TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان - علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان - Book 20 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 20 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 73 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

73 Hadith · 1 Chapters
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنَ سَارِيَةَ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ هَذِهِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ قَالَ: قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ، وَمَنْ يَّعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَعَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَيْثُمَا قِيدَ انْقَادَ. ( )
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ ہماری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور دل ڈر گئے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول !گویا یہ تو الوداعی نصیحت کی طرح ہے۔ آپ ہم سے کیا عہد لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں روشن راستے پر چھوڑا ہے ،اس کی رات اس کے دن کی طرح ہے،جو شخص اس راستے سے ہٹ جائے گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔ اور جو تم میں سے زندہ رہے گا وہ عنقریب بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔ تمہیں میری جس سنت کا پتہ چل جائے اسے مضبوطی سے تھام لو۔ اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو، تم پر اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے اگرچہ کوئی حبشی غلام تمہارا امیر مقرر کر دیا جائے، کیوں کہ مومن نکیل ڈالے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جہاں اسے چلنے کا اشارہ کیا جائے چل پڑتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (937) سنن ابن ماجه كِتَاب الْمُقَدِّمَةِ بَاب اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ رقم (43)
2474
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
قال صلی اللہ علیہ وسلم : قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابِ. روی من حدیث انس بن مالک و عبداللہ بن عمرو و عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھم
ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: علم کو لکھ کر قید کر لو۔ یہ حدیث انس بن مالک، عبید اللہ بن عمرو بن العاص اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2026) المعجم الكبير للطبراني رقم (699) .
2475
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ.(
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی خبر پہنچنے میں دیر ہوجاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شعر پڑھتے جس کا ایک مصرع یہ ہے :آپ کے پاس وہ خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے زاد راہ نہیں دیا ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2057) مسند أحمد رقم (22896
2476
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ مُطِيْع الغَزَال عَنْ أَبِيْه عَنْ جَدِه: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا صَعِدَ المنْبَر ؛ أَقْبَلنَا بِوجُوهِنا إِلِيه.
مطیع غزال اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر چڑھتے تو ہم اپنے چہروں کا رخ کر کے آپ کی طرف متوجہ ہو جاتے
Takhreej
الصحيحة رقم (2080) البخاري في التاريخ الكبير (4/ 2/ 47)
2477
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ جَابِرِ كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ سَلَّمَ.
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر چڑھتے تو سلام کہتے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2076) سنن ابن ماجه كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا بَاب مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ رقم (1099) .
2478
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيْد الخُدْرِي، أَنَّه قَالَ: « مَرْحباً بِوَصِية رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَان رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُوصِيْنَا بِكُم». يعني: طَلبَة الحَدِيث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ کے وصیت شدگان کو خوش آمدید۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمہارے بارے میں وصیت کیا کرتے تھےیعنی حدیث کے طلباء کے بارے میں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (280) المستدرك على الصحيحين للحاكم دلائل النبوة رقم (2921) .
2479
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ: كَانَ كَلَامُہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَلَامًا فَصْلًا يَفْهَمُهُ كُلُّ مَنْ سَمِعَهُ
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر (آہستگی سے) بات کیا کرتے جسے ہر سننے والا سمجھ جاتا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2097) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب الْهَدْيِ فِي الْكَلَامِ رقم (4199) .
2480
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَنَسِ : كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ.
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ کو اچھاخواب پسند تھا
Takhreej
الصحيحة رقم (2135) مسند أحمد رقم (13202)
2481
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم كاَنَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَارْزُقْنِي عِلْماً تَنْفَعُنِي بِهِ
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: اے اللہ آپ نے مجھے جو علم دیا ہے اس سے مجھے نفع دے ، اور مجھے ایسا علم عطا کر جس کے ذریعے تو مجھے نفع دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3151) المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (1832) .
2482
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گناہ گار ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات( بغیر تحقیق) بیان کر دے
Takhreej
الصحيحة رقم (2025) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي التَّشْدِيدِ فِي الْكَذِبِ رقم (4340) .
2483
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى قَالُوا: وَمَنْ يَأْبَى؟! قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی مگر جس نے انکار کیا۔ صحابہ نے کہا: کون شخص انکار کر سکتاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جس شخص نے میری نا فرمانی کی اس نے انکار کیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3141) صحيح البخاري كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ بَاب الِاقْتِدَاءِ ... رقم (6737) .
2484
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(وَفِي رِوَايَةٍ: يَحْضُرُ حَدِيْثَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَمَجْلِسَهُ) وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم (فَقاَلَ: يَارَسُوْلَ اللهِ ! (إِنَّ هَذا) أَخِي لَا يُعِيْنُنِي بِشَيْءٍ)، فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا،( اور ایک روایت میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سننے کے لیے آپ کی مجلس میں حاضر ہوتا) دوسرا بھائی محنت مزدوری یا کاروبار کرتا، محنت مزدوری یا کاروبار کرنے والے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی( اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! (یہ) میرا بھائی کسی کام میں میری مدد نہیں کرتا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے تمہیں اس کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2769) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب فِي التَّوَكُّلِ عَلَى اللَّهِ رقم (2267) .
2485
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
) عَنْ أُبَيٍّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللهِ أَعْظَمُ؟ فَقَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! يُكَرِّرُهَا مِرَارًا ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ: آيَةُ الْكُرْسِيِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ! وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ تُقَدِّسَانِ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی کتاب میں کونسی آیت بڑی ہے؟ ابی بن کعب نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے کئی مرتبہ یہ بات دہرائی۔ پھر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: آیۃ الکرسی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو المنذر تمہیں علم مبارک ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں جو عرش کے پائے کے نیچے اللہ کی تقدیس بیان کررہے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3410) مسند أحمد رقم (20318)
2486
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: تَرَكْنَا رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَمَا طَائِرٌ يُقَلِّبُ جَنَاحَيْهِ فِي الْهَوَاءِ، إِلا وَهُوَ يُذَكِّرُنَا مِنْهُ عِلْمًا، قَالَ: فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا بَقِيَ شَيْءٌ يُقَرِّبُ مِنَ الْجَنَّةِ، ويُبَاعِدُ مِنَ النَّارِ، إِلا وَقَدْ بُيِّنَ لَكُمْ.
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہیںا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں چھوڑا کہ اگر کوئی پرندہ بھی ہو ا میں اپنے پروں کو حرکت دیتا تو آپ ہمیں اس سے علم کی بات بتاتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی چیز ایسی باقی نہیں بچی جو جنت سے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے مگر میں نے تمہارے سامنے اسے بیان کر دیا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1803) المعجم الكبير للطبراني رقم (1624) .
2488
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنِ ابْنِ أَبِى نَمْلَة عَنْ أَبِيْه قَالَ: كُنْتُ عِنْد النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذ دَخَل عَلَيه رَجُل مِنَ الْيَهُود فَقَال: يَا مُحَمَد أَتُكلَّم هَذِه الْجَنَازَة؟ فَقَال النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اللهُ أَعْلَم فَقَال الْيَهُودِيّ: أَنَا أَشْهَد أَنهَا تُكَلَّم فَقَال النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَا حَدَّثَكُم أَهل الْكِتَاب فَلَا تُصَدِّقُوهُم وَلَا تُكَذِّبُوهُم وَقُولُوا: آمِنًا بِالهِ وَكُتُبِه وَرُسُلِه فَإِنْ كَان حَقًا لَم تُكَذِّبُوهُم وإِن كَان بَاطِلًا لَم تُصَدِّقُوهُم
)ابن ابی نملہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ایک یہودی شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس جنازے سے بات کی جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس یہودی نے کہا: میں گواہی دیا ہوں کہ اس سے بات کی جائے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اہل کتاب تمہیں جو بیان کریں اس کی نہ تصدیق کرو، نہ ہی تکذیب کرواور تم کہو :ہم اللہ، اس کی کتب اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اگر ان کی بات سچ ہوگی تو تم اس کی تکذیب نہیں کرو گے اور اگر ان کی بات جھوٹی ہوگی تو تم اس کی تصدیق نہیں کرو گے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2800) السنن الكبرى للبيهقي
2489
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: أَصَابَتْنِي سَنَةٌ، فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ المدينة، فَفَرَكْتُ سُنْبُلَةً فَأَكَلْتُ، وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي فَجَاءَ صَاحِبُهُ، فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ لَه: مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ سَاغِبًا أَوْ جَائِعًا. وَأَمَرَه فَرَدَّ عَلَيَّ ثَوْبِي، وَأَعْطاَنِي وَسْقاً أَوْنِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طعَامٍ
عبادہ بن شرحبیل کہتے ہیں کہ: مجھے سخت بھوک لگی،میں مدینے کے ایک باغ میں داخل ہوا، میں نے ایک خوشہ توڑا اور کھالیا اور کچھ کھجوریں کپڑے میں رکھ لیں، باغ کا مالک آیا مجھے مارا اور میرا کپڑا لےلیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاس آیا تو آپ نے اس سے کہا: گر یہ انجان تھا تو تم نے اسے بتایا کیوں نہیں۔ اور اگر یہ بھوکا تھا تو تم نے اسے کھلایا کیوں نہیں؟ آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے مجھے میرا کپڑا واپس کردیا اور مجھے غلے سے ایک وسق یا نصف وسق دیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2229) مسند أحمد رقم (16865) .
2490
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَصْوَاتًا فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ: لَوْ تَرَكُوهُ فَلَمْ يُلَقِّحُوهُ لَصَلُحَ فَتَرَكُوهُ فَلَمْ يُلَقِّحُوهُ فَخَرَجَ شِيصًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا لَكُمْ؟ قَالُوا تَرَكُوهُ لِمَا قُلْتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا كَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ فَإِذَا كَانَ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ.
انس رضی اللہ عنہ سےمروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکچھ آوازیں سنیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ آوازیں کیسی ہیں؟ یہ کیاہے؟صحابہ نے کہا: لوگ کھجوروں کی پیوند کاری کر رہے ہیں (نر اور مادہ شگوفوں کو ملانا) آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر یہ اسے چھوڑ دیں اور پیوند نہ لگائیں تو بہتر رہے گا، لوگوں نے پیوند نہ لگائے اس کے بعد جب ردی کھجور ہوئی تو نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ (یہ کیسی کھجوریں ہیں؟) صحابہ نے کہا: لوگوں نے آپ کی بات پر عمل کرتے ہوئے پیوند کاری نہ کی، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تمہاری دنیا کا معاملہ ہو تو تم بہتر جانتے ہو اور اگر تمہارے دین کا معاملہ ہو تو میرے پاس لے آؤ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3977) مسند أحمد رقم (12086) .
2491
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ، ثُمَّ لا يُحَدِّثُ بِهِ،كَمَثَلِ الَّذِي يَكْنِزُ الْكَنْزَ، فَلا يُنْفِقُ مِنْهُ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو علم حاصل کرتا ہے اور اسے بیان نہیں کرتا اس شخص کی طرح ہے جو خزانہ جمع کرتا ہے لیکن اس سے خرچ نہیں کرتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3479) المعجم الكبير للطبراني رقم (340) .
2492
Sahih
علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: حَدَّثَ صَفْوَانُ بن عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بُرْدٍ لَهُ (أَحْمَر)، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بطالبِ الْعِلْمِ، (إِنَّ) طَالِبَ الْعِلْمِ لَتَحُفُّهُ الْمَلائِكَةُ وَتُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا، ثُمَّ يَرْكَبُ بَعْضُهُم بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغُوا السَّمَاءَ الدُّنْيَا مِنْ حُبِّهِمْ لِمَا يَطْلُبُ، قَالَ: قَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللهِ! لا نَزَالُ نُسَافِرُ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَأَفْتِنَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟! فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ثَلاثَةُ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتےہیں کہ صفوان بن عسال مرادی نے بیان کیا، کہتے ہیں کہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا،آپ مسجد میں اپنی(سرخ) چادر پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ میں نےآپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں علم حاصل کرنے آیا ہوں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طالب علم کو خوش آمدید،طالب علم کو فرشتے ڈھانپ لیتے ہیں ،اور اپنے پروں سے اس پر سایہ کرتے ہیں،پھر ایک دوسرے پر کھڑے ہو کر آسمان تک پہنچ جاتے ہیں ۔ طلبِ علم سےان کی محبت کی وجہ سے۔ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرتے رہتےہیں، ہمیں موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں بتایئے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: مسافر کے لئے تین دن اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3397) المعجم الكبير للطبراني رقم (7197) .
2493
Sahih