TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

طہارت اور وضو کا بیان - طہارت اور وضو کا بیان - Book 19 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 19 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 81 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

81 Hadith · 1 Chapters
طہارت اور وضو کا بیان
عن عُقَبَة بن عَامَر الْجُهَنِيّ، قَالَ: خَرَجَتُ مِنَ الشَّام إلى الْمَدِيْنَة يَوْمَ الْجُمُعَة ، فَدَخَلَتُ الْمَدِيْنَة يَوْمَ الْجُمُعَة ، فَدَخَلْتُ عَلَى عمر بن الْخِطَاب ، فَقَال: مَتَى أَوْلجْتَ خُفَّيْكَ في رِجْلَيْك؟ قُلْتُ: يَوْمَ الْجُمُعَة، قَالَ: فَهَلْ نَزَعْتَهُمَا ؟ قُلْتُ: لَا، قَال: أَصَبْتَ السَّنَة
) عقبہ بن عامر جہنی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ كہتے ہیں كہ میں جمعہ كے دن شام سے مدینے كی طرف نکلا اور جمعے کے دن مدینے میں (واپس) داخل ہوا ،میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ كے پاس آیا تو انہوں نے كہا: تم اپنے پاؤں میں موزے کب پہنے تھے؟ میں نے كہا: جمعہ كے دن۔ انہوں نے كہا: كیا تم نے انہیں اتارا تھا؟ میں نے كہا: نہیں۔ انہوں نے كہا: تم نے سنت پر عمل كیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2622) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (600) .
2373
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ.
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے مسواك كے بارے میں تمہیں بہت زیادہ تاكید كی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3995) ، صحيح البخاري،كِتَاب الْجُمُعَةِ،بَاب السِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، رقم (839) .
2374
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عن صَفْوَان بن أُمِّيَّة ، قال: جَاء رَجُلٌ إلى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُتَضَمِّخ بالخَلُوقِ ، عَلَيْه مُقَطَّعَاتٌ ، قَدْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ ، فَقَال: كَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا رَسُول الله في عُمْرَتِي ؟ فَأَنْزَل الله عَزّ وَجَل: وَ اَتِمُّوا الۡحَجَّ وَ الۡعُمۡرَۃَ لِلّٰہِ (البقرة:۱۹۶ ١٩٦) ، فَقَال رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : أين السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَة ؟ فَقَال:(ها) أَنا (ذا). فَقَال: أَلْق (عنك) ثِيَابَك ، وَاغْتَسِلْ ، وَاسْتَنْقِ مَا اسْتَطَعْتَ ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا في حَجَّتِكَ فَاصْنَعْه في عُمْرَتِكَ
) صفوان بن امیہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس خلوق(خوشبو)لگائے ہوئے آیا، اور اس پر خلوق كے ٹكڑے پڑے ہوئے تھے، اور اس نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا۔ اس نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے میرے عمرے كے بارے میں کیا حكم دیتے ہیں؟ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل كی(البقرۃ:۱۹۶)” اور حج اور عمرہ اللہ كے لئے پورا كرو“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرے كے بارے میں سوال كرنے والا كہاں ہے؟ اس نے كہا: میں( یہاں ہوں)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے كپڑے اتار كر غسل كرو اورجتنی تم میں طاقت ہو (اس خوشبو کو) صاف کرو،اور جو تم حج میں کرتے ہو اپنے عمرے میں بھی اسی طرح كرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2765) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (1883) .
2375
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ عُثَيْمِ بْنِ كُلَيْبٍ (الجهني) عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ جَاءَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: قَدْ أَسْلَمْتُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ يَقُولُ: احْلِقْ قَالَ: وأَخْبَرَنِي آخَرُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لِآخَرَ: أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ وَاخْتَتِنْ.
ابن جریج سے مروی ہے كہتے ہیں كہ مجھے عثیم بن كلیب سے معلوم ہوا وہ اپنے والد وہ ان كے دادا سے بیان كرتے ہیں كہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے اور كہا: میں مسلمان ہو چكا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا: خود سے كفر كےبال اتار پھینكو، آپ كہہ رہے تھے كہ انہیں مونڈ دو۔ اور ایك دوسرے راوی سے بیان كیا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے فرمایا: خود سے كفر كے بال اتار پھینكو اور ختنہ كرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1556) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (12119) .
2376
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خِفْتُ عَلَى أَسْنَانِي.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسواك كا اتنا زیادہ حكم دیا گیا ہے كہ مجھے اپنے دانتوں كے بارے میں خدشہ لاحق ہوگیا
Takhreej
الصحيحة رقم (2977) ، سنن أبي داؤد،كِتَاب الطَّهَارَةِ، بَاب فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ فَيُؤْمَرُ بِالْغُسْلِ، رقم (302)
2377
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: امْسَحُوا عَلَى الْخِفَافِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَوِ اسْتَزَدْنَاهُ لَزَادَنَا.
) خزیمہ بن ثابت انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موزوں پر(سفر میں) تین دن مسح كرو، اگر ہم آپ سے زیادہ دن كا مطالبہ كرتے تو آپ زیادہ دن كردیتے
Takhreej
الصحيحة رقم (1559) ، مسند أحمد رقم (20854)
2378
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدَنٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَاٰنِیَتُہ اَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُوْمِ وَلَھُوْ اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ ؟؟؟ وَ اَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ. وَالذی نَفْسِی بِیَدِہ إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الْإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَتَعْرِفُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوضو لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض ایلہ سے لے كر عدن تك كے علاقے سے بھی بڑا ہے۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! اس كے برتن ستاروں كی تعداد سے بھی بڑھ كرہیں۔ وہ دودھ سے زیادہ سفید ہے، شہد سے زیادہ میٹھاہے۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس سے لوگوں كو اس طرح ہٹاؤں گاجس طرح آدمی اجنبی اونٹوں كو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے۔ پوچھا گیا:اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم كیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں تم میرے پاس چمك دار اعضا ء كے ساتھ آؤ گے جو وضو كی وجہ سے چمك رہے ہوں گے۔ یہ خوبی تمہارے علاوہ كسی اور میں نہیں ہوگی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3526) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الطَّهَارَةِ، بَاب اسْتِحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ، رقم (366) .
2379
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ مَرْفُوْعاً: إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ
زید بن ارقم‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:قضاء حاجت کی جگہوں پر جنات آتے ہیں اس لئے جب تم میں سے كوئی شخص قضائے حاجت كے لئے جائے تو وہ كہے:أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.”اے اللہ میں خبیث جنوں اور خبیث جننیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں“۔
Takhreej
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَهَا فِي الحَيْض: انْقُضِي شَعْرَكِ وَاغْتَسِلِي.
2380
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهَا فِي الحَيْض: انْقُضِي شَعْرَكِ وَاغْتَسِلِي.
عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حیض كے دنوں میں فرمایا: اپنے بال کھول دو اور غسل كر لو
Takhreej
الصحيحة رقم (188) ، سنن ابن ماجه،كِتَاب الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا، بَاب فِي الْحَائِضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ، رقم (633) .
2381
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْت أَبِي حُبَيْشٍ جَاءَتْ رَسُوْلَ اللهِ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ (ثُمَّ تَوَضِّئِیْ لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيء ذَلِكَ الْوَقْت)ثُمَّ صَلِّي.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئںَ اور كہا:مںف استحاضہ كی بماحری مں مبتلا ہوں، پاك نہں ہوتی، كا مںی نماز چھوڑ سكتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایك رگ ہے، حضر نہں ہے، جب حضُ آئے تو نماز چھوڑ دیا كرو،اور جب حضت ختم ہو جائے تو خون صاف كر لاں كرو( پھر ہر نماز كے لئے جب اس نماز كا وقت آجائے وضو كاس كرو) پھر نماز پڑھا كرو
Takhreej
الصحيحة رقم (301) ، سنن الترمذي،كِتَاب الطَّهَارَةِ، بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، رقم (116)
2382
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللهَ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ أَوْ قَالَ: عَلَى طَهَارَةٍ
مہاجر بن قنفذ سے مروی ہے كہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے آپ پیشاب كر رہے تھے۔ انہوں نے آپ كو سلام كہا:آپ نے وضوكرنے تك اسے جواب نہیں دیا، پھر اس كے سامنے عذر پیش كرتے ہوئے كہا: مجھے پاكیزگی كے علاوہ اللہ كا ذكر كرنا پسند نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (834) ، سنن أبي داؤد،كِتَاب الطَّهَارَةِ، بَاب أَيَرُدُّ السَّلَامَ وَهُوَ يَبُولُ، رقم (16) .
2383
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عن أبي هُرَيْرَة قال: بَعَثَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعْثًا فأعظموا الْغَنِيمَة ، وَأَسْرَعُوا الْكَرَّة ، فَقَال رَجَلٌ: يَا رَسُولَ الله، ما رَأَيْنَا بَعْثًا قَطُّ أَسْرَع كَرَّة ، وَلَا أَعْظَمَ مِنْه غَنِيمَةً مِنْ هَذَا الْبَعْثِ ، فَقَال: أَلَا أُخْبِرُكُم بِأَسْرَع كَرَّة مِنْه ، وَأَعْظَمَ غَنِيمَةٍ ؟ رَجَلٌ تَوَضَّأَ في بَيْتِه فَأَحْسَنَ وُضُوْئَهُ ، ثُمَّ تَحْمَّلَ إلى الْمَسْجِد فَصَلَّى فِيه الْغَدَاةَ ، ثُمَّ عَقِبَ بِصَلَاةِ الضُّحٰی ، فَقَدْ أَسْرَعَ الْكَرَّةَ ، وَأَعْظَمَ الْغَنِيمَةَ.
) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك لشكر بھیجا، جنہوں نے بہت بڑی تعداد میں مال غنیمت حاصل كیا اور جلدی واپس آگئے ، ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ایسے لوگ نہیں دیكھے جو اس لشكر سے زیادہ غنیمت حاصل کر نےوالے اور جلدی واپس آنے والے ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس لشكر سے بھی زیادہ جلدی اور بڑی غنیمت حاصل كرنے والےكے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ شخص جس نے اپنے گھر میں وضو ءكیا اور اچھی طرح وضو كیا، پھر مسجد كی طرف گیا اور مسجدمیں صبح كی نماز پڑھی، پھر اس كے بعد چاشت كی نماز پڑھی ، تو وہ بہت جلد اور بہت بڑی غنیمت سمیٹ کر پلٹا
Takhreej
الصحيحة رقم (2531) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (6426) .
2384
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : الْأُذُنَانِ مِنْ الرَّأْسِ. روی من حدیث...... عبداللہ بن زید۔
) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كان سر كا حصہ ہیں۔( ) یہ حدیث سیدنا ابو امامہ، ابوھریرہ، ابن عمرو، ابن عباس، عائشہ صدیقہ، ابو موسیٰ، انس، سمرۃ بن جندب، اور عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (36) ، سنن ابن ماجه،كِتَاب الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا، بَاب الْأُذُنَانِ مِنْ الرَّأْسِ، رقم (437) .
2385
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عن أبي حَازِمٍ قال كُنْتُ خَلْفَ أبي هُرَيْرَة وَهو يَتَوَضَّأ لِلصّلاة فَكَان يَمُدّ يَدَه حَتَّى يَبْلُغ إِبِطَه فَقُلْتُ له: يَا أباهريرة مَا هَذا الْوُضُوء ؟ فَقَالَ: يَا بَنِي فَرُّوخَ! أَنْتُم هَا هُنَا ؟! لَو عَلِمْتُ أَنَّكُم هَا هُنَا ما تَوَضَّأَتُ هذا الوضوء سَمِعْتُ خَلِيلِي يَقول تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمَن حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ.
ابو حازم كہتے ہیں كہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كے پیچھےکھڑا ہوا تھا وہ نماز كے لئے وضو كر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنا ہاتھ لمبا كیا حتی كہ وہ بغل تك لے آئے، میں نے ان سے كہا: ابو ہریرہ یہ كیسا وضو ہے؟ انہوں نے كہا: اے بنی فروخ ! تم یہاں ہو؟ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں یہ وضونہ كرتا، میں نے اپنےخلیل( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے سنا آپ فرما رہے تھے: جہاں تك مومن کے وضوکا پانی پہنچتا ہے وہاں تك مومن كی سجاوٹ(زیور)پہنچے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (252) ، السنن الكبرى للبيهقي .
2386
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عن سَلْمَان مرفوعا: تَمَسَّحُوا بِالْأَرْض ؛ فَإِنَّهَا بِکُم برة.
) سلمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ زمین کو چھوا کرو (تیمم کیا کرو ،بعض نے سجدہ بھی مراد لیا ہے )کیونکہ یہ تمہارے لئے شفقت کرنے والی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1792) ، المعجم الصغير للطبراني رقم (417)
2387
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عن عبد الرَحَّمَن بن جُبَير بن نُفَيْر ، عن أَبِيه ، أَن أبا جُبَير قَدِم عَلَى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بابنتِه الَّتِى كَانَ تَزَوَّجَهَا رَسُوْل اللهِ ، فَأَمَر لَه النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِوُضُوْء، فَقَالَ: تَوَضَّأ يَا أَباَ جُبَيْر ، فَبَدَأ أَبُوْ جُبَيْر بِفِيه ، فَقَال لَه رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَبْدَأ بِفِيْك ، فَإِنَّ الْكَافِر يَبْدَأ بِنِیْہِ، ثم دَعَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بالوضوء ، فَغَسَل كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ، ثم تَمَضْمَض وَاسْتَنْشق ثلاثا، وَغَسل وَجهَه ثَلَاثًا ، وغَسَلَ يَدَه الْيُمْنَى إلى الْمَرْفِق ثَلَاثًا ، والْيُسْرَى ثَلَاثًا ، ومسح بِرَأْسِه وَغَسل رِجْلَيْهِ
عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ ابو جبیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس اپنی بیٹی كو لائے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی كی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جبیر‌رضی اللہ عنہ كو وضو كرنے كا حكم دیا، اور فرمایا: ابو جبیر وضو كرو، ابو جبیر نے منہ سے ابتداء كی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جبیر سے كہا: اپنے منہ سے ابتداء نہ كرو، كیوں كہ كافر منہ سے شروع كرتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو كا پانی منگوایا، اپنے دونوں ہاتھ دھو كر صاف كئے، پھر كلی كی، اور تین مرتبہ ناك میں پانی چڑھایا، اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا اور (تین مرتبہ) اپنا دایاں ہاتھ كہنی تك دھویا، اور بایاں ہاتھ تین مرتبہ دھویا، اپنے سر كا مسح كیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے
Takhreej
الصحيحة رقم (2820) ، صحيح ابن حبان رقم (1096)
2388
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عن أَنس بن مَالَك مَرْفوْعاً: حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُون من أَمَتِي .
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میری امت میں سے خلال كرنے والےلوگ كتنے اچھے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2567) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (1633)
2389
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ؟ قَالَ حُكِّيهِ بِضِلْعٍ وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ.
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ میں نے كپڑے میں لگے حیض كے خون كے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےفرمایا: اسے لکڑی سےكھرچ دو(جس سے اثر زائل ہوسکے)، اور اسے پانی اور بیری سے دھوڈالو۔(
Takhreej
الصحيحة رقم (300) ، سنن أبي داؤد،كِتَاب الطَّهَارَةِ، بَاب الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا، رقم (308)
2390
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوضوء وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ: إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز كے كسی معاملے میں سوال كیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھوں اور پاؤں كی انگلیو ں كا خلال كرو، یعنی اچھی طرح وضو ءكرو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے جو بات كہی اس میں یہ بھی تھا كہ: جب تم ركوع كرو تو اپنی ہتھیلیوں كو اپنے گھٹنوں پر ركھو حتی كہ تمہیں اطمینان ہو جائے، اور جب تم سجدہ كرو تو اپنی پیشانی اچھی طرح زمین پر ركھو حتی كہ تمہیں زمین کاحجم محسوس ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1349) ، مسند أحمد رقم (2473) .
2391
Sahih
طہارت اور وضو کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً - إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ- أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا.
عبدالرحمن بن ابی بكرہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر كے لئے تین دن اور تین راتیں اور مقیم كے لئے ایك دن اور ایك رات رخصت دی كہ جب وہ باوضو ءہو كر موزے پہنے تو وہ موزوں پر مسح كر سكتاہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3455) ، سنن الدارقطني رقم (796) .
2392
Sahih

Chapters

1