TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: اچھی اور بری تقدیر (قسمت) کا بیان - باب: اچھی اور بری تقدیر (قسمت) کا بیان - Chapters on al-qadar - Jam e Tirmazi with Urdu and English Translation

Chapter 3 of Chapters on al-qadar in Jam e Tirmazi. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 17 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ أَمْرٌ مُبْتَدَعٌ أَوْ مُبْتَدَأٌ أَوْ فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، ‏‏‏‏‏‏أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Asim bin 'Ubaidullah said: ' I heard Salim bin 'Abdullah narrating a Hadith from his father who said: 'Umar said : O Messenger of Allah! Do you see that what we do is a new matter- or a matter initiated – or it is a matter already concluded?” He (s.a.w) said: “ O Ibn Al-Khattab! It is a matter already concluded. For everyone is suited (for that for which he is created). As for one who is among the people of happiness, then he works for happiness, and as for the one who is among the people of misery, then he works for his misery.” (Hasan)
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو عمل ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، وہ نیا شروع ہونے والا امر ہے یا ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے؟ ۱؎ آپ نے فرمایا: ”ابن خطاب! وہ ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہ امر آسان کر دیا گیا ہے ( جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ) ، چنانچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بدبختوں میں سے ہے وہ بدبختی والا کام کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، حذیفہ بن اسید، انس اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۶۷۶۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی جو عمل ہم کرتے ہیں کیا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم میں آتا ہے ؟ یا وہ پہلے سے لکھا ہوا ہے اور اللہ کے علم میں ہے ؟۔
2135
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ إِذْ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ عُلِمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ وَكِيعٌ:‏‏‏‏ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ قَالُوا:‏‏‏‏ أَفَلَا نَتَّكِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Ali narrated: We were with the Messenger of Allah (s.a.w) and he was scraping the ground, when he raised his head to the heavens, then said: 'There is not one of you but (his place) is known' – Waki said: 'His place has been decreed (be it) in the Fire, and (or) his place in Paradise.' They said: 'Shall we not rely upon this O Messenger of Allah?' He said: 'No. Work, for everyone is facilitated for what he was created.'”(Sahih)
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ زمین کرید رہے تھے کہ اچانک آپ نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا پھر فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس کا حال معلوم نہ ہو، ( وکیع کی روایت میں ہے: تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جس کی جنت یا جہنم کی جگہ نہ لکھ دی گئی ہو ) ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم لوگ ( تقدیر کے لکھے ہوئے پر ) بھروسہ نہ کر لیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، تم لوگ عمل کرو اس لیے کہ ہر آدمی کے لیے وہ چیز آسان کر دی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ۸۲ (۱۳۶۲)، وتفسیر سورة واللیل إذا یغشی ۳ (۴۹۴۵)، والأدب ۱۲۰ (۶۲۱۷)، والقدر ۴ (۶۶۰۵)، والتوحید ۵۴ (۷۵۵۲)، صحیح مسلم/القدر ۱ (۲۶۴۷)، سنن ابی داود/ السنة ۱۷ (۴۶۹۴)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ۱۰ (۷۸)، ویأتي عند المؤلف برقم ۳۳۴۴) (تحفة الأشراف : ۱۰۱۶۷)، و مسند احمد (۱/۱۳۲)
2136
Sahih

Chapters

16
01
باب: تقدیر کے مسئلہ میں بحث و تکرار بڑی بری بات ہے
1 Hadith
02
باب: تقدیر کے مسئلہ میں آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مناظرہ کا بیان
1 Hadith
03
باب: اچھی اور بری تقدیر (قسمت) کا بیان
2 Hadith
04
باب: خاتمہ والے اعمال معتبر ہونے کا بیان
1 Hadith
05
باب: ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے
1 Hadith
06
باب: صرف دعا ہی تقدیر ٹال سکتی ہے
1 Hadith
07
باب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں
1 Hadith
08
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
2 Hadith
09
باب: چھوت چھات، الو اور صفر کے مہینہ کی نحوست کی نفی کا بیان
1 Hadith
10
باب: اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
2 Hadith
11
باب: موت اسی جگہ آتی ہے جہاں مقدر ہوتی ہے
2 Hadith
12
باب: جھاڑ پھونک اور دوا، اللہ کی تقدیر میں سے کچھ بھی رد نہیں کر سکتی
1 Hadith
13
باب: فرقئہ قدریہ کا بیان
1 Hadith
14
باب: اللہ کے فیصلہ پر راضی ہونے کا بیان
1 Hadith
15
باب: قدریہ سے متعلق ایک اور باب
2 Hadith
16
باب: تقدیر سے متعلق ایک اور باب
4 Hadith
No chapter matched that.