TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book on salat (prayer) - کتاب:نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل - Book 3 of Jam e Tirmazi with Urdu and English Translation

Book 3 of Jam e Tirmazi, with 42 chapters and 61 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

61 Hadith · 42 Chapters
Chapter: What Has Been Related About The Prostrations Of As-Sahw Before The Salaam
باب: سلام سے پہلی سجدہ سہو کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الْأَسَدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ.
Abdullah bin Buhainah Al-Asdi the ally of Banu Abdul-Muttalib narrated: The Prophet (S) stood for the Zuhr prayer, and he had a sitting to perform, so when he completed his Salat, he performed two prostrations, saying the Takbir for each prostration. So he was sitting before saying the Salam, and the people prostrated with him in place of the sitting he forgot.
عبداللہ ابن بحینہ اسدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں کھڑے ہو گئے جب کہ آپ کو بیٹھنا تھا، چنانچہ جب نماز پوری کر چکے تو سلام پھیرنے سے پہلے آپ نے اسی جگہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے، آپ نے ہر سجدے میں اللہ اکبر کہا، اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ سہو کیے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن بحینہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ اور عبداللہ بن سائب قاری رضی الله عنہما دونوں سہو کے دونوں سجدے سلام سے پہلے کرتے تھے، ۴- اور اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ان کی رائے ہے کہ سجدہ سہو ہر صورت میں سلام سے پہلے ہے، اور یہ حدیث دوسری حدیثوں کی ناسخ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل آخر میں اسی پر رہا ہے، ۵- اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب آدمی دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے تو وہ ابن بحینہ رضی الله عنہ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے، ۶- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن بحینہ ہی عبداللہ بن مالک ہیں، ابن بحینہ کے باپ مالک ہیں اور بحینہ ان کی ماں ہیں، ۷- سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے کہ اسے آدمی سلام سے پہلے کرے یا سلام کے بعد۔ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے، ۸- اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے سلام سے پہلے کرے یہی قول اکثر فقہاء مدینہ کا ہے، مثلاً یحییٰ بن سعید، ربیعہ وغیرہ کا اور یہی قول شافعی کا بھی ہے، ۹- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد کرے اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہی قول مالک بن انس کا ہے، ۱۰- اور احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرنا چاہیئے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے تو ابن بحینہ رضی الله عنہ کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے اور جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر اور عصر میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اسی طرح جس جس صورت میں جیسے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل موجود ہے، اس پر اسی طرح عمل کرے، اور سہو کی جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔ ۱۱- اسحاق بن راہویہ بھی احمد کے موافق کہتے ہیں۔ مگر فرق اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سہو کی جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل موجود نہ ہو تو اس میں اگر نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور اگر کمی ہوئی ہو تو سلام سے پہلے کرے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان ۱۴۶ (۸۲۹)، و۱۴۷ (۸۳۰)، والسہو۱ (۱۲۲۵)، و۵ (۱۲۳۰)، والأیمان والنذور ۱۵ (۶۶۷۰)، صحیح مسلم/المساجد ۱۹ (۵۷۰)، سنن ابی داود/ الصلاة ۲۰۰ (۱۰۳۴)، سنن النسائی/التطبیق ۱۰۶ (۱۱۷۸)، والسہو ۲۸ (۱۲۶۲)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱۳۱ (۱۲۰۶، ۱۲۰۷)، (تحفة الأشراف : ۹۱۵۴)، موطا امام مالک/الصلاة ۱۷ (۶۵)، مسند احمد (۳۴۵۵، ۳۴۶) سنن الدارمی/الصلاة ۱۷۶ (۱۵۴۰)
391
Sahih
Chapter: What Has Been Related About The Prostrations For As-Sahw After The Salam, And Talking
باب: سلام اور کلام کے بعد سجدہ سہو کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abdullah bin Masud narrated: The Prophet (S) prayed five (Rakah) for Zuhr, so it was said to him: 'Has the prayer been added to, or have you merely forgotten?' So he (S) performed two prostrations after he had said the Salam.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پانچ رکعت پڑھی تو آپ سے پوچھا گیا: کیا نماز بڑھا دی گئی ہے؟ ( یعنی چار کے بجائے پانچ رکعت کر دی گئی ہے ) تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ۳۱ (۴۰۱)، و۳۲ (۴۰۴)، والسہو ۲ (۱۲۲۶)، والأیمان ۱۵ (۶۶۷۱)، وأخبار الآحاد ۱ (۷۲۴۹)، صحیح مسلم/المساجد ۱۹ (۵۷۲)، سنن ابی داود/ الصلاة ۱۹۶ (۱۰۱۹)، سنن النسائی/السہو ۲۵ (۱۲۴۲)، و۲۶ (۱۲۵۵)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱۲۹ (۱۲۰۳)، و۳۰ (۱۲۰۵)، و۱۳۳ (۱۲۱۱)، و۱۳۶ (۱۲۱۸)، (تحفة الأشراف : ۹۴۱۱)، مسند احمد (۱/۳۷۹، ۴۲۹، ۴۳۸، ۴۵۵)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۷۵ (۱۵۳۹)
392
Sahih
Chapter: What Has Been Related About The Prostrations For As-Sahw After The Salam, And Talking
باب: سلام اور کلام کے بعد سجدہ سہو کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ الْكَلَامِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
Abdullah (bin Masud) narrated: The Prophet (S) performed two prostrations for As-Sahw after talking.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دونوں سجدے بات کرنے کے بعد کئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ۱؎، ۲- اس باب میں معاویہ، عبداللہ بن جعفر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ۹۴۲۴)
Explanation
وضاحت: ا؎ : یہ حکم نیچے والی حدیث میں موجود ہے۔
393
Sahih
Chapter: What Has Been Related About The Prostrations For As-Sahw After The Salam, And Talking
باب: سلام اور کلام کے بعد سجدہ سہو کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ أَيُّوبُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ سِيرِينَ وَحَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَصَلَاتُهُ جَائِزَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَإِنْ لَمْ يَجْلِسْ فِي الرَّابِعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الشافعي، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا وَلَمْ يَقْعُدْ فِي الرَّابِعَةِ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ فَسَدَتْ صَلَاتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سفيان الثوري وَبَعْضِ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
Abu Hurairah narrated: The Prophet (S) performed two prostrations after the Salam.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دونوں سجدے سلام کے بعد کئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ( ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ) یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ایوب اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ابن سیرین سے روایت کیا ہے، ۳- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی ظہر بھول کر پانچ رکعت پڑھ لے تو اس کی نماز درست ہے وہ سہو کے دو سجدے کر لے اگرچہ وہ چوتھی ( رکعت ) میں نہ بیٹھا ہو، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۵- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے اور چوتھی رکعت میں نہ بیٹھا ہو تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ یہ قول سفیان ثوری اور بعض کوفیوں کا ہے ا؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم: ۳۹۹ (تحفة الأشراف : ۱۵۴۸)
Explanation
وضاحت: ا؎ : سفیان ثوری، اہل کوفہ اور ابوحنیفہ کا قول محض رائے پر مبنی ہے، جب کہ ائمہ کرام مالک بن انس، شافعی، احمد بن حنبل اور بقول امام نووی سلف وخلف کے تمام جمہور علماء مذکور بالا عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ والی صحیح حدیث کی بنیاد پر یہی فتویٰ دیتے اور اسی پر عمل کرتے ہیں، کہ اگر کوئی بھول کر اپنی نماز میں ایک رکعت اضافہ کر بیٹھے تو اس کی نماز نہ باطل ہو گی اور نہ ہی فاسد، بلکہ سلام سے پہلے اگر یاد آ جائے تو سلام سے قبل سہو کے دو سجدے کر لے اور اگر سلام کے بعد یاد آئے تو بھی سہو کے دو سجدے کر لے، یہی اس کے لیے کافی ہے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا اور آپ نے کوئی اور رکعت پڑھ کر اس نماز کو جفت نہیں بنایا تھا۔ (دیکھئیے : تحفۃ الأحوذی : ۱/۳۰۴طبع ملتا)
394
Sahih
Chapter: What Has Been Related About The Tashah-hud In The Case Of The Prostrations Of As-Sahw
باب: سجدہ سہو میں تشہد پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ وَهُوَ عَمُّ أَبِي قِلَابَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ،‏‏‏‏ وَأَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ أَيْضًا:‏‏‏‏ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ،‏‏‏‏ وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِطُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّشَهُّدِ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ يَتَشَهَّدُ فِيهِمَا وَيُسَلِّمُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَيْسَ فِيهِمَا تَشَهُّدٌ وَتَسْلِيمٌ وَإِذَا سَجَدَهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ إِذَا سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ.
Abu Al-Muhallab narrated from Imran bin Husain that : the Prophet (S) led them in Salat he forgot (something) so he performed two prostrations, then the Tashah-hud, then the Salam.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبد الوھاب ثقفی، ھشیم اور ان کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بطریق: «خالد الحذاء عن أبي قلابة» یہ حدیث ذرا لمبے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے، اور وہ یہی عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر میں صرف تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی اٹھا جسے «خرباق» کہا جاتا تھا ( اور اس نے پوچھا: کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں ) ۳- سجدہ سہو کے تشہد کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے گا اور سلام پھیرے گا۔ اور بعض کہتے کہ سجدہ سہو میں تشہد اور سلام نہیں ہے اور جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے ( اختلاف تو سلام کے بعد میں ہے ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة ۲۰۲ (۱۰۳۹)، سنن النسائی/السہو ۲۳ (۱۲۳۷)، (تحفة الأشراف : ۱۰۸۸۵)
395
Zaeef
Chapter: Regarding One Who Has Doubts Over Addition Or A Omission
باب: آدمی کو نماز پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک و شبہ ہو جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَيْفَ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ،‏‏‏‏ وَابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا وَاحِدَةً وَإِذَا شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهُمَا ثِنْتَيْنِ وَيَسْجُدْ فِي ذَلِكَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيُعِدْ.
Iyad bin Hilal said: I said to Abu Sa'eed: 'One of us performs Salat and we do not know how (much) we prayed.' So he said: 'Allah's Messenger (S) said: When one of you performs Salat and he does now know how (much) he prayed then let him perform two prostrations while he is sitting.
عیاض یعنی ابن ہلال کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے کہا: ہم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں ( یا وہ کیا کرے؟ ) تو ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ کتنی پڑھی ہے؟ تو وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے“۔ ( یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد ) امام ترمذی کہتے ہیں: ا- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عثمان، ابن مسعود، عائشہ، ابوہریرہ وغیرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہ حدیث ابوسعید سے دیگر کئی سندوں سے بھی مروی ہے، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم سے کسی کو ایک اور دو میں شک ہو جائے تو اسے ایک ہی مانے اور جب دو اور تین میں شک ہو تو اسے دو مانے اور سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کرے“۔ اسی پر ہمارے اصحاب ( محدثین ) کا عمل ہے ۱؎ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب کسی کو اپنی نماز میں شبہ ہو جائے اور وہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں؟ تو وہ پھر سے لوٹائے ۲؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة ۱۹۸ (۱۰۲۹)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱۲۹ (۱۲۰۴)، (تحفة الأشراف : ۴۳۹۶)، مسند احمد (۳/۱۲، ۳۷، ۵۰، ۵۱، ۵۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اور یہی راجح مسئلہ ہے۔ ۲؎ : یہ مرجوح قول ہے۔
396
Sahih
Chapter: Regarding One Who Has Doubts Over Addition Or A Omission
باب: آدمی کو نماز پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک و شبہ ہو جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that: Allah's Messenger (S) said: Indeed the Shaitan comes to one of you in his Salat confusing him until he does now know how much he has prayed. When one of you experiences that then let him perform two prostrations while sitting.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے پاس شیطان اس کی نماز میں آتا ہے اور اسے شبہ میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں؟ چنانچہ تم میں سے کسی کو اگر اس قسم کا شبہ محسوس ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان ۴ (۶۰۸)، والعمل في الصلاة ۱۸ (۱۲۲۲)، والسہو ۶ (۱۲۳۱)، وبدء الخلق ۱۱ (۳۲۸۵)، صحیح مسلم/الصلاة ۸ (۳۹)، والمساجد ۱۹ (۵۷۰)، سنن ابی داود/ الصلاة ۱۹۸ (۱۰۳۰)، سنن النسائی/الأذان ۳۰ (۶۷۱)، والسہو ۲۵ (۱۲۵۳)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱۳۵ (۱۲۱۶)، (تحفة الأشراف : ۱۵۲۳۹)، مسند احمد (۲/۳۱۳، ۳۵۸، ۴۱۱، ۴۶۰، ۵۰۳، ۵۲۲، ۵۳۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد۔
397
Sahih
Chapter: Regarding One Who Has Doubts Over Addition Or A Omission
باب: آدمی کو نماز پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک و شبہ ہو جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ وَاحِدَةً صَلَّى أَوْ ثِنْتَيْنِ فَلْيَبْنِ عَلَى وَاحِدَةٍ فَإِنْ لَمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَوْ ثَلَاثًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثِنْتَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثَلَاثٍ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abdur-Rahman bi Awf narrated that he heard the Prophet (S) saying: When one of you becomes forgetful in his Salat so that he does not know if he prayed one or two, then let him consider it one. When he does not know if he prayed three or four, then let him consider it three, and let him perform two prostrations before he says the Taslim.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی شخص نماز بھول جائے اور یہ نہ جان سکے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو؟ تو ایسی صورت میں اسے ایک مانے، اور اگر وہ یہ نہ جا سکے کہ اس نے دو پڑھی ہے یا تین تو ایسی صورت میں دو پر بنا کرے، اور اگر وہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے تین پڑھی ہے یا چار تو تین پر بنا کرے، اور سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة ۳۲ (۱۲۰۹)، (تحفة الأشراف : ۹۷۲۲)، مسند احمد (۱/۱۹۰، ۱۹۳)
398
Sahih
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Says The Taslim After Two Rakah During The Zuhr Or Asr Prayers
باب: غلطی سے ظہر یا عصر کی دو ہی رکعت میں سلام پھیر دینے والے کا حکم
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ وَهُوَ:‏‏‏‏ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ:‏‏‏‏ أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَذِي الْيَدَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ:‏‏‏‏ إِذَا تَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَوْ مَا كَانَ فَإِنَّهُ يُعِيدُ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْتَلُّوا بِأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَمَّا الشَّافِعِيُّ فَرَأَى هَذَا حَدِيثًا صَحِيحًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّائِمِ إِذَا أَكَلَ نَاسِيًا فَإِنَّهُ لَا يَقْضِي وَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشافعي:‏‏‏‏ وَفَرَّقَ هَؤُلَاءِ بَيْنَ الْعَمْدِ وَالنِّسْيَانِ فِي أَكْلِ الصَّائِمِ بِحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ إِنْ تَكَلَّمَ الْإِمَامُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ قَدْ أَكْمَلَهَا ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يُكْمِلْهَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ تَكَلَّمَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ عَلَيْهِ بَقِيَّةً مِنَ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِأَنَّ الْفَرَائِضَ كَانَتْ تُزَادُ وَتُنْقَصُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا تَكَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ وَهُوَ عَلَى يَقِينٍ مِنْ صَلَاتِهِ أَنَّهَا تَمَّتْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ هَكَذَا الْيَوْمَ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ عَلَى مَعْنَى مَا تَكَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ الْفَرَائِضَ الْيَوْمَ لَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ نَحْوًا مِنْ هَذَا الْكَلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق نَحْوَ قَوْلِ أَحْمَدَ فِي هَذَا الْبَابِ.
Abu Hurairah narrated: The Prophet (S) turned (finished the prayer) after two (Rak'ah), so Dhul-Yadain said: 'Has the prayer been shortened or have you forgotten O Messenger of Allah? The Prophet (S) said: 'Is what Dhul-Yadain said the truth?' The people said yes, so Allah's Messenger (S) stood to perform the last two (Rakah) of Salat, then he said the Taslim. Then he said the Takbir and prostrated in a manner the same or longer than his (normal) prostrations.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ظہر یا عصر کی ) دو رکعت پڑھ کر ( مقتدیوں کی طرف ) پلٹے تو ذوالیدین نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہاں ( آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آخری دونوں رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا، پھر اپنے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اپنے اسی سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ ( یعنی سجدہ سہو کیا ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمران بن حصین، ابن عمر، ذوالیدین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض اہل کوفہ کہتے ہیں کہ جب کوئی نماز میں بھول کر یا لاعلمی میں یا کسی بھی وجہ سے بات کر بیٹھے تو اسے نئے سرے سے نماز دہرانی ہو گی۔ وہ اس حدیث میں مذکور واقعہ کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت سے پہلے کا ہے ۱؎، ۴- رہے امام شافعی تو انہوں نے اس حدیث کو صحیح جانا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے فتویٰ دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اُس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جو روزہ دار کے سلسلے میں مروی ہے کہ جب وہ بھول کر کھا لے تو اس پر روزہ کی قضاء نہیں، کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ شافعی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے روزہ دار کے قصداً اور بھول کر کھانے میں جو تفریق کی ہے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کی وجہ سے ہے، ۵- امام احمد ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر امام یہ سمجھ کر کہ اس کی نماز پوری ہو چکی ہے کوئی بات کر لے پھر اسے معلوم ہو کہ اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ہے تو وہ اپنی نماز پوری کر لے، اور جو امام کے پیچھے مقتدی ہو اور بات کر لے اور یہ جانتا ہو کہ ابھی کچھ نماز اس کے ذمہ باقی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے، انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فرائض کم یا زیادہ کئے جا سکتے تھے۔ اور ذوالیدین رضی الله عنہ نے جو بات کی تھی تو وہ محض اس وجہ سے کہ انہیں یقین تھا کہ نماز کامل ہو چکی ہے اور اب کسی کے لیے اس طرح بات کرنا جائز نہیں جو ذوالیدین کے لیے جائز ہو گیا تھا، کیونکہ اب فرائض میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی ۱؎، ۶- احمد کا قول بھی کچھ اسی سے ملتا جلتا ہے، اسحاق بن راہویہ نے بھی اس باب میں احمد جیسی بات کہی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان ۸۸ (۴۸۲)، والأذان ۶۹ (۷۱۴)، والسہو ۳ (۱۲۲۷)، و۴ (۱۲۲۸)، و۸۵ (۱۳۶۷)، والأدب ۴۵ (۶۰۵۱)، وأخبار الآحاد ۱ (۷۲۵۰)، صحیح مسلم/المساجد ۱۹ (۵۷۳)، سنن ابی داود/ الصلاة ۱۹۵ (۱۰۰۸)، سنن النسائی/السہو ۲۲ (۱۲۲۵)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱۳۴ (۱۲۱۴)، (تحفة الأشراف : ۱۴۴۴۹)، مسند احمد (۲/۲۳۵، ۴۳۳، ۴۶۰)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۷۵ (۱۵۳۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس پر ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں، صرف یہ کمزور دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے سے پہلے کا ہے، کیونکہ ذوالیدین رضی اللہ کا انتقال غزوہ بدر میں ہو گیا تھا، اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے یہ واقعہ کسی صحابی سے سن کر بیان کیا، حالانکہ بدر میں ذوالشمالین رضی الله عنہ کی شہادت ہوئی تھی نہ کہ ذوالیدین کی، نیز ابوہریرہ رضی الله عنہ نے صاف صاف بیان کیا ہے کہ میں اس واقعہ میں تھا (جیسا کہ مسلم اور احمد کی روایت میں ہے) پس یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے کے بعد کا ہے۔ ۲؎ : یہ بات مبنی بر دلیل نہیں ہے اگر بات ایسی ہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اس کی وضاحت کیوں نہیں فرما دی، اصولیین کے یہاں یہ مسلمہ اصول ہے کہ شارع علیہ السلام (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ کسی بات کو بتانے کی ضرورت ہو اور آپ نہ بتائیں۔
399
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Salat In Sandals
باب: جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ:‏‏‏‏ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ،‏‏‏‏ وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ،‏‏‏‏ وَأَوْسٍ الثَّقَفِيِّ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَطَاءٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي شَيْبَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
Sa'eed bin Yazid Abu Maslamah said: I said to Anas bin Malik: 'Would Allah's Messenger (S) perform Salat wearing his sandals?' He said: 'Yes.'
سعید بن یزید (ابو مسلمہ) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن ابی حبیبۃ، عبداللہ بن عمرو، عمرو بن حریث، شداد بن اوسثقفی، ابوہریرہ رضی الله عنہم اور عطاء سے بھی جو بنی شیبہ کے ایک فرد تھے احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ۲۴ (۳۸۶)، واللباس ۳۷ (۵۸۵۰)، صحیح مسلم/المساجد ۱۴ (۵۵۵)، سنن النسائی/القبلة ۲۴ (۷۷۶)، (تحفة الأشراف : ۸۶۶)، مسند احمد (۳/۱۰۰، ۱۶۶، ۱۸۹)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۰۳ (۱۴۱۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : یہودیوں کی مخالفت کرو وہ جوتوں میں نماز نہیں پڑھتے، علماء کہتے ہیں کہ اگر جوتوں میں نجاست نہ لگی ہو تو ان میں نماز یہودیوں کی مخالفت کے پیش نظر مستحب ہو گی ورنہ اسے رخصت پر محمول کیا جائے گا، مساجد کی تحسین و طہارت کے پیش نظر جہاں دریاں، قالین وغیرہ بچھے ہوں وہاں جوتے اُتار کر نماز پڑھنی چاہیئے۔
400
Sahih
Chapter: What Has Been Related About The Qunut In The Fajr Prayer
باب: نماز فجر میں قنوت پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَخُفَافِ بْنِ أَيْمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمُ الْقُنُوتَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ لَا يُقْنَتُ فِي الْفَجْرِ إِلَّا عِنْدَ نَازِلَةٍ تَنْزِلُ بِالْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا نَزَلَتْ نَازِلَةٌ فَلِلْإِمَامِ أَنْ يَدْعُوَ لِجُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ.
Al-Bara bin Azib narrated: The Prophet (S) would perform the Qunut in the Subh and Maghrib prayers.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم فجر اور مغرب میں قنوت پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، انس، ابوہریرہ، ابن عباس، اور خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- فجر میں قنوت پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے فجر میں قنوت پڑھنے کی ہے، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے، ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ فجر میں قنوت نہ پڑھے، الا یہ کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہوئی ہو تو ایسی صورت میں امام کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے لشکر کے لیے دعا کرے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد ۵۴ (۶۷۸)، سنن ابی داود/ الصلاة ۳۴۵ (۱۴۴۱)، سنن النسائی/التطبیق ۲۹ (۱۰۷۷)، (تحفة الأشراف : ۱۷۸۲)، مسند احمد (۴/۲۹۹)، سنن الدارمی/الصلاة ۲۱۶ (۱۶۳۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث سے شوافع نے فجر میں قنوت پڑھنا ثابت کیا ہے اور برابر پڑھتے ہیں، لیکن اس میں تو ”مغرب“ کا تذکرہ بھی ہے، اس میں کیوں نہیں پڑھتے ؟ دراصل یہاں قنوت سے مراد قنوت نازلہ ہے جو بوقت مصیبت پڑھی جاتی ہے (اس سے مراد وتر والی قنوت نہیں ہے) رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم بوقت مصیبت خاص طور پر فجر میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے، بلکہ بقیہ نمازوں میں بھی پڑھتے تھے، اور جب ضرورت ختم ہو جاتی تھی تو چھوڑ دیتے تھے۔
401
Sahih
Chapter: [What Has Been Related] About Not Performing The Qunut
باب: قنوت نہ پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَبِي:‏‏‏‏ يَا أَبَةِ إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَعُمَرَ،‏‏‏‏ وَعُثْمَانَ،‏‏‏‏ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ هَا هُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَكَانُوا يَقْنُتُونَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ سفيان الثوري:‏‏‏‏ إِنْ قَنَتَ فِي الْفَجْرِ فَحَسَنٌ وَإِنْ لَمْ يَقْنُتْ فَحَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَارَ أَنْ لَا يَقْنُتَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرَ ابْنُ الْمُبَارَكِ الْقُنُوتَ فِي الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَأَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ سَعْدُ بْنُ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ،‏‏‏‏
Abu Malik Al-Ashjai narrated: I said to my father: 'O my father! You offered Salat behind Allah's Messenger (S), Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali bin Abi Talib here in Al-Kufah for about five years. Did they say the Qunut?' He said: 'It is a newly invented matter my son.'
ابو مالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ ( طارق بن اشیم رضی الله عنہ ) سے عرض کیا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور علی رضی الله عنہ کے پیچھے بھی یہاں کوفہ میں تقریباً پانچ برس تک پڑھی ہے، کیا یہ لوگ ( برابر ) قنوت ( قنوت نازلہ ) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! یہ بدعت ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اگر فجر میں قنوت پڑھے تو بھی اچھا ہے اور اگر نہ پڑھے تو بھی اچھا ہے، ویسے انہوں نے پسند اسی بات کو کیا ہے کہ نہ پڑھے اور ابن مبارک فجر میں قنوت پڑھنے کو درست نہیں سمجھتے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/التطبیق ۳۲ (۱۰۸۱)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱۴ (۱۲۴۱)، (تحفة الأشراف : ۴۹۷۶)، مسند احمد (۳/۴۷۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی : اس میں برابر پڑھنا مراد ہے نہ کہ مطلق پڑھنا بدعت مقصود ہے، کیونکہ بوقت ضرورت قنوت نازلہ پڑھنا ثابت ہے جیسا کہ گزرا۔
402
Sahih
Chapter: [What Has Been Related] About Not Performing The Qunut
باب: قنوت نہ پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ.
There is another narration from Abu Malik: There exists another narration from Abu Malik with similar meaning but with different chain.
ابوعوانہ نے ابو مالک اشجعی سے اسی سند سے اسی مفہوم کی اسی طرح کی حدیث روایت کی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ
403
Sahih
Chapter: What Has Been Related About A Man Sneezing During Salat
باب: نماز میں چھینکنے کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ ؟ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ:‏‏‏‏ مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ ؟ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ:‏‏‏‏ مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ عَفْرَاءَ:‏‏‏‏ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ،‏‏‏‏ وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ رِفَاعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ فِي التَّطَوُّعِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ إِنَّمَا يَحْمَدُ اللَّهَ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُوَسِّعُوا فِي أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ.
Muadh bin Rifa'ah narrated that his father said: I prayed behind Allah's Messenger (S). I sneezed and said: Al-Hamdulillah, hamdan kathiran tayyiban mubarakan fih, mubarakan alaihi kama yuhibbu Rabbana Wa Yarda (All praise is due to Alah, many good blessed praises, blessings for Him as our Lord loves and is pleased with.) When Allah's Messenger (S) prayed and turned (after finishing) he said: 'Who was the speaker during the Salat?' No one spoke. Then he said it a second time: 'Who was the speaker during the Salat?' But no one spoke. Then he said it a third time: 'Who was the speaker during the Salat?' So Rifa'ah bin Rafi bin Afra said: It was I, O Messenger of Allah (S). He said: What did you say? He said: I said: 'Al-Hamdulillah, hamdan kathiran tayyiban mubarakan fih, mubarakan alaihi kama yuhibbu Rabbana Wa Yarda. The Prophet (S) said: By the One in Whose Hand is my soul! I saw thirty-some angels competing over which of then would ascend with it.
رفاعہ بن رافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، مجھے چھینک آئی تو میں نے «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» کہا جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نماز پڑھ کر پلٹے تو آپ نے پوچھا: ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات دوبارہ پوچھی کہ ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ اس بار بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات تیسری بار پوچھی کہ ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ رفاعہ بن رافع رضی الله عنہ نے عرض کیا: میں تھا اللہ کے رسول! آپ نے پوچھا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ انہوں نے کہا: یوں کہا تھا «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے کون لے کر آسمان پر چڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رفاعہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں انس، وائل بن حجر اور عامر بن ربیعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کے نزدیک یہ واقعہ نفل کا ہے ۱؎ اس لیے کہ تابعین میں سے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب آدمی فرض نماز میں چھینکے تو الحمدللہ اپنے جی میں کہے اس سے زیادہ کی ان لوگوں نے اجازت نہیں دی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة ۱۲۱ (۷۷۳)، سنن النسائی/الافتتاح ۳۶ (۹۳۲)، (تحفة الأشراف : ۳۶۰۶)، وراجع أیضا: صحیح البخاری/الأذان ۱۲۶ (۷۹۹)، و سنن ابی داود/ الصلاة ۱۲۱ (۷۷۰)، وسنن النسائی/التطبیق ۲۲ (۱۰۶۳)، وما/القرآن ۷ (۲۵)، و مسند احمد (۴/۳۴۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں : «وأفاد بشر بن عمر الزهراي في روايته عن رفاعة بن يحيى أن تلك الصلاة كانت المغرب» (یہ مغرب تھی) یہ روایت ان لوگوں کی تردید کرتی ہے جنہوں نے اسے نفل پر محمول کیا ہے۔ مگر دوسری روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابی نے یہ الفاظ رکوع سے اٹھتے وقت کہے تھے اور اسی دوران انہیں چھینک بھی آئی تھی، تمام روایات صحیحہ اور اس ضمن میں علماء کے اقوال کی جمع و تطبیق یہ ہے کہ اگر نماز میں چھینک آئے تو اونچی آواز سے ”الحمد للہ“ کہنے کی بجائے جی میں کہے۔
404
Sahih
Chapter: [What Has Been Related] About The Abrogation Of Speech During The Salat
باب: نماز میں بات چیت کے منسوخ ہونے کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَتَكَلَّمُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏يُكَلِّمُ الرَّجُلُ مِنَّا صَاحِبَهُ إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى نَزَلَتْوَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا تَكَلَّمَ الرَّجُلُ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَوْ نَاسِيًا أَعَادَ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ إِذَا تَكَلَّمَ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَعَادَ الصَّلَاةَ وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَجْزَأَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيُّ.
Zaid bin Arqam narrated: We used to talk behind Allah's Messenger (S) during the Salat, a man among us would talk to his companions next to him until (the following) was revealed: And stand before Allah with obedience. (2:238) So we were ordered to be silent and prohibited from talking.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «‏وقوموا لله قانتين» ”اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو“ نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود اور معاویہ بن حکم رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں قصداً یا بھول کر گفتگو کر لے تو نماز دہرائے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ جب نماز میں قصداً گفتگو کرے تو نماز دہرائے اور اگر بھول سے یا لاعلمی میں گفتگو ہو جائے تو نماز کافی ہو گی، ۴- شافعی اسی کے قائل ہیں ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العمل فی الصلاة ۲ (۱۲۰۰)، وتفسیر البقرة ۴۲ (۴۵۳۴)، صحیح مسلم/المساجد ۷ (۵۳۹)، سنن ابی داود/ الصلاة ۱۷۸ (۹۴۹)، سنن النسائی/السہو۲۰ (۱۲۲۰)، (تحفة الأشراف : ۳۶۶۱)، مسند احمد (۴/۳۶۸)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر البقرة برقم: ۲۹۸۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق مومن سے بھول چوک معاف ہے، بعض لوگوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ ” بشرطیکہ تھوڑی ہو “ ہم کہتے ہیں ایسی حالت میں آدمی تھوڑی بات ہی کر پاتا ہے کہ اسے یاد آ جاتا ہے۔
405
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Salat With Repentance
باب: توبہ کی نماز کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ سورة آل عمران آية 135 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي أُمَامَةَ،‏‏‏‏ وَمُعَاذٍ،‏‏‏‏ ووَاثِلَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي الْيَسَرِ وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍ وَقَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعُوهُ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَمِسْعَرٌ فَأَوْقَفَاهُ وَلَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مِسْعَرٍ هَذَا الْحَدِيثُ مَرْفُوعًا أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ لِأَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ حَدِيثًا مَرْفُوعًا إِلَّا هَذَا.
Asma bin Al-Hakam Al-Fazari said: I heard Ali saying: 'Indeed I am a man who, when I heard a Hadith from Allah's Messenger (S) then Allah causes me to benefit from it as much as He wills for me to benefit from it. When a man among his Companions narrated to me I ask him to swear an oath to me about it, and when he swears an oath to me I trust him. And Abu Bakr narrated to me - and Abu Bakr told the truth - he said: I heard Allah's Messenger (S) saying: 'There is no man who commits a sin, then makes Wudu, then performs Salat, then seeks forgiveness from Allah, except that Allah forgives him.' Then he recited this Ayah: Those who when they have committed Fahishah or wronged themselves with eveil, remember Allah. (3:135) until the end of the Ayah.
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے سنا: میں جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو اللہ اس سے مجھے نفع پہنچاتا، جتنا وہ پہنچانا چاہتا۔ اور جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی آدمی مجھ سے بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا۔ ( کیا واقعی تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے خود سنی ہے؟ ) جب وہ میرے سامنے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، مجھ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے بیان کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے سچ بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص گناہ کرتا ہے، پھر جا کر وضو کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب إلا الله ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون» ”اور جب ان سے کوئی ناشائستہ حرکت یا کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو وہ اللہ کو یاد کر کے فوراً استغفار کرتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون گناہ بخش سکتا ہے، اور وہ جان بوجھ کر کسی گناہ پر اڑے نہیں رہتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے یعنی عثمان بن مغیرہ ہی کی سند سے جانتے ہیں، ۲- اور ان سے شعبہ اور دوسرے اور لوگوں نے بھی روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے ابوعوانہ کی حدیث کی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اسے سفیان ثوری اور مسعر نے بھی روایت کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت موقوف ہے مرفوع نہیں اور مسعر سے یہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے اور سوائے اس حدیث کے اسماء بن حکم کی کسی اور مرفوع حدیث کا ہمیں علم نہیں، ۳- اس باب میں ابن مسعود، ابو الدردائ، انس، ابوامامہ، معاذ، واثلہ، اور ابوالیسر کعب بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة ۳۶۱ (۱۵۲۱)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱۹۳ (۱۳۹۵)، (تحفة الأشراف : ۶۶۱۰)، مسند احمد (۱/۲ویأتي عند المؤلف في تفسیر آل عمران برقم: ۳۰۰۶)
406
Sahih
Chapter: What Has Been Related About When A Boy Is Ordered To Perform Salat
باب: بچے کو نماز کا حکم کب دیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 407 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَلِّمُوا الصَّبِيَّ الصَّلَاةَ ابْنَ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرٍ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَا:‏‏‏‏ مَا تَرَكَ الْغُلَامُ بَعْدَ الْعَشْرِ مِنَ الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يُعِيدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَسَبْرَةُ هُوَ ابْنُ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ هُوَ:‏‏‏‏ ابْنُ عَوْسَجَةَ.
(Sabrah bin Ma'bad al-Juhni) narrated that: Allah's Messenger (S) said: Teach the boy Salat when he is seven years old, and beat him (if he does not pray) when he is ten.
سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات برس کے بچے کو نماز سکھاؤ، اور دس برس کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مارو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ”جو لڑکا دس برس کے ہو جانے کے بعد نماز چھوڑے وہ اس کی قضاء کرے
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة ۲۶ (۴۹۴)، (تحفة الأشراف : ۳۸۱۰)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۴۱ (۱۴۷۱)
407
Sahih
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Commites Hadath After The Tashah-hud
باب: آدمی کو تشہد میں حدث لاحق ہو جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْمُلَقَّبُ مَرْدُوَيْهِ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ رَافِعٍ، وَبَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ أَخْبَرَاهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا أَحْدَثَ يَعْنِي الرَّجُلَ وَقَدْ جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلَاتُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ وَقَدِ اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ وَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَشَهَّدَ وَقَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ أَعَادَ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الشافعي، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ إِذَا لَمْ يَتَشَهَّدْ وَسَلَّمَ أَجْزَأَهُ، ‏‏‏‏‏‏لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ وَالتَّشَهُّدُ أَهْوَنُ، ‏‏‏‏‏‏قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اثْنَتَيْنِ فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ وَلَمْ يَتَشَهَّدْ وقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ:‏‏‏‏ إِذَا تَشَهَّدَ وَلَمْ يُسَلِّمْ أَجْزَأَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ حِينَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِذَا فَرَغْتَ مِنْ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الْأَفْرِيقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ.
Abdullah bin Amr narrated that: Allah's Messenger (S) said: When he commits Hadath - meaning a man - and he is sitting in the end of his Salat before saying the Taslim, then his Salat is acceptable.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کو سلام پھیرنے سے پہلے «حدث» لاحق ہو جائے اور وہ اپنی نماز کے بالکل آخر میں یعنی قعدہ اخیرہ میں بیٹھ چکا ہو تو اس کی نماز درست ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص قوی نہیں، اس کی سند میں اضطراب ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم، جو افریقی ہیں کو بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ان میں یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل بھی شامل ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی تشہد کی مقدار کے برابر بیٹھ چکا ہو اور سلام پھیرنے سے پہلے اسے «حدث» لاحق ہو جائے تو پھر اس کی نماز پوری ہو گئی، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب «حدث» تشہد پڑھنے سے یا سلام پھیرنے سے پہلے لاحق ہو جائے تو نماز دہرائے۔ شافعی کا یہی قول ہے، ۵- اور احمد کہتے ہیں: جب وہ تشہد نہ پڑھے اور سلام پھیر دے تو اس کی نماز اسے کافی ہو جائے گی، اس لیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے: «وتحليلها التسليم» یعنی نماز میں جو چیزیں حرام ہوئی تھیں سلام پھیرنے ہی سے حلال ہوتی ہیں، بغیر سلام کے نماز سے نہیں نکلا جا سکتا اور تشہد اتنا اہم نہیں جتنا سلام ہے کہ اس کے ترک سے نماز درست نہ ہو گی، ایک بار نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم دو رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے اپنی نماز جاری رکھی اور تشہد نہیں کیا، ۶- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: جب تشہد کر لے اور سلام نہ پھیرا ہو تو نماز ہو گئی، انہوں نے ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں تشہد سکھایا تو فرمایا: جب تم اس سے فارغ ہو گئے تو تم نے اپنا فریضہ پورا کر لیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة ۷۴ (۶۱۷)، (تحفة الأشراف : ۸۶۱۰، و۸۸۷۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے کہ آدمی جب تشہد کے بعد بیٹھ چکا ہو اور اسے نماز کے آخر میں «حدث» ہو گیا یعنی اس کا وضو ٹوٹ گیا تو اس کی نماز ہو جائے گی، لیکن یہ روایت ضعیف ہے استدلال کے قابل نہیں اور اگر صحیح ہو تو اسے سلام کی فرضیت سے پہلے پر محمول کیا جائے گا۔
408
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About 'When It Rains Then Salat Is Performed At One's Place'
باب: جب بارش ہو رہی ہو تو گھر میں نماز پڑھ لینے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ فِي رَحْلِهِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَسَمُرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي الْمَلِيحِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قال أبو عيسى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَخَّصَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقُعُودِ عَنِ الْجَمَاعَةِ وَالْجُمُعَةِ فِي الْمَطَرِ وَالطِّينِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَمِعْت أَبَا زُرْعَةَ يَقُولُ:‏‏‏‏ رَوَى عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ حَدِيثًا وقَالَ أَبُو زُرْعَةَ:‏‏‏‏ لَمْ نَرَ بِالْبَصْرَةِ أَحْفَظَ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ،‏‏‏‏ وَابْنِ الشَّاذَكُونِيِّ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الْمَلِيحِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَامِرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ:‏‏‏‏ زَيْدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ.
Jabir narrated: We were with the Prophet (S) on a journey when it started to rain on us, so the Prophet (S) said: 'Whoever wishes, let him perform Salat in his place.'
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے اپنے ڈیرے میں ہی نماز پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، سمرہ، ابولملیح عامر ( جنہوں نے اپنے باپ اسامہ بن عمر ہذل سے روایت کی ہے ) اور عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم نے بارش اور کیچڑ میں جماعت میں حاضر نہ ہونے کی رخصت دی ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین ۳ (۶۹۸)، سنن ابی داود/ الصلاة ۲۱۴ (۱۰۶۵)، (تحفة الأشراف : ۲۷۱۶)، مسند احمد (۳/۳۱۲، ۳۲۷)
409
Sahih
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih At The End Of Salat
باب: نماز کے بعد کی تسبیح (اذکار) کا بیان
حَدَّثَنَا وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ الْبَصْرِيُّ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْأَغْنِيَاءَ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يُعْتِقُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَقُولُوا:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً، ‏‏‏‏‏‏وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَشْرَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَا يَسْبِقُكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَأَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَالْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ خَصْلَتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ:‏‏‏‏ يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَيُسَبِّحُ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ .
Ibn Abbas narrated: Some of the poor people came to Allah's Messenger (S) and said: 'O Messenger of Allah (S)! The rich pray as we pray, they fast as we fast, but they have wealth with which they free slaves and which they give in charity.' He said: 'When you perform Salat, then say: 'Subhan Allah' thirty-three times, and: 'Al-Hamdulillah' thirty-three times, and: 'Allahu Akbar' thirty-four times, and 'La ilaha illallah' ten times. With that you will have surprassed them, and none would surpass you afterwards.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس کچھ فقیر و محتاج لوگ آئے اور کہا: اللہ کے رسول! مالدار نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے، اس سے وہ غلام آزاد کرتے اور صدقہ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ ”سبحان اللہ“، تینتیس مرتبہ ”الحمد لله“ اور تینتیس مرتبہ ”الله أكبر“ اور دس مرتبہ ”لا إله إلا الله“ کہہ لیا کرو، تو تم ان لوگوں کو پا لو گے جو تم پر سبقت لے گئے ہیں، اور جو تم سے پیچھے ہیں وہ تم پر سبقت نہ لے جا سکیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں کعب بن عجرہ، انس، عبداللہ بن عمرو، زید بن ثابت، ابو الدرداء، ابن عمر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، نیز اس باب میں ابوہریرہ اور مغیرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”دو عادتیں ہیں جنہیں جو بھی مسلمان آدمی بجا لائے گا جنت میں داخل ہو گا۔ ایک یہ کہ وہ ہر نماز کے بعد دس بار ”سبحان الله“، دس بار ”الحمد لله“، دس بار ”الله أكبر“ کہے، دوسرے یہ کہ وہ اپنے سوتے وقت تینتیس مرتبہ ”سبحان الله“، تینتیس مرتبہ ”الحمد لله“ اور چونتیس مرتبہ ”الله أكبر“ کہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/السہو ۹۵ (۱۳۵۴)، (تحفة الأشراف : ۶۰۶۸ و ۶۳۹۳)
410
Zaeef

Chapters

42
01
Chapter: What Has Been Related About The Prostrations Of As-Sahw Before The Salaam
باب: سلام سے پہلی سجدہ سہو کرنے کا بیان
1 Hadith
02
Chapter: What Has Been Related About The Prostrations For As-Sahw After The Salam, And Talking
باب: سلام اور کلام کے بعد سجدہ سہو کرنے کا بیان
3 Hadith
03
Chapter: What Has Been Related About The Tashah-hud In The Case Of The Prostrations Of As-Sahw
باب: سجدہ سہو میں تشہد پڑھنے کا بیان
1 Hadith
04
Chapter: Regarding One Who Has Doubts Over Addition Or A Omission
باب: آدمی کو نماز پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک و شبہ ہو جائے تو کیا کرے؟
3 Hadith
05
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Says The Taslim After Two Rakah During The Zuhr Or Asr Prayers
باب: غلطی سے ظہر یا عصر کی دو ہی رکعت میں سلام پھیر دینے والے کا حکم
1 Hadith
06
Chapter: What Has Been Related About Salat In Sandals
باب: جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان
1 Hadith
07
Chapter: What Has Been Related About The Qunut In The Fajr Prayer
باب: نماز فجر میں قنوت پڑھنے کا بیان
1 Hadith
08
Chapter: [What Has Been Related] About Not Performing The Qunut
باب: قنوت نہ پڑھنے کا بیان
2 Hadith
09
Chapter: What Has Been Related About A Man Sneezing During Salat
باب: نماز میں چھینکنے کا بیان
1 Hadith
10
Chapter: [What Has Been Related] About The Abrogation Of Speech During The Salat
باب: نماز میں بات چیت کے منسوخ ہونے کا بیان
1 Hadith
11
Chapter: What Has Been Related About Salat With Repentance
باب: توبہ کی نماز کا بیان
1 Hadith
12
Chapter: What Has Been Related About When A Boy Is Ordered To Perform Salat
باب: بچے کو نماز کا حکم کب دیا جائے گا؟
1 Hadith
13
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Commites Hadath After The Tashah-hud
باب: آدمی کو تشہد میں حدث لاحق ہو جائے تو کیا کرے؟
1 Hadith
14
Chapter: What Has Been Related About 'When It Rains Then Salat Is Performed At One's Place'
باب: جب بارش ہو رہی ہو تو گھر میں نماز پڑھ لینے کا بیان
1 Hadith
15
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih At The End Of Salat
باب: نماز کے بعد کی تسبیح (اذکار) کا بیان
1 Hadith
16
Chapter: What Has Been Related About Salat On The Riding Animal During Muddy And Rainy Conditions
باب: کیچڑ اور بارش میں سواری پر نماز پڑھ لینے کا بیان
1 Hadith
17
Chapter: What Has Been Related About Striving With The Salat
باب: نماز میں خوب محنت اور کوشش کرنے کا بیان
1 Hadith
18
Chapter: What Has Been Related About 'The First Thing The Slave (Of Allah) Will Be Reckoned For On The Day Of Judgement Is The Salat'
باب: قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے محاسبہ کا بیان
1 Hadith
19
Chapter: What Has Been Related About One Who Prays Twelve Rak'ah Of Sunnah In A and Night, And What Virtues He Will Have For That
باب: دن و رات میں بارہ رکعتیں سنت پڑھنے کے ثواب کا بیان
2 Hadith
20
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
21
Chapter: What Has Been Related About The Brevity Of The Two Rak'ah Of Fajr And What The Prophet (S) Would Recite In Them
باب: فجر کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھنے اور ان سورتوں کا بیان
1 Hadith
22
Chapter: What Has Been Related About Talking After The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں رکعتوں کے بعد گفتگو کے جائز ہونے کا بیان
1 Hadith
23
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat After Fajr Begins Except For Two Rak'ah'
باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں
1 Hadith
24
Chapter: What Has Been Related About Lying On One's Side After The Two Rak'ah Of Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان
1 Hadith
25
Chapter: What Has Been Related About 'When The Iqamah Has Been Called For Salat Then There Is No Salat But The Obligatory'
باب: جب جماعت کھڑی ہو جائے تو فرض کے سوا کوئی نماز جائز نہیں ہے
1 Hadith
26
Chapter: What Has Been Related About One Who Misses The Two Rak'ah Before Fajr Praying Them After The Subh Prayer
باب: فجر سے پہلے کی دونوں سنتیں چھوٹ جائیں تو انہیں نماز فجر کے بعد پڑھنے کا بیان
1 Hadith
27
Chapter: What Has Been Related About Waiting To Perform Them After The Sun Has Risen
باب: سورج نکلنے کے بعد فجر کی سنت پڑھنے کا بیان
1 Hadith
28
Chapter: What Has Been Related About The Four Rak'ah Before Az-Zuhr
باب: ظہر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
1 Hadith
29
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Az-Zuhr
باب: ظہر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کا بیان
1 Hadith
30
Chapter: Something Else About That
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب
6 Hadith
31
Chapter: What Has Been Related About The Four (Rak'ah) Before Asr
باب: عصر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
2 Hadith
32
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Al-Maghrib And The Recitation In Them
باب: مغرب کے بعد دو رکعت پڑھنے اور ان میں قرأت کا بیان
1 Hadith
33
Chapter: What Has Been Related About Him (S) Praying Them In The House
باب: مغرب کی دو رکعت سنت گھر میں پڑھنے کا بیان
3 Hadith
34
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
35
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Isha
باب: عشاء کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کا بیان
1 Hadith
36
Chapter: What Has Been Related About The Salat Of The Night Is Two By Two
باب: رات کی (نفل) نماز دو دو رکعت ہے
1 Hadith
37
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
38
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Night Prayer Of The Prophet (S)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تہجد کی کیفیت کا بیان
3 Hadith
39
Chapter: When One Sleeps Past The Night Prayer He Prays It During The Daytime
باب: تہجد پڑھے بغیر سو جائے تو اسے دن میں پڑھنے کا بیان
1 Hadith
40
Chapter: [What Had Been Related] About The Lord Blessed And Exalted Is He, Descending To The Earth's Heaven Every Night
باب: اللہ عزوجل کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کا بیان
1 Hadith
41
Chapter: What Has Been Related About The Recitation During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) میں قرأت کا بیان
3 Hadith
42
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.