حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَهْدَتْ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِي قَصْعَةٍ، فَضَرَبَتْ عَائِشَةُ الْقَصْعَةَ بِيَدِهَا، فَأَلْقَتْ مَا فِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَعَامٌ بِطَعَامٍ، وَإِنَاءٌ بِإِنَاءٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Anas narrated:
One of the wives of the Prophet (ﷺ) gave the Prophet (ﷺ) some food in a bowl. Then 'Aishah broke the bowl with her hand, and discarded what was in it. So the Prophet (ﷺ) said: Food for food and vessel for vessel.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے آپ کے پاس پیالے میں کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی، عائشہ رضی الله عنہا نے ( غصے میں ) اپنے ہاتھ سے پیالے کو مار کر اس کے اندر کی چیز گرا دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے کے بدلے کھانا اور پیالے کے بدلے پیالہ ہے“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۶۷۷)، وراجع: صحیح البخاری/المظالم ۳۴ (۲۴۸۱)، والنکاح ۱۰۷ (۵۲۲۵)، سنن ابی داود/ البیوع ۹۱ (۳۵۶۷)، سنن النسائی/عشرة النساء ۴ (۳۴۰۷)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ۱۴ (۲۳۳۴)، مسند احمد (۳/۱۰۵، ۲۶۳)، سنن الدارمی/البیوع ۵۸ (۲۶۴۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی کوئی چیز کسی سے تلف ہو جائے تو وہ ویسی ہی چیز تاوان میں دے اور جب اس جیسی چیز دستیاب نہ ہو تو اس صورت میں اس کی قیمت ادا کرنا اس کے ذمہ ہے۔
1359
Sahih