حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَهُوَ قَوْلُ: سفيان الثوري، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ.
Ibn Umar narrated that:
The Prophet (S) said: Salat in the night is two by two. So when you fear the dawn (is near) then make it odd by one, and make that the last of your Salat odd.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نفلی نماز دو دو رکعت ہے، جب تمہیں نماز فجر کا وقت ہو جانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا لو، اور اپنی آخری نماز وتر رکھو“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ۸۴ (۴۷۲، ۴۷۳)، والوتر ۱ (۹۹۰، ۹۹۱، ۹۹۳)، والتہجد ۱۰ (۱۱۳۷)، صحیح مسلم/المسافرین ۲۰ (۷۴۹)، سنن ابی داود/ الصلاة ۳۱۴ (۱۳۲۶)، سنن النسائی/قیام اللیل ۲۶ (۱۶۶۸-۱۶۷۵)، و۳۵ (۱۶۹۳)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱۷۱ (۱۳۲۰)، (تحفة الأشراف : ۸۲۸۸)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ۳ (۱۳)، مسند احمد (۲/۵، ۹، ۱۰، ۴۹، ۵۴، ۶۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : رات کی نماز کا دو رکعت ہونا اس کے منافی نہیں کہ دن کی نفل نماز بھی دو دو رکعت ہو، جبکہ ایک حدیث میں ” رات اور دن کی نماز دو دو رکعت “ بھی آیا ہے، دراصل سوال کے جواب میں کہ ” رات کی نماز کتنی کتنی پڑھی جائے “، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے “ نیز یہ بھی مروی ہے کہ آپ خود رات میں کبھی پانچ رکعتیں ایک سلام سے پڑھتے تھے، اصل بات یہ ہے کہ نفل نماز عام طور سے دو دو رکعت پڑھنی افضل ہے خاص طور پر رات کی۔
437
Sahih