TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حج اور عمرے کابیان - حج اور عمرے کابیان - Book 10 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 10 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 54 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

54 Hadith · 1 Chapters
حج اور عمرے کابیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَدَغَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَقْرَبٌ وَهُوَ يُصَلي فَقَالَ: لَعَنَ الله الْعَقْرَبَ مَا تَدَعُ مُصَلِّياً وَلَا غَيْرَه فَاقْتُلُوهَا فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ حالتِ نماز میں ایك بچھو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو ڈس لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی بچھوپر لعنت كرے، نمازی، غیر نمازی کسی کو بھی نہیں چھوڑتا، اسے حل و حرم میں قتل كردو
Takhreej
الصحيحة رقم (547)، سنن ابن ماجه كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ بَاب مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلَاةِ رقم (1236)
1567
Sahih
حج اور عمرے کابیان
عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ مَرفُوعاً: لَيْس عَلَى النَّسَاء حَلْقٌ إِنَّمَا عَلَى النَّسَاء التَّقْصِير.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: (حج و عمرہ کے بعد) عورتوں پر بال منڈوانا لازم نہیں، بلكہ بال چھوٹے كروانا لازم ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (605)، تاريخ أبي زرعة الدمشقي (88 / 1 )
1568
Sahih
حج اور عمرے کابیان
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: مَا أَهَلَّ مُهِلٌّ قَطُّ إِلا بُشِّرَ، وَلا كَبَّرَ مُكَبِّرٌ قَطُّ إِلا بُشِّرَ. قِيلَ: بِالْجَنَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جب بھی کو تلبیہ کہنے والا بآواز بلند تلبیہ کہتا ہے اسے خوشخبری دی جاتی ہے اور تكبیر كہنے والا جب بھی تكبیر (اللہ اكبر) كہے گا اسے خوشخبری دی جاتی ہے۔ پوچھا گیا: كیا جنت كی؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1621)، المعجم الأوسط رقم (7943)
1569
Sahih
حج اور عمرے کابیان
عن عَائِشَة أنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ الله فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِى بِهِمُ الْمَلاَئِكَةَ فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلاَءِ؟
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یومِ عرفہ کےعلاوہ ایسا كوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کی بڑی تعداد كو جہنم سے آزاد كرتا ہو۔ اللہ قریب ہوتا ہے ،پھر فرشتوں پر فخر كرتا ہے اور فرماتا ہے: یہ اور كیا چاہتے ہیں؟
Takhreej
الصحيحة رقم (2551)، صحيح مسلم كتاب الحج باب فِى فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَيَوْمِ عَرَفَةَ رقم (3354)
1570
Sahih
حج اور عمرے کابیان
عَنْ عُقْبَةَ بن عَامِرٍ الجهني قال: نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الكَعبَة حَافِيَةً حَاسِرَةً، فَأَتَي عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: مَا بَالُ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الكَعبَة حَافِيَةً حَاسِرَةً! فقَالَ: مُرُوهَا فَلْتَرْكَبْ ولتَخْتَمِرْ، (وَلْتَحُجَّ) (وَلْتُهْدِ هَدْياً).
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میری بہن نے نذر مانی كہ وہ ننگے سر ،ننگے پاؤں كعبے كی طرف پیدل جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس كے پاس آئے اور پوچھا: اس كا كیا معاملہ ہے؟ گھر والوں نے كہا: اس نے نذر مانی ہے كہ كعبہ كی طرف ننگے سر ننگے پاؤں پیدل جائے گی۔ آپ نے فرمایا: اسے كہو سوار ہو جائے اور چادر اوڑھ لے(حج كرے) (اور قربانی كرے)
Takhreej
الصحيحة رقم (2930)، المعجم الكبير للطبراني رقم (14300)
1571
Sahih
حج اور عمرے کابیان
عن عمر بن الْخِطَاب قال: من السَّنَة النُّزُول بِـ (الْأَبْطَح) عَشِيَّة النَّفْرِ.
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ: نفر(ذی الحجہ کی ۱۲ ویں تاریخ جب حاجی منی سےواپس ہوکرمکہ معظمہ کا رخ کرتےہیں) كی رات (ابطح) میں قیام كرنا سنت ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2675)، المعجم الأوسط رقم ( 3483 )
1572
Sahih
حج اور عمرے کابیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ (سَبْعًا) وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَ كَعَدلِ رَقَبَةٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے بیت اللہ كے(سات) چكر لگائے، اور دوركعتیں پڑھیں تو گویا اس نے ایك گردن آزاد كی
Takhreej
الصحيحة رقم (2725)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْمَنَاسِكِ بَاب فَضْلِ الطَّوَافِ رقم (2947)
1573
Sahih
حج اور عمرے کابیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حبْشِى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللهُ رَأْسَهُ فِى النَّارِ (يَعنِي من سِدْرِ الحَرَمِ).
عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے بیری كا درخت كاٹا اللہ تعالیٰ اس كے سر كو آگ میں ڈالے گا( یعنی:حرم كی بیری) ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (614)، سنن أبى داود كتاب الأدب باب فِى قَطْعِ السِّدْرِ رقم (5241)
1574
Sahih
حج اور عمرے کابیان
عن ابن عَبَاس: أَنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا تَحُجُّ امْرَأَةٌ إِلَا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ فَقَال رَجُلٌ: يَا نَبِي الله! إِنِّي اكتُتِبتُ في غَزَوْةِ كَذَا وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ؟ قال: ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم كے بغیر عورت حج نہ كرے، ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌میرا نام فلاں غزوے میں لكھ دیا گیا ہے جب كہ میری بیوی حج کے لئے نکل چکی ہے؟ آپ نے فرمایا: جاؤ اور اس كے ساتھ حج كرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3065)، مسند البزار رقم (5259)
1575
Sahih
حج اور عمرے کابیان
عَنْ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ: أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا عَلَى جَمَلٍ يَتْبَعُ رِحَالَ النَّاسِ بِمِنًى وَنَبِيُّ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم شَاهِدٌ وَالرَّجُلُ يَقُولُ: لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ قَالَ قَتَادَةُ: فَذَكَرَ لَنَا أَنَّ ذَلِكَ الْمُنَادِي كَانَ بِلَالًا.
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اس نے ایك آدمی كو اونٹ پر بیٹھے دیكھا، جو منیٰ میں لوگوں کی اقامت گاہوں میں جارہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے اور وہ آدمی كہہ رہا تھا: ان ایام میں روزہ مت ركھو، كیوں كہ یہ كھانے پینے كے دن ہیں۔ ہمیں بتایا گیا كہ وہ اعلان كرنےوالے بلال‌رضی اللہ عنہ تھے۔(
Takhreej
الصحيحة رقم (3573)، مسند أحمد رقم (16038)
1576
Sahih
حج اور عمرے کابیان
عَنْ أُمِّ وَلَدِ شَيْبَةَ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهُوَيَقُولُ:لَايُقْطَعُ الْأَبْطحُ إِلَّاشَدًّا.
شیبہ کی ایک لونڈ جو کہ اس کے بیٹے کی ماں تھی، مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو صفا و مروہ كے درمیان سعی كرتے دیكھا، آپ فرما رہے تھے:ابطح كودوڑ كر پار كیا جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (2437)، سنن ابن ماجه كِتَاب الْمَنَاسِكِ بَاب السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رقم (2978)
1577
Sahih
حج اور عمرے کابیان
عن أبي عِمْرَان الجوني أَنَّه حَجّ مَع مَوَالِيه قال: فَأَتَيْتُ أَمَّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ: يَا أَمَّ الْمُؤْمِنِين! إِنِّي لَمْ أَحُجَّ قَطُّ فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ بِالْحَجّ أَو بِالْعُمْرَة؟ قَالَت: إِنْ شِئْتَ فَاعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ. وَإِنْ شِئْتَ فَبَعْدَ أَنْ تَحُجَّ فَذَهبْتُ إِلَى صَفِيَّةَ فَقَالَتْ لِي مِثلَ ذَلكَ فَرَجَعْتُ إِلَى أَمِّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرَتُهَا بِقَوْلِ صَفِيَّةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: يَا آلَ مُحَمَّدٍ! مَنْ حَجَّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ بعمرة فِي حَجِّةِ.
ابو عمران جونی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ اس نے اپنے غلاموں كے ساتھ حج كیا ،كہتے ہیں كہ میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا كے پاس آیا ،اور كہا: اے ام المؤمنین میں نے كبھی حج نہیں كیا، میں دونوں میں سے كس سے ابتدا كروں، حج سے یا عمرے سے؟ انہوں نے كہا: اگر چاہو تو حج سے پہلے عمرہ كر لو اور اگر چاہو تو حج كے بعد عمرہ كر لو۔ پھر میں ام المؤمنین صفیہ کے پاس آیا۔ تو انہوں نے بھی ایسے ہی بتایا۔ میں پھر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آیا میں نےصفیہ كی بات بتائی، ام سلمہ نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو فرماتے ہوئے سنا: اے آلِ محمد ! تم میں سے جو حج كرنا چاہے وہ حج كے ساتھ عمرے کا تلبیہ كہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2469)، صحيح ابن حبان رقم (987)
1578
Sahih
حج اور عمرے کابیان
عَنْ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَهُ غَدَاةَ جَمْعٍ: يَا بِلَالُ أَسْكِتِ النَّاس أَوْ أَنْصِتِ النَّاس ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي جَمْعِكُمْ هَذَا فَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ ادْفَعُوا بِاسْمِ اللهِ.
) بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مزدلفہ کے دن کی صبح فرمایا: اے بلال لوگوں كو خاموش كرواؤ، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس اجتماع میں تم پر فراخی كی ہے، تمہارے گناہ گار شخص كو تمہارے نیك شخص كی وجہ سے عطا كیا اور تمہارے نیك شخص نے جو سوال كیااسےعطا كیا۔ اب اللہ كے نام كے ساتھ آگے بڑھو
Takhreej
الصحيحة رقم (43)، صحيح بخاري رقم ( 412 )، صحيح مسلم رقم (100 )
1579
Sahih
حج اور عمرے کابیان
عن عَائِشَة مرفوعا: يَا عَائِشَةُ! لَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِشِرْكٍ (وَلَيْس عِنْدِي مِن النَفَقَة مَا يُقَوِّي عَلَى بِنَائِهِ) (لَأَنْفَقتُ كَنْزَ الكَعبَة فِي سَبِيْلِ اللهِ وَ) لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالأَرْضِ (ثُم بَنيْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيْم) وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ (مَوضُوْعَيْن فِي الأَرْضِ) بَابًا شَرْقِيًّا (يَدخُل النَاس مِنْه) وَبَابًا غَرْبِيًّا (يَخْرجُون مِنْه) وَزِدْتُ فِيه سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ –وَفِي رواية: وَلأَدخَلتُ فِيْهَا الحِجْر- فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حَيْثُ بَنَتِ الْكَعْبَةَ. (فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِى أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّى لأُرِيَكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ. فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ). وفي رواية عنها: قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنِ الْجَدْرِ –أي: الحجر- أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ؟ قَالَ: «نَعَمْ». قُلْتُ فَلِمَ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِى الْبَيْتِ؟ قَالَ: «إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ». قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا؟ قَالَ: فَعَلَ ذَلِكَ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا وفي رواية: تَعَزُّزًا أَنْ لاَ يَدْخُلَهَا إِلاَّ مَنْ أَرَادُوا فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَدَعُونَهُ يَرْتَقِى حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ فِى الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافَ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِى الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالأَرْضِ. (فَلَمَّا مَلَكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا وَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ)، (وفي رواية: فَذَلِكَ الَّذِي حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى هَدْمِهِ. قَالَ يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ: وَقَدْ شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدَمَهُ وَبَنَاهُ وَأَدْخَلَ فِيهِ الْحِجْر وَقَدْ رَأَيْتُ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عليه السلام حِجَارَةً مُتَلَاحِمَةً كَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ مُتَلَاحِكَةً
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ: اے عائشہ اگر تمہاری قوم شرك سے نئی نئی اسلام میں داخل نہ ہوئی ہوتی( اور میرے پاس اتنامال نہیں كہ میں اس كی عمارت مضبوط كر دوں) (تومیں كعبے كے خزانے اللہ كے راستے میں خرچ كر دیتا اور) میں كعبے كو گرا كر زمین كے برابر كر دیتا(پھر ابراہیم علیہ السلام كی بنیادوں پر كھڑا كرتا)(زمین كے برابر) دو دروازے بناتا، ایك مشرقی جانب( جس سے لوگ داخل ہوتے) دوسرا مغربی جانب( جس سے لوگ باہر نكلتے) اور حجر(حطيم) كے چھ ہاتھ اس میں داخل كرتا۔ اور ایك روایت میں ہے:میں حجر كو اس میں داخل كرتا، كیوں كہ جب قریش نے كعبہ بنایا تھا تو یہ حصہ چھوڑ دیا تھا( میرے بعد اگر آپ کی قوم كو آسانی میسر ہوتو وہ اسے بنالے، آؤ میں تمہیں دكھاؤں كہ انہوں نے كونسا حصہ چھوڑا ہے۔ آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا كو سات بازو پر محیط جگہ دكھائی۔ اور ان سے مروی ایك روایت میں ہے: كہتی ہیں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا كیا یہ بیت اللہ كا حصہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میں نے كہا: تب انہوں نے اسے بیت اللہ میں داخل كیوں نہیں كیا؟ آپ نے فرمایا: تمہاری قوم كے پاس خرچ كم ہوگیا تھا۔ میں نے كہا: اس كے بلند دروازے كا كیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ تمہاری قوم نے كیا ہے تاكہ جسے وہ چاہیں داخل ہونے دیں اور جسے چاہیں روك دیں۔ اور ایك روایت میں ہے: فخر كرتے ہوئے تاكہ جسے وہ چاہیں داخل ہونے دیں،جب كوئی آدمی اس میں داخل ہونا چاہتا تو اسے داخل ہونے كے لئے چھوڑ دیتے ،وہ اوپر چڑھتا جب وہ اس میں داخل ہونے والا ہوتا تو اسےدھكا دےكرگردایتے ۔ اگر تمہاری قوم نئی نئی جاہلیت سے اسلام میں داخل نہ ہوئی ہوتی اور مجھے ڈر ہے كہ (ایسا کرنے سے) ان كے دل انكار كر دیں گے۔ تو میں جدر(دیوار، حجر) كو بیت اللہ میں داخل كروادیتا۔ اور اس كے دروازے كو زمین كے برابر كر دیتا، جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نگران بنے تو انہوں نے اسے گراگر اس كے دو دروازے بنا دیئے ۔ اور ایك روایت میں ہے: یہی وہ حدیث تھی جس نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما كو خانہ كعبہ گرانے پر ابھارا، یزید بن رومان نے كہا: جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے گرا كر بنایا اور اس میں حجر كو داخل كیا تو میں بھی ان كے پاس موجود تھا، میں نے ابراہیم كی بنیادوں کے پتھراس طرح جڑے ہوئے دیکھےجیسے وہ اونٹوں کی قطارکی کوہانوں کی طرح ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (43)، صحيح بخاري رقم ( 412 )، صحيح مسلم رقم (100 )
1580
Sahih

Chapters

1