ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جو جنت میں داخل ہوگیا وہ آرام پاگیا، وہ کبھی بدحال نہ ہوگا۔ نہ اس كے كپڑے بوسیدہ ہوں گے اورنہ اس كی جوانی ختم ہوگی
Takhreej
الصحيحة رقم (1086) صحيح مسلم الجنة وصفة نعيمها وأهلها باب فِى دَوَامِ نَعِيمِ أَهْلِ الْجَنَّةِ رقم (7335
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَوْضِعَ سَوْط أَحَدِكُم في الْجَنَّة خَيْرٌ من الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَقَرَأ:3 ﮊ آل عمران.185
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایك چابک ركھےك كی جگہ دنیا اور جو كچھ اس میں ہے، اس سب سے بہتر ہے۔ اور یہ آیت پڑھی: 3 آل عمران.185”جو شخص آگ سے بچا كر جنت میں داخل كر دیا گیا وہ كامیاب ہو گیا، اور دنیا كی زندگی تو دھوكے كا سامان ہے“
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَنَّه قِيْل لَه: أنَطأ في الْجَنَّة؟ قال: نَعَم -وَالَّذِي نَفَسِي بِيَده- دحْماً دحْماً فَإِذَا قَام عَنْهَا رَجَعَتْ مَطْهَرَةً بِكْرًا.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: كیا ہم جنت میں ہم بستری كر سكیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے۔تم پرجوش طریقے سے یہ کام کروگےپھر جب وہ اس سے فارغ ہوگا تو وہ اسی طرح كنواری اور پاك ہوگی۔
مجاہد سے مروی ہے كہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا: كیا تمہیں معلوم ہے كہ جہنم كی وسعت كتنی ہے؟ میں نے كہا: نہیں، انہوں نےكہا: ہاں واللہ تمہیں معلوم بھی نہیں ہو سكتا۔ایك جہنمی كے كان كی لو اور كاندھے كے درمیان ستر سال كی مسافت كا فاصلہ ہوگا۔ اس میں پیپ اور خون كی وادیاں بہہ رہی ہوں گی۔ میں نے كہا: كیا نہریں؟ انہوں نے كہا: نہیں بلكہ وادیاں، پھر كہا: كیا تمہیں معلوم ہے جہنم كی وسعت كتنی ہے؟ میں نے كہا: نہیں، انہوں نے كہا: ہاں واللہ تمہیں معلوم بھی نہیں ہو سكتا۔ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان كیا كہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ كے اس فرمان كے بارے میں سوال كیا: (الزمر:۶۷) ” اور زمین تمام كی تمام اس كی ایك مٹھی میں ہوگی، اور آسمان اس كے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے“۔اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس دن لوگ كہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: وہ جہنم كے پل پر ہوں گے
عن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قال: قال رَسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : والَّذِي نَفْسِي بِيَده لَتَدْخُلُنّ الْجَنَّة كُلَّكُم إِلَا من أَبَى وشَرَد عَلَى الله كشرود الْبَعِير، قَالُوا: ومن يَأْبَى أَن يَدْخُل الْجَنَّة؟ فَقَال: من أَطَاعَنِي دَخَل الجنة ومن عَصَانِي فَقَد أَبَى.
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے تم سب كےسب جنت میں داخل ہوگے، مگر جس نے انكار كیا اور اونٹوں كی سر كشی كی طرح اللہ كے خلاف سر كشی كی۔ لوگوں نے كہا: جنت میں داخل ہونے سے كون انكار كر سكتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت كی وہ جنت میں داخل ہو گیا، اور جس نے میری نا فرمانی كی اس نے انكار كیا۔
عن أبي هُرَيْرَة قال: افْتَخَرَت الرِّجَال والنّسَاء، فَقَال أبو هُرَيْرَة: النّسَاء أكثر من الرِّجَال في الْجَنَّة، فَنَظَر عمر بن الْخِطَاب إلى الْقَوْم فَقَال: أَلَا تَسْمَعُون ما يَقول أبو هُرَيْرَة؟ فَقَال أبو هُرَيْرَة: سَمعتُ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَقول في أَوَّل زُمْرَة تدخل الجنة: وُجُوهُهُم كَالْقَمَر لَيْلَة الْبَدْر والثَّانِيَة كأضوء كَوْكَب في السَّمَاء ولِكُلّ وَاحِد مِنْهم زَوْجَتَان يَرَى مُخّ سُوقِهِمَا من وَرَاء اللَّحْم ، و لَيْس في الْجَنَّة عَزبٌ.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ: مرد اور عورتیں آپس میں فخر كرنے لگے، ابو ہریرہرضی اللہ عنہ نے كہا: جنت میں مردوں سے زیادہ عورتیں ہوں گی، عمر بن خطابرضی اللہ عنہ نے لوگوں كی طرف دیكھا، اور كہا: كیا تم سن نہیں رہے ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كیا كہہ رہے ہیں؟ ابو ہریرہرضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ جنت میں جانے والے سب سے پہلے گروہ کے بارے میں فرما رہے تھے کہ: ان کے چہرے چودہویں كے چاند كی طرح ہوں گے ، اور دوسرا گروہ آسمان میں روشن ترین ستارے كی طرح ہوگا، ہر شخص كے لئے دو بیویاں ہوں گی۔ گوشت كے اندر سے ان كی ہڈیوں كا گودا نظر آئے گا اور جنت میں كوئی كنوارا شخص نہیں ہوگا۔
عن حُذَيْفَة بن الْيَمَان قال: قال أَصَحَابُ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : إِبْرَاهِيم خَلِيل الله وعَيْسَى كَلمة الله ورُوحه ومَوسَى كَلَّمَه الله تَكْلِيمًا فَمَاذَا أعْطِيْتَ يَا رَسُولَ الله؟ قال: وَلَد آدَم كُلُّهُم تَحْت لِوَائِي يَوم الْقِيَامَة وأَنا أَوَّل من تُفَتَّح لَه أَبْوَاب الْجَنَّة.
حذیفہ بن یمان كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابہ نے كہا: ابراہیم علیہ السلام اللہ كے دوست، عیسیٰ علیہ السلام اللہ كے كلمے ہیں اور موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے گفتگو كی ہے۔ اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ كو كیا دیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت كے دن آدم كی تمام اولاد میرے جھنڈے كے نیچے ہوگی، اور میں پہلا شخص ہوں گا جس كے لئے جنت كے دروازے كھولے جائیں گے
عمارہ بن خزیمہ سے مروی ہے كہ ہم حج یا عمرے میں عمرو بن عاصرضی اللہ عنہ كے ساتھ تھے( اچانك ہم ایك عورت كے پاس سے گزرےجس نے منقش چادر اور انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں اور اپنا ہاتھ ہودج پر ڈالا ہواتھا) عمرو نے كہا: اس گھاٹی میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ تھے اچانك آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےكہا: دیكھو! كیا تمہیں كوئی چیز نظر آ رہی ہے؟ ہم نے كہا: ہم کوّے دیکھ رہے ہیں، ان میں ایک کوّا سرخ چونچ اور ٹانگوں والا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں اتنی عورتیں جائیں گی جیسے ان کوّوں میں یہ ایک کوّا ہے
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایك جنتی كو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اے ابن آدم تمہیں اپنا ٹھكانہ كیسالگا؟ وہ كہے گا: اے میرے رب بہترین ٹھكانہ ہے۔ اللہ تعالی فرمائے گا: مانگو اور تمنا كرو، وہ كہے گا: اے میرے رب میں كیا مانگوں اور كس چیز كی خواہش كروں؟ سوائے اس خواہش كے كہ تو مجھے دنیا میں واپس بھیج دے اور میں دس مرتبہ تیرے راستے میں قتال كرتا ہوا شہید ہوجاؤں۔ كیوں كہ وہ شہادت كی فضیلت دیكھ چكا ہوگا، اور ایك روایت میں ہے: شہادت كی تکریم دیكھ چكا ہوگا اور ایك جہنمی كو لایا جائے گا(اللہ تعالیٰ) اس سے كہے گا: اے ابن آدم تم نے اپنا ٹھكانہ كیسا پایا؟ وہ كہے گا: اے میرے رب بدترین ٹھكانہ ہے۔(رب عزوجل) اس سے فرمائے گا: كیا تم اس سے چھٹكارا پانے كے لئے زمین بھر سونا بدلے میں دے دو گے؟ وہ كہے گا: جی ہاں اے میرے رب۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے میں نے تم سے اس سے بھی كم اور آسان بات كا مطالبہ كیا تھا لیكن تو نے وہ مطالبہ پورا نہیں كیا پھر اسے آگ میں واپس ڈال دیا جائے گا۔( )
انس بن مالكرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ باہر كا نظارہ كر نے نكلے، ایك تیرآیا اورانہیں قتل كرگیا۔ ان كی والدہ نے كہا: اےاللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ حارثہ سے میری محبت جانتے ہیں، اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر كروں وگرنہ آپ دیكھیں گے كہ میں كیا كرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے امِ حارثہ ! وہاں ایك جنت نہیں، وہاں بہت ساری جنتیں ہیں،اور حارثہ سب سے افضل جنت میں ہے یا فرمایا: فردوس میں ہے
عن الحسن قال: أَتَت عَجُوز إلى النَّبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَت: يَا رَسُول الله! ادْع الله أَن يُدْخِلنِي الجنة. فَقَال: يَا أَم فُلَان! إِن الْجَنَّة لَا تَدْخُلَهَا عَجُوز. قال: فَوَلَّت تَبْكِي. فَقَال: أخبروها أَنَّها لَا تَدْخُلَهَا و هِي عَجُوز إِن الله تَعَالَى يَقول: اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰہُنَّ اِنۡشَآءً ﴿ۙ۳۵﴾ فَجَعَلۡنٰہُنَّ اَبۡکَارًا (ۙ۳۶) عُرُبًا اَتۡرَابًا (ۙ۳۷) (الواقعة).
حسنرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك بوڑھی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئی اور كہنے لگی: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعاكیجئے كہ مجھے جنت میں داخل كر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام فلاں جنت میں بوڑھی عورت داخل نہیں ہو سكتی۔ وہ روتی ہوئی واپس جانے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بتاؤ كہ یہ بڑھاپے كی حالت میں جنت میں داخل نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:﴿الواقعۃ:۳۵،۳۶،۳۷﴾ ’’ہم انہیں پیدا كر دیں گے اور انہیں باكرہ بنائیں گے ابھرے ہوئے سینوں والی جنتیوں کی ہم عمر۔‘‘
ابو وائل كہتے ہیں كہ اسامہرضی اللہ عنہ سے كہا گیا: اگرآپ فلاں شخص كے پاس جائیں اور ایك روایت میں ہے عثمانرضی اللہ عنہ كے پاس جائیں اور ان سے بات كریں كہ وہ كیا كر رہے ہیں؟ اسامہرضی اللہ عنہ نے كہا: تمہارا خیال ہے کہ میں ان سے بات کرتے ہوئے تمہیں بھی سناؤں گا؟ ۔ میں اس سے دروازہ كھولے بغیر آہستگی سے بات كروں گا ،میں دروازہ کھولنے والاپہلا شخص نہیں ہونا چاہتا نہ ہی میں كسی شخص كے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےحدیث سننے كے بعدیہ كہوں گاكہ وہ بہترین شخص ہےاگر چہ وہ مجھ پر امیر ہی كیوں نہ مقرر ہو۔ لوگوں نے كہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے كیا سنا؟ انہوں نے كہا: میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: قیامت كے دن ایک آدمی كو لایا جائے گا اور اسے جہنم میں پھینك دیا جائے گا،اس كی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی ( اور ایك روایت میں ہے اس كے پیٹ كی انتڑیاں) وہ ان كے گرد اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا چكی كے گرد گھومتا ہے ۔اہل درزخ اس كے گرد جمع ہو جائیں گے اور كہیں گے: اے فلاں تمہارا كیا معاملہ ہے؟ كیا تم ہمیں نیكی كا حكم نہیں كرتے تھے اور برائی سے نہیں روكتے تھے؟ وہ كہے گا: میں تمہیں نیكی كا حكم كرتا تھا لیكن خود نیكی نہیں كرتا تھا ، اور برائی سے منع كرتا تھا لیكن خود برائی كرتا تھا
Takhreej
الصحيحة رقم (292)، صحيح البخاري كتاب بدء الخلق باب صفة النار وأنها مخلوقة رقم (3027)
) ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جہنم کیسے آگ کا ایک شعلہ نکلے گا۔ جو كہہ رہی ہوگی:آج مجھے تین آدمیوں پر مقرركیا گیاہے: ہر سر كش جابر پر، اس شخص پرجس نے اللہ كے ساتھ دوسرا معبود بنایا، اور جس شخص نے كسی كو ناحق قتل كیا۔ وہ شعلہ یا لپیٹ ان كے گرد لپٹ جائے گی اور جہنم كی گہرائیوں میں انہیں غوطے دے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (2699)، المعجم الأوسط رقم (4128) مسند احمد
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ فَيَبْقَى مِنْهَا مَا شَاءَ الله عَزَّ وَجَلَّ فَيُنْشِئُ الله تَعَالَى لَهَا يَعْنِي خَلْقًا حَتَّى يَمْلَأَهَا.
انسرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت جنت میں داخل ہوجائیں گے، جنت كا كچھ علاقہ باقی بچ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس كے لئے نئی مخلوق پیدا كر كے اسے بھر دے گا
عَنِ السُّدِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ عن رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قال: يَرِدُ النَّاسُ (كلهم) النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ (مِنْهَا) بِأَعْمَالِهِمْ (فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْعِ الْبَرْقِ ثُمَّ كَمر الرِّيحِ ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ كَالرَّاكِبِ ثُمَّ كَشَدِّ الرّجالِ ثُمَّ كَمَشْيِهِم).
) سدی كہتے ہیں كہ میں نے ہمدانی سے اللہ عزوجل كے اس فرمان كے بارے میں سوال کیا: اور تم میں سے ہر شخص اس پر ضرور واردہونےوالاہے،یہ آپ کے پروردگار کے ذمے قطعی فیصل شدہ امر ہے“،تو انہوں نے مجھے بتایا كہ عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے انہیں بیان كیا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمام) لوگ جہنم كے پاس آئیں گے ،پھر اپنے اعمال كے مطابق اس سے گزریں گے( پہلا گروہ بجلی كی چمك كی طرح، پھر دوسرا تیز ہوا كی طرح، پھر تیسرا تیز گھوڑے كی طرح ،پھر چوتھا عام سوار كی طرح ،پھر پانچواں تیز دوڑنے والے آدمی كی طرح، پھر چھٹا پیدل چلنے والے كی طرح گزرے گا)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (311)، سنن الترمذى كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ رقم ( 3084 )
عن أنس رضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: يَقول الله لِأَهْوَن أَهل النَّار عَذَابًا يَوِم الْقِيَامَة: (يَا ابن آدَم! كَيْف وَجَدَت مَضْجَعَك؟ فَيَقُول: شَرّ مضجع، فَيُقَال لَه:) لَو كَانَت لَك الدُّنْيَا وما فِيهَا أَكُنْت مُفْتَدِيًا بِهَا؟ فَيَقُول: نَعَم فَيَقُول: (كَذَبت) قَد أَرَدْت مِنْك أَهْوَن من هذا وأَنت في صلب و في رِوَايَة: ظَهْر آدَم: أَن لَا تُشْرِك (بِي شَيْئًا) (ولَا أَدْخلَك النَّار) فَأَبَيْت إِلَا الشِّرْك فَيُؤْمَر به إلى النَّار.
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت كے دن سب سے كم عذاب والے جہنمی سے فرمائےگا:(اے ابن آدم تمہارا ٹھكانہ كیسا رہا؟ وہ كہے گا: یہ بدترین ٹھكانہ ہے۔ اس سے كہا جائے گا:)اگر تمہیں دنیا اور جو كچھ اس میں ہے سب مل جائے تو كیا تم اسے بدلے میں دے دو گے؟ وہ كہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائےگا:(تو جھوٹ بولتا ہے) میں نے تجھ سے اس سے بھی آسان بات كا مطالبہ كیا تھاجب تم اپنے باپ كی پشت میں تھے، اور ایك روایت میں ہے: آدم كی پشت میں تھے: كہ تو میرے ساتھ( كسی كو) شریك نہ كرنا( میں تجھے آگ میں داخل نہیں كروں گا) تم نے شرك پر ہی اصرار كیا ،پھر اسے جہنم میں ڈالنے كا حكم دے دیا جائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (172)، صحيح البخاري كتاب الأنبياء رقم (3156)