TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - Book 22 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 22 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 271 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

271 Hadith · 1 Chapters
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي بَكر بن سُلَيْمَان بن أبي حَثْمَة الْقُرَشِيّ، أَنَّ رَجُلًا مِّنَ الْأَنَصَارِ خَرَجَتْ بِه نَمْلَةٌ فَدَلَّ عَلَى أَن الشِّفَاء بِنْتِ عبد الله تَرْقِي من النَّمْلَة، فَجَاءَهَا فَسَأَلَهَا أَنْ تَرْقِيَهُ، فَقَالَتْ: وَاللهِ مَا رَقَيْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، فَذَهَبَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرَه بِالَّذِي قَالَتِ الشِّفَاء، فَدَعَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الشِفَاء فَقَال: «اعرضي علي» فَعَرضتها عَلَيه، فَقَال: « أَرْقِيه وعَلِّمِيْهَا حَفْصَة كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَ وَفِي رواية: الْكِتَابَة ».
ابو بکر بن سلیمان بن ابی حثمہ قرشی سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی کو پھنسی نکل آئی،اسے بتایا گیا کہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا پھنسی کا دم کرتی ہیں۔ وہ ان کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ وہ اسے دم کردیں، شفاء رضی اللہ عنہا نے کہا: واللہ جب سے میں مسلمان ہوئی ہوں میں نے دم نہیں کیا۔ وہ انصاری رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس گیا، اور شفاء نے جو بات کہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے شفاء رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: میرے سامنے دم کے الفاظ پڑھو، انہوں نے وہ الفاظ پڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دم کرو اور حفصہ رضی اللہ عنہا کو بھی اسی طرح یہ دم سکھاؤ، جس طرح تم نے اسے کتاب سکھائی ہے ۔اور ایک روایت میں ہے لکھنا سکھایا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (178) مستدرك الحاكم رقم (6989)
2753
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: كَانَ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ:استَعِيْذُوا بِاللهِ مِن شَرِّ جَارِ الْمَقَامِ، فَإِن جَارَ الْمُسَافِر إِذَا شَاء أَن يُزَايل زايل.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرمایا کرتے تھے: (مقیم) پڑوسی کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو، کیوں کہ مسافر پڑوسی کو سے جب دور ہونا چاہے تو دور ہوسکتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1443) مستدرك الحاكم رقم (1907)
2754
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ مَرفُوعاً: اسْتَعِيذُوا بِاللهِ تَعَالَى مِن العَيْنِ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہےکہ: نظر لگنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو کیوں کہ نظر لگنا حق ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (737) سنن ابن ماجة كِتَاب الطِّبِّ بَاب الْعَيْنُ رقم (3499)
2755
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم أَخَذَ بِيَدِهَا فَأَشَارَبِهَا إِلَى الْقَمَرِ فَقَالَ: اسْتَعِيذِي بِالهِ مِنْ هَذَا فَإِنَّهُ الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان کے ہاتھ سے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس سے اللہ کی پناہ طلب کرو کیوں کہ یہی اندھیری رات ہے یا اندھیرا کرنے والا ہے جب چھپ جائے یعنی گرہن زدہ ہوجائے۔ جب یہ چھا جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (372) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ رقم (3288) مسند أحمد رقم (24807)
2756
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، مَرفُوعاً: اسْمُ اللهِ الأَعْظَمُ فِي سُوَرٍ مِنَ الْقُرْآنِ ثَلاث: فِي الْبَقَرَةِ، وَآلِ عِمْرَانَ، وَطه .( )
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم قرآن کی تین سورتوں میں ہے:(سورۂ) بقرة، آل عمران اور طہ میں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (746) سنن ابن ماجة كِتَاب الدُّعَاءِ بَاب اسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ رقم (3846) المعجم الكبير للطبراني رقم (7659)
2757
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ.
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم زمانۂ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ،ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے اپنے دم سناؤ، دم میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (1579) مستدرك الحاكم رقم (1760)
2758
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَفْضَلُ الشُكْرِ اَلْحَمْدُ لِلهِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: افضل ذکر لا الہ الا اللہ ،اور افضل شکر الحمدللہ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1497) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مَا جَاءَ أَنَّ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ رقم (3305)
2759
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عِمْرَانَ بن حُصَيْنٍ، مَرفُوعاً: أَفْضَلُ عِبَادِ اللهِ تعالى يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْحَمَّادُونَ
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سےمرفوعامروی ہےکہ:قیامت کےدن اللہ کےافضل بندے(اللہ کی)بہت زیادہ تعریف کرنےوالےہوں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (1584) المعجم الكبير للطبراني رقم (14673)
2760
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَلِي مَرفُوعاً: «أَفْضَلُ ما قُلْتُ أَنا وَالنَّبِيُّون عَشِيَّةَ عَرَفَةَ لَا إِلَه إِلَا الله وَحْدَه، لَا شَرِيْكَ لَه، لَه الْمَلَك وَلَه الْحَمْد، وَهو عَلَى كُل شَيْء قَدِير».
علی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: سب سے افضل کلمہ جو میں نے اور انبیاعلیہم السلام نے عرفہ کی رات کہا (وہ یہ ہے): لا الٰہ الا اللہ وحدہ، لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وھو علٰی کل شیء قدیر۔ ’’اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف، اور وہ ہر چیں پر قادر ہے۔‘‘
Takhreej
الصحيحة رقم (1503) الدعا للطبراني رقم (800)
2762
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ ابن أَبْزَى، عَنْ أَبِيْه أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أغفل آيَة، فَلَمَا صَلَّى قال: أَفِي الْقَوْم أُبي؟ فَقَال أُبيّ: آيَةَ كَذَا نُسِخَتْ أَم نَسِيتَهَا ؟ قال : بَل أُنْسِيتُهَا
ابن ابزی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایک آیت بھول گئے جب آپ نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: کیا لوگوں میں ابی (یعنی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ )موجود ہیں ؟ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں آیت منسوخ ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں وہ آیت بھول گیا تھا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2579) غريب الحديث لإبراهيم الحربي رقم (1216)
2763
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ الْبَرَاء قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ سُورَةَ (الْكَهْفِ) وَلَهُ دَابَّةٌ مَرْبُوطَةٌ فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تَنْفِرُ فَنَظَرَ الرَّجُلُ إِلَى سَحَابَةٍ قَدْ غَشِيَتْهُ أَوْ ضَبَابَةٍ فَفَزِعَ فَذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قُلْتُ: سَمَّى النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَاكَ الرَّجُلَ؟ قَالَ: نَعَمْ (قَال: فَذكر ذلِك للنبِي صلی اللہ علیہ وسلم ) فَقَالَ: اقْرَأْ فُلَانُ! فَإِنَّهَا السَّكِينَةَ نَزَلَتْ لِلْقُرْآنِ أَوْ عِنْدَ الْقُرْآنِ.
براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورۂ کفَ پڑھی، اس کی سواری بندھی ہوئی تھی۔اس نے بدکنا شروع کر دیا۔ اس آدمی نے دیکھا تو ایک بادل اسے ڈھانپے ہوئے تھا۔تو وہ گھبرا کرآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس چلا آیا۔ میں نے کہا: کیا نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس آدمی کا نام لیا تھا؟ براء رضی اللہ عنہ نے کہا:ہاں(اس نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا)اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: فلاں پڑھو(یعنی سورۂ کہف)، یہ وہ سکینت تھی جو قرآن کے لئےنازل ہوئی یا قرآن پڑھتے وقت نازل ہوتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1313) صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ (3345) مسلم (1326)
2764
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنَسٍ مَرفُوعاً: اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : قرآن سات حروف (سات انداز سے قراءت )پر پڑھو ،ہر انداز شافی کافی ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2581) مسند أحمد رقم (20210)
2765
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهُ: اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي أَرْبَعِينَ (ثُمَّ فِي شَهْرٍ ثُمَّ فِي عِشْرِينَ ثُمَّ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثُمَّ فِي عَشْرٍ ثُمَّ فِي سَبْعٍ قَالَ: انْتَهى إِلَى سَبعٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے فرمایا :قرآن کو چالیس دن میں پڑھو، ورنہ ایک مہینے میں یا پھر بیس دنوں میں ،یا پھر پندرہ دنوں میں یا پھر دس دنوں میں یا پھر سات دنوں میں ،عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےسات پر جا کر بات ختم کر دی
Takhreej
الصحيحة رقم (1512) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب تَحْزِيبِ الْقُرْآنِ رقم (1187) الترمذي كِتَاب الْقِرَاءَاتِ (2871)
2766
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: اقْرَأْهُ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ... اقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ... اقْرَأْهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ... اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ، لَا يَفْقَهُهُ مَنْ يَقْرَؤُهُ فِي أَقَلِّ مِنْ ثَلَاثٍ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اےاللہ کےرسول!میں کتنےدنوں میں قرآن پڑھوں؟(ختم کروں؟)آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اسے ایک مہینے میں پڑھو۔ میں نے کہا:میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسے پچیس دنوں میں پڑھو۔۔۔ اسے بیس دنوں میں پڑھو۔۔۔ اسے پندرہ دنوں میں پڑھو۔۔۔ اسےسات دنوں میں پڑھو ۔ جواسےتین سےکم دنوں میں پڑھتاہےاسےسمجھ نہیں سکتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1513) مسند أحمد رقم (6259)
2767
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عن مُوسَى بن يَزِيْدَ الكِنْدِي، قَالَ:كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يُقْرِأ رَجُلاً، فَقَرَأ الرَجُلُ.ﮋﮡﮢﮣ ﮤﮊ (التوبة: ٦٠) مُرْسَلَةً، فقال ابن مسعود: ما هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: وكيف أَقْرَأَكَهَا يا أبا عبد الرحمن؟ قال: اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَ الۡمَسٰکِیۡنِ (۶۰) فمدَّها .
موسیٰ بن یزید کندی سے مروی ہے کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک آدمی کو قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ اس آدمی نے ارسال کرتے ہوئے(جلدی جلدی)پڑھا:(التوبة: ٦٠)۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےہمیں اس طرح نہیں پڑھا یا۔ اس آدمی نے کہا: ابو عبدالرحمن! آپ کو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے کس طرح پڑھایا؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہمیں اس طرح پڑھایا:(التوبة: ٦٠)،آیت کو کھینچ کر پڑھا
Takhreej
الصحيحة رقم (2237) التفسير من سنن سعيد بن منصور رقم (970)
2768
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَدْخُلُ بَيْتًا يُّقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:اپنے گھروں میں سورة البقرہ پڑھا کرو کیوں کہ شیطان اس گھرمیں داخل نہیں ہوتا جس میں سورة البقرہ پڑھی جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (1521) مستدرك الحاكم رقم (2019، 2020) المعجم الكبير للطبراني رقم (8564)
2769
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَفِينَا الْأَعْرَابِيُّ وَالْعَجمِيُّ فَقَالَ: اِقْرَءُوا فَكُلٌّ حَسَنٌ وَسَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ۔ہم قرآن پڑھ رہے تھے، ہم میں اعرابی اور عجمی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو ،ہر ایک (طریقہ)اچھا ہے، عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو ادائیگی کے اعتبار سے ایسے درست کریں گے جیسے تیسر کو سیدھا اور درست کیا جاتا ہے۔ وہ اس کے ذریعے دنیاوی مال و متاع حاصل کریں گے ؟؟؟ اجر و ثواب حاصل نہیں کریں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (259) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب مَا يُجْزِئُ الْأُمِّيَّ وَالْأَعْجَمِيَّ مِنْ الْقِرَاءَةِ رقم (706)
2770
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَبدِ اللهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِقرَءُوا الْقُرآن ، فَإِنَّكُمْ تُؤْجَرُونَ عليه أَمَا إِنِّي لا أَقُولُ: (الم) حَرفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ عشر، وَلامٌ عشر، وَمِيمٌ عشر، فَتِلك ثَلاثُونَ.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قرآن پڑھا کرو، کیوں کہ تمہیں اس پر اجر دیا جاتا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ ”الم“ ایک حرف ہے، لیکن الف کی دس نیکیاں ہیں ،لام کی دس نیکیاں ہیں اور میم کی دس نیکیاں ہیں ۔اس طرح یہ کل تیس نیکیاں ہوئیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (660) مستدرك الحاكم رقم (2036)
2771
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِي قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: اِقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ اِقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافٍّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اِقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے:قرآن پڑھا کرو کیوں کہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے سفارشی بن کر آئے گا۔کھلتے ہوئے پھولوں کی مانند دو سورتیں سورة البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو، کیوں کہ یہ دونوں قیامت کے دن بدلیوں کی صورت میں یایہ دونوں پرندوں کی صورت میں یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو غولوں میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی۔ سورة البقرة پڑھا کرو کیوں کہ اس کا پڑھنا باعث برکت اور اس کا چھوڑ نا باعث حسرت ہےاور باطل لوگ اسے پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3992) صحيح مسلم كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَاب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ رقم (1337) - الصحيحة رقم (3993) صحيح البخاري كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ بَاب كَرَاهِيَةِ الْخِلَافِ (6816) مسلم كِتَاب الْعِلْمِ (4819)
2772
Sahih