جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تمہارا دل پر سکون ہو قرآن پڑھو، اور جب بے سکونی ہونے لگے تو کھڑے ہو جاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (3993) صحيح البخاري كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ بَاب كَرَاهِيَةِ الْخِلَافِ (6816) مسلم كِتَاب الْعِلْمِ (4819)
(۲۷۷۴)عبدالرحمن بن شبل انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: جب تم میرے خیمے میں آؤتو کھڑے ہو جانا اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے وہ بیان کرنا ۔عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: قرآن پڑھو۔ اسے کھانے کا ذریعہ مت بناؤ۔ نہ اس کے ذریعے مال نہ سمیٹو، نہ اسے چھوڑ دو۔ نہ اس میں غلو کرو۔
عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن پڑھو اس میں غلو نہ کرو، اسے چھوڑ نہ دو، اور نہ اس کے ذریعے مال سمیٹو۔
انسرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جمعے کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر کثرت سے درود پڑھو، کیوں کہ جس شخص نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1407) شعب الإيمان للبيهقي رقم (2895) معجم أبي يعلى الموصلى رقم (235)
ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:مجھ پر کثرت سے درود پڑھو کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری قبر کے پاس ایک فرشتہ کھڑا کر دیا ہے، جب میری امت کا کوئی شخص مجھ پر درود پڑھتا ہے تو وہ فرشتہ مجھ سے کہتا ہے :اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !فلاں بن فلاں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردرود پڑھا ہے۔
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جمعے کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھو، کیوں کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کس طرح درود پیش کیا جائے گا، حالانکہ آپ مٹی ہو چکے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء علیہم السلام کے اجسام کھانا حرام کر دیا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1527) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب فِي الِاسْتِغْفَارِ رقم (1308)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّابِاللهِ،کثرت سے پڑھا کرو، کیوں کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1528) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب فَضْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ رقم (3525)
کیا میں تمہیں ایسے معاملے کے بارے میں نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے اپنا لو گے تو تم ان سے جاملو گے جوتم سے سبقت لے گئے ہیں اور تمہارے بعد کوئی تم سے نہیں مل سکے گا۔ اور تم اپنے ساتھیوں کے درمیان بہترین درجے پر فائز ہو جاؤ گے۔ سوائے اس شخص کے جس نے ایسا عمل کیا ، تم ہر نماز کے بعد تینتیس (۳۳) مرتبہ سبحان اللہ ،الحمدللہ اور اللہ اکبر کہو۔اور ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ کچھ محتاج لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اور کہنے لگے: کہ مال والے لوگ بلند درجات اور ہمیشہ کی نعمتیں حاصل کرگئے۔ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں ،جس طرح ہم روزہ رکھتے ہیں وہ بھی روزہ رکھتے ہیں ،لیکن ان کے پا س زائد مال ہے جس کے ذریعے وہ حج کرتے ہیں ،عمرہ کرتے ہیں ،جہاد کرتے ہیں اور صدقہ بھی کرتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ پھر حدیث ذکر کی۔ ہم آپس میں اختلاف کرنے لگے، کوئی کہنے لگا:ہم تینتیس مرتبہ سبحان اللہ ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ ،اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: تم سبحان اللہ ،الحمدللہ اور اللہ اکبر سب تینتیس مرتبہ کہو۔
Takhreej
لصحيحة رقم (3308) صحيح بخاري كِتَاب الْأَذَانِ بَاب الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ رقم (798)
ابو امامہ باہلی صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: کیا میں تمہیں رات اور دن کے افضل یااکثر ذکر کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تم کہو : ”اللہ کی مخلوق کے برابر سبحان اللہ ،جو اس نے پیدا کیا اس سے بھر پورسبحان اللہ ،جو زمین و آسمان میں ہے اس کے برابر سبحان اللہ ، جو آسمان و زمین میں ہے اس سے بھر پور سبحان اللہ ،جو اس نے پیدا کیا اس سے بھر پور سبحان اللہ ،ان چیزوں کی گنتی کے بقدر جنہیں اس نے اپنی کتاب میں شمار کیا۔ اس کے برابر سبحان اللہ ،اور ہر چیز سے بھر پور سبحان اللہ“ ،اور تم الحمدللہ بھی اسی طرح کہو
Takhreej
الصحيحة رقم (2578) صحيح ابن حبان كتاب الرقائق باب الأذكار رقم (831) صحيح ابن خزيمة كتاب الصلاة رقم (731)
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے ،آپ سواری سے نیچے اترے تو ایک آدمی آپ کے پہلو میں اترا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا:کیا میں تمہیں قرآن کے افضل حصے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ اور یہ سورت پڑھی: اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾
Takhreej
الصحيحة رقم (1499) مستدرك الحاكم رقم (2013) السنن الكبرى للنسائي رقم (8011)
عن سَعد قال:كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، فقال: أَلَا أَخْبَرَكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا نَزَلَ بِرَجُلٍ مِنْكُم كَرْبٌ، أَو بَلَاءٌ منْ بلَايَا الدُّنْيَا دَعَا بِه يُفْرَجُ عَنْه؟ فَقِيل لَه: بَلَى، فَقَال: دُعَاءُ ذِي النُّون: (لا الٰہ الاّ أنت سبحٰنک انی کنت من الظلمین) الأنبياء: ٨٧ .
سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ بتاؤں کہ جب تم میں سے کسی شخص کو کوئی تکلیف یا دنیا کی کوئی آزمائش پہنچے اور وہ یہ دعا کرے تو اس کی پریشانی دور ہو جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کی دعا ہے: (لا الٰہ الاّ أنت سبحٰنک انی کنت من الظلمین) اے اللہ تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ،تو پاک ہے ،میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔
قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے بھیجا قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ،میں نماز پڑھ چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے ضرب لگائی ،اور فرمایا: کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ
Takhreej
الصحيحة رقم (1746) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب فِي فَضْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ رقم (3505)
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سید الاستغفار کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ اے اللہ تو ہی میرا رب ہے، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔ تو نےہی مجھے پیدا کیا ہے ،میں تیرا بندہ ،اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں،جتنی مجھ میں طاقت ہے، میں تیرے عہداور وعدےپرقائم ہوں۔ جو میں نے کام کئے ان کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔میں خود پر تیری عطا کردہ نعمت کا اقرار کرتا ہوں ۔اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں ۔میرے گناہ بخش دے ،کیوں کہ کوئی گناہ نہیں بخش سکتا سوائے تیرے۔جو کوئی بھی شخص شام کے وقت یہ کلمات کہے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1747) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مِنْهُ رقم (3315)سنن النسائي كِتَاب الِاسْتِعَاذَةِ باب الِاسْتِعَاذَةُ رقم (5427)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خادم مانگنے آئیں اور کام کی (مشقت کی)شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس کوئی خادم نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے کسی خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر آجاؤتو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو، تینتیس مرتبہ الحمدللہ کہو، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو
Takhreej
الصحيحة رقم (3596) صحيح مسلم كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ بَاب التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْمِ رقم (4907)
خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں رات کو گھبرا ہٹ محسوس کرتا تھا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: میں رات کو گھبراہٹ محسوس کرتا ہوں۔ اور اپنی تلوار پکڑ کر باہر نکل جاتا ہوں۔ اور مجھے جو چیز بھی نظر آجائے اسے تلوار ماردیتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو مجھے روح الامین نے سکھائے ؟تم کہو:”میں اللہ کے ایسے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں ،جن سے نہ کوئی نیکو کار اور نہ کوئی فاجر تجاوز کر سکتا ہے ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے یا آسمان میں چڑھتی ہے اور رات اور دن کے فتنوں سے اور رات کو آنے والے سے سوائے وہ جو رات کو خیر کے ساتھ آئے، اے رحمٰن
Takhreej
الصحيحة رقم (2738) المعجم الأوسط للطبراني رقم (5573)
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلِظُّوا بِـ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ. روی من حدیث......
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یا ذالجلال والاکرام)کو لازم پکڑو۔ ( ) یہ حدیث سیدنا ربیعہ بن عامر، ابوھریرہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1536) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مِنْهُ رقم (3447)
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ مجھے میری والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسولٍ! اپنے اس چھوٹے سے خادم کے لئے دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ اس کا مال، اس کی اولاد زیادہ کر، اس کی عمر لمبی کر اور اس کی بخشش کر ۔انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا مال زیادہ ہوگیا، میری عمر اتنی لمبی ہوئی کہ میں اپنے گھر والوں میں شرم محسوس کرتا۔ میرے پھل خوب پکے ہوئےہو تے ہیں ، اور چوتھی دعا یعنی مغفرت رہ گئی ہے