TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - Book 22 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 22 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 271 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

271 Hadith · 1 Chapters
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : يُؤْتى بِأَرْبَعَة يَوم الْقِيَامَة: بِالمُولُود، وَبِالمَعتُوه، وَبِمَن مَات فِي الْفتْرَة، وَالشَّيْخ الْفَانِي، كُلَّهُم يَتَكَلَّم بِحُجَّتِه، فَيَقُول الرَّبّ تَبَارَك وَتَعَالَى لعُنقٍ مِن النَّار: ابرز، فَيَقُول لَهم: إِنِّي كُنْت أَبْعَث إلى عِبَادِي رُسُلًا مِن أَنْفُسهم، وَإِنِّي رَسُول نَفسِي إِلَيْكُم، ادْخُلُوا هَذِه، فَيَقُول من كُتب عليه الشَّقَاء: يَا رَبّ! أَيْن نَدْخُلهَا، وَمِنْهَا كُنَّا نَفر؟ قَال: وَمَن كُتب عليه السَّعَادَة يَمْضِي، فيتقحم فِيهَا مُسْرِعًا، قال: فَيَقُول تَبَارَك وَتَعَالَى: أَنْتُم لرسلي أَشَدّ تَكْذِيبًا وَمَعْصِيَة، فَيدْخل هَؤُلَاء الْجَنَّة، وَهَؤُلَاء النَّار.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: چار بندوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا، بچے کو ،دیوانے کو اور جو انبیاء علیہم السلام کے درمیانی وقفے میں فوت ہوا ہو۔ اور انتہائی بوڑھے شخص کو، ہر ایک اپنی دلیل پیش کرے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جہنم سے نکلنے والی گردن (آگ کی لپیٹ) سے فرمائے گا: ظاہر ہو جاؤ، پھر ان سے کہے گا،میں اپنے بندوں کی طرف ان میں سے ہی رسول بھیجا کرتا تھا۔ اور میں اپنے بارے میں تمہاری طرف قاصد ہوں ،اس میں داخل ہو جاؤ، جس شخص پر بدبختی لکھ دی گئی ہوگی وہ کہے گا: اے میرے رب !ہم کہاں داخل ہوں، ہم تو اس سے بھاگا کرتے تھے؟ اور جس شخص کے لئے سعادت لکھ دی گئی ہوگی وہ اس میں جلدی سے داخل ہو جائے گا ۔اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا: تم میرے رسولوں کی شدید ترین تکذیب اور نافرمانی کرتے تھے ،تو یہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے اور وہ جہنم میں
Takhreej
الصحيحة رقم (2468) مسند أبي يعلى رقم (4114) القضاء والقدر للبيهقي رقم (582)
2993
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّۃ يَا رَسُولَ اللهِ! ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ نَتَصَدَّقُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَا أَبَا ذَرٍّ! أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تُدْرِكُ بِهِنَّ مَنْ سَبَقَكَ وَلَا يَلْحَقُكَ مَنْ خَلْفَكَ إِلَّا مَنْ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ؟ تُكَبِّرُ اهَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُسَبِّحُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَخْتِمُهَا بِـ: لَا إِلٰهَ إِلا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ابو ذر‌رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مال والے تو اجر لے گئے، جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں، جس طرح ہم روزہ رکھتے ہیں وہ بھی روزہ رکھتے ہیں لیکن ان کے لئے اموال کی کثرت ہے جسے وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر سکتے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابو ذر !کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن کے ذریعے تم ان لوگوں تک پہنچ جاؤ جو تم سے سبقت لے جا چکے ہیں۔ اور تمہارے پیچھے سے تم سے کوئی نہ مل سکے سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے؟ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو، تینتیس مرتبہ الحمدللہ کہو، اور تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو۔ اور لَا إِلٰهَ إِلا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. پر ختم کر دو، سمندر کے جھاگ کے برابر بھی گناہ ہوں تو بخش دیئے جاتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (100) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب التَّسْبِيحِ بِالْحَصَى رقم (1286)
2994
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ ابْنِ عَابِسٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَهُ: يَا ابْنَ عَابِسٍ! أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَل مَا تَعَوَّذ بِهِ الْمُتَعَوِّذُونَ؟ قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: (قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ) وَ (قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ) هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ.
ابن عابس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے کہا: اے ابن عابس! کیا میں تمہیں وہ افضل ذکر نہ بتاؤں جس کے ذریعے پناہ مانگنے والے پناہ مانگتے ہیں ؟انہوں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول!آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:(سورۃ الفلق اور سورۃ الناس)یہ دونوں سورتیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1104) سنن النسائي كِتَاب الِاسْتِعَاذَةِ بَاب منه رقم (5337)
2995
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عن أُم رَافِع  أَنَّها قَالَتْ: يَا رَسُول الله! دُلَّنِي عَلَى عَمَل يأجرني الله عَزّ وَجَل عليه؟ قال: يا أُم رافع! إِذا قُمْت إلى الصلاة؛ فَسَبِّحِي الله عشراً، وهلِّليه عشراً، وَاحْمَدِيه عشراً، وَكَبِّرِيه عشراً، واستغفريه عشراً، فَإِنَّك إِذَا سَبَّحْتِ عشراً قال: هذا لِي، و إِذَا هللت قال: هذا لِي، وَإِذَا حَمَدْتِ قال: هذا لِي، وَإِذَا كَبَّرْتِ قال: هذا لِي ، و إِذَا اسْتَغْفَرْتِ قال: قَد غَفَرْتُ لك.
ام رافع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتایئے جس پر اللہ تعالیٰ مجھے اجر دے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے ام رافع! جب تم نماز کے لئے کھڑی ہونے لگو تو دس مرتبہ سبحان اللہ ،دس مرتبہ الحمدللہ، دس مرتبہ اللہ اکبر کہو، اور دس مرتبہ بخشش طلب کرو، کیوں کہ تم جب دس مرتبہ سبحان اللہ کہو گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ میرے لئے ہے۔ جب تم لا الہ الا اللہ کہو گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا :یہ میرے لئے ہے، اور جب تم الحمدللہ کہو گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ میرے لئے ہے اور جب تم اللہ اکبر کہو گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ میرے لئے ہے ،اور جب تم بخشش طلب کرو گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تمہیں بخش دیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3338) عمل اليوم والليلة رقم (37-38/ 105)
2996
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ فَقَالَ: يَا ضَمْرَةُ! أَتَرَى ثَوْبَيْكَ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ؟ فَقَالَ: لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللهِ! لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزَعَهُمَا عَنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : اللهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزَعَهُمَا عَنْهُ.
ضمرہ بن ثعلبہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آئے تو ان پر یمن کے دو جبے تھے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ضمرہ! تمہارے خیال میں کیا تمہارے یہ دونوں کپڑے تمہیں جنت میں داخل کردیں گے؟ ضمرہ‌رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول! اگر آپ اللہ سے میرے لئے بخشش طلب کریں( تو بہت اچھا ہوگا)میں بیٹھنے سے پہلے ہی انہیں اتار دوں گا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اےاللہ ضمرہ بن ثعلبہ کو بخش دے، ضمرہ وہاں سے جلدی سے چلے گئے اور ان دنوں جبوں کو اتاردیا
Takhreej
الصحيحة رقم (3018) مسند أحمد رقم (18210)
2997
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِي: يَا عُقْبَة بْنَ عَامِرٍ! صِلْ مَنْ قَطَعَكَ وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِي: يَا عُقْبَة بْنَ عَامِرٍ! أَمْلِكْ لِسَانَكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ وَلْيَسَعُكَ بَيْتُكَ قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِي: يَا عُقْبَة بْنَ عَامِرٍ! أَلَا أُعَلِّمُكَ سُوَرًا مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهُنَّ؟ لَا يَأْتِيَنَّ عَلَيْكَ لَيْلَةٌ إِلَّا قَرَأْتَهُنَّ فِيهَا (سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق، سورۃ الناس)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ملا تو آپ نے مجھےفرمایا: اے عقبہ بن عامر!جو تم سے تعلق توڑے اس سے صلہ رحمی کرو، جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو، جو تم پر ظلم کرے اس سے در گزر کرو۔ کہتے ہیں پھر میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا تو آپ نے مجھ سے کہا: اے عقبہ بن عامر! اپنی زبان روک کر رکھو، اپنی خطا پر آنسو بہاؤ، اور تمہیں تمہارا گھر ہی کافی ہو۔ کہتے ہیں:میں پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ملا تو آپ نے مجھ سے کہا: اے عقبہ بن عامر! کیا میں تمہیں ایسی سورتیں نہ سکھاؤں جو نہ تورات میں ہیں، نہ زبورمیں، نہ انجیل میں اور نہ قرآن میں ان جیسی سورتیں نازل ہوئی ہیں۔ تم ہر رات انہیں پڑھو، (سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق، سورۃ الناس)
Takhreej
الصحيحة رقم (2861) مسند أحمد رقم (16810)
2998
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ لِعَمِّهِ الْعَبَّاسِ:يَا عَمِّ أَكْثِرِ الدُّعَاءَ بِالْعَافِيَةِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےاپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:اے چچا جان! کثرت سے عافیت کی دعا کیا کریں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1523) المعجم الكبير للطبراني رقم (11740) مستدرك الحاكم رقم (1894)
2999
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنسِ بْنِ مَالكٍ أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان يَقول: يَا وليَّ الْإِسْلَام و اَهْلِه، ثَبِّتنِي بِه حَتَّى ألقاك.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرمایا کرتے تھے: اے اسلام اور اہل اسلام کے نگران، مجھے اس پر ثابت قدم رکھ حتی کہ میں تجھ سے ملاقات کروں
Takhreej
الصحيحة رقم (1823) المعجم الأوسط للطبراني رقم (672)
3000
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنسِ بْنِ مَالكٍ قَالَ:كَان رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم يَقول:يَا ولِّي الْإِسْلَام اَهْلِه مَسِّکْنِیُ الْإِسْلَام حَتَّى أَلْقَاك عليه.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرمایا کرتے تھے: اے اسلام اور اہل اسلام کے نگران مجھے توفیق دے کہ اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھوں حتی کہ اسی پر تجھ سے ملاقات کر وں
Takhreej
الصحيحة رقم (1476) سلسلة الأحاديث الصحيحة رقم (1476) الفوائد المنتقاة من أصول سماعات الرئيس الثقفي رقم (2/ 165)
3001
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيرَة مَرفُوعاً: يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ: هَل تَعْرِفُنِي؟ أَنا الَّذِي كُنْتُ أُسْهِرُ لَيْلَك وأُظمئ هَوَاجِرَك، وإِن كُل تَاجِر من وَرَاء تِجَارَتِه، وأَنا لَك الْيَوْم من وَرَاء كُل تَاجِر، فَيُعْطَى الْملك بِيَمِينِه والْخُلْد بِشِمَالِه ويُوضَع عَلَى رَأسِه تَاج الْوَقَار ويُكْسَى وَالِدَاه حُلَّتَيْن لَا تَقُوم لَهم الدُّنْيَا و ما فِيهَا، فَيَقُولَان: يَا رَبّ! أَنَّى لَنا هذا؟ فَيُقَال: بتعليم وَلَدِكُمَا الْقُرْآن. و إِن صَاحَب الْقُرْآن يُقَال لَه يَوْمَ الْقِيَامَة : اقْرَأ وارْقَ في الدَّرَجَات ورَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّل في الدُّنْيَا، فَإِن مَنْزِلك عَنْد آخِرِ آيَةٍ معك.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: قیامت کے دن قرآن ایک رنگ اور جسم کی تبدیلی کی صورت میں آئے گا اور صاحب قرآن سے کہے گا: کیا تم مجھے جانتے ہو؟ میں وہ ہوں جو تمہیں راتوں کو بیدار اور دوپہروں کو پیاسا رکھتا تھا۔ ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے تھااور آج میں ہر تاجرکےعلاوہ آپ کے ساتھ ہوں ،تب صاحب قرآن کو دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں دوام عطا کر دیا جائے گا، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اس کے والدین کوایسے دو جبے پہنائے جائیں گے ،دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس کے برابر نہیں ہوگا۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! یہ ہمارے لئے کس وجہ سے؟ تو کہا جائے گا: تم دونوں نے اپنے بچے کو قرآن کی تعلیم دی تھی۔ اور قیامت کے دن صاحب قرآن سے کہا جائے گا، پڑھو اور درجات چڑھتے جاؤ اور اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جس طرح دنیا میں پڑھتے تھے۔ تمہاری منزل تمہاری آخری آیت پر ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2829) المعجم الأوسط للطبراني رقم (5926)
3002
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو مَرفُوعاً: يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ (كُنت) تَقْرَأُ بِهَا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: صاحب قرآن سے کہا جائے گا: قرآن پڑھتے جاؤ اور(درجات) چڑھتے جاؤ، اور اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جس طرح تم دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتے تھے، تمہاری منزل اس آخری آیت پر ہے جو تم پڑھو گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2240) ، أبي داؤدكِتَاب الصَّلَاةِ بَاب اسْتِحْبَابِ التَّرْتِيلِ فِي الْقِرَاءَةِ (1252)
3003
Sahih