TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات - سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات - Book 16 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 16 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 36 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

36 Hadith · 1 Chapters
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ قَالَ فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ قَالَ فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ قَالَ: ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ: اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَال:َ جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقِيل: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ قَالَ: مُحَمَّدٌ قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِابْنَيِ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَيَحْيَى بْنِ زَكَرِيا صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمَا فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام إِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ علیہ السلام فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، وَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَّ رَفَعۡنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا (۵۷) (مريم) ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ علیہ السلام فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى علیہ السلام فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلَالِ قَالَ: فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللهِ مَا غَشِيَ تَغَيَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا فَأَوْحَى اللهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَى فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَنَزَلْتُ إِلَى مُوسَى علیہ السلام فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: خَمْسِينَ صَلَاةً قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي فَقُلْتُ: يَا رَبِّ خَفِّفْ عَلَى أُمَّتِي فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّي خَمْسًا قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَبَيْنَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّى قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ فَذَلِكَ خَمْسُونَ صَلَاةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً قَالَ فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى علیہ السلام فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَقُلْتُ: قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس براق لایا گیا، یہ ایک سفید لمبا جانور تھا۔ گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا، جہاں اس کی نگاہ ختم ہوتی وہاں اس کا قدم پڑتا، میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس میں آیا، اور اسے اس ستون سے باندھ دیا جس سے انبیاء سواریاں باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر میں باہر نکلا، جبریل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن لائے جس میں شراب تھی، اور دوسرا برتن لائے جس میں دودھ تھا، میں نے دودھ کو پسند کیا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: آپ نے فطرت کو اختیار کیا ہے۔ پھر مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا گیا: کون ہو؟ کہا کہ جبریل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا: کیا انہیں پیغام ملا ہے؟ کہنے لگے: انہیں حکم ملا ہے، پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ آدم علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی۔ پھر مجھے دوسرے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا گیا کون ہو؟ کہنے لگے:جبریل ہوں، پوچھا گیا،آپ کے ساتھ کون ہے۔ کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )،پوچھاگیا :کیا انہیں پیغام ملا ہے؟ فرمایا: انہیں حکم ملا ہے، پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے خالہ کے بیٹے عیسیٰ بن مریم اور یحیی بن زکریا  کھڑے ہیں، ان دونوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی۔ پھر مجھے تیسرے آسمان کی طرف چڑھا ياگیا، جبریل نے دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا گیا کون ہو؟ کہنے لگے: جبریل، پوچھا گیا :تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )،پوچھا گیا: کیا انہیں پیغام ملا ہے؟ کہنے لگے:انہیں پیغام ملا ہے۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے یوسف علیہ السلام کھڑے ہیں جنہیں حسن کا نصف حصہ عطا کیا گیا ہے انہوں نے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی، پھر مجھے چوتھے آسمان کی طرف لےجایا گیا، جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ پوچھا گیا: کون ہو؟ کہنے لگے: جبریل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہیں؟ کہنے لگے: محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )،پوچھا گیا: کیا انہیں پیغام ملا ہے؟ کہنے لگے: انہیں پیغام ملا ہے۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ادریس علیہ السلام میرے سامنے کھڑے ہیں، انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی، اللہ عزوجل نے (انہی کے بارے میں فرمایا ہے) فرمایا:﴿مریم:۵۷﴾ ہم نے انہیں بلند مقام پر فائز کیا۔ پھر مجھے پانچویں آسمان کی طرف لے جایا گیا۔جبریل  نے دروازہ کھٹکھٹا یا۔پوچھا گیا :کون ہو؟ کہنے لگے: جبریل ۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہنے لگے :محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )پوچھا گیا : کیاان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ کہنے لگے :ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے۔ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ہارون کھڑے ہیں۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی، پھر مجھے چھٹے آسمان کی طرف لے جایاگیا۔ جبریل نے دروازہ کھٹکھٹا یا پوچھا گیا :کون ہو؟ کہنے لگے: جبریل ۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہنے لگے :محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )،پوچھا گیا :کیاان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ کہنے لگے :ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے۔ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے موسیٰ کھڑے ہیں، انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی۔ پھر مجھے ساتویں آسمان کی طرف لے جایا گیا۔ جبریل نے دروازہ کھٹکھٹا یا۔پوچھا گیا :کون ہو؟ کہنے لگے: جبریل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہنے لگے :محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )،پوچھا گیا :کیاان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ کہنے لگے :ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے۔ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ابراہیم بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے ہیں اور ہر روز ستر ہزار فرشتے اس گھر میں داخل ہوتے ہیں جو دوبارہ اس میں نہیں آتے۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہی تک لے گئے ۔ اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کا پھل مٹکے کی طرح تھا ۔جب اللہ کے حکم نے اسے ڈھانپ لیا، تو وہ درخت بدل گیا، پھر اللہ کی کوئی مخلوق اس کے حسن کی تعریف بیان نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی اور مجھ پر ہر دن اور رات میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ میں موسیٰ کی طرف آیا تو کہنے لگے: اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں۔ کہنے لگے: اللہ تعالیٰ کے پاس واپس جاؤ اور اللہ سے تخفیف کا سوال کرو، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی کیوں کہ میں نے بنی اسرائیل کو آزما لیا ہے اور ان کا امتحان لے لیا ہے۔ میں اللہ کی طرف واپس گیا اور دعا کی: اے اللہ! میری امت پرتخفیف کر دیجئے، اللہ نے مجھ پر پانچ نمازیں کم کر دیں۔ میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف واپس آیا،انہوں نےفرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف واپس جائیے اور ان سے تخفیف کا سوال کیئےس ۔میں اللہ تبارک وتعالیٰ اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے محمد ! ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں، ہر نماز کے بدلے دس نمازوں کا ثواب ملے گا، اس طرح پچاس نمازوں کا ثواب ہو جائے گا۔ اور جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا اور نیکی نہیں کر سکا، اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جائے گی۔ اور اگر عمل کر لیا تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور جس شخص نے برائی کا ارادہ کیا لیکن کر نہ سکا، اس کے لئے کچھ نہ لکھا جائے گا، اور اگر اس نے برائی کر لی تو ایک برائی لکھی جائے گی۔ میں موسیٰ کی طرف آیا اور انہیں بتایا توانہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی طرف واپس جاؤ اور تخفر کا سوال کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اتنی مرتبہ واپس جا چکا ہوں کہ اب مجھے شرم آتی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3987) صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب تَزْوِيجِ النَّبِيِّ ﷺ... رقم (3606)
2169
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ وَرَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ. فَأَقُولُ: إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ يُمْضِهِ
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: مجھے تم خواب میں دو مرتبہ دکھلائی گئی ہو، ایک آدمی تمہیں ریشم کی چادرمیں اٹھائے ہوئے تھا اور کہہ رہا تھا، یہ تمہاری بیوی ہے، اور میں کہتا: اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو یہ ہو جائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3987) صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب تَزْوِيجِ النَّبِيِّ ﷺ... رقم (3606)
2170
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَكَانُوا تُجَّارًا بِالشَّامِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَادَّ فِيهَا أَبَا سُفْيَانَ وَكُفَّارَ قُرَيْشٍ فَأَتَوْهُ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ فَدَعَاهُمْ فِي مَجْلِسِهِ وَحَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ ثُمَّ دَعَاهُمْ وَدَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانُ: فَقُلْتُ: أَنَا أَقْرَبُهُمْ نَسَبًا فَقَالَ: أَدْنُوهُ مِنِّي وَقَرِّبُوا أَصْحَابَهُ فَاجْعَلُوهُمْ عِنْدَ ظَهْرِهِ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُمْ: إِنِّي سَائِلٌ هَذَا الرَّجُلٌ فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ فَوَاللهِ! لَوْلَا الْحَيَاءُ مِنْ أَنْ يَأْثِرُوا عَلَيَّ كَذِبًا لَكَذَبْتُ عَنْهُ ثُمَّ كَانَ أَوَّلَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَنْ قَالَ: كَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَطُّ قَبْلَهُ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَأَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَقُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قُلْتُ: بَلْ يَزِيدُونَ قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَاعِلٌ فِيهَا قَالَ: وَلَمْ تُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرُ هَذِهِ الْكَلِمَةِ قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟! قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُـكُمْ إِيَّاهُ؟ قُلـتُ: الْحَـرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالٌ يَنَالُ مِنَّا وَنَنَالُ مِنْهُ قَالَ: مَاذَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْتُ: يَقُولُ: اعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِـهِ شَـيْئًا وَاتْرُكُوا مَا يَقُولُ آبَاؤُكُمْ وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالصِّلَةِ فَقَالَ لِلتَّرْجُمَانِ: قُلْ لَهُ: سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ أَحَدٌ مِنْكُمْ هَذَا الْقَوْلَ: فَذَكَرْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ أَحَدٌ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ لَقُلْتُ: رَجُلٌ يَأْتَسِي بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا قُلْتُ: فَلَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ أَبِيهِ وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللهِ وَسَأَلْتُكَ: أَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمُ اتَّبَعُوهُ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَسَأَلْتُكَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ أَمْرُ الْإِيمَانِ، حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ: أَيَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَغْدِرُ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُكَ: بِمَا يَأْمُرُكُمْ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَنْهَاكُمْ عَنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَيَأْمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ فَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَتَجَشَّمْتُ لِقَاءَهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمِهِ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الَّذِي بَعَثَ بِهِ دِحْيَةُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ.. بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ وَرَسُولِهِ، إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ! فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ وَ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ (۶۴) (آل عمران) قَالَ أَبُو سُفْيَانُ فَلَمَّا قَالَ مَا قَالَ وَفَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ، كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا: لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ وَكَانَ ابْنُ النَّاظُورِ صَاحِبُ إِيلِيَاءَ وَهِرَقْلَ سُقُفًّا عَلَى نَصَارَى الشَّامِ يُحَدِّثُ أَنَّ هِرَقْلَ حَيْث قَدِمَ إِيلِيَاءَ أَصْبَحَ يَوْمًا خَبِيثَ النَّفْسِ فَقَالَ بَعْضُ بَطَارِقَتِهِ: قَدِ اسْتَنْكَرْنَا هَيْئَتَكَ قَالَ ابْنُ النَّاظُورِ: وَكَانَ هِرَقْلُ حَزَّاءً يَنْظُرُ فِي النُّجُومِ فَقَالَ لَهُمْ حِينَ سَأَلُوهُ: إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ حِينَ نَظَرْتُ فِي النُّجُومِ مَلِكَ الْخِتَانِ قَدْ ظَهَرَ فَمَنْ يَخْتَتِنُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ قَالُوا لَيْسَ يَخْتَتِنُ إِلَّا الْيَهُودُ فَلَا يُهِمَّنَّكَ شَأْنُهُمْ وَاكْتُبْ إِلَى مَدَايِنِ مُلْكِكَ فَيَقْتُلُوا مَنْ فِيهِمْ مِنَ الْيَهُودِ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى أَمْرِهِمْ أُتِيَ هِرَقْلُ بِرَجُلٍ أَرْسَلَ بِهِ مَلِكُ غَسَّانَ يُخْبِرُ عَنْ خَبَرِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا اسْتَخْبَرَهُ هِرَقْلُ قَالَ: اذْهَبُوا فَانْظُرُوا أَمُخْتَتِنٌ هُوَ أَمْ لَا؟ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّهُ مُخْتَتِنٌ وَسَأَلَهُ عَنِ الْعَرَبِ فَقَالَ: هُمْ يَخْتَتِنُونَ فَقَالَ هِرَقْلُ: هَذَا مُلْكُ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَدْ ظَهَرَ ثُمَّ كَتَبَ هِرَقْلُ إِلَى صَاحِبٍ لَهُ بِرُومِيَةَ وَكَانَ نَظِيرَهُ فِي الْعِلْمِ وَسَارَ هِرَقْلُ إِلَى حِمْصَ فَلَمْ يَرِمْ حِمْصَ حَتَّى أَتَاهُ كِتَابٌ مِنْ صَاحِبِهِ يُوَافِقُ رَأْيَ هِرَقْلَ عَلَى خُرُوجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَنَّهُ نَبِيٌّ فَأَذِنَ هِرَقْلُ لِعُظَمَاءِ الرُّومِ فِي دَسْكَرَةٍ لَهُ بِحِمْصَ ثُمَّ أَمَرَ بِأَبْوَابِهَا فَغُلِّقَتْ ثُمَّ اطَّلَعَ: فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الرُّومِ! هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرُّشْدِ: وَأَنْ يَثْبُتَ مُلْكُكُمْ: فَتُبَايِعُوا هَذَا النَّبِيَّ؟ فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ فَوَجَدُوهَا قَدْ غُلِّقَتْ فَلَمَّا رَأَى هِرَقْلُ نَفْرَتَهُمْ وَأَيِسَ مِنَ الْإِيمَانِ قَالَ: رُدُّوهُمْ عَلَيَّ وَقَالَ: إِنِّي قُلْتُ مَقَالَتِي آنِفًا أَخْتَبِرُ بِهَا شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَقَدْ رَأَيْتُ فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ فَكَانَ ذَلِكَ آخِرَ شَأْنِ هِرَقْلَ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے مروی ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے خبر دی کہ ابو سفیان بن حرب‌رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہرقل نے اس کی طرف پیغام بھیجا وہ قریش کے ایک قافلے میں تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار قریش کے مابین صلح حدیبیہ کے دوران شام میں تجارت کی غرض سے آیا تھا، وہ لوگ ہر قل کے پاس آئے۔ وہ اس وقت ایلیاء میں تھے۔ اس نے انہیں اپنے دربار میں بلایا، اس کے ارد گرد روم کے سردار بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر انہیں بلایا اور اپنے ترجمان کو بھی بلایا، ہر قل کہنے لگا: تم میں اس شخص کا قریبی کون ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابو سفیان نے کہا: میں نسبی لحاظ سے اس کا قریبی ہوں۔ ہرقل نے کہا: اسے میرے قریب کر دو، اور اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کر کے اس کے پیچھے کھڑا کر دو، پھر اپنے ترجمان سے کہا: ان سے کہو: میں اس شخص سے سوال کروں گا، اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو اسے جھٹلا دینا۔ واللہ اگر مجھے اس بات کی حیا نہ ہوتی کہ یہ میرے بارے میں جھوٹ کا عیب نقل کریں گے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھوٹ بولتا، پھر سب سے پہلا سوال اس نے یہ کیا کہ :تم میں اس کا نسب کیسا ہے؟ابوسفیان: وہ ہم میں اچھے نسب والا ہے۔ ہرقل : کیا اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ہے؟ ابوسفیان: نہیں ۔ہر قل: کیا اس کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ ابوسفیان: نہیں ۔ہرقل: امیر لوگوں نے اس کی پیروی کی ہے یا(غریب) کمزور لوگوں نے؟ ابو سفیان:کمزور لوگوں نے ۔ہر قل: وہ لوگ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم؟ ابو سفیان: وہ زیادہ ہو رہے ہیں۔ ہر قل: کیا ان میں سے کوئی شخص اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس کے دین کو نا پسند کرتے ہوئے مرتد ہوا ہے، ؟ابو سفیان: نہیں۔ ہر قل: وعدہ خلافی کرتا ہے؟ ابو سفیان: نہیں، ابھی ہمارے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کیا کرے گا؟ ابو سفیان نے کہا کہ: مجھے اس بات کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں ملی جو میں آپ کی شان میں تنقیص کےلئےکہتا۔ ہر قل: کیا تم نے اس سے لڑائی کی ہے؟ ابو سفیان: جی ہاں۔ ہر قل:تمہاری اس سے لڑائی کا کیا نتیجہ نکلا؟ ابو سفیان: ہمارے درمیان جنگ برابر ہی رہی،کبھی انہوں نے نقصان پہنچایا،کبھی ہم نے۔ ہر قل: وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے؟ابو سفیان: وہ کہتا ہے کہ : اللہ وحدہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور تمہارے باپ دادا جو کہتے ہیں اسے چھوڑ دو، وہ ہمیں نماز پڑھنے، سچ بولنے، پاکدامنی اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ ہر قل نے ترجمان سے کہا: اس سے کہو: میں نے تم سے اس کے نسب کے بارے میں سوال کیا،تو تم نے کہا کہ: وہ ہم میں اچھے نسب والا ہے، رسول اسی طرح ہوتے ہیں، اپنی قوم کے اعلیٰ نسب میں مبعوث کئے جاتے ہیں۔ میں نے تم سے سوال کیا: کیا یہ بات تم میں سے کسی نے پہلے بھی کہی ہے؟ تو تم نے کہا کہ نہیں، میں نے سوچا اگر اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ہوتی تو میں کہتا یہ شخص ایسے قول کی پیروی کر رہا ہے جو پہلے کہا جا چکا ہے۔ میں نے تم سے سوال کیا: کیا اس کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ تم نے کہا: نہیں میں نے سوچا اگر اس کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو میں کہتا :ایسا شخص ہے جو اپنے بزرگوں کی بادشاہت کا متلاشی ہے۔ میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا یہ بات کہنے سے پہلے تم اس پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟ تم نے کہا: نہیں، مجھے معلوم ہوگیا کہ جو شخص لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کس طرح جھوٹ بول سکتا ہے۔ میں نے تم سے سوال کیا: طاقتور لوگوں نے اس کی پیروی کی یا کمزور لوگوں نے ؟تو تم نے کہا: کہ کمزور لوگوں نے اس کی پیروی کی اور یہی لوگ رسولوں کے پیروکار ہوتے ہیں۔ میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا یہ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ تو تم نے کہا :کہ یہ زیادہ ہورہے ہیں۔ ایمان کا معاملہ اسی طرح رہتا ہے جب تک مکمل نہ ہو جائے۔ میں نے تم سے سوال کیا: کیا کوئی شخص اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد ناراض ہو کر مرتد ہوا ہے؟ تو تم نے کہا کہ : نہیں۔ ایمان کا معاملہ اسی طرح ہوتا ہے، جب وہ دلوں کے میں رچ بس جاتا ہے، میں نے تم سے سوال کیا: کیا وہ وعدہ خلافی کرتا ہے؟تو تم نے کہا کہ: نہیں، رسول وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ میں نے تم سے سوال کیا: وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے ؟ تو تم نے کہا کہ: وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ: تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور تمہیں بتوں کی عبادت سے منع کرتا ہے، تمہیں نماز، سچائی، پاکدامنی کا حکم دیتا ہے۔ اگر جو تم نے کہا ہے سچ ہے تو عنقریب وہ میرے قدموں کے نیچے والی جگہ( تخت) کا مالک ہوگا۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ وہ آنے والا ہے لیکن یہ گمان نہیں تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں اس کے پاس پہنچ جاؤں گا تو میں اس کی ملاقات کی کوشش و جستجو کرتا۔ اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم دھوتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط منگوایا جسے دحیہ کلبی‌رضی اللہ عنہ نے والیٔ بصریٰ کی طرف بھیجا تھا۔ اس نے وہ خط ہر قل کے حوالے کیا، ہر قل نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا:بسم اللہ الرحمن الرحیم،محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے، ہر قل شاہ روم کی طرف۔ اس شخص پر سلام ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی، اما بعد !میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں دو گنا اجر دے گا، اگر تم نے منہ موڑ لیا تو تم پر رعایہ کا گناہ بھی ہوگا،﴿آل عمران:۶۴﴾ ”اے اہل کتاب ایسے کلمے کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابرہے کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ پس اگر وہ پھر جائیں تو تم کہو کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں“۔ ابو سفیان نے کہا: جب اس نے یہ بات کہی اور خط سے فارغ ہوا تو اس کے پاس شور ہونے لگا اور آوازیں بلند ہونے لگیں۔ہمیں وہاں سے نکال دیا گیا، جب ہم باہر آگئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابن ابی کبشہ کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ۔بنو اصفر کا بادشاہ بھی اس سے ڈرتا ہے، مجھے اس وقت یقین ہوگیا کہ وہ غالب ہو کر رہے گا۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام میں داخل کر دیا۔ ابن ناظور- والیٔ ایلیا- اور ہر قل کا مصاحب شام کے عیسائیوں کا پادری بیان کرتا ہے کہ: ہر قل جب ایلیا پہنچا تو ایک صبح بوجھل طبیعت کے ساتھ اٹھا، اس کے درباریوں نے کہا: ہمیں آپ کی طبیعت ناساز لگتی ہے۔ ابن ناظور نے کہا: ہر قل ایک ماہر علم نجوم تھا، جب لوگوں نے اس سے سوال کیا تو اس نے کہا: آج رات میں نے ستاروں کی چال دیکھی تو میں نے دیکھا کہ ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ غالب ہو گیا ہے، اس امت میں کون ختنہ کرتا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہودیوں کے علاوہ تو کوئی ختنہ نہیں کرتا۔ آپ کو ان کے ماملہ میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ملک کے بڑے شہروں کے حکام کو لکھ لکھئے کہ جو یہودی وہاں ہیں انہیں قتل کر دیں، ابھی وہ اسی کشمکش میں تھے کہ ہرقل کے پاس ایک آدمی لایا گیا جسے غسان کے بادشاہ نے بھیجا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اطلاع دے رہا تھا۔ جب ہرقل نے اس سے پوچھا تو ہر قل نے کہا: اسے لے جاؤ اور دیکھو کہ کیا اس کا ختنہ ہو چکا ہے یا نہیں؟ اس کے سپاہیوں نے اسے دیکھا تو آکر بتایا کہ اس کا ختنہ ہو چکا ہے۔ ہر قل نے اس سے عرب کے لوگوں کے بارے میں پوچھا۔ تو اس نے کہا: وہ لوگ ختنہ کرتے ہیں۔ ہر قل نے کہا: یہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم )اس امت کا بادشاہ ہے جو ظاہر ہو چکا ہے۔ پھر ہر قل نے اپنے ایک دوست جو رومیہ میں تھا کی طرف لکھا وہ بھی علم نجوم میں ہر قل جیسا تھا اور ہر قل حمص کی طرف چلا گیا۔ ابھی ہر قل حمص نہیں پہنچا تھا کہ اس کے پاس اس کے دوست کا خط آیا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق ہر قل کی رائے کی موافقت کی گئی تھی۔ ہر قل نے حمص میں ایک بڑے ہال میں روم کے سرداروں کو بلایا، دروازے بند کرنے کا حکم دیا، پھر سامنے آکر کہنے لگا: اے روم کے لوگو! کیا تم بھلائی اور کامیابی چاہتے ہو اور یہ چاہتے ہو کہ تمہاری بادشاہت قائم ر ہے؟تو تم اس نبی کی پیروی کر لو۔ وہ جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے، تو دیکھا کہ دروازے بند کئے جا چکے ہیں۔ جب ہر قل ان کی اس درجہ نفرت دیکھی اور ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا تو کہنے لگا: انہیں میری طرف واپس لاؤ اور کہنے لگا: ابھی میں نے یہ بات تمہارے امتحان کے لئے کہی تھی تاکہ میں تمہارے دین کی شدت کا اندازہ لگا سکوں۔ وہ میں نے دیکھ لی۔ وہ سب اس کے لئے سجدے میں گر پڑے اور اس سے خوش ہوگئے۔ یہ ہر قل کا آخر ی معاملہ تھا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3607) صحيح البخاري بَاب بَدْءُ الْوَحْيِ رقم (6)
2171
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَكْتُوب فِي الْإِنْجِيْل: لَا فَظٌّ وَلَا غَلِيظٌ وَلَا سَخَّابٌ بِالْأَسْوَاق، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَة مِثْلَهَا بَل يَعْفُو وَيَصْفَح
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انجیل میں لکھا ہوا تھا :نہ بدزبان ،نہ سخت، نہ بازاروں میں شور کرنے والے، نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے بلکہ وہ معاف کرتے ہیں اور درگزرکرتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2458) المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (4190) .
2172
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ عُمَر بْن عَبْدِ اللهِ بن يَعْلَي بن مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثَلاثَةَ أَشْيَاءَ مَا رَآهَا أَحَدٌ قَبْلِي:أ- كُنْتُ مَعَهُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَمَرَّ عَلَى ابْنَة مَعَهَا ابْنٌ لَهَا بِهِ لَمَمٌ مَا رَأَيْتُ لَمَمًا أَشَدُّ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ! ابْنِي هَذَا كَمَا تَرَى؟ قَالَ: إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ لَهُ؟ فَدَعَا لَهُ ثُمَّ مَضَى، ب - فَمَرَّ عَلَيْهِ بَعِيرٌ مَادٍ جَرَانُهُ يَرْغُو، فَقَالَ: عَلَيَّ بِصَاحِبِ هَذَا، فَقَالَ: هَذَا يَقُولُ: نُتِجْتُ عِنْدَهُمْ وَاسْتَعْمَلُونِي حَتَّى إِذَا كَبُرْتُ أَرَادُوا أَنْ يَنْحَرُونِي ثُمَّ مَضَى. ج - فَرَأَى شَجَرَتَيْنِ مُتَفَرِّقَتَيْنِ، فَقَالَ لِي: اذْهَبْ فَمُرْهُمَا فَلْتَجْتَمِعَافَاجْتَمَعَتَا فَقَضَى حَاجَتَهُ وَقَالَ: اذْهَبْ فَقُلْ لَهُمَا يَتَفَرَّقَا، ثُمَّ مَضَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ مَرَّ عَلَى صَبِيٍّ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، وَقَدْ هَيَّأَتْ أُمُّهُ سِتَّةَ أَكْبُشٍ فَأَهْدَتْ لَهُ كَبْشَيْنِ، وَقَالَتْ مَا عَادَ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِنَ اللَّمَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ شَئٍ إِلا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ إِلا كَفَرَةٌ أَوْ فَسَقَةُ الْجِنِّ وَالاِنْسِ
عمر بن عبداللہ بن یعلی بن مرہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں تین چیزیں ایسی دیکھیں، جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھیں۔ ۱۔میں آپ کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا، آپ ایک لڑکی کے پاس سے گزرے اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا، جسے دیوانہ پن تھا میں نےاس سے زیادہ سخت دیوانہ پن نہیں دیکھا تھا وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میرا یہ بیٹا اس طرح ہے جیسا آپ دیکھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اس کے لئے دعا کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی پھر چل پڑے۔ ۲۔آپ کے پاس سے ایک اونٹ گزرا جس کی گردن جھکی ہوئی تھی اور وہ بلبلا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس اس کے مالک کو لاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ کہہ رہا ہےکہ میں ان کےپاس پیداہوا،پھرانہوں نےمجھ سےکام لیا،اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو یہ مجھے نحر کرنا چاہتے ہیں۔ پھر آپ چل پڑے۔۳۔آپ نے دو جدا جدا درخت دیکھے، آپ نے مجھ سے کہا: جاؤ انہیں حکم دو کہ جمع ہو جائیں، وہ دونوں جمع ہوگئے۔ آپ نے اپنی حاجت پوری کی پھر فرمایا: جاؤ ان دونوں سے کہو: الگ ہو جائیں، پھر آپ چل پڑے۔ جب واپس آئے تو اس بچے کے پاس سے گزرے وہ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اس کی ماں نے اس کے لیے چھ مینڈھے پال رکھے تھے، اس نے دو مینڈھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے اور کہنے لگی: اسے پھر دیوانہ پن نہیں ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، سوائے جن و انس کے کافروں یا فاسقوں کے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3311) المعجم الكبير للطبراني رقم (18128) .
2173
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا .
ابو ایوب انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی چیز کھاتے یا پیتے تو کہتے: اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًاتمام تعریفات اس اللہ کے لئے جس نے کھلایا اور پلایا، اسے حلق سے نیچے سہولت کے ساتھ اتارا اور اس کے لئے باہر نکلنے کا راستہ بنایا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (705) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَطْعِمَةِ بَاب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا طَعِمَ رقم (3353) .
2174
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا جَلَسَ احْتَبَى
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بیٹھتے تو اپنے گرد کپڑا لپیٹ لیتے۔(یعنی گوٹھ مار کر بیٹھتے)
Takhreej
الصحيحة رقم (827).
2175
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا غَضِبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب غصے میں ہوتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جایا کرتی تھیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2079) المعجم الكبير للطبراني رقم (9670)
2176
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی چیز کو نا پسند کرتے تو ہم آپ کے چہرے سے پہچان جاتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2085) صحيح مسلم كِتَاب الْفَضَائِلِ بَاب كَثْرَةِ حَيَائِهِ ﷺ رقم (2484) .
2177
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا مَشَى كَأَنَّهُ يَتَوَكَّأُ
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تو ایسا لگتا جیسے وہ ٹیک لگا رہے ہوں (یعنی تھوڑا سا آگے کی طرف جھک کر چلتے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2083) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي هَدْيِ الرَّجُلِ رقم (4221) المعجم الأوسط للطبراني رقم (3269) .
2178
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ جَابِر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: « كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا مَشَى لَم يَلْتَفِت »
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو ادھر ادھر نہیں دیکھتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2086) المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7903) .
2179
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ سَهلِ بْنِ سَعدٍ قَالَ : سَمِعتُ زَيْد بْن ثَابِت يَقُول: كَان إِذَا نَزَل الوَحْي عَلَيْهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثَقُلَ لِذَلِك وَتَحَدَّر جَبِيْنُه عَرقاً كَأَنَّه الجُمَانُ وَإِنْ كَانَ فِي البَرْد
سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زید بن ثابت‌رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوجھ محسوس کرتے،آپ کی پیشانی سے اس طرح پسینہ بہتا گویا کہ موتی ہوں اگرچہ آپ سردی میں ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2088) دلائل النبوة لأبي نعيم رقم (169) .
2180
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
) عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلْتُ مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: كَانَ بَشَرًا مِّنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ وَيَحْلُبُ شَاتَهُ وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ مجھ سے سوال کیا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا عمل کیا کرتے تھے؟ کہنے لگی: آپ بھی ایک بشر تھے، کپڑے کو پیوند لگاتے، بکری کا دودھ دوہتے، اور اپنا کام خود کرتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (671) مسند أحمد رقم (24998) .
2181
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ أَبِي نَضْرَة العَوفِي قَالَ : سَأَلتُ أَبَا سَعِيْد الخُدْرِيِّ عَنْ خَاتِم رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: « كَانَ خَاتَم النَبُوَة فِي ظَهْرِه بِضْعَةٌ نَاشِزَةٌ » .
ابو نضرہ عوفی سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے بارے میں سوال کیا تو کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت آپ کی پشت پر ابھرے ہوئے گوشت کی شکل میں تھی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2093) الشمائل المحمدية للترمذي رقم (22)
2182
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة : «كَانَ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَبْيَض كَأَنَّمَا صِيْغ مِن فِضَة، رَجُل الشَّعْر »
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگ کے تھے، گویا چاندی سے بنائے گئے ہیں اور آپ گھنے بالوں والے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2053) الشمائل المحمدية للترمذي (برقم :11) .
2183
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم شَبْحَ الذِّرَاعَيْنِ أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ يُقْبِلُ جَمِيعًا وَيُدْبِرُ جَمِيعًا لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کلائیاں چوڑی تھیں اور آنکھوں کے کشادہ کناروں والے تھے، کاندھوں کے درمیان فاصلہ تھا، پوری توجہ سے آگے چل کر آتے اور پوری توجہ سے واپس جاتے، بدگو، بدزبان اور بازاروں میں شور کرنے والے نہیں تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2095) مسند أحمد رقم (8002).
2184
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَهُ حِمَارٌ يُقَالُ لَهُ: عُفَيْرٌ
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گدھا تھا جسے عفیر کہا جاتا تھا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2098) المطالب العالية للحافظ ابن حجر رقم (2057) .
2185
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عن زَيْادِ بْنِ سَعدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَان لَا يُرَاجِع بَعد ثَلَاث
زیاد بن سعد سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ کے بعد مراجعت نہیں کیا کرتے تھے(بات کو نہیں دہرایا کرتے تھے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2108) .
2186
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ أَبِي أُمَامَة الحَارِثِي، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَجْلِسُ الْقُرْفُصَاءَ . ( )
ابو مامہ حارثی سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُکڑُوں ہوکر بیٹھتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2124) المعجم الكبير للطبراني رقم (792) .
2187
Sahih
سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُحْرَسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ﴿۶۷﴾ (المائدة) فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَأْسَهُ مِنَ الْقُبَّةِ فَقَالَ لَهُمْ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! انْصَرِفُوا فَقَدْ عَصَمَنِيَ اللهُ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دیا جاتا تھا جب یہ آیت نازل ہو گئی وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ﴿۶۷﴾ اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچائے گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر خیمے سے باہر نکالا اور ان سے فرمایا: لوگو! واپس چلے جاؤ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2489) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ رقم (2972) .
2188
Sahih