TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خوبیوں اور خامیوں کا بیان - خوبیوں اور خامیوں کا بیان - Book 26 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 26 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 315 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

315 Hadith · 1 Chapters
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ فَيَقُولُ: بِكَ أُمِرْتُ لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت كے دن میں جنت كے دروازے پر آكر دروازہ كھٹكھٹاؤں گا۔ پہرے دار كہے گا: آپ كون ہیں؟ میں كہوں گا: محمد۔ وہ كہے گا: مجھے آپ كے بارے میں كہا گیا تھا كہ میں آپ سے پہلے كسی كے لئے دروازہ نہ كھولوں
Takhreej
الصحيحة رقم (774) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب فِي قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ... رقم (292)
3330
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَّهِيَ أُمُّ أَنَسٍ فَرَأَى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْيَتِيمَةَ فَقَالَ: آنْتِ هِيَهْ؟ لَقَدْ كَبِرْتِ لَا كَبِرَ سِنُّكِ فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ؟ قَالَتِ الْجَارِيَةُ: دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ لَّا يَكْبَرَ سِنِّي أَوْ قَالَتْ: قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لَهَا: رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ! أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي؟ قَالَ: وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ قَالَتْ: زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لَّا يَكْبَرَ سِنُّهَا وَلَا يَكْبَرَ قَرْنُهَا قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثُمَّ قَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ! أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُّ عَلَى رَبِّي فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَّيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَّجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَّزَكَاةً وَّقُرْبَةً يُّقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، كہتے ہیں كہ انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا كے پاس ایك یتیم لڑكی تھی ۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ نے اس یتیم لڑكی كو دیكھا تو فرمایا: كیا تم وہی ہو؟ تم تو بڑی ہو گئی ہو۔ تمہاری عمر لمبی نہ ہو۔ وہ یتیم لڑكی ام سلیم رضی اللہ عنہا كی طرف روتی ہوئی آئی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہانے كہا: بیٹی كیا ہوا؟ اس بچی نے كہا: اللہ كے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے بددعا دی ہے كہ میری عمر یا کہا کہ: میرا زمانہ لمبا نہ ہو۔ام سلیم رضی اللہ عنہا اپنی چادر كو اپنے سر پر ڈالتے ہوئے جلدی جلدی نكلی، جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس پہنچی تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے كہا:ام سلیم تمہیں كیا ہوا؟ اس نے كہا: اے الہل كے نبی! كیا آپ نے میری یتیم بچی كے لئے بددعا كی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ام سلیم كونسی بددعا؟ ام سلیم نے كہا:اس كا خیال ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا كی ہے كہ اس كی عمر لمبی نہ ہو؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكرا دیئے پھر فرمایا:ام سلیم! كیا تم نہیں جانتی كہ میرے رب سے میری ایك شرط ہے جو میں نے اپنے رب پر لگائی ہے كہ: میں بشر ہوں، میں اسی طرح خوش ہوتا ہوں جس طرح بشر خوش ہوتا ، اور اسی طرح غصے ہوتا ہوں جس طرح بشر(انسان)غصے ہوتا ہے۔ تو میں اپنی امت میں سے جس شخص كے خلاف كوئی بددعا كروں اور وہ اس كا اہل نہ ہو تو وہ اسے اس كے لئے پاكیزگی اور گناہوں سے صفائی كا ذریعہ بنا دے اور قربت كا ذریعہ بنا دے جس كے ذریعے وہ قیامت كے دن اس كو اپنے قریب كر لے
Takhreej
الصحيحة رقم (84) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ ﷺ أَوْ سَبَّهُ أَوْ دَعَا... رقم (4712)
3331
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
َنْ أَنَسٍ مَرْفُوعاً: آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: انصار كی محبت ایمان كی نشانی ہے اور انصار سے بغض منافقت كی نشانی ہے۔
Takhreej
لصحيحة رقم (668) صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب حُبِّ الْأَنْصَارِ رقم (3500) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ حُبَّ الْأَنْصَارِ رقم (108)
3332
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: ائْتِنِي بِكَتِفٍ أَوْ لَوْحٍ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا لَا يُخْتَلَفُ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَقُومَ قَالَ: أَبَى الهُ وَالْمُؤْمِنُونَ أَنْ يُّخْتَلَفَ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، كہتی ہیں كہ جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی بیماری بڑھ گئی اور آپ نڈھال ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بكر رضی اللہ عنہ سے كہا: میرے پاس كاندھے كی ہڈی یا تختی لاؤ، تاكہ میں ابو بكر كے لئے وصیت لكھ دوں كہ اس پر(ابو بکر رضی اللہ عنہ پر) اختلاف نہ كیا جائے۔ ابھی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ جانے كے لئے كھڑے ہی ہوئے تھے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے ابو بكر! اللہ تعالیٰ اور مومنوں نے آپ پر اختلاف كو رد كر دیا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (690) مسند أحمد رقم (23068)
3333
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ابْتَاعَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ رَجُلٍ مِّنْ الْأَعْرَابِ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِّنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ (وَتَمْرُ الذَّخِرَةِ: الْعَجْوَةُ) فَرَجَعَ بِهِ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى بَيْتِهِ وَالْتَمَسَ لَهُ التَّمْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ! إِنَّا قَدْ ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزُورًا -أَوْ جَزَائِرَ- بِوَسْقٍ مِّنْ تَمْرِ الذَّخْرَةِ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قَالَ: فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَا غَدْرَاهُ! قَالَتْ: فَهمّ النَّاسُ وَقَالُوا: قَاتَلَكَ اللهُ! أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللهِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا عَبْدَ الله! إِنَّا ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزَائِرَكَ وَنَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَا سَمَّيْنَا لَكَ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَا غَدْرَاهُ! فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا: قَاتَلَكَ اللهُ! أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا، فَرَدَّدَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَآهُ لَا يَفْقَهُ عَنْهُ قَالَ لِرَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِهِ: اذْهَبْ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ فَقُلْ لَهَا: رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ لَكِ: إِنْ كَانَ عِنْدَكِ وَسْقٌ مِّنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ فَأَسْلِفِينَاهُ حَتَّى نُؤَدِّيَهُ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللهُ فَذَهَبَ إِلَيْهَا الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ الرَّجُلُ فَقَالَ: قَالَتْ: نَعَمْ هُوَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللهِ! فَابْعَثْ مَنْ يَّقْبِضُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِلرَّجُلِ: اذْهَبْ بِهِ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ قَالَ: فَذَهَبَ بِهِ فَأَوْفَاهُ الَّذِي لَهُ قَالَتْ: فَمَرَّ الْأَعْرَابِيُّ بِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا فَقَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطْيَبْتَ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُولَئِكَ خِيَارُ عِبَادِ اللهِ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُوفُونَ الْمُطِيبُونَ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایك بدو سے عجوہ كھجور كے ایك وسق كے بدلے ایك اونٹنی خریدی یا كچھ اونٹنیاں خریدیں ۔ رسول اللہ اسے لے کر گھر تشریف لائے اور اسے دینے کے لئے کھجوریں تلاش کیں تو کھجوریں نہ ملیں۔ آپ باہر تشریف لائے اور اسے فرمایا: ہم نے گھر میں عجوہ كھجور تلاش كی تو ہمیں نہ ملی۔ بدو نے كہا: ہائے عہد شکنی؟ لوگ اس كی طرف بڑھے اور كہنے لگے: اللہ تجھے برباد كرے! كیا رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌عہد شکنی كریں گے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، كیوں كہ حق والے كو بات كرنے كا اختیار ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌واپس پلٹ آئےاور كہا: اے اللہ كے بندے! ہم نے تجھ سے كچھ اونٹنیاں خریدی تھیں، ہمارا خیال تھا كہ ہم نے جو مقرر كیا ہے وہ ہمارے پاس ہوگا۔ ہم نے تلاش كیا تو ہمیں نہ ملا، بدو نے پھر كہا: كتنا بڑا دھوكہ ہوا ہے۔ لوگ اس پر چلانے لگےاور كہنے لگے: اللہ تجھے برباد كرے! كیا رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌دھوكہ كریں گے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے چھوڑ دو كیوں كہ حق والے كو بات كرنے كا اختیار ہے۔ یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے دو یا تین مرتبہ كہی، جب آپ نے دیكھا كہ یہ بدو بات ہی نہیں سمجھ رہا تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے ایك صحابی سے كہا: خولہ بنت حكیم بن امیہ رضی اللہ عنہا كی طرف جاؤ اور اس سے كہو كہ: اللہ كے رسول تم سے كہہ رہے ہیں کہ اگر تمہارے پاس عجوہ كھجوروں كا ایك وسق ہو تو ہمیں ادھار دے دو، ان شاءاللہ ہم اسے ادا كردیں گے۔ وہ صحابی خولہ رضی اللہ عنہا كی طرف گیا، پھر واپس لوٹ آیا اور كہا: كہ خولہ رضی اللہ عنہا كہہ رہی ہیں: ٹھیك ہے كھجوریں میرے پاس ہیں آپ کسی کو بھیج دیں جو آکر لے جائے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس آدمی سے كہا: اسے لے جاؤ اور اس كا حق پورا كر كے دے دو۔ وہ صحابی اسے لے گیا اور اس كا جو حق تھا اسے پورا كر كے دے دیا، وہ بدو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے گزرا ، آپ اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے كہا: جزاك اللہ خیراً۔ آپ نے عمدہ طریقے سے پورا كر كے دیا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہی لوگ قیامت كے دن اللہ كے ہاں بہترین ہونگے جو عمدہ طریقے سے ماپ تول پورا كر كے دینے والے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2677) مسند أحمد رقم (25108)
3334
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ مُحَمَّد بْن عُمَر الْأَسْلَمِيّ بِأَسَانِيد لَه عَنْ جَمْع مِّنَ الصَّحَابَة ، قَالَ : دَخَل حَدِيْث بَعْضِهُم فِي حَدِيث بَعْض قَالُوا : وَبَعَث رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَبْدَ اللهِ بْن حُذَافَة السَّهْمِيّ وَهُوَ أَحَد السِّتَّة إِلَى كِسْرَى يَدَعُوه إِلَى الْإِسْلَام وَكَتَب مَعَه كِتَابًا : قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَدَفَعْتُ إِلَيْه كِتَابَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَقُرِئ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَخَذَه فَمَزَّقَه، فَلَمَّا بَلَغ ذَلِك رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : اللَّهُمَّ مَزِّقْ مَلَكَه . وَكَتَب كِسْرَى إِلَى بَاذَان عَامِلِه عَلَى الْيَمَن أَنِ ابعَث مِنْ عِنْدِك رَجُلَيْن جَلْدَيْن إِلَى هَذَا الرَّجُل الَّذِي بِالْحِجَاز فَلْيَأتِيَانِي بِخَبَرِه ، فَبَعَث بَاذَان قَهْرَمَان و رَجُلًا آخَر و كَتَب مَعَهُمَا كِتَابًا، فَقَدِمَا الْمَدِيَنَة، فَدَفَعَا كِتَاب بَاذَان إِلَى النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، فَتَبَسَّم رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَدَعَاهُمَا إِلَى الْإِسْلَام وَفَرَائِصُهُمَا تَرْعَد، وَقَالَ: ارْجِعَا عَنِّي يَوْمِكُمَا هَذَا حَتَّى تَأْتِيَانِي الْغَد فَأُخْبِرَكُمَا بِمَا أُرِيْد، فَجَاءَاه مِنَ الْغَد فَقَالَ لَهُمَا: أَبْلِغَا صَاحِبكُمَا أَنَّ رَبِّي قَدْ قَتَل رَبَّه كِسْرَى فِي هَذِه اللَّيْلَة.
محمد بن عمر اسلمی سے مروی: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌عبداللہ بن حذافہ سہمی جو چھ لوگوں میں سے ایک تھےكو كسریٰ كی طرف اسلام كی دعوت دینے كے لئے بھیجا، اور اسے ایك خط لكھ كردیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا خط اسے دیا گیا،وہ خط اس كے سامنے پڑھا گیا،تو اس نے خط لے كر پھاڑ دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك پہنچی تو آپ نے بددعا كی: اے اللہ ! اس كی بادشاہت كے ٹكڑے كر دے۔ كسریٰ نے باذان یمن كے عامل كی طرف پیغام بھیجا كہ اپنے پاس سے دو مضبوط آدمی اس آدمی كی طرف بھیجو جو حجاز میں ہے اور اس كے بارے میں میرے پاس اطلاع لائیں۔ باذان نے قہر مان اور ایك دوسرے آدمی كو بھیجا اور انہیں ایك خط لكھ كر دیا، وہ دونوں مدینے آئے اور باذان كا خط نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیا ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكرا دیئے۔ اور ان دونوں كو اسلام كی دعوت دی۔ ان كے كاندھوں كا گوشت ہل رہاتھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آج تو میرے پاس سے واپس لوٹ جاؤ، كل آنا تب میں تمہیں بتاؤں گا كہ میں كیا چاہتا ہوں ۔ وہ دونوں دوسرے دن آپ كے پاس آئے ۔ آپ نے ان دونوں سے كہا: اپنے مالك كو بتا دو كہ آج کی رات میرے رب نے اس كے رب كسریٰ كو قتل كر دیا ہےمحمد بن عمر اسلمی سے مروی: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌عبداللہ بن حذافہ سہمی جو چھ لوگوں میں سے ایک تھےكو كسریٰ كی طرف اسلام كی دعوت دینے كے لئے بھیجا، اور اسے ایك خط لكھ كردیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا خط اسے دیا گیا،وہ خط اس كے سامنے پڑھا گیا،تو اس نے خط لے كر پھاڑ دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك پہنچی تو آپ نے بددعا كی: اے اللہ ! اس كی بادشاہت كے ٹكڑے كر دے۔ كسریٰ نے باذان یمن كے عامل كی طرف پیغام بھیجا كہ اپنے پاس سے دو مضبوط آدمی اس آدمی كی طرف بھیجو جو حجاز میں ہے اور اس كے بارے میں میرے پاس اطلاع لائیں۔ باذان نے قہر مان اور ایك دوسرے آدمی كو بھیجا اور انہیں ایك خط لكھ كر دیا، وہ دونوں مدینے آئے اور باذان كا خط نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیا ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكرا دیئے۔ اور ان دونوں كو اسلام كی دعوت دی۔ ان كے كاندھوں كا گوشت ہل رہاتھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آج تو میرے پاس سے واپس لوٹ جاؤ، كل آنا تب میں تمہیں بتاؤں گا كہ میں كیا چاہتا ہوں ۔ وہ دونوں دوسرے دن آپ كے پاس آئے ۔ آپ نے ان دونوں سے كہا: اپنے مالك كو بتا دو كہ آج کی رات میرے رب نے اس كے رب كسریٰ كو قتل كر دیا ہےمحمد بن عمر اسلمی سے مروی: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌عبداللہ بن حذافہ سہمی جو چھ لوگوں میں سے ایک تھےكو كسریٰ كی طرف اسلام كی دعوت دینے كے لئے بھیجا، اور اسے ایك خط لكھ كردیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا خط اسے دیا گیا،وہ خط اس كے سامنے پڑھا گیا،تو اس نے خط لے كر پھاڑ دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك پہنچی تو آپ نے بددعا كی: اے اللہ ! اس كی بادشاہت كے ٹكڑے كر دے۔ كسریٰ نے باذان یمن كے عامل كی طرف پیغام بھیجا كہ اپنے پاس سے دو مضبوط آدمی اس آدمی كی طرف بھیجو جو حجاز میں ہے اور اس كے بارے میں میرے پاس اطلاع لائیں۔ باذان نے قہر مان اور ایك دوسرے آدمی كو بھیجا اور انہیں ایك خط لكھ كر دیا، وہ دونوں مدینے آئے اور باذان كا خط نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیا ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكرا دیئے۔ اور ان دونوں كو اسلام كی دعوت دی۔ ان كے كاندھوں كا گوشت ہل رہاتھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آج تو میرے پاس سے واپس لوٹ جاؤ، كل آنا تب میں تمہیں بتاؤں گا كہ میں كیا چاہتا ہوں ۔ وہ دونوں دوسرے دن آپ كے پاس آئے ۔ آپ نے ان دونوں سے كہا: اپنے مالك كو بتا دو كہ آج کی رات میرے رب نے اس كے رب كسریٰ كو قتل كر دیا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1429) ابن سعد (1/ 258-260)
3335
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رفعه: ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ: هِشَامٌ وَ عَمْرٌو.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : عاص كے دو بیٹے، مومن ہیں ۔ ہشام اور عمرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (156) مسند أحمد رقم (7699، 8287) مستدرك الحاكم رقم (5047)
3336
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ. عن جمع من الصحابہ ...... روی
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابو بكر و عمر پہلے اور بعد والے ادھیڑ عمر جنتی لوگوں كے سردار ہونگے۔( ) یہ حدیث ...... سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (824) سنن الترمذي كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب فِي مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كِلَيْهِمَا رقم (3597) سنن ابن ماجة كِتَاب الْمُقَدِّمَةِ بَاب فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ؓ رقم (92)
3337
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَن جَابِر بن عَبدِ اللهِ قَال : قَال رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: أَبُو بَكر وَ عُمر مِن هَذا الدَِّيْن كَمَنْزِلَة السَّمْع و الْبَصَر من الرَّأْس.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابو بكرو عمر اس دین میں اس درجے پر ہیں جس طرح سر میں كان اور آنكھیں ہوتی ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (815) الخطيب في تاريخ بغداد (8 / 459-460)
3338
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَبُو سُفْيَانَ بن الْحَارِثِ خَيْرُ أَهْلِي.
) ابو حبہ البدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ابو سفیان بن حارث میرے گھر والوں میں سب سے بہترین ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (815) الخطيب في تاريخ بغداد (8 / 459-460)
3339
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
) عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيى قَالَ: لَمَا قُتِل عُثْمَان رضی اللہ عنہ أُتِي حُذَيْفَة، فَقِيْل: يَا أَبَا عَبْد الله! قُتِل هَذا الرَجُل؛ وَقَد اختَلفَ النَّاس؛ فَمَا تَقُوْلُ؟ فَقَال: أَسْنِدُونِي ؛ فَأَسْنِدُوه إِلَى صَدْرِ رَجُل فَقَال: سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: أَبُو اليَقْظَان عَلى الفِطْرَة، لَا يدَعُها حَتَى يَمُوت، أَوْ يَمسَّهُ الهَرم.
) بلال بن یحییٰ سے مروی ہے كہ جب عثمان‌رضی اللہ عنہ كو شہید كیا گیا تو لوگ حذیفہ‌رضی اللہ عنہ كے پاس آئے اور ان سے پوچھا۔ ابو عبداللہ! اس شخص كو شہید كر دیا گیا ہے اور لوگوں كی مختلف رائے ہے۔ آپ كیا كہتے ہیں؟ حذیفہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: مجھے ٹیك دو، ایك آدمی نے اپنے سینے كی ٹیك لگا كر انہیں بٹھایا تو انہوں نے كہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ابو الیقظان فطرت پر ہے، یہ مرنے تك فطرت كو نہیں چھوڑے گا۔ یا یہ انتہائی لاغر ہو جائے (تب بھی فطرت كو نہیں چھوڑے گا)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (820) مستدرك الحاكم رقم (5109) المعجم الكبير للطبراني رقم (18269)
3340
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ مَعَاذ بن رِفَاعَة بن رَافِع الزُّرَقِيّ عَن أَبِيه - وَ كَان أَبُوه مِن أَهلِ بَدر و جَدُّه مِن أَهل الَعَقَبَة- قَالَ : أَتَى جِبْرِيل النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال : مَا تَعُدُّون أَهل بَدر فِيْكُم؟ قَال : مِنْ أَفْضَل الْمُسْلِمَيْن . قَال : وَ كَذَلِك مَن شَهِد فِينَا مِن الْمَلَائِكَة.
معاذ بن رفاعہ بن رافع زرقی اپنے والد سے روایت كرتے ہیں ان كے والد اہل بدر میں سے تھے ۔ اور ان کے دادا اہل عقبہ میں میں س تھے۔ كہتے ہیں كہ جبریل علیہ السلام نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور كہا: تم بدر والوں كو اپنے اندر كس طرح شمار كرتے ہو؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: افضل مسلمان ۔ جبریل علیہ السلام نے كہا: جو فرشتے بدر میں حاضر ہوئے ہم بھی انہیں اسی طرح شمار كرتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2528) التاريخ لابن أبي خيثمة (230)
3341
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَنْسٍ: أَن أُكَيْدِر الدّومة بَعَث إِلَى رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جُبَّة سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَتَعَجَّب النَّاس مِنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِه ؟ فَوَ الَّذِي نَفَسِي بِيَدِه، لَمَنَادِيل سَعْد ابْن مَعَاذ فِي الْجَنَّة خَيْر مِّنْهَا ثُمَّ أَهْدَاهَا إِلَى عُمَر، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! تُكْرِهُهَا وَألْبِسُهَا ؟ قَالَ: يَا عُمَر! إِنَّمَا أَرْسَلْت بِهَا إِلَيْكَ لِتَبْعَث بِهَا وَجْهاً، فَتُصِيْب بِهَا مَالاً؛ وَذَلِكَ قَبْل أَنْ يُّنْهَى عَنِ الْحَرِيْر.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اكیدر دومہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے لئے ریشم كا ایك جبہ بھیجا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے پہنا تو لوگوں كو اس بات سے تعجب ہوا۔ رسول اللہ نے فرمایا: كیا تم اس كی وجہ سے تعجب كر رہے ہو؟ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! سعد بن معاذ كے رومال جنت میں اس سے بہتر ہیں، پھر وہ جبہ عمر‌رضی اللہ عنہ كو تحفے میں دے دیا۔ انہوں نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ اسے نا پسند كرتے ہیں، تو میں اسے كس طرح پہن لوں؟ آپ نے فرمایا: عمر ! میں نے یہ جبہ تمہاری طرف اس لئے بھیجا ہے تاكہ آپ اسے کسی کو بیچ کر اس كے ذریعے مال حاصل كریں۔ یہ واقعہ ریشم سے منع سے پہلے كا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3346) مسند البزار (3/257-258)
3342
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: حُرٌّ وَّعَبْدٌ قُلْتُ: مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: طِيبُ الْكَلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، قُلْتُ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: طُولُ الْقُنُوتِ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ السَّاعَاتِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ...
عمرو بن عبسہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ! اس دین پر كس شخص نے آپ كی پیروی كی ہے؟ آپ نے فرمایا: آزاد اور غلام نے ۔ میں نے كہا: اسلام كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: عمدہ بات کرنا اور كھانا كھلانا۔ میں نے پوچھا ایمان كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: صبر اور درگزر ۔ میں نے پوچھا كو نسا اسلام افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس كے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ میں نے كہا كونسا ایمان افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اچھا اخلاق ۔ میں نے كہا: كونسی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: لمبے قیام والی۔ میں نے كہا: كونسی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس چیز كو تیرے رب نے نا پسند كیا ہے اسے چھوڑ دینا۔ میں نے كہا: كونسا جہاد افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس كے گھوڑے كی كونچیں كاٹ دی جائیں اور اس كا خون بہا دیا جائے۔ میں نے كہا: كون سی گھڑی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: رات کا آخری حصہ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (551) مسند أحمد رقم (18618)
3343
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ. ورد من حدیث ......
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: (حرا ثابت کرو) حرا، رُک جا! كیوں كہ تم پر نبی، صدیق (سچے) یا شہید كے علاوہ كوئی نہیں۔( ) یہ حدیث ..... سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (875) سنن أبي داؤد كِتَاب السُّنَّةِ بَاب فِي الْخُلَفَاءِ رقم (4030) سنن الترمذي كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب فِي مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ؓ رقم (3632)
3344
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(زَادَ مُسْلِم وَغَيْره: وَعُثْمَانَ) حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِّرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ: اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَالِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَّإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَّا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ.
سعید بن عاص سے مروی ہے كہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق اور عثمان رضی اللہ عنہ ، دونوں نے بیان كیا كہ ابو بكر صدیق‌رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اجازت طلب، كی آپ اپنے بستر پر عائشہ رضی اللہ عنہا كی چادر اوڑھے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بكر‌رضی اللہ عنہ كو اجازت دے دی۔ اور آپ اسی حالت میں رہے۔ انہوں نے اپنی ضرورت پوری كی، پھر چلے گئے۔ پھر عمر‌رضی اللہ عنہ نے آپ سے اجازت طلب كی، آپ نے انہیں بھی اجازت دے دی، اور اسی حالت میں رہے۔ انہوں نے بھی اپنا مقصد پورا كیا، پھر واپس چلے گئے۔ عثمان‌رضی اللہ عنہ نے كہا: پھر میں نے آپ سے اجازت طلب كی، آپ بیٹھ گئے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے كہا: اپنے كپڑے سمیٹ لو، میں نے اپنی ضرورت پوری كی، پھر واپس پلٹ آیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے كہا: اے اللہ كے رسول! یہ میں كیا دیكھ رہی ہوں كہ آپ نے ابو بكر اور عمر رضی اللہ عنہ كے لئے گھبراہٹ ظاہر نہیں كی، جب كہ آپ عثمان‌رضی اللہ عنہ كے لئے اٹھ كر بیٹھ گئے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: عثمان ایك با حیا شخص ہے، مجھے خدشہ تھا كہ اسے اس حالت میں اجازت دوں تو ممکن ہے وہ اپنی ضرورت مجھ تك نہ پہنچا سكے
Takhreej
الصحيحة رقم (1687) صحيح مسلم كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ بَاب مِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ؓ رقم (4415)
3345
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِـ(الْجَابِيَةِ) فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَامَ فِينَا مُقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ: احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَمَا يُسْتَشْهَدُ وَيَحْلِفَ وَمَا يُسْتَحْلَفُ
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ: عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ نے (جابیہ) میں ہم سے خطاب كیا تو كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بھی ہم میں اس طرح كھڑے ہوئے تھے جس طرح میں تم میں كھڑا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے صحابہ كے بارے میں میری حفاظت كرو۔ پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوں، پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوں۔ پھر جھوٹ پھیل جائے گا، حتی كہ آدمی سے گواہی نہیں مانگی جائے گی وہ گواہی دے گا اور قسم نہیں اٹھوائی جائے گی لیكن وہ قسم كھائے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (1116) سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَحْكَامِ بَاب كَرَاهِيَةِ الشَّهَادَةِ لِمَنْ لَمْ يَسْتَشْهِدْ رقم (2354)
3346
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ دُعِيَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَقَامَ إِلَيْهِ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ تَحَوَّلْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي صَدْرِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَعَلَى عَدُوِّ اللهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا، كَذَا وَكَذَا؟ يَعُدُّ أَيَّامَهُ قَالَ: وَرَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَتَبَسَّمُ حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ قَالَ: أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ قَدْ قِيلَ (لِي) اِسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ سَبۡعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ (التوبة: ٨٠) لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ قَالَ: ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَشَى مَعَهُ فَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ قَالَ: فَعُجِبَ لِي وَجُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَاللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَوَاللهِ مَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتْ هَاتَانِ الْآيَتَانِ وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ فٰسِقُوۡنَ (۸۴) (التوبة: ٨٤) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ: فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعْدَهُ عَلَى مُنَافِقٍ وَلَا قَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ.
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہماسے سنا، كہہ رہے تھے: جب عبداللہ بن ابی فوت ہوا تو اس كی نماز جنازہ پڑھنے كے لئے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو بلایا گیا۔ آپ كھڑے ہوئے اور نماز پڑھانا چاہی تو میں گھوم كر آپ كے سامنے آگیا اور كہا: اے اللہ كے رسول! كیا اللہ كے دشمن عبداللہ بن ابی كی نماز جنازہ پڑھائیں گے؟ جس نے فلاں فلاں یہ دن یہ بات كہی تھی، اور دن شمار كرنے لاا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكراتے رہے،حتی كہ جب میں نے زیادہ كہنا شروع كر دیا تو آپ نے فرمایا: عمر! ہٹ جا ؤ، مجھے اختیار دیا گیا ہے، میں نے اس بات كو اختیار كیا ہے۔ مجھے كہا گیا ہے:( التوبہ: 80) ( آپ ان كے لئے بخشش طلب كریں یا نہ كریں، اگر ان كے لئے ستر مرتبہ بھی مغفرت طلب كریں گے تب بھی اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا)۔ اگر مجھے معلوم ہوتا كہ اگر میں ستر مرتبہ سے زیادہ مغفرت مانگوں اور اسے بخش دیا جائے تو میں ایسا كرتا۔ پھر آپ نے اس كی نماز پڑھی اور اس كے جنازے كے ساتھ گئے۔ اس کی قبر پر كھڑے ہوئے حتی كہ دفن سے فارغ ہوگئے۔ (بعد میں) مجھے رسول اللہ پر جرأت اور اصرار پر بڑا تعجب ہوا حالانکہ اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں، واللہ! ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا كہ یہ دو آیتیں نازل ہوئیں وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ( التوبہ84)( ان میں سے جو مرجائے اس كی نماز جنازہ كبھی بھی نہ پڑھو، نہ اس كی قبر پر كھڑے ہو، كیوں كہ انہوں نے اللہ اور اس كے رسول كے ساتھ كفر كیا ہے۔ اور فسق كی حالت میں مرے ہیں۔) اس كے بعد رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے كسی منافق كی نماز نہیں پڑھی، نہ اس كی قبر پر كھڑے ہوئے حتی كہ اللہ تعالیٰ نے آپ كی روح قبض كر لی
Takhreej
الصحيحة رقم (1131) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ رقم (3022)
3347
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ كَعْبِ بن مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا فَتَحْتُمْ مِّصْرَ، فَاسْتَوْصُوا بِالْقِبْطِ خَيْرًا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا.
كعب بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم مصر كو فتح كر لو تو قبط (مصر میں عیسائیوں کا فرقہ)كے ساتھ اچھا برتاؤ كرنا، كیوں كہ ان كے لئے ذمہ اور صلہ رحمی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1374) مستدرك الحاكم رقم (3991) المعجم الكبير للطبراني رقم (15461)
3348
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
قال صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي العَاص ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا دِينَ اللهِ دَخَلًا وَّعِبَادَ اللهِ خَوَلًا وَمَالَ اللهِ عَزَّ وَجَل دُوَلًا
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب بنو ابی العاص تیس(آدمی) ہو جائیں گے تو وہ اللہ كے دین میں دخل اندازی كریں گے۔ اللہ كے بندوں کو غلام بنائیں گے (یعنی ان کا انتظام سنبھال لیں گے) اور اللہ عزوجل كے مال میں ہیرا پھیری كریں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (744) الفوائد للتمام (59 / 2)
3349
Sahih