TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جنت اور جہنم کا بیان - جنت اور جہنم کا بیان - Book 9 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 9 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 98 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

98 Hadith · 1 Chapters
جنت اور جہنم کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : طُوبَى شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّة , مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ , ثِيَابُ أَهَلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: طوبی، جنت میں ایك درخت ہے۔ سو سال كی مسافت میں اس كا پھیلاؤ ہے، جنتیوں كا لباس اس کے غلاف سے نکلے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1985) ، أخرجه أحمد ( 3 / 71 ) .
1489
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَنْ عُتَبَة بن عَبْدِ السَّلَمِيّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَجَاءَ أَعْرَابِيّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَسْمعُك تَذْكُر شَجَرَةً فِي الْجَنَّةِ لَا أَعْلَمُ فِي الدُّنْيَا أُكْثَر شَوْكاً مِنْهَا، يَعْنِي الطَّلْح، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَإِنَّ اللهَ يَجْعَلُ مَكَانَ كُلِّ شَوْكَة ( يَعْني مِنْ شَجَرَة الطَّلْح فِي الْجَنَّة ) مِثْلَ خَصْيَةِ التَّيْس الملبود – يَعْني: المخصي - فِيْهَا سَبْعُون لَوْنًا من الطَّعَام لَا يُشْبِه لَوْنَه لَوْن الْآخَر
عتبہ بن عبد سلمی كہتے ہیں كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ بیٹھا تھا ایك بدو آیا اور کہنے لگا : اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ میں آپ سے جنت میں ایك درخت كے بارے میں سنتا ہوں دنیا میں مجھے اس سے زیادہ كانٹے دار درخت كے بارے میں علم نہیں یعنی(شگوفے کا درخت) ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ رب العزت ہر كانٹے كی جگہ خصی بکرے كے خصیہ جیسی چیز بنا دے گا، اس میں ستر مختلف رنگوں كے كھانے ہوں گے، اور وہ رنگ آپس میں ایك دوسرے میں خلط ملط نہیں ہو سكیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2734) ، المعجم الكبير للطبراني رقم ( 17 / 130 / 318 ) .
1490
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَنْ سَمُرَةَ مَرْفُوْعاً: الْفِرْدَوْس رَبْوَةُ الْجَنَّة، وَهِي أَوْسَطُهَا وَأَحْسَنُهَا
سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: فردوس جنت كا بلند حصہ ہے ، اور یہ جنت كا وسطی اور خوب صورت ترین حصہ ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2003) ، رواه ابن جرير في تفسيره ( 16 / 30 )
1491
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : قَوَائِمُ مِنْبَرِي رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:میرے منبر کے پائے جنت میں قائم ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2050) ، سنن النسائي ،كِتَاب الْمَسَاجِدِ، فَضْلُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ ﷺ وَالصَّلَاةِ فِيهِ، رقم (689) .
1492
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَوْ أَنَّ الله هَدَانِي فَيَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً قَالَ وَكُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ لَوْلَا أَنَّ الله هَدَانِي قَالَ فَيَكُونُ لَهُ شُكْرًا ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ یّٰحَسۡرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطۡتُّ فِیۡ جَنۡۢبِ اللّٰہِ (الزمر: ٥٦)
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہر جہنمی جنت میں اپنا ٹھكانہ دیكھے گا اور كہے گا: كاش اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت دے دیتا، تب یہ ان كی حسرت رہے گی اور ہر جنتی جہنم میں اپنا ٹھكانہ دیكھے گا اور كہے گا، اگر اللہ مجھے ہدایت نہ دیتا تو(یہ میرا ٹھكانہ ہوتا)یہ بات ان كے لئے باعث شكر ہوگی۔پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یہ آیت تلاوت كی: (زمر: ٥٦) جہنمی كہے گا ہائے حسرت ،جو ہم نے اللہ كے احكامات میں كوتا ہی کی
Takhreej
الصحيحة رقم (2034) ، مسند أحمد رقم (10240)
1493
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى الله شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ.
علی بن خالد كہتے ہیں كہ ابو امامہ باہلی‌رضی اللہ عنہ خالد بن یزید بن معاویہ كے پاس سے گزرے تو ان سے كسی نرم /آسانی کی بات سنانے كا كہا جو انہوں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہو۔ انہوں نے كہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرما رہے تھے : تم میں سے ہر شخص جنت میں داخل ہوگا سوائے اس شخص كے جس نے اللہ كے خلاف اس طرح سر كشی كی جس طرح اونٹ اپنے مالكوں كے خلاف كرتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2043) ، مسند أحمد رقم (21197) .
1494
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ عَنْ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لِلشَّهِيدِ عِنْدَ الله خِصَالٌ 1-يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ 2- وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ 3-وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ 4-وَيُزَوَّجُ (اثنَيْنِ وَسَبْعِيْنَ زَوْجَةً)مِنْ الْحُورِ الْعِينِ. 5-وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ 6-وَيَأْمَنُ مِنْ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ. 7-وَيُوْضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ، الياَقُوتُة مِنْهُ خَيْرُ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا. 8-وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ .
مقدام بن معدیكرب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ كے ہاں شہید كے لئے كچھ انعامات ہیں: ١۔خون كا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے معاف كر دیا جاتا ہے۔٢۔ وہ جنت میں اپنا ٹھكانہ دیكھ لیتا ہے۔٣۔ اسے ایمان كا لباس پہنا دیا جاتا ہے۔٤۔ (بہتر 72)حوروں سے اس كی شادی كر دی جاتی ہے۔ ٥۔ عذابِ قبر سے بچا لیا جاتاہے۔٦۔ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہتا ہے۔٧۔ اس كے سر پر وقار كا تاج ركھ دیا جاتاہے جس كا ایك یاقوت دنیا اور جو كچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے۔٨۔ اپنے ستر(70) گھر والوں كی سفارش كرے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (3213) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الْجِهَادِ، بَاب فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ الله، رقم (2789) .
1495
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ مَرْفُوْعاً: لَو أَنَّ حَجَرًا يُقْذَفُ بِهِ فِي جَهَنَّم هَوًى سَبْعِيْن خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهَا
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر كوئی پتھر جہنم میں پھینك دیا جائے تو وہ گہرائی میں پہنچنے سے پہلے ستر سال تك گرتا رہے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2165) ، صحيح ابن حبان رقم (7591) .
1496
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: لَوْ أَنَّ مَا يَقِلُّ ظُفُرٌ مِمَّا فِي الْجَنَّةِ بَدَا لَتَزَخْرَفَتْ لَهُ مَا بَيْنَ خَوَافِقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَ فَبَدَا أَسَاوِرُهُ لَطَمَسَ ضَوْءَ الشَّمْسِ كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ .
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہےكہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اگر جنت كا ناخن سےبھی كم حصہ ظاہر ہو جائے تو آسمان و زمین كے كونے روشن ہو جائیں اوراگر كوئی جنتی دنیا میں جھانك لے، اور اس كےکنگن ظاہر ہو جائیں تو وہ سورج كی روشنی كو اس طرح ختم كر دیں گے جس طرح سورج كی روشنی ستاروں كی روشنی کو ختم كر دیتی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2165) ، سنن الترمذي، َاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ أَهْلِ الْجَنَّةِ،كِتَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ، رقم (2461) .
1497
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: لَو كَانَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ مِائَةُ (أَلْفٍ) أَوْ يَزِيدُوْنَ ، وَفِيْهِ رَجُلٌ مِّنَ النَّار فَتَنَفَّسَ فَأَصَابَهُمْ نَفسُهُ لَاَحْتَرَقَ الْمَسْجِدُ وَمَن فِيْهِ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر اس مسجد میں ایك لاكھ یا اس سے بھی زیادہ آدمی ہوں ، اور ایك جہنمی سانس لے اور اس كی سانس ان سب تك پہنچے تو مسجد اور مسجد میں موجود سب كچھ جل جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (2509) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (6530)
1498
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
قَالَ شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ: مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ وَعَلَيْهَا عَبْدُ الله بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ فَلَمْ يَعُدْهُ فَدَخَلَ عَلَى ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِّنَ الْكَلَاعِيِّينَ عَائِدًا فَقَالَ لَهُ ثَوْبَانُ: أَتَكْتُبُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقَالَ: اُكْتُبْ فَكَتَبَ لِلْأَمِينِ عَبْدِ الله بْنِ قُرْطٍ: مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ لِمُوسَى وَعِيسَى علیھما السلام مَوْلًى بِحَضْرَتِكَ لَعُدْتَهُ ثُمَّ طَوَى الْكِتَابَ وَقَالَ لَهُ: أَتُبَلِّغُهُ إِيَّاهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِكِتَابِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى ابْنِ قُرْطٍ فَلَمَّا قَرَأَهُ قَامَ فَزِعًا فَقَالَ النَّاسُ: مَا شَأْنُهُ؟ أَحَدَثَ أَمْرٌ؟ فَأَتَى ثَوْبَانَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَعَادَهُ وَجَلَسَ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِهِ وَقَالَ: اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا .
شریح بن عبید نے كہا: ثوبان‌رضی اللہ عنہ ،حمص میں بیمار ہو گئے ۔ عبداللہ بن قرط ازدی حمص كے نگران تھے۔ انہوں نے ثوبان‌رضی اللہ عنہ كی عیادت نہیں كی، ایك كلاعی شخص عیادت کے لئے ثوبان رضی اللہ عنہ كے پاس آیا تو ثوبان‌رضی اللہ عنہ نے كہا: كیا تم لكھ سكتے ہو؟ اس نے كہا: جی ہاں، ثوبان‌رضی اللہ عنہ نے كہا: لكھو، اس نے امیر عبداللہ بن قرط كے لئےپیغام لكھا: ثوبان مولی رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی طرف سے اما بعد: اگر تمہاری موجودگی میں موسیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام كا كوئی مولیٰ(دوست ،آزاد كردہ غلام)ہوتا تو آپ اس كی عیادت كرتے، پھر خط لپیٹ كركہا: كیاتم یہ خط عبداللہ كو پہنچا سكتے ہو؟ اس نے كہا: جی ہاں، وہ آدمی خط لے كر ابن قرط كے پاس گیا اور اسے خط دے دیا۔ جب انہوں نے خط پڑھا تو گھبرا كر كھڑےہو گئے۔ لوگوں نے كہا: انہیں كیا ہوگیا؟ كیا كوئی نیا معاملہ ہو گیا ہے؟ عبداللہ ثوبان‌رضی اللہ عنہ كے پاس آئے اور ان كی عیادت كی ،كچھ دیر ان كے پاس بیٹھے رہے، پھر كھڑے ہوگئے۔ ثوبان نے ان كی چادر پكڑ كر كہا: بیٹھ جاؤ میں تمہیں ایك حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار لوگ جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے اور ہر ہزار كے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2179) ، مسند أحمد رقم (21383) .
1499
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَنْ أَبِي ھُرَیْرَۃَ: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَیْسَ فِي الْأَرْضِ مِنَ الْجَنَّۃِ إلَّا ثَلَاثَۃُ أَشْیَائٍ: غرْسُ الْعَجْوَۃ، وَأَواَقٍ تَنْزِلُ فِي الْفُرَاتِ کُلَّ یَوْمٍ مِنْ بَرَکَۃِ الْجَنَّۃِ وَالْحَجَرُ۔
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: زمین میں جنت کی تین چیزوں کے علاوہ او رکچھ نہیں، عجوہ کا درخت، جنت کی برکت سے ہر دن فرات میں اُترنے والاچوتھائی چھٹانک، اور حجر (اسود)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2188) الأحاديث المختارة للضياء المقدسي (4 / 77)
1500
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عن ابن عَبَاس مَوْقُوفًا: لَيْس في الْجَنَّة شَيْءٌ يُشبهُ (مَا) في الدُّنْيَا إِلَا الْأَسْمَاء.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفا مروی ہے كہ: جنت کی جن چیزوں کی دنیوی چیزوں سے مشابہت ہے تو وہ مشابہت صرف نام کی حد تک ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2188) الأحاديث المختارة للضياء المقدسي (4 / 77)
1501
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عن أبي هُرَيْرَة قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ما اسْتَجَار عَبدٌ من النَّار سَبعَ مَرَّاتٍ في يَوم إِلَا قَالَت النَّار: يَا رَبّ! إِن عَبدَك فُلَانًا قَد اسْتَجَارَك مِنِّي فَأَجِرْه، وَلَا يسْأَل الله عَبْدٌ الْجَنَّة في يَوم سَبع مَرَّات إِلَا قَالَت الْجَنَّة: يَا رَبّ! إِن عَبْدَك فُلَانًا سَأَلَنِي فَأَدْخلْه الجَنَة
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی انسان ایك دن میں سات مرتبہ آگ سے پناہ مانگتا ہے توآگ كہتی ہے: اے میرے رب تیرے فلاں بندے نے مجھ سے پناہ مانگی ہے، اسے پناہ دے دے، اور كوئی بندہ ایك دن میں سات مرتبہ اللہ تعالیٰ سے جنت كا سوال كرتا ہے تو جنت كہتی ہے ،اے میرے رب تیرے فلاں بندے نے تجھ سے میرا سوال كیا ہے، اسے جنت میں داخل كر دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2506) مسند أبي يعلى رقم (6192)
1502
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عن زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِّنْ مِئَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ مِنْ أُمَّتِي كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: سَبْعَ مِئَةٍ أَوْ ثَمَانِ مِئَةٍ.
زید بن ارقم كہتے ہیں كہ ہم ایك سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ تھے۔آپ ایك جگہ اترے تو میں نے سنا آپ فرما رہے تھے: میری امت میں سے جو لوگ میرے پاس حوضِ كوثر پر آئیں گے تم ان كا ایك لاكھواں حصہ بھی نہیں ہو۔(زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ) اس دن تم کتنے تھے؟ زید نے كہا:سات یا آٹھ سو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (123) مسند أحمد رقم (19309)
1503
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا وَلَا مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے نہیں دیكھا كہ آگ سے بھاگنے والا اور جنت كا طالب سو گیا ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (253) سنن الترمذى كِتَاب صِفَةِ جَهَنَّمَ رقم (2526)
1504
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عن الْمِقْدَام مرفوعا: مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ سِقْطًا وَلا هَرمًا وَإِنَّمَا النَّاسُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ إِلا بُعِثَ ابْنَ ثَلاثِينَ سَنَةً، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ كَانَ عَلَى نسخةِ آدَمَ، وصُورَةِ يُوسُفَ، وَقَلَبِ أَيُّوبَ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عُظِّمُوا وَفُخِّمُوا كَالْجِبَالِ.
مقدام‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ كوئی بھی انسان دوران پیدائش یا بوڑھا ہو كر مرا اور لوگ ان عمروں كے درمیانی عمر میں ہی ہوتے ہیں، تو وہ قیامت كے دن تیس سال كا اٹھایا جائے گا ، اگر وہ جنتی ہوگا توآدم علیہ السلام كی بناوٹ اور یوسف علیہ السلام كی صورت اور ایوب علیہ السلام کے دل پر بنا دیا جائے گا اور اگر وہ جہنمی ہو ں گے تو ان كے جسم بڑے كر دیئے جائیں گے اور پھلا دیئے جائیں گے جس طرح پہاڑ ہوتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2512) المعجم الكبير للطبراني رقم ( 17053 )
1505
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَهُ مَنْزِلَانِ: مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْزِلٌ فِي النَّارِ فَإِذَا مَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ، وَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْزِلَهُ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ (ۙ۱۰) المؤمنون.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص كے دو ٹھكانے ہیں۔ ایك ٹھكانہ جنت میں اور ایك ٹھكانہ جہنم میں، جب وہ مرجاتا ہے اور آگ میں داخل ہوتا ہے تو اہل جنت اس كے علاقے كے وارث بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی معنیٰ ہے: (المومنون:۱۰) یہی لوگ وارث ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2279) سنن ابن ماجه كِتَاب الزُّهْدِ بَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ رقم (4332 )
1506
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میرا یہ منبرجنت کی نہر یا ایک باغیچہ پر واقع ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2363) سنن ابن ماجه كِتَاب الْمَنَاسِكِ بَاب فَضْلِ الْمَدِينَةِ رقم (3106 )
1507
Sahih
جنت اور جہنم کا بیان
عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا ، وَعَقَدَ تِسْعِينَ.
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ساری عمر روزے ركھے اس پر جہنم اس طرح تنگ كر دی جائے گی اور آپ نے نوے كی گرہ لگائی
Takhreej
الصحيحة رقم (2302) صحيح ابن خزيمة كتاب الصيام باب فضل صيام الدهر... رقم ( 2154 )
1508
Sahih

Chapters

1