TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں - نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں - Book 27 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 27 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 39 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

39 Hadith · 1 Chapters
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِالشِّرْكِ ثُمَّ تَنَدَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ: سَلُوا لِي رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَجَاءَ قَوْمُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالُوا: إِنَّ فُلَانًا قَدْ نَدِمَ وَإِنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَّسْأَلَكَ هَلْ لَّهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَنَزَلَتْ (کَیۡفَ یَہۡدِی اللّٰہُ قَوۡمًا کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ ) الی قولہ (غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۸۹﴾ ) (آل عمران: ٨٦) فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ [قَوْمُہ] فَأَسْلَمَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: ایك انصاری مسلمان ہو كر مرتد ہو گیا، اور مشركوں سے مل گیا، پھر شرمندہ ہوا، اور اپنی قوم كی طرف پیغام بھیجا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں كہ كیا اس كے لئے تو بہ ہے؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: (کَیۡفَ یَہۡدِی اللّٰہُ قَوۡمًا کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ ) (غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۸۹﴾ ) (آل عمران: ٨٦)اس کی قوم نے اس کی طرف پیغام بھیج دیا
Takhreej
الصحيحة رقم (3066)، سنن النسائي كِتَاب تَحْرِيمِ الدَّمِ باب تَوْبَةُ الْمُرْتَدِّ رقم (4000)
3665
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
) عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كُن مَع صَاحِب الْبَلَاء تَوَاضُعًا لِّرَبِّك وَإِيمَانًا.
) ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب كے لئے عاجزی اختیار كرتے ہوئے اور اپنے رب پرایمان ركھتے ہوئے آزمائش والے كے ساتھ ہو جا
Takhreej
الصحيحة رقم (2877)، شرح معاني الآثار للطحاوي ( 2 / 379 )
3666
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم « لَنْ يُّدْخِلَ أَحَدًا مِّنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ » [وَلاَ يُنْجِّيَهُ مِنَ النَّار]. قَالُوا: وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ:«وَلَا أَنَا-[وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذاَ عَلَى رَأْسِهِ:]- إِلاَّ أَنْ يَّتَغَمَّدَنِىَ اللهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَّرَحْمَةٍ »[مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا] فسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاغْدُوا وَرُوحُوا وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ. ورد عمن جمع من الصحابہ .......
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے كسی شخص كو اس كا عمل جنت میں داخل نہیں كر وا سكے گا( اور نہ ہی آگ سے نجات دلائے گا)صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول ! كیا آپ كے ساتھ بھی یہی صورتحال ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں میرے ساتھ بھی یہی صورتحال ہے( اور اپنے ہاتھ كے ساتھ اپنے سر كی طرف اشارہ كیا) مگر یہ كہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے اسے ڈھانپ لے( دو مرتبہ یا تین مرتبہ كہا) (سیدھے ہو جاؤ، قریب ہو جاؤ) ( اور خوش ہو جاؤ) (صبح و شام اور رات كو نیك عمل كرو، میانہ روی اختیار كرو، مقصد كو پہنچ جاؤ گے)( اور جان لو كہ اللہ تعالیٰ كو تمہارا سب سے پیارا عمل وہ لگتا ہے جو مستقل ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو)۔ یہ حدیث ....... سے مروی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2602)، البخاري ( 4 / 48 ) ، مسلم ( 8 / 140 ) ، أحمد ( 2 / 264 )
3667
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيَتَمَنَّيَنَّ أقوامٌ لَّوْ أَكْثَرُوا مِنَ السَّيِّئاتِ. قَالُوا: بِمَ يَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: الذِينَ بَدَّلَ اللهُ سَيِّئاتِهم حَسَناَتٍ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كچھ قومیں خواہش كریں گی كہ كاش وہ بہت زیادہ برے عمل كرتے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! كس وجہ سے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ لوگ جن كی برائیاں اللہ تعالیٰ نیكیوں میں بدل دے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3053)، المستدرك كتاب التوبة و الإنابة رقم (7643)
3668
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عن أبي مَوسَى الْأَشْعَرِيّ قال: بَيْنَمَا هَو يُعَلِّمَهُم شيئاً مِّن أَمَر دِينِهِم إِذْ شَخَصَتْ أَبْصَارُهُم، فَقَالَ مَا أَشْخَصَ أَبْصَارَكُم عَنِّي ؟ قَالُوا : نَظَرْنَا إِلىَ القَمَر، قَالَ : فَكَيْفَ بِكَم إِذَا رَأَيْتُم الله جَهَرْة؟ .
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ كو دین كے معاملات سمجھا رہے تھے کہ اچانك ان كی نگاہیں اوپر اٹھ گئیں ، فرمایا: مجھ سے ہٹ كر تمہاری نگاہیں كس چیز نے اوپر كر دیں؟ صحابہ نے كہا: ہم چاند كی طرف دیكھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اس وقت تمہاری كیا حالت ہو گی جب تم اللہ كو سامنے دیكھو گے
Takhreej
الصحيحة رقم (3056)، الشريعة للآجري (ص 263- 264)
3669
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أكثر وأَعَزُّ مِمَّنْ يَّعْمَل بِهَا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُونَه إِلَّا يُوْشِك أَنْ يَّعُمَّهُم اللهُ بِعِقَابٍ.
عبیدا للہ بن جریر رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كوئی قوم ایسی نہیں جس میں گناہ كے كام كئےجاتے ہوں برائی کرنے والوں کی نسبت اس سے بچنے والے زیادہ اور طاقتور ہوں ، پھر بھی وہ ان كی حالت تبدیل نہ كریں تو قریب ہے كہ اللہ تعالیٰ ان سب كو عام عذاب میں مبتلا كر دے
Takhreej
الصحيحة رقم (3353)، سنن أبي داودكتاب الملاحم باب الأمر والنهي رقم (4339 )
3670
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَجَ فَرَأَى قُبَّةً مُّشْرِفَةً فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟». قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: هَذِهِ لِفُلاَنٍ - رَجُلٍ مِّنَ الأَنْصَارِ -. قَالَ: فَسَكَتَ وَحَمَلَهَا فِى نَفْسِهِ حَتَّى إِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُسَلِّمُ عَلَيْهِ فِى النَّاسِ أَعْرَضَ عَنْهُ صَنَعَ ذَلِكَ مِرَارًا، عَرَفَ الرَّجُلُ الْغَضَبَ فِيهِ وَالإِعْرَاضَ عَنْهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: وَاللهِ إِنِّى لأُنْكِرُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم . قَالُوا: خَرَجَ فَرَأَى قُبَّتَكَ. قَالَ فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى قُبَّتِهِ فَهَدَمَهَا حَتَّى سَوَّاهَا بِالأَرْضِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرَهَا قَالَ: « مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ؟ ». قَالُوا: شَكَا إِلَيْنَا صَاحِبُهَا إِعْرَاضَكَ عَنْهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَهَدَمَهَا فَقَالَ: « أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ وَّبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ إِلاَّ مَا لَا إِلاَّ مَا لَا ». يَعْنِى مَا لاَ بُدَّ مِنْهُ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نكلے تو ایك اونچا قبہ (اونچا گھر) دیكھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ كیا ہے؟ صحابہ نے كہا: یہ فلاں انصاری كا گھر ہے۔ آپ خاموش رہے اور اس بات كو دل میں ركھ لیا، جب اس كا مالك رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیااور لوگوں كے سامنے آپ كو سلام كیا تو آپ نے منہ پھیر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے كئی مرتبہ ایسا كیا۔ اس آدمی نے آپ كا غصہ اور منہ پھیرنا محسوس كر لیا تو اس نے صحابہ سے شكایت كی اور كہا: واللہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ایسی ناراضگی اور غصہ پہلے تو کبھی نہیں دیکھا جس کا سبب بھی معلوم نہیں۔ صحابہ نے كہا: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌باہر نكلے تو تمہار ا گھر دیكھا تھا، وہ آدمی اپنے گھر كی طرف آیا اور اسے گرا كر زمین كے برابر كر دیا۔ ایك دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نكلے تو قبہ نظر نہ آیا۔ آپ نے فرمایا: قبے كے ساتھ كیا ہوا؟ صحابہ نے كہا: اس كے مالك نے آپ كے منہ پھیرنے كی شكایت كی تھی تو ہم نے اسے بتایا۔ اس نے اسے گرایا ہے۔ آپ نے فرمایا: خبردار! ہر عمارت اس كے مالك پر وبال ہے سوائے اس كے جس كے بغیر گزاراہ نہ ہو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2830)، سنن أبى داود كتاب الأدب باب مَا جَاءَ فِى الْبِنَاءِ رقم (5239 )
3671
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا أَضَرَّ بِالآخِرَةِ، وَمَنْ طَلَبَ الآخِرَةَ أَضَرَّ بِالدُّنْيَا! فَأَضِرّوا بِالفَانِيَ لِلْبَاقِي .
) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا طلب كی اس نے آخرت خراب كر لی اورجس شخص نے آخرت طلب كی اس نے دنیا كا نقصان اٹھایا، تو باقی رہنے والی چیز كے لئے فنا ہونے والی كا نقصان برداشت كر لو
Takhreej
الصحيحة رقم (3287)، الزهد لابن أبي عاصم رقم (161)
3672
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا أَضَرَّ بِالآخِرَةِ، وَمَنْ طَلَبَ الآخِرَةَ أَضَرَّ بِالدُّنْيَا! فَأَضِرّوا بِالفَانِيَ لِلْبَاقِي .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا طلب كی اس نے آخرت خراب كر لی اورجس شخص نے آخرت طلب كی اس نے دنیا كا نقصان اٹھایا، تو باقی رہنے والی چیز كے لئے فنا ہونے والی كا نقصان برداشت كر لو
Takhreej
الصحيحة رقم (3287)، الزهد لابن أبي عاصم رقم (161)
3673
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ عَلْقَمَةَ بن وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ غَصَبَ رَجُلا أَرْضًا ظُلْمًا، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ.
علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے كسی آدمی كی زمین ظلم سے غصب كی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات كرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3365)، المعجم الكبير للطبراني رقم (17494)
3674
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِّنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ الْكِبْرِ وَالدَّيْنِ وَالْغُلُولِ
ثوبان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص كے جسم سے روح اس حال میں نكلی كہ وہ تین چیزوں سے بری تھا تو وہ جنت میں داخل ہو گا، تكبر،قرض اور خیانت
Takhreej
الصحيحة رقم (2785)، مسند أحمد رقم (22369 )
3675
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌غَرَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ عُوداً [غَرْزًا] ثُمَّ غَرَزَ إِلَى جَنْبِهِ آخَرَ ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ فَأَبْعَدَهُ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا؟ قَالُوا: اَللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: هَذَا الْإِنْسَانُ وَهَذَا أَجَلُهُ وَهَذَا أَمَلُهُ يَتَعَاطَى الْأَمَلَ وَالْأَجَلُ يَخْتَلِجُهُ [الأجلُ] دُونَ ذَلِك.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے ایك لكڑی گاڑی، پھر اس کے پہلو کی طرف ایك دوسری لكڑی گاڑی ، پھرایك تیسری لكڑی دور كر كے گاڑی ،پھر فرمایا: كیا تم جانتے ہو یہ كیا ہے؟ صحابہ نے كہا: اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ انسان ہے، یہ اس كی موت ہے اور یہ اس كی خواہشات ہیں،خواہشات اور امیدیں بڑھتی جاتی ہیں اور (موت ) اسے اس سے پہلے ہی اچانک اچک لیتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3428)، مسند أحمد رقم (11132)
3676
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءؓ قَالَ: مَرَّ النَّبِيّ صلی اللہ علیہ وسلم بِدَمْنَة قَوْم فِيهَا سَخْلَة مَيْتَة قَالَ: ما لِأَهْلِهَا فِيهَا حَاجَة؟ قَالُوا:يَا رَسُوْلَ الله! لَو كَان لِأَهْلِهَا فِيهَا حَاجَة مَا نَبَذُوْهَا فَقَالَ: وَاللهِ! لَلدُّنْيَا أَهْوَن عَلَى اللّه مِنْ هَذِه السَّخْلَة عَلَى أَهْلِهَا فَلَا أَلْفِيَنَّهَا أَهْلَكْت أَحَدًا مِّنْكُم
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایك قوم کے کوڑی خانہ كے پاس سے گزرے ،وہاں بكری كا ایك مردہ بچہ پڑا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: كیا اس كے مالكوں كو اس كی ضرورت نہیں؟ صحابہ نےکہا: اے اللہ كے رسول! اگر اس كے مالكوں كو اس كی ضرورت ہوتی تو اسے نہ پھینكتے۔ آپ نے فرمایا: واللہ! دنیا اللہ تعالیٰ كے نزدیك اس مردہ بكری كے بچے كی اس كے مالكوں كے پاس حیثیت سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ میں تم میں سے كسی شخص كو اس حالت میں نہ پاؤں كہ دنیا نے اسے ہلاك كر دیا ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3392)، مسند البزار رقم (3690)
3677
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
) عَنْ ذَيَّال بْن عُتْبَةَ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ: سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بَنَ حِذْيَمٍ جَدِّي أَنَّ جَدَّهُ حَنِيفَةَ قَالَ لِحِذْيَمٍ: اجْمَعْ لِي بَنِيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوصِي أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِّنَ الْإِبِلِ الَّتِي كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْمُطَيَّبَةَ فَقَالَ حِذْيَمٌ: يَا أَبَتِ! إِنِّي سَمِعْتُ بَنِيكَ يَقُولُونَ: إِنَّمَا نُقِرُّ بِهَذَا عِنْدَ أَبِينَا فَإِذَا مَاتَ رَجَعْنَا فِيهِ قَالَ: فَبَيْنِي وَبَيْنَكُمْ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: حِذْيَمٌ: رَضِينَا فَارْتَفَعَ حِذْيَمٌ وَحَنِيفَةُ وحَنْظَلَةُ مَعَهُمْ غُلَامٌ وَهُوَ رَدِيفٌ لِحِذْيَمٍ فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَلَّمُوا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : وَمَا رَفَعَكَ يَا أَبَا حِذْيَمٍ؟ قَالَ: هَذَا وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ حِذْيَمٍ فَقَالَ: إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَّفْجَأَنِي الْكِبَرُ أَوِ الْمَوْتُ فَأَرَدْتُّ أَنْ أُوصِيَ أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِّنَ الْإِبِلِ كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْمُطَيَّبَةَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم حَتَّى رَأَيْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ وَكَانَ قَاعِدًا فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ: لَا، لَا، لَا. الصَّدَقَةُ خَمْسٌ، وَإِلَّا فَعَشْرٌ، وَإِلَّا فَخَمْسَ عَشْرَةَ، وَإِلَّا فَعِشْرُونَ، وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَّعِشْرُونَ، وَإِلَّا فَثَلَاثُونَ، وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَّثَلَاثُونَ، فَإِنْ كَثُرَتْ فَأَرْبَعُونَ قَالَ: فَوَدَعُوهُ وَمَعَ الْيَتِيمِ عَصًا وَهُوَ يَضْرِبُ جَمَلًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : عَظُمَتْ هَذِهِ هِرَاوَةُ يَتِيمٍ قَالَ حَنْظَلَةُ: فَدَنَا بِي إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّ لِي بَنِينَ ذَوِي لِحًى وَّدُونَ ذَلِكَ وَإِنَّ ذَا أَصْغَرُهُمْ فَادْعُ اللهَ لَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَقَالَ: بَارَكَ اللهُ فِيكَ أَوْ بُورِكَ فِيك قَالَ ذَيَّالٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْهُهُ أَوْ الْبَهِيمَةِ الْوَارِمَةِ الضَّرْعُ فَيَتْفُلُ عَلَى يَدَيْهِ وَيَقُولُ: بِسْمِ اللهِ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ وَيَقُولُ: عَلَى مَوْضِعِ كَفِّ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَيَمْسَحُهُ عَلَيْهِ وَقَالَ: ذَيَّالٌ: فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ.
ذیال بن عتبہ بن حنظلہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے حنظلہ بن حذیم اپنے دادا سے سنا كہ ان كے دادا حنیفہ نے حذیم سے كہا: میرے بیٹوں كو جمع كرو، میں انہیں وصیت كرتا چاہتا ہوں۔ اس نے انہیں جمع كیا، انہوں نے كہا: پہلی وصیت جو میں كرتا ہوں كہ میرا یہ یتیم جو میری گود میں ہے، اس كے لئے ایك سو اونٹ ہیں جس کا نام ہم جاہلیت میں(مطیبہ) ركھا كرتے تھے۔ حذیم نے كہا: ابا جان! میں نے آپ كے بیٹوں كو كہتے ہوئے سنا ہے كہ: ہم اس وصیت كی وجہ سے( مجمع میں) اپنے والد کے سامنے اس کا اقرار کرلیں گے۔ جب یہ مر جائے گا تو ہم وصیت پر عمل نہیں كریں گے۔ حنیفہ نے كہا: تب میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ كریں گے۔ حذیم نے كہا: ہم راضی ہیں، حنیفہ ،حذیم اور حنظلہ اٹھ گئے ،ان كے ساتھ ایك بچہ بھی تھا، جو حذیم كے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے تو آپ كو سلام كیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو حذیم! تمہیں كون سی بات یہاں كھینچ لائی ہے؟ ابو حذیم نے كہا: اس نے اور حذیم كی ران پر ہاتھ مارا، میں ڈرتا ہوں كہ كہیں بڑھاپا یا موت مجھے اچانك اپنی آغوش میں نہ لے لے، میں نے چاہا كہ وصیت كر دوں كہ میرے اس یتیم كے لئے جو میری گود میں ہے ایك سو اونٹ ہیں جنہیں ہم جاہلیت میں المطیبہ (عمدہ اونٹ)كا نام دیا كرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہو گئے حتی كہ ہم نے آپ كے چہرے پر غصہ دیكھا۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے كہ گھٹنوں كے بل ہو گئے اور فرمایا: نہیں، نہیں، نہیں، صدقہ پانچ ہے، وگرنہ دس،وگرنہ پندرہواں، وگرنہ بیس وگرنہ پچیس وگرنہ تیس وگرنہ پینتیس حصہ ، اور اگر زیادہ ہی كرنا ہو تو چالیس ہے، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت لی،اس یتیم كے پاس ایك لكڑی تھی، اور وہ اونٹ كو مار رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یتیم کا موٹا ڈنڈا بڑا (بھاری ) ہوگیا ہے ۔ حنظلہ نے كہا: میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے قریب ہوئے اور کہا: میرے داڑھی والے اور بغیر داڑھی والے بیٹے ہیں، یہ سب سے چھوٹا ہے، اس كے لئے اللہ سے دعا كیجئے، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس كے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ میں بركت كرے، یا تجھ میں بركت كی جائے۔ ذیال نے كہا: میں نے حنظلہ كو دیكھا، اس كے پاس كسی آدمی كو لایا جاتا جس كے چہرے پر ورم ہوتا یا ایسے جانور كو لایا جاتا جس كے تھنوں پر ورم ہوتا تو وہ اپنے ہاتھ پر تھوكتے اور كہتے: بسم اللہ اور اپنا ہاتھ اپنے سر پر ركھتے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلی ركھی تھی۔ پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھتے۔ ذیال نے كہا: اس طرح ورم ختم ہو جاتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2955)، مسند أحمد رقم (20665)
3678
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : يُؤتَى بِالرَّجُل يَوْم الْقِيَامَة فيُقالُ: اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَار ذُنُوبِهِ. فتُعرضُ عَلَيْهِ، ويُخَبَّأُ عَنْه كِبَارُها، فَيُقالُ: عَمِلْت يَوْم كَذَا وَكَذَا؛ كَذَا وَكَذَا، وَهُوَ مُقرٌّ لَّا يُنكرُ، وَهُوَ مُشفِقٌ مِّنَ الكِبَارِ، فيُقالُ: أعطُوهُ مَكَان كلِّ سيئةٍ عَمِلَها حسنةً. قَالَ: فَيَقُول: إنَّ لِي ذنوباً مَّا أَرَاهَا هَهُنا.قال أبو ذرٍّ: فَلَقَد رأيتُ رسولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَواجِذُهُ
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت كے دن ایك آدمی كو لایا جائے گا، اور كہا جائے گا: اس كے چھوٹے چھوٹے گناہ اس کے سامنے پیش کرو۔ وہ گناہ اس كے سامنے لائے جائیں گے، جب كہ بڑے گناہ اس سے چھپا لیئے جائیں گے۔ كہا جائے گا: تو نے فلاں فلاں دن یہ كام كیا تھا؟ وہ اقرار كرے گا انكار نہیں كرے گا۔ اور بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہو گا۔ كہا جائے گا: اسے ہر برائی كے بدلے ایك نیكی دے دو۔ وہ كہے گا: میرے ایسے بھی گناہ ہیں جنہیں میں یہاں نہیں دیكھ رہا۔ ابو ذر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو دیكھا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اتنا مسكرائے كہ آپ كی داڑھیں نظر آنے لگیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3052)، الزهد لوكيع رقم (367)
3679
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَسَدِ بن كُرْزٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا أَسَدَ بن كُرْزٍ! لا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِعَمَلٍ ، وَلَكِنْ بِرَحْمَةِ اللهِ، قُلْتُ: وَلا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ: وَلا أَنَا ، إِلا أَنْ يَتَلافَانِيَ اللهُ أَوْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ.
اسد بن كرز سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے كہا: اے اسد بن كرز! تم كسی بھی عمل كی وجہ سے جنت میں نہیں جا سكوگے، لیكن اللہ كی رحمت سے جنت میں ضرور چلے جاؤ گے۔ ( میں نے كہا: اے اللہ كے رسول ! كیا آپ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا:) ہاں میرے ساتھ بھی یہی صورتحال ہو گی۔ مگر یہ كہ اللہ تعالیٰ مجھے ڈھانپ لے یا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے
Takhreej
الصحيحة رقم (3138)، المعجم الكبير للطبراني رقم (1001)
3680
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :يَا شَبَابَ قُرَيْشٍ! احْفَظُوا فُرُوْجَكُمْ لاَ تَزْنُوا ألا مَنْ حَفِظَ فَرْجَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قریش كے نوجوانوں ! اپنی شرمگاہوں كی حفاظت كرو ، زنا نہ كرو، خبردار جس نے اپنی شرمگاہ كی حفاظت كی اس كے لئے جنت ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2696)، المعجم الأوسط للطبراني رقم (6993)
3681
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا عَائِشَةُ! إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُنُوبِ فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللهِ طَالِبًا.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے كہا: اے عائشہ! چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچو، كیوں كہ اللہ كی طرف سے ان كے مرتكب كو تلاش كرنے والا لگا رہتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2731)، سنن ابن ماجه كِتَاب الزُّهْدِ بَاب ذِكْرِ الذُّنُوبِ رقم (4233) ،سنن الدارمي رقم (2726 )
3682
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنِ الحَسَن مُرْسَلًا: يَقول اللّه عَزّ وَجَل: وَعِزَّتِي! لَا أَجْمَع عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَلَا أَجْمَع لَه أَمَنَيْن إِذًا أَمِنَنِي فِي الدُّنْيَا أَخْفَتَه يَوْم الْقِيَامَة وَ إِذَا خَافَنِي فِي الدُّنْيَا أمَنْتُه يَوْم الْقِيَامَة.
حسن سے مرسلاً مروی ہے كہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: میری عزت كی قسم میں اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں كروں گا، نہ اس كے لئے دو امن جمع كروں گا۔ جب وہ دنیا میں مجھ سے بے خوف ہو گا تو قیامت كے دن اسےخوف میں مبتلاکروں گا، اور جب وہ دنیا میں مجھ سے ڈرے گا تو قیامت كے دن اسے امن دوں گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2666)، الزهد لابن المبارك باب ما جاء في الخشوع والخوف رقم (157)
3683
Sahih