حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رَبِيعَةَ الْبُنَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْمِلَّةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُشَرِّكَانِهِ ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ هَلَكَ قَبْلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ بِهِ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:
Every child is born upon the Millah, then his parents make him a Jew, a Christian, or a idolater. It was said: O Messenger of Allah! What about those who die before that? He said: Allah knows best what they would have done.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ۱؎، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی، یا مشرک بناتے ہیں“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جو اس سے پہلے ہی مر جائے؟ ۲؎ آپ نے فرمایا: ”اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ۹۲ (۱۳۸۳)، والقدر ۳ (۶۵۹۲)، صحیح مسلم/القدر ۶ (۲۶۵۸)، سنن ابی داود/ السنة ۱۸ (۴۷۱۴) (تحفة الأشراف : ۱۲۴۷۶)، و موطا امام مالک/الجنائز ۱۶ (۵۲)، و مسند احمد (۲/۲۴۴، ۲۵۳، ۲۵۹، ۲۶۸، ۳۱۵، ۳۴۷، ۳۹۳، ۴۷۱، ۴۸۸، ۵۱۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : فطرت اسلام پر پیدا ہونے کی علماء نے یہ تاویل کی ہے کہ چونکہ «ألست بربكم» کا عہد جس وقت اللہ رب العالمین اپنی مخلوق سے لے رہا تھا تو اس وقت سب نے اس عہد اور اس کی وحدانیت کا اقرار کیا تھا، اس لیے ہر بچہ اپنے اسی اقرار پر پیدا ہوتا ہے، یہ اور بات ہے کہ بعد میں وہ ماں باپ کی تربیت یا لوگوں کے بہکاوے میں آ کر یہودی، نصرانی اور مشرک بن جاتا ہے۔ ۲؎ : یعنی بچپن ہی میں جس کا انتقال ہو جائے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟۔
2138
Sahih