سمرہ بن جندب ةسے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے كچھ لوگ ایسے ہوں گےجنہیں ٹخنوں تك آگ جلائےگی(ان میں سے كچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ گھٹنوں تك جلائےگی)اور ان میں سے كچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہیں آگ کمر (یا نیفہ باندھنے کی جگہ) اور كچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ گردن تك جلائے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (3545) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا،بَاب فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ ...، رقم (5079) .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا: میں ان سے جنت كی مٹی كے بارے میں سوال كرتا ہوں، جو کہ میدے کی طرح سفید، نرم و ملائم ہے ، آپ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے كہا: ابو القاسم! یہ ایك روٹی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روٹی نرم و ملائم مٹی سے ہوگی ۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلاگروہ جو جنت میں داخل ہوگا،وہ فقراءاورمہاجرین كا ہوگا جن كے سبب سے مشكل حالات سے بچا جاتا رہا ہوگا، جب انہیں حكم دیا جاتا سنتے اور اطاعت كرتے، اگر ان میں سے بادشاہ وقت كے پاس كسی كا كام ہوتا تو مرنے تك اس كا كام نہ ہوتا اور یہ حسرت اس كے دل میں ہی رہ جاتی ۔اللہ عزوجل قیامت كے دن جنت كو بلائے گا تو وہ پوری سج دھج كے ساتھ آئے گی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے وہ بندے كہاں ہیں جنہوں نے میرے راستے میں قتال كیا؟ شہید كر دیئے گئے میرے راستے میں انہیں تكالیف دی گئیں، اور میرے راستے میں جہادكیا؟ (آؤ) جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت میں بغیر حساب کےداخل ہو جائیں گے۔ فرشتے آئیں گےاور سجدہ كریں گے اور كہیں گے: اے ہمارے رب ہم رات اور دن تیری تسبیح ،تحمید اور تقدیس بیان كر تے ہیں، یہ كون لوگ ہیں جنہیں آپ نے ہم پر ترجیح دی؟ رب عزوجل فرمائے گا: یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میرے راستے میں قتال كیا اور میرے راستے میں انہیں تكلیف دی گئی۔ فرشتے ہر دروازے سے ان كے پاس آئیں گے، (الرعد:۲۴) تمہارے صبر كی وجہ سے تم پر سلام ہو، آخری انجام بہت اچھا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2559) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (2352) .
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودہویں كے چاند كی طرح (روشن اور چمکدار) ہوں گے اور دوسرا گروہ آسمان میں سب سے خوبصورت روشن ستارے كی مانند ہوگا۔ ان میں سے ہر شخص كے لئے دو بیویاں ہوں گی۔ ہر بیوی پر ستر لباس ہوں گے، پھر بھی ان كی ہڈیوں كا گودا نظر آئے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (1736) ، سنن الترمذي ،كِتَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ، بَاب فِي صِفَةِ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، رقم (2458) .
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جنت كی سیر كر رہا تھا، اچانك میرے سامنے ایك نہر آئی جس كےكنارے یاقوت كےتھے، میں نے فرشتے سے كہا:(اے جبریل علیہ السلام)یہ كیا ہے؟ جبریل علیہ السلام نے كہا: یہ كوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ كو دی ہے۔ پھر آپ نے اس كی مٹی میں ہاتھ مارا تو وہ كستوری کی تھی،پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہیٰ کردی گئی، میں نے وہاں ایك عظیم روشنی دیكھی۔( )
عَنْ عَمْروٍ بن مَيْمُونَ الْأَوْدِيّ ، قَالَ: قَامَ فِيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، فَقَالَ: يَا بَنِي أَوْد! إِنِّي رَسُول رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم :تَعْلَمُون الْمعَاد إِلَى اللهِ ، ثُمَّ إِلىَ الْجَنَّة أَوْ إِلىَ النَّار ، وَإِقَامَةً لَا ظَعْنَ فِيه وَخُلُودٌ لَا مَوْتَ في أَجْسَادٍ لَا تَمُوتُ.
عمرو بن میمون اودی سے مروی ہے كہ : معاذ بن جبلرضی اللہ عنہ ہمارے درمیان كھڑے ہوئے اور كہا: اے بنی اود! میں اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم كا قاصد ہوں ،جان لو اللہ كی طرف واپس لوٹنا ہے، پھر جنت یا جہنم كی طرف، جہاں ایسا قیام ہے جس كے بعد سفر كوئی نہیں اور ایسی زندگی ہے جس میں موت نہیں اور ایسے جسموں میں ہوں گے جو مریں گے نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3610) ، سنن الترمذي ،كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ...، بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْكَوْثَرِ، رقم (3283) .
) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : ثَلاثَةٌ لاَ تَرَى أَعْيُنُهُمُ النَّارَ يَوْمَ الْقِياَمَة :عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ الله، وَعَيْنٌ حَرَسَتْ فِي سَبِيلِ الله، وَعَيْنٌ غَضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ الله .
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں جن كی آنكھیں قیامت كے دن آگ نہیں دیكھیں گی، وہ آنكھ جو اللہ كے ڈر سے روئی، وہ آنكھ جس نے اللہ كے راستے میں پہرہ دیا، اور وہ آنكھ جس نے اللہ كی حرام كردہ چیزوں كو نہیں دیكھا۔( ) یہ حدیث سدنا معاویہ بن حیرہ، عبداللہ بن عباس، ابو ریحانہ، ابوہریرہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1668) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (257)
عبادہ بن صامترضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت كے سو درجے ہیں ،ہر درجے كے درمیان سو سال كی مسافت ہے اور عفان نے كہا: آسمان و زمین کے درمیان جتنا فاصلہ ہے۔ فردوس جنت كا بلند ترین درجہ ہے ، اس سے چار نہریں بہہ رہی ہیں، عرش اس كے اوپر ہے اور جب تم اللہ تبارك و تعالیٰ سے سوال كرو تو فردوس كا سوال كرو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (922) ، سنن الترمذي ،كِتَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ، بَاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ دَرَجَاتِ الْجَنَّةِ، رقم (2454) .
عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ مَوْقُوْفاً وَمَرْفُوْعاً: خَلَق الله تَبَارَك وتَعَالَى الْجَنَّة لَبِنَةَ مِنْ ذَهَبٍ ولَبِنَةَ من فِضَّةٍ ومِلَاطُهَا الْمِسْكُ فقال لَهَا: تَكَلَّمِي فَقَالَت: فَقَالَت الْمَلَائِكَةُ: طُوبَى لَك مَنْزَلَ الْمُلُوك
ابو سعید رضی اللہ عنہ سےموقوفا و مرفوعا مروی ہے كہ: اللہ تعالیٰ نے جنت كو بنایا، ایك اینٹ سونے كی ایك چاندی كی، اس كا گارا كستوری كا ، پھر جنت سے كہا: بات كرو جنت نے کہا: یقینا ایمان والے كامیاب ہوگئےفرشتوں نے كہا: تمہارے لئے خوشخبری ہو، بادشاہوں کے ٹھہرنے کی جگہ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2662) ، أخرجه أبو نعيم في صفة الجنة ( 1 / 173 / 140 ) .
) عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ، فَرَأَى عَلَى بَابِهَا مَكْتُوبًا: الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةِ عَشْرٍ .
ابو امامہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایك آدمی جنت میں داخل ہوا تو جنت كے دروازے پر لكھا ہوا تھا،صدقہ دس گنا اور قرض اٹھا رہ گنا
Takhreej
الصحيحة رقم (3407) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (7903)
انسرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے سونے كا ایك محل دیكھا ،میں نے كہا: یہ كس كا محل ہے؟ فرشتوں نے كہا: قریش كے ایك نو جوان كا، میں سمجھا كہ وہ میں ہوں۔میں نے پوچھا وہ کون ہے؟ فرشتوں نے كہا: عمر بن خطاب كے لئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری غیرت عمر! كی غیرت كا علم نہ ہوتا تو میں اس میں داخل ہو جاتا ، عمررضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم كیا میں آپ پر غیرت كرو ں گا؟
انس بن مالكرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : كوثر كیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایك نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا كی ہے (یعنی جنت میں )دودھ سے زیادہ سفید ہے، شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ اس میں ایسے پرندے ہیں جن كی گردنیں اونٹنیوں کی طرح ہوں گی ۔عمررضی اللہ عنہ نے كہا: یہ تو بہت عمدہ ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان كا کھانا بہت لذید ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2514) ، سنن الترمذي ،كِتَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ، بَاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ طَيْرِ الْجَنَّةِ، رقم (2465) .
عبدالعزیز بن مختار بن عبداللہ دناج سے مروی ہے كہ میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن كے پاس موجود تھا جو ایك مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ خالد بن عبداللہ بن خالد بن اسید كا دور تھا، حسن آئے اور ان كے پاس بیٹھ گئے اور ہم سے گفتگو کرنے لگے۔ ابو سلمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند كو لیٹے ہوئے بیل كی صور ت میں قیامت كے دن آگ میں پھینك دیا جائے گا۔حسن نے كہا: ان كی دمیں كتنی لمبی ہوں گی؟ ابو سلمہ نے كہا: میں نے تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی حدیث بیان كی ہے ۔تب حسن خاموش ہوگئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (124) ، مشكل الآثار للطحاوي رقم (160) .
ابو حسان سے مروی ہے كہ میں نے ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے كہا: میرے دو بیٹے مر چكے ہیں، آپ ہمیں كون سی حدیث سنائیں گے، جسےسن كر ہمارے فوت شدگان کے حوالے سے ہمارے دلوں كو تسلی ہو؟ ابو ہریرہرضی اللہ عنہ نے كہا: جی ہاں،مومنین كےچھوٹے بچے جنت کے چھوٹے باسی ہوں گے جو ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ان میں سے كوئی بچہ اپنے والد(یا والدین) سے ملے گا، اس كا كپڑا( یا اس كے ہاتھ سے پكڑے گا) جس طرح میں تمہارے اس كپڑے كا كنارہ پكڑ رہا ہوں، وہ اس وقت تك نہیں چھوڑے گا جب تك اللہ تعالیٰ اسے اور اس كے والد كو جنت میں داخل نہ كر د
Takhreej
الصحيحة رقم (431) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ، بَاب فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَهُ، رقم (4769) .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اصل جہنم میں سے دو قسم کے لوگ میں نے نہیں دیكھے۔ ایك وہ لوگ جن كے پاس گائے كی دموں جیسے كوڑےہیں اور ان سے لوگوں كو مارتے ہیں، اور وہ عورتیں جو كپڑا پہننے كے باوجود ننگی ہیں۔ مائل كرنے والی، مائل ہونے والی ہیں، ان كے سر بختی اونٹوں كی كوہان جیسے ہیں۔ (ایسی عورتیں) نہ جنت میں داخل ہوں گے نہ جنت كی خوشبو پائیں گی اور جنت كی خوشبو بہت دور كی مسافت سے محسوس كی جاتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1326) ، صحيح مسلم ،كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ، بَاب النِّسَاءِ الْكَاسِيَاتِ ...، رقم (3971) .