں، آپ نے فرمایا: ”دس بار «الله أكبر» کہو، دس بار «سبحان الله» کہو، دس بار «الحمد لله» کہو، پھر جو چاہو مانگو، وہ ( اللہ ) ہر چیز پر ہاں، ہاں کہتا ہے“، ( یعنی قبول کرتا ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، فضل بن عباس اور ابورافع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صلاۃ التسبیح کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بھی کئی حدیثیں مروی ہیں لیکن کوئی زیادہ صحیح نہیں ہیں، ۴- ابن مبارک اور دیگر کئی اہل علم صلاۃ التسبیح کے قائل ہیں اور انہوں نے اس کی فضیلت کا ذکر کیا ہے، ۵- ابو وہب محمد بن مزاحم العامری نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے صلاۃ التسبیح کے بارے میں پوچھا کہ جس میں تسبیح پڑھی جاتی ہے، تو انہوں نے کہا: پہلے تکبیر تحریمہ کہے، پھر «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! تیری ذات پاک ہے، اے اللہ تو ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، بابرکت ہے تیرا نام، بلند ہے تیری شان اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ کہے، پھر پندرہ مرتبہ «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہے، پھر «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ”اور «بسم الله الرحمن الرحيم» کہے، پھر سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھے، پھر دس مرتبہ «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہے، پھر رکوع میں جائے اور دس مرتبہ یہی کلمات کہے، پھر سر اٹھائے اور دس مرتبہ یہی کلمات کہے، پھر سجدہ کرے دس بار یہی کلمات کہے پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائے اور دس بار یہی کلمات کہے، پھر دوسرا سجدہ کرے اور دس بار یہی کلمات کہے، اس طرح سے وہ چاروں رکعتیں پڑھے، تو ہر رکعت میں یہ کل ۷۵ تسبیحات ہوں گی۔ ہر رکعت کے شروع میں پندرہ تسبیحیں کہے گا، پھر دس دس کہے گا، اور اگر وہ رات کو نماز پڑھ رہا ہو تو میرے نزدیک مستحب ہے کہ وہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے اور اگر دن میں پڑھے تو چاہے تو ( دو رکعت کے بعد ) سلام پھیرے اور چاہے تو نہ پھیرے۔ ابو وہب وہب بن زمعہ سے روایت ہے کہ عبدالعزیز بن ابی رزمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا: رکوع میں پہلے «سبحان ربي العظيم» اور سجدہ میں پہلے «سبحان ربي الأعلى» تین تین بار کہے، پھر تسبیحات پڑھے۔ عبدالعزیز ہی ابن ابی رزمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا: اگر اس نماز میں سہو ہو جائے تو کیا وہ سجدہ سہو میں دس دس تسبیحیں کہے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں یہ صرف تین سو تسبیحات ہیں۔
Mishkat
828
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْرَأ فِي الظُّهْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَيطول فِي الرَّكْعَة الأولى مَا لَا يطول فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَهَكَذَا فِي الْعَصْرِ وَهَكَذَا فِي الصُّبْح
ابوقتادہ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں جبکہ دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھا کرتے تھے اور کبھی کبھار آپ ہمیں کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے ، آپ جس قدر پہلی رکعت میں قراءت لمبی کیا کرتے تھے اس قدر دوسری میں لمبی نہیں کیا کرتے تھے ، اور آپ اسی طرح عصر میں اور اسی طرح فجر میں کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Mishkat
829
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نَحْزُرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَاءَةِ (الم تَنْزِيلُ) السَّجْدَةِ - وَفِي رِوَايَةٍ: فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً - وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النّصْف من ذَلِك وحزرنا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نماز ظہر و عصر میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے ، پس ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ ﷺ کے قیام کا اندازہ سورۂ سجدہ کی قراءت کے برابر لگایا ، اور ایک دوسری روایت میں ہے ہر رکعت میں تیس آیات کے برابر تھا ، اور ہم نے آخری دو رکعتوں میں آپ ﷺ کے قیام کا اندازہ لگایا تو وہ اس سے نصف تھا ، ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کا اندازہ لگایا تو وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے قیام کے برابر تھا جبکہ عصر کی آخری دو رکعتیں اس کی (پہلی دو رکعتوں) سے نصف تھیں ۔ رواہ مسلم ۔
Mishkat
853
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فلَان. قَالَ سُلَيْمَان: صَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظّهْر ويخفف الْأُخْرَيَيْنِ ويخفف الْعَصْر وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ إِلَى ويخفف الْعَصْر
سلیمان بن یسار ؒ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : میں نے فلاں شخص کے سوا کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بہت مشابہ ہو ، سلیمان ؒ بیان کرتے ہیں میں نے اس (فلاں شخص) کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی اور آخری دو رکعتیں ہلکی پڑھا کرتے تھے ، اور نماز عصر ہلکی پڑھا کرتے تھے جبکہ نماز مغرب میں قصار مفصل (سورۃ البینہ سے آخر تک) عشاء میں اوساط مفصل (البروج سے البینہ تک) اور فجر میں طوال مفصل (سورۃ الحجرات سے البروج تک) پڑھا کرتے تھے ۔ نسائی ، اور ابن ماجہ نے ’’ نماز عصر ہلکی پڑھا کرتے تھے ‘‘ تک روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Mishkat
915
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ حَتَّى يَقُومَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ پہلی دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے جیسے گرم سنگ ریزوں پر بیٹھے ہوں حتیٰ کہ آپ کھڑے ہو جاتے ۔ ضعیف ۔
Mishkat
1018
وَعَن عبد لله بن بُحَيْنَة: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ لَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ وَهُوَ جَالِسٌ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ
عبداللہ بن بحینہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں نماز ظہر پڑھائی تو آپ پہلی دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے اور تشہد نہ بیٹھے ، تو صحابہ بھی آپ کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ جب آپ نے نماز پڑھ لی تو صحابہ نے سلام پھیرنے کا انتظار کیا ، آپ ﷺ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے ہوئے دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا ۔ متفق علیہ ۔
Sahih Bukhari
759
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَيُسْمِعُ الْآيَةَ أَحْيَانًا ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ .
Narrated `Abdullah bin Abi Qatada: My father said, The Prophet in Zuhr prayers used to recite Al-Fatiha along with two other Suras in the first two rak`at: a long one in the first rak`a and a shorter (Sura) in the second, and at times the verses were audible. In the `Asr prayer the Prophet used to recite Al-Fatiha and two more Suras in the first two rak`at and used to prolong the first rak`a. And he used to prolong the first rak`a of the Fajr prayer and shorten the second.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ہر رکعت میں ایک ایک سورت پڑھتے تھے، ان میں بھی قرآت کرتے تھے لیکن آخری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتے تھے کبھی کبھی ہم کو بھی کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے۔ عصر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ فاتحہ اور سورتیں پڑھتے تھے، اس کی بھی پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھتے۔ اسی طرح صبح کی نماز کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری ہلکی۔