TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

روزے اور تہجد کا بیان - روزے اور تہجد کا بیان - Book 17 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 17 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 78 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

78 Hadith · 1 Chapters
روزے اور تہجد کا بیان
عن أبي هُرَيْرَة قال: أتِي النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِطَعَام و هَو بـ(مرِّ الظَّهْرَان)، فَقَال لَأَبِي بكر و عمرَ: ادْنُوا فَكُلَا، فَقَالَا: إِنَّا صَائِمَان، فَقَالَ: ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُم! وَاعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُم! ادْنُوَا فَكُلَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس كھانا لایا گیا آپ(مرا لظہران) میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ابو بكر اور عمر رضی ‌اللہ ‌عنہماسے فرمایا : قریب ہو جاؤ اور كھاؤ، دونوں نے كہا: ہم روزے سے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ساتھیوں (ابو بكر، عمر) كے كجاوے كس دو، اور اپنے ساتھیوں(ابو بكر ،عمر) كا كام كرو، تم دونوں قریب ہو جاؤ اور كھاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (85) ، مصنف ابن أبي شيبة رقم ( ج 2 / 149 / 2 ) .
2205
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْصُوا هِلاَلَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ وَلاَ تَخْلِطُوا بِرَمَضَانَ إِلاَّ أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صِيَامًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ وَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَإِنَّهَا لَيْسَتْ تُغَمَّى عَلَيْكُمُ الْعِدَّةُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان كے لئے شعبان كے چاند كو شمار کیا كرو، اسے رمضان كے ساتھ نہ ملاؤ (یعنی ایک دن پہلے روزہ نہ رکھو)، سوائے اس صورت میں كہ یہ اس روزے كے موافق ہو جائے جو تم میں سے كوئی شخص ركھتا ہے۔ چاند دیكھ كر روزہ ركھو اور چاند دیكھ كر افطار كرو۔ اگر بادل چھا جائیں تو گنتی پر بادل نہیں چھا تے،(یعنی تیس دن پورے کرو)
Takhreej
الصحيحة رقم (565) ، سنن الدارقطني رقم (2198) .
2206
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ
ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان شروع ہو تا ہے تو جنت كے دروازے كھول دیئے جاتے ہیں، جہنم كے دروازے بند كر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین كو قید كر دیا جاتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1307) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الصِّيَامِ ، بَاب فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ ، رقم (1793) .
2207
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَدِيِّ بن حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ، فَصُمْ ثَلاثِينَ إِلا أَنْ تَرَى الْهِلالَ قَبْلَ ذَلِكَ .
عدی بن حاتم كہتے ہیں مجھ سے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کہ جب رمضان آئے تو تیس روزے ركھو، ہاں اگر اس سے پہلے چاند دیكھ لو(تو افطار كر لو)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1308) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (13635)
2208
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمْ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص اذان كی آواز سنے اور برتن اس كے ہاتھ میں ہو تو اپنی ضرورت پوری كرنے تك اسے نہ ركھے(یعنی کھانا کھالے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1394) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب الصَّوْمِ، باب في الرجل يسمع النداء والإناء على يده،رقم (2003) .
2209
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَذِّنْ فِي قَوْمِكَ أَوْ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: مَنْ(كاَنَ) أَكَلَ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ (إِلَى اللَّيْل) وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ. ورد من حدیث سلمہ بن الاکوع و ...........
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاشورا كے دن(یوم عاشورہ) اپنی قوم میں یا لوگوں میں اعلان كردو كہ: جس شخص نے كچھ كھا بھی لیا ہے تو وہ(رات تك) باقی دن كا روزہ مکمل کرے، اور جس شخص نے نہیں كھایا وہ روزہ ركھ لے۔ یہ حدیث سلمہ بن اکوع ......... رضی اللہ عنہم سے روایت کی گئی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2624) ، صحيح البخاري ،كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ، بَاب مَا كَانَ يَبْعَثُ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ الْأُمَرَاءِ رقم (6723) .
2210
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَأَرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ قَالَ: فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ.
عبداللہ بن انیس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے لیلۃ القدر دكھائی گئی، پھر مجھے بھلا دی گئی۔ میں نے اس كی صبح دیكھا كہ میں كیچڑ میں سجدہ كر رہا ہوں۔ صحابی بیان کرتے ہیں پھر تئیسویں رات بارش ہوئی ، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، آپ نے سلام پھیرا تو كیچڑ كا نشان آپ كی پیشانی اور ناك پر تھا
Takhreej
الصحيحة رقم (3985) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الصِّيَامِ ، بَاب فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْر، رقم (1997) .
2211
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے شب قدر دكھلائی گئی، پھر مجھے میری كسی بیوی نے جگایا تو مجھےوہ رات بھول گئی۔ اسے آخری دس دنوں میں تلاش كرو
Takhreej
الصحيحة رقم (3986) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الصِّيَامِ ، بَاب فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْر، رقم (1992)
2212
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عن أبي سعيد قال: مَر النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى نَهَرٍ مِنْ مَاءٍ وَهو عَلَى بَغْلٍ وَالنَّاسُ صِيَامٌ، والمشاةُ كَثِيرٌ فَقَال: اِشْرَبُوا، فَجَعَلُوا يَنْظُرُون إِلَيْه، فَقَال: اِشْرَبُوا، فَإِنِّي أَيْسَرُكُم فَجَعَلُوا يَنْظُرُون إِلَيْه، فَحَوَّل وَرِكَه فَشَرِبَ وَشَرِبَ النَّاسُ.
ابو سعید كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار ایك پانی كی نہر كے پاس سے گزرے، لوگ روزہ ركھے ہوئے تھے۔ پید ل چلنے والے زیادہ تھے۔ آپ نے فرمایا: پانی پی لو، لوگ آپ كی طرف دیكھنے لگے۔ آپ نے فرمایا: پانی پی لو، كیوں كہ میں آسانی میں ہوں۔ لوگ پھر آپ كی طرف دیكھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹانگ موڑی،پانی پیا تو لوگوں نے بھی پانی پی لیا
Takhreej
الصحيحة رقم (2575) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (1042)
2213
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَلي أَنَّ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: اطْلُبُوا لَيْلَةَ الْقَدَر في الْعَشْر الْأَوَاخِر من رَمَضَان، فَإِن غُلِبْتُم فَلَا تُغْلَبُوا على السَّبْعِ الْبَوَاقِي.
علی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر كو رمضان كی آخری دس راتوں میں تلاش كرو۔ اگر تم (اب تک) مغلوب ہوگئے ہو تو باقی سات راتوں میں مغلوب نہ ہونا
Takhreej
الصحيحة رقم (1471) ، زوائد المسند لعبدالله بن أحمد رقم ( 1 / 133 ) .
2214
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِي دَاوُد كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقٰى.
عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افضل روزہ ، میرے بھائی داؤد علیہ السلام كا روزہ ہے۔ وہ ایك دن روزہ ركھتے اور ایك دن روزہ چھوڑتے تھے۔ اور جب دشمن سے سامنا ہو جاتا تو بھاگتے نہ تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (3990) ، مسند أحمد رقم (6248) .
2215
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنِ النُّعْمَان بْنَ بَشِيرٍ قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثَلَاثًا وَاللهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے كا رخ كر كے لوگوں كی طرف متوجہ ہوئے، اور (تین مرتبہ فرمایا): صفیں سیدھی كرلو، واللہ تم صفیں سیدھی كرو وگرنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا كر دے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (32) ، سنن أبي داؤد،كِتَاب الصَّلَاةِ، باب تسوية الصفوف، رقم (566)
2216
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِوَجْهِهِ فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي.
انس بن مالك رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نماز كی اقامت كہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے كا رخ كر كے ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: صفیں سیدھی كرو، آپس میں اچھی طرح مل جاؤ۔ میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیكھتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (31) ، صحيح البخاري،كِتَاب الْأَذَانِ،بَاب إِقْبَالِ الْإِمَامِ عَلَى النَّاسِ، رقم (678) .
2217
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
) عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثُمَّ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا فَيُقَالُ لَهُ: أَتُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: الَّذِي لَا يَنَامُ حَتَّى يُوتِرَ حَازِمٌ.
سعد بن ابی وقاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی مسجد میں( مسجد نبوی میں) عشاء كی نماز پڑھتے، پھر ایك وتر سے زیادہ نہ پڑھتے۔ ان سے كہا گیا: ابو اسحاق آپ ایك وتر سے زیادہ نہیں پڑھتے ؟ انہوں نے كہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: وہ شخص دانشمند ہے جو وتر پڑھنے سے پہلے نہیں سوتا
Takhreej
الصحيحة رقم (2208) ، مسند أحمد رقم (1382) .
2218
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عن أبي هُرَيْرَة مرفوعا: إِن الله جَعَل الْبَرَكَة في السَّحُور و الْكَيْلِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اللہ عزوجل نے سحری اور پیمانے میں بركت ركھی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1291) ، رواه الخطيب في الموضح رقم ( 1 / 263 ) .
2219
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ عزوجل يَقُولُ: إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ الله فَجَزَاهُ فَرِحَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ.
) ابو ہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتاہے: روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس كا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار كے لئے دو فرحتیں ہیں، جب افطار كرتا ہے تو فرحت محسوس كرتا ہے، اور جب اللہ سے ملاقات كرے گا، اور اللہ تعالیٰ اسے بدلہ دے گا تب فرحت محسوس كرے گا۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم كی جان ہے ، روزے دار كے منہ كی بو اللہ كے نزدیك كستوری كی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3516) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الصِّيَامِ، بَاب فَضْلِ الصِّيَامِ، رقم (1946) .
2220
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنِ ابن عُمَر قَال: قَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله وَمَلَائِكَتَه يُصَلُّون عَلَى الْمُتَسَحِّرِين.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس كے فرشتے سحری كرنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3409) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (6621) .
2221
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عن ابن عمر مرفوعاً: إِن الله وَمَلَائِكَتَه يُصَلُّون عَلَى الْمُتَسَحِّرِين.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اللہ اور اس كے فرشتے سحری كرنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1654) ، صحيح ابن حبان رقم (3536) .
2222
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَجَاءَ شَابٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: لَا فَجَاءَ شَيْخٌ فَقَالَ: أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الشَّيْخَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ.
عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ ہم نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس بیٹھےہوئے تھے، ایك نو جوان آیا اورکہنے لگا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں روزے كی حالت میں بوسہ لے سكتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ۔پھر ایك بوڑھا شخص آیا اور كہا: كیا میں روزے كی حالت میں بوسہ لے سكتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ ہم ایك دوسرے كی طرف دیكھنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بوڑھا اپنے آپ كو قابو ركھ سكتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1606) ، مسند أحمد رقم (6451) .
2223
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنِ ابْن عُمَرَ: أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَامَهُ وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللهِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اہل جاہلیت عاشورہ كے دن كا روزہ ركھتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان بھی رمضان كے روزے فرض ہونے سے پہلے اس دن كا روزہ ركھا كرتے ۔ جب رمضان كے روزے فرض ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاشورہ اللہ كے دنوں میں سے ایك دن ہے، جو چاہے اس دن روزہ ركھے جوچاہے روزہ نہ ركھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3531) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الصِّيَامِ، بَاب صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ رقم (1901)
2224
Sahih

Chapters

1