عَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : طُوبَى شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّة , مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ , ثِيَابُ أَهَلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا .
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طوبی، جنت میں ایك درخت ہے۔ سو سال كی مسافت میں اس كا پھیلاؤ ہے، جنتیوں كا لباس اس کے غلاف سے نکلے گا۔
عتبہ بن عبد سلمی كہتے ہیں كہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ بیٹھا تھا ایك بدو آیا اور کہنے لگا : اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ سے جنت میں ایك درخت كے بارے میں سنتا ہوں دنیا میں مجھے اس سے زیادہ كانٹے دار درخت كے بارے میں علم نہیں یعنی(شگوفے کا درخت) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ رب العزت ہر كانٹے كی جگہ خصی بکرے كے خصیہ جیسی چیز بنا دے گا، اس میں ستر مختلف رنگوں كے كھانے ہوں گے، اور وہ رنگ آپس میں ایك دوسرے میں خلط ملط نہیں ہو سكیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2734) ، المعجم الكبير للطبراني رقم ( 17 / 130 / 318 ) .
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَوْ أَنَّ الله هَدَانِي فَيَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً قَالَ وَكُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ لَوْلَا أَنَّ الله هَدَانِي قَالَ فَيَكُونُ لَهُ شُكْرًا ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ یّٰحَسۡرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطۡتُّ فِیۡ جَنۡۢبِ اللّٰہِ (الزمر: ٥٦)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر جہنمی جنت میں اپنا ٹھكانہ دیكھے گا اور كہے گا: كاش اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت دے دیتا، تب یہ ان كی حسرت رہے گی اور ہر جنتی جہنم میں اپنا ٹھكانہ دیكھے گا اور كہے گا، اگر اللہ مجھے ہدایت نہ دیتا تو(یہ میرا ٹھكانہ ہوتا)یہ بات ان كے لئے باعث شكر ہوگی۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت كی: (زمر: ٥٦) جہنمی كہے گا ہائے حسرت ،جو ہم نے اللہ كے احكامات میں كوتا ہی کی
علی بن خالد كہتے ہیں كہ ابو امامہ باہلیرضی اللہ عنہ خالد بن یزید بن معاویہ كے پاس سے گزرے تو ان سے كسی نرم /آسانی کی بات سنانے كا كہا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ انہوں نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : تم میں سے ہر شخص جنت میں داخل ہوگا سوائے اس شخص كے جس نے اللہ كے خلاف اس طرح سر كشی كی جس طرح اونٹ اپنے مالكوں كے خلاف كرتا ہے۔
مقدام بن معدیكربرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے ہاں شہید كے لئے كچھ انعامات ہیں: ١۔خون كا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے معاف كر دیا جاتا ہے۔٢۔ وہ جنت میں اپنا ٹھكانہ دیكھ لیتا ہے۔٣۔ اسے ایمان كا لباس پہنا دیا جاتا ہے۔٤۔ (بہتر 72)حوروں سے اس كی شادی كر دی جاتی ہے۔ ٥۔ عذابِ قبر سے بچا لیا جاتاہے۔٦۔ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہتا ہے۔٧۔ اس كے سر پر وقار كا تاج ركھ دیا جاتاہے جس كا ایك یاقوت دنیا اور جو كچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے۔٨۔ اپنے ستر(70) گھر والوں كی سفارش كرے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (3213) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الْجِهَادِ، بَاب فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ الله، رقم (2789) .
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہےكہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اگر جنت كا ناخن سےبھی كم حصہ ظاہر ہو جائے تو آسمان و زمین كے كونے روشن ہو جائیں اوراگر كوئی جنتی دنیا میں جھانك لے، اور اس كےکنگن ظاہر ہو جائیں تو وہ سورج كی روشنی كو اس طرح ختم كر دیں گے جس طرح سورج كی روشنی ستاروں كی روشنی کو ختم كر دیتی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2165) ، سنن الترمذي، َاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ أَهْلِ الْجَنَّةِ،كِتَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ، رقم (2461) .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس مسجد میں ایك لاكھ یا اس سے بھی زیادہ آدمی ہوں ، اور ایك جہنمی سانس لے اور اس كی سانس ان سب تك پہنچے تو مسجد اور مسجد میں موجود سب كچھ جل جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (2509) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (6530)
شریح بن عبید نے كہا: ثوبانرضی اللہ عنہ ،حمص میں بیمار ہو گئے ۔ عبداللہ بن قرط ازدی حمص كے نگران تھے۔ انہوں نے ثوبانرضی اللہ عنہ كی عیادت نہیں كی، ایك كلاعی شخص عیادت کے لئے ثوبان رضی اللہ عنہ كے پاس آیا تو ثوبانرضی اللہ عنہ نے كہا: كیا تم لكھ سكتے ہو؟ اس نے كہا: جی ہاں، ثوبانرضی اللہ عنہ نے كہا: لكھو، اس نے امیر عبداللہ بن قرط كے لئےپیغام لكھا: ثوبان مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی طرف سے اما بعد: اگر تمہاری موجودگی میں موسیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام كا كوئی مولیٰ(دوست ،آزاد كردہ غلام)ہوتا تو آپ اس كی عیادت كرتے، پھر خط لپیٹ كركہا: كیاتم یہ خط عبداللہ كو پہنچا سكتے ہو؟ اس نے كہا: جی ہاں، وہ آدمی خط لے كر ابن قرط كے پاس گیا اور اسے خط دے دیا۔ جب انہوں نے خط پڑھا تو گھبرا كر كھڑےہو گئے۔ لوگوں نے كہا: انہیں كیا ہوگیا؟ كیا كوئی نیا معاملہ ہو گیا ہے؟ عبداللہ ثوبانرضی اللہ عنہ كے پاس آئے اور ان كی عیادت كی ،كچھ دیر ان كے پاس بیٹھے رہے، پھر كھڑے ہوگئے۔ ثوبان نے ان كی چادر پكڑ كر كہا: بیٹھ جاؤ میں تمہیں ایك حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار لوگ جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے اور ہر ہزار كے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔( )
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین میں جنت کی تین چیزوں کے علاوہ او رکچھ نہیں، عجوہ کا درخت، جنت کی برکت سے ہر دن فرات میں اُترنے والاچوتھائی چھٹانک، اور حجر (اسود)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2188) الأحاديث المختارة للضياء المقدسي (4 / 77)
عن أبي هُرَيْرَة قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ما اسْتَجَار عَبدٌ من النَّار سَبعَ مَرَّاتٍ في يَوم إِلَا قَالَت النَّار: يَا رَبّ! إِن عَبدَك فُلَانًا قَد اسْتَجَارَك مِنِّي فَأَجِرْه، وَلَا يسْأَل الله عَبْدٌ الْجَنَّة في يَوم سَبع مَرَّات إِلَا قَالَت الْجَنَّة: يَا رَبّ! إِن عَبْدَك فُلَانًا سَأَلَنِي فَأَدْخلْه الجَنَة
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی انسان ایك دن میں سات مرتبہ آگ سے پناہ مانگتا ہے توآگ كہتی ہے: اے میرے رب تیرے فلاں بندے نے مجھ سے پناہ مانگی ہے، اسے پناہ دے دے، اور كوئی بندہ ایك دن میں سات مرتبہ اللہ تعالیٰ سے جنت كا سوال كرتا ہے تو جنت كہتی ہے ،اے میرے رب تیرے فلاں بندے نے تجھ سے میرا سوال كیا ہے، اسے جنت میں داخل كر دے۔
زید بن ارقم كہتے ہیں كہ ہم ایك سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ تھے۔آپ ایك جگہ اترے تو میں نے سنا آپ فرما رہے تھے: میری امت میں سے جو لوگ میرے پاس حوضِ كوثر پر آئیں گے تم ان كا ایك لاكھواں حصہ بھی نہیں ہو۔(زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ) اس دن تم کتنے تھے؟ زید نے كہا:سات یا آٹھ سو۔
مقدامرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ كوئی بھی انسان دوران پیدائش یا بوڑھا ہو كر مرا اور لوگ ان عمروں كے درمیانی عمر میں ہی ہوتے ہیں، تو وہ قیامت كے دن تیس سال كا اٹھایا جائے گا ، اگر وہ جنتی ہوگا توآدم علیہ السلام كی بناوٹ اور یوسف علیہ السلام كی صورت اور ایوب علیہ السلام کے دل پر بنا دیا جائے گا اور اگر وہ جہنمی ہو ں گے تو ان كے جسم بڑے كر دیئے جائیں گے اور پھلا دیئے جائیں گے جس طرح پہاڑ ہوتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2512) المعجم الكبير للطبراني رقم ( 17053 )
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص كے دو ٹھكانے ہیں۔ ایك ٹھكانہ جنت میں اور ایك ٹھكانہ جہنم میں، جب وہ مرجاتا ہے اور آگ میں داخل ہوتا ہے تو اہل جنت اس كے علاقے كے وارث بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی معنیٰ ہے: (المومنون:۱۰) یہی لوگ وارث ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2279) سنن ابن ماجه كِتَاب الزُّهْدِ بَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ رقم (4332 )
عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا ، وَعَقَدَ تِسْعِينَ.
ابو موسیٰرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ساری عمر روزے ركھے اس پر جہنم اس طرح تنگ كر دی جائے گی اور آپ نے نوے كی گرہ لگائی
Takhreej
الصحيحة رقم (2302) صحيح ابن خزيمة كتاب الصيام باب فضل صيام الدهر... رقم ( 2154 )