TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان - علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان - Book 20 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 20 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 73 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

73 Hadith · 1 Chapters
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّیْیثِیِّ، قَالَ:إِنَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ:وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى بِسَاطٍ:إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، قَالُوا: وَكَيْفَ نَفْعَلُ يَا رَسُول الله؟! قَالَ: فَرَدَّ يَدَهُ إِلَى الْبِسَاطِ وَأَمْسَكَ بِهِ، فَقَالَ: تَفْعَلُونَ هَكَذَا، وَذَكَرَ لَهُمْ يَوماً: إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ مُعَاذُ بن جَبَلٍ:أَلا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ الهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟!فَقَالُوا: مَا قَالَ؟! قَالَ:إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، فَقَالُوا:كَيْفَ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ أَوْ كَيْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: تَرْجِعُونَ إِلَى أَمْرِكُمُ الأَوَّلِ.
ابو واقد لیثی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک فتنہ اٹھے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس طرح کا معاملہ اختیار کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ چٹائی کی طرف لائے اور اسے مضبوطی سے پکڑ لیا اور فرمایا: تم اس طرح کرنا۔ اور ایک دن ان سے ذکر کیا، عنقریب ایک فتنہ اٹھے گا۔ اکثر لوگوں نے آپ کی بات نہیں سنی ۔معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم سن نہیں رہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟صحابہ نے کہا:آپ نے کیا فرمایا؟ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: عنقریب ایک فتنہ اٹھے گا،صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسول!اس وقت ہمارے لئے کیا حکم ہے یا ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم اپنے پہلے معاملے(دین،یا امیر)کی طرف لوٹ آنا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3165) المعجم الكبير للطبراني رقم (16498)
2454
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّیْیثِیِّ، قَالَ:إِنَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ:وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى بِسَاطٍ:إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، قَالُوا: وَكَيْفَ نَفْعَلُ يَا رَسُول الله؟! قَالَ: فَرَدَّ يَدَهُ إِلَى الْبِسَاطِ وَأَمْسَكَ بِهِ، فَقَالَ: تَفْعَلُونَ هَكَذَا، وَذَكَرَ لَهُمْ يَوماً: إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ مُعَاذُ بن جَبَلٍ:أَلا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ الهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟!فَقَالُوا: مَا قَالَ؟! قَالَ:إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، فَقَالُوا:كَيْفَ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ أَوْ كَيْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: تَرْجِعُونَ إِلَى أَمْرِكُمُ الأَوَّلِ.
ابو واقد لیثی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک فتنہ اٹھے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس طرح کا معاملہ اختیار کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ چٹائی کی طرف لائے اور اسے مضبوطی سے پکڑ لیا اور فرمایا: تم اس طرح کرنا۔ اور ایک دن ان سے ذکر کیا، عنقریب ایک فتنہ اٹھے گا۔ اکثر لوگوں نے آپ کی بات نہیں سنی ۔معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم سن نہیں رہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟صحابہ نے کہا:آپ نے کیا فرمایا؟ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: عنقریب ایک فتنہ اٹھے گا،صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسول!اس وقت ہمارے لئے کیا حکم ہے یا ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم اپنے پہلے معاملے(دین،یا امیر)کی طرف لوٹ آنا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3165) المعجم الكبير للطبراني رقم (16498) .
2455
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي فَأَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً! فَأُلْقِيهَا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں اپنے گھر والوں کے پاس جاتا ہوں اور اپنے بستر پر ایک کھجور دیکھتا ہوں، اسے کھانے کے لئے اٹھانےلگتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں کہ کہیں یہ صدقے کی نہ ہو، تو اسے چھوڑ دیتا ہوں یا رکھ دیتا ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3457) صحبح البخاري كِتَاب فِي اللُّقَطَةِ بَاب إِذَا وَجَدَ تَمْرَةً فِي الطَّرِيقِ رقم (2253) .
2456
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنِ الْمِقْدَامِ بن مَعْدِي كَرِبٍ الكندي مَرْفُوْعاً: أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمَا يَعْدِلُهُ، (يعني: وَمِثْلَه) يُوشِكُ شَبْعَانٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ هَذَا الْكِتَابُ، فَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَلالٍ أَحْلَلْنَاهُ، وَمَا كَانَ (فِيهِ) مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلا وَإِنَّهُ لَيْسَ كَذَلِكَ اَلَا! لا يَحِلُّ ذُو نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلا الْحِمَارُ الأَهْلِي، وَلا اللُّقَطَةُ مِنَ مَالِ مُعَاهِدٍ إِلا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَضَافَ قَوْمًا وَلَمْ يُقْروه فَإِنَّ لَه أَنْ يُعَقِّبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ.
مقدام بن معدی کرب کندی سے مرفوعاً مروی ہے کہ: مجھے کتاب اور اس کے برابر (یعنی حدیث)دی گئی ہے۔ عنقریب کوئی پیٹ بھرا ہوا شخص اپنے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے ہو اورکہے :ہمارے مابین یہ کتاب ہے، اس میں جو حلال ہوگا اسے حلال سمجھیں گے اور(اس میں)جو حرام ہوگا اسے حرام سمجھیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ خبردار درندوں میں ہر کچلی والا حرام ہے،گھریلو گدھا،ذمی کا گرا ہوا مال، سوائے اس صورت میں کہ وہ اس سے بے پرواہ ہو، حرام ہے،اور جو آدمی کسی قوم کا مہمان بنا اور انہوں نے اس کی ضیافت نہیں کی تو اس کا حق ہے کہ اپنی ضیافت کے برابر ان سے بدلہ لے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2870) المعجم الكبير للطبراني رقم (17059) .
2457
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي مَنْ قَالَ عَلَيَّ فَلَا يَقُولَنَّ إِلَّا حَقًّا أَوْ صِدْقًا فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
ابو قتادہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان کرنے سے بچو، جو شخص میرے بارے میں بات کرے تو وہ صرف حق یا سچ کہے۔ جس شخص نے میرے بارے میں ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنالے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1753) سنن الترمذي كِتَاب الْمُقَدِّمَةِ بَاب التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ ...رقم (35) مسند أحمد رقم (21499) .
2458
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ جَابِرِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى رَجُلٍ قَائِمٍ يُصَلِّي عَلَى صَخْرَةٍ فَأَتَى نَاحِيَةَ مَكَّةَ فَمَكَثَ مَلِيًّا ثُمَّ أَقبَل فَوَجَدَ الرَّجُلَ عَلَى حَالِهِ يُصَلِّي فَجَمَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا.
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو ایک چٹان پر کھڑا نماز پڑھ رہا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک کونے کی طرف آئے، کچھ دیر ٹھہرے رہے، پھر واپس آئے تو اسی شخص کو دیکھا تو وہ اسی حالت میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ کھڑے ہوگئے اور اپنے دونوں ہاتھ جمع کئے پھر فرمایا: لوگو! میانہ روی اختیار کرو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ (اجر دینے سے) نہیں اکتائے گا تم (عمل سے) اکتا جاؤ گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1760) سنن ابن ماجه كِتَاب الزُّهْدِ بَاب الْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَلِ رقم (4231) مسند أبي يعلى الموصلي رقم (1757) .
2459
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: تَرِدُ عَلَيَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ! أَتَعْرِفُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ لَكُمْ سِيَمًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرَكُمْ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْكُمْ فَلَا يَصِلُونَ فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! هَؤُلَاءِ مِنْ أَصْحَابِي؟! فَيُجِيبُنِي مَلَكٌ فَيَقُولُ: وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ؟!.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ میری امت میرے پاس حوضِ کوثر پر آئے گی میں لوگوں کو اس طرح ہٹاؤں گا جس طرح کوئی شخص اپنے اونٹوں سےکسی دوسرے شخص کے اونٹوں کو ہٹاتا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا:ہاں تمہاری ایک خاص نشانی ہوگی جو کسی دوسرے میں نہیں ہوگی۔ تم وضو کے نشانات کی وجہ سے چمکتے ہوئےاعضاء کے ساتھ آؤ گے۔ تم میں سے ایک گروہ میرے پاس آنے سے روک لیا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھی(پیروکار) ہیں۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیسے کیسے نئے کام ایجاد کئے؟
Takhreej
الصحيحة رقم (3952) صحيح مسلم كِتَاب الطَّهَارَةِ بَاب اسْتِحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ رقم (365) .
2460
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ خَارِجَة بْنِ زَيْد عَنْ أَبِيْه قَالَ: لَمَا قَدِم النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم الْمَدِينَة أُتى بي إِلَيْه فَقَرَأْت عليه فَقَال لى: تَعَلَّم كِتَاب الْيَهُود فَإِنّى لَا آمنهم عَلَى كِتَابِنَا قَالَ: فَمَا مرَّ بى خَمْس عَشَرة حَتَّى تَعَلَّمْتُه فَكُنْت أَكْتُب لِلنَّبِى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَقْرَأ كُتُبَهُم إِلَيْه.
خارجہ بن زید اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو مجھے آپ کے پاس لایا گیا۔ میں نے آپ کے سامنے کچھ پڑھا۔ آپ نے مجھے فرمایا: یہودیوں کی کتاب(خط و کتابت) سیکھو، کیوں کہ مجھے ان کی طرف سے اپنی کتاب کے بارے میں اطمینان نہیں۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ابھی پندرہ دن ہی گزرے تھے کہ میں نے ان کی کتاب (خط و کتابت) سیکھ لی۔ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لکھا کرتا،اور آپ کی طرف آنے والے ان کے خطوط پڑھا کرتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (187) السنن الكبرى للبيهقي .
2461
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اپنے نسب میں سے ایسی باتیں سیکھو جن کے ذریعے تم صلہ رحمی کر سکو، کیوں کہ صلہ رحمی گھر والوں میں محبت کا باعث ہے مال میں اضافے اور عمر میں برکت کا سبب ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (276) سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ النَّسَبِ رقم (1902) .
2462
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيْدِ الخُدْرِي أَنَّه سَمِع النَّبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: تَعَلّموا القُرآن وَسَلوا اللهَ بِه الجَنَّة قَبْل أَنْ يَتعلَمه قَومٌ يَسألُون بِه الدُنْيَا، فَإِنَّ القُرآن يَتعلَّمه ثَلَاثَة: رَجلٌ يباهِي بِه، وَرَجُل يَستَأكِل بِه، وَرَجُل يقرأ لله
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سیکھو اور اللہ تعالیٰ سے اس کے ذریعے جنت کا سوال کرو، اس سے قبل کہ اس قرآن کو ایسے لوگ سیکھیں جو اس کے ذریعے دنیا طلب کریں۔ کیوں کہ قرآن کو تین قسم کے لوگ سیکھتے ہیں۔ وہ شخص جو اس کے ذریعے فخر کرتا ہے، دوسرا وہ شخص جو اس کے ذریعے (لوگوں کے اموال ناحق) کھاتا ہے۔ اور تیسرا وہ شخص جو اسے اللہ کے لئے پڑھتا ہے (اورپڑھاتا ہے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (258) شعب الإيمان للبيهقي .
2463
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَن جَابِر بْنِ عَبداللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : حَدِثُوا عن بَنِي إسرائيل، وَلَا حَرج فَإِنَّه كَانَت فِيهِم الأَعَاجِيْب، ثُم أَنْشَأ يُحَدِّث قال: خَرَجَت طَائِفَة مِنْ بَنِي إسرائيل حَتى أَتَوْا مَقْبَرَة من مقابرهم، فَقَالُوا: لَو صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْن وَدَعونا الله عَزّ وَجَل أَن يَخْرُج لَنا رَجُلاً مِمن قَد مَات نَسَأله عَن المَوتِ قال: فَفَعَلُوا فَبَيْنَا هُم كَذَلِك إِذ اطْلَع رَجَلٌ رَأَسَه من قبر من تِلْك المقابر، خَلاسيّ، بَيْن عَيْنَيْه أَثَر السجود، فقال: يَا هَؤُلَاء ما أَرَدْتُم إلي؟ فَقَد مُتّ مُنْذ مِئَة سَنَة فَمَا سَكَنَت عَنِّي حَرَارَة الْمَوْت حَتَّى كَان الْآن فَادْعُوا الله عزوجل لِي يُعِيدَنِي كَمَا كَنَت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ ع نہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے (روایتیں) بیان کرو کوئی حرج نہیں کیوں کہ ان میں عجائبات گزرے ہیں۔ پھر آپ بیان کرنے لگے: بنی اسرائیل کا ایک گروہ باہر نکلا اور کسی قبر کے پاس آئےاور کہنے لگے: اگر ہم دو رکعت نماز پڑھیں اور اللہ عزوجل سے دعا کریں کہ وہ مرنے والے لوگوں میں سے کسی کو قبر سے باہر نکالے تاکہ ہم اس سے موت کے بارے میں پوچھ سکیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا، وہ ابھی اسی کیفیت میں تھے کہ اچانک ایک آدمی کا سر قبر سے نمودار ہوا۔کالا وگورا،اس کی آنکھوں کے درمیان سجدوں کا نشان تھا۔ اس نے کہا: اے لوگو! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ میں سو سال پہلے مر چکا ہوں، لیکن موت کی حرارت اب بھی محسوس کر رہا ہوں۔ اللہ عزوجل سے دعا کرو کہ مجھے اسی حالت میں لوٹا دے جس میں پہلے تھا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2926) مسند عبد بن حميد رقم (1159) .
2464
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عن أبي هُرَيْرَة قال: أَتَى نَفَر من أَهَل الْبَادِيَة إلى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: يَا رَسُول الله! إِن أَهَل قُرَان زَعَمُوا أَنَّه لَا يَنْفَع عَمَل دُون الْهِجْرَة وَالْجِهَاد في سَبِيل الله؟ فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : حَيْث ما كُنْتُم فأحسنتم عَبَادَة الله فَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّة.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ :گاؤں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اہل قرآن کا خیال ہے کہ ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے بغیر عمل کافائدہ نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جہاں کہیں بھی ہو اچھے طریقے سے اللہ کی عبادت کرو اور جنت سے خوش ہوجاؤ (یعنی جنت کی خوشخبری ہو)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3146) الكنى والأسماء للدولابي رقم (2129) .
2465
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ عَائِشَة، مَرفُوعاً: الْخَلْق كُلَّهُم يُصَلُّون عَلَى مُعَلِّمِ الْخَيْر حَتَّى نِينَان الْبَحْر.(
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے کہ: تمام مخلوق، معلم خیر کیلئے بخشش کی دعا کرتی ہیں، حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1852) شرح مذاهب أهل السنة لابن شاهيز رقم (51) .
2466
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
) عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْخَيْرُ عَادَةٌ وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ وَمَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
یونس بن میسرہ بن حلبس نے کہا کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے سنا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہ:خیر عادت ہے اورشر لجاجت(دل میں کھٹکتا)ہے اور اللہ تعالیٰ جس شخص سے بھلائی کا ارادہ فرمالیتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (651) سنن ابن ماجه كِتَاب الْمُقَدِّمَةِ بَاب فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ رقم (217) .
2467
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ. ورد من حدیث ابی مسعود
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر کی طرف راہنمائی کرنے والا ،عمل کرنے والے کی طرح ہے۔ یہ حدیث ....... سے روی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1660) سنن الترمذي كِتَاب الْعِلْمِ بَاب مَا جَاءَ الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ رقم (2594) .
2468
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوْعاً: سَلُوا اللهَ عِلْمًا نَافِعًا وَتَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ.
جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے نفع مند علم کا سوال کرو اور ایسے علم سے اللہ کی پناہ مانگو جو نفع نہ دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1511) سنن ابن ماجه كِتَاب الدُّعَاءِ بَاب مَا تَعَوَّذَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رقم (3833) .
2469
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُبَيَّ بن كَعْبٍ وَنَبِيُّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْطُبُ، عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ، قَالَ: إِنَّكَ لَمْ تُجَمِّعْ، فَسَأَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَ: صَدَقَ أُبَيٌّ .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھےانہوں نے أبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک آیت کے بارے میں سوال کیا۔ أبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اعراض کیا اور انہیں جواب نہیں دیا۔ جب أبی رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کر لی تو کہا: تمہارا جمعہ نہیں ہوا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أبی رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2251) المعجم الكبير للطبراني رقم (9426) .
2470
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ جُلُوس: طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ قِيلَ ومَنِ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: نَاسٌ صَالِحُونَ قَلِيل فِي نَاسٍ سُوءٍ كَثِيرٍ مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھےکہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: غرباء (اجنبی لوگوں کے لئے) خوشخبری ہے۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول؟ غرباء کون لوگ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کثیر برائی والے لوگوں میں بہت تھوڑے نیک لوگ، ان کی بات رد کرنے والے ماننے والوں سے زیادہ ہوں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1619) مسند أحمد رقم (6362) .
2471
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنِ ابْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ: كُنْتُ أَحْرُسُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ قَالَ: فَرَآنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ قَالَ: فَرَفَضَ يَدِي ثُمَّ قَالَ: إِنَّكُمْ لَنْ تَنَــالُوا هَذَا الْأَمْرَ بِالْمُغَالَبَةِ قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا أَحْرُسُهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ يُصَلِّي بِالْقُرْآنِ قَالَ: فَقُلْتُ: عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : كَلَّا إِنَّهُ أَوَّابٌ قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللهِ ذُو الْنَجَادَيْنِ.
ابن الادرع سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا، آپ کسی ضرورت سے باہر نکلے۔ آپ نے مجھے دیکھا تو میرا ہاتھ پکڑلیا۔ ہم چلتے ہوئے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا اور بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے یہ ریا کاری کر رہا ہو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول !یہ تو صرف بلند آواز سے قرآن پڑھ ر ہا ہے۔ آپ نے میرا ہاتھ جھٹک دیا پھر فرمایا: تم اپنے آپ پر غلبہ پا کر اس معاملے کی حقیقت تک ہر گز نہیں پہنچ سکتے۔ پھر ایک رات آپ اپنی کسی ضرورت سے نکلے، میں آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو نماز میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ میں نے کہا: ممکن ہے یہ ریا کاری کر رہا ہو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں، یہ تو مناجات کرنے والا ہے۔ میں نے دیکھا تو وہ عبداللہ ذوالجنادین رضی اللہ عنہ (منتظم اور مشکلات سر کرنے والا)تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1709) مسند أحمد رقم (18203)
2472
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ مَرفُوعاً: عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَإِذاَ غَضِبَ أَحَدُكُمْ فلْيَسْكُتْ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: (دین) سکھاؤ، آسانی کرو، تنگی نہ کرو۔ خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ، اور جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے تو چپ ہو جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1375) صحيح البخاري كِتَاب الْعِلْمِ بَاب مَا كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَتَخَوَّلُهُمْ بِالْمَوْعِظَةِ ... رقم (67) .
2473
Sahih