أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَتِيلُ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، أَرْبَعُونَ مِنْهَا فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا .
It was narrated from Al-Qasim bin Rabi'ah, from 'Abdullah bin 'Amr, the Prophet said:
The accidental killing, which seems intentional, with a whip or stick, (the Diyah) is one hundred camels, of which forty should be (she-camels) which their young in their wombs.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خطا یعنی شبہ عمد کے طور پر جو شخص کوڑے یا ڈنڈے سے مر جائے تو اس کی دیت سو اونٹ ہے، چالیس ان میں سے حاملہ اونٹنیاں ہوں“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الدیات ۵ (۲۶۲۷)، (تحفة الأشراف: ۸۹۱۱)، ۸۹۱۱، ۱۹۱۹۴)، مسند احمد (۱/۱۶۴، ۱۶۶)، سنن الدارمی/الدیات ۲۲ ۲۴۲۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : شبہ عمد : ایسے آلات سے قتل کرنے کو کہتے ہیں جن سے عام طور سے قتل نہیں کیا جاتا، جیسے لاٹھی، کوڑا، اور موٹی سوئی وغیرہ (گرچہ نیت قتل کی ہو) اس میں جس دیت کا بیان ہے وہی ” دیت مغلظہ “ ہے۔
4795
Sahih