TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2152 جامع ترمزی

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
باب: قدریہ سے متعلق ایک اور باب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ جَاءَهُ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوْ فِي أُمَّتِي الشَّكُّ مِنْهُ خَسْفٌ أَوْ مَسْخٌ أَوْ قَذْفٌ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو صَخْرٍ اسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ.
Nafi' narrated that a man came to Ibn 'Umar and said: So-and-so conveys his Salam to you. So he said: It has been conveyed to me that he has innovated, so if he has indeed innovated, then do not convey my Salam to him, for I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'In this Ummah' or: 'In my Ummah' - the doubt was his - a collapse of the earth, or a transformation, or stones shall rain upon the people of Al-Qadr.'
نافع کا بیان ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: فلاں شخص نے آپ کو سلام عرض کیا ہے، اس سے ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے، اگر اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے تو اسے میرا سلام نہ پہنچانا، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اس امت میں یا میری امت میں، ( یہ شک راوی کی طرف سے ہوا ہے ) تقدیر کا انکار کرنے والوں پر «خسف»،‏‏‏‏ «مسخ» یا «قذف» کا عذاب ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوصخر کا نام حمید بن زیاد ہے۔
2152
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 6, Hadith 2152 Arabic reference : Book 32, Hadith 2305
حسن، ابن ماجة (4061) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2152
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الفتن ۲۹ (۴۰۶۱) (تحفة الأشراف : ۷۶۵۱)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : «خسف» : زمین میں دھنسانے، «مسخ» : صورتیں تبدیل کرنے اور «قذف» : پتھروں کے عذاب کو کہتے ہیں۔

Related Chapters

794
1
(50)Chapter: Something Else For That
باب: پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
2
Chapter: Something else (about the timings of Salat)
باب: اوقات نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
3
Chapter: Something Else
باب: اذان کے بعد آدمی کیا دعا پڑھے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
4
Chapter: Something Else
باب: رکوع اور سجود کے وقت ”اللہ اکبر“ کہنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
5
Chapter: Something Else About That
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت جو کہنا ہے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
6
Chapter: Something Else About That
باب: سجدے میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
7
Chapter: Something Else About That
باب: سجدہ سے اٹھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Something Else About That
باب: تشہد سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: Something Else About That
باب: تشہد میں بیٹھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
10
Chapter: Something Else About That
باب: سلام پھیرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
11
Chapter: Something else about that
باب: طریقہ نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
12
Chapter: Something Else About That
باب: امام کی پیروی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Something Else About That
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
14
Chapter: Something Else About That
باب: فضائل نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
15
Chapter: Something Else About That
باب: شب قدر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
16
Chapter: (Purchasing the Hadi)
باب: قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
17
Chapter: The Talbiyah On Behalf Of Women And Stoning On Behalf Of Boys
باب: بچوں کے حج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
18
Chapter: Some Else (What Has Been Related About Hajj On Behalf Of The Dead)
باب: حج میں نیابت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Something Else From That (Umrah Has Been Entered Into Hajj Until the Day of Resurrection)
باب: حج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
20
Chapter: Something Else About That
باب: حج میں شرط لگانے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
21
Chapter: Hope In Allah And Fear Of Ones Sins In The Presence Of Death
باب: مومن کی موت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
22
Chapter: Ordering The Believer To Shroud His Brother With The Best
باب: کفن سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
23
Chapter: Something Else (Regarding The Sunnah For Visiting The Sick And Attending The Funeral)
باب: جنازہ سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
24
Chapter: Where Are The Prophets To Be Buried?
باب: دفن سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
25
Chapter: Something Else (Regarding The Order To Mention Good Things About The Deceased And To Refrain From Mentioning Their Evil)
باب: میت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
26
Chapter: Something Else (About The Extend Of What Is Acceptable (To Fulfill The Obligation) For Following The Funeral And Carrying It)
باب: جنازے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح نہ ہونے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
28
Chapter: Something Else
باب: مہر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
29
Chapter: The warning about that due to the Shaitan flowing (through the body) like the flow of blood
باب: غیر محرم عورتوں سے خلوت کی حرمت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
30
Chapter: The Shaitan seeks to tempt the woman when she goes out
باب: عورتوں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
31
Chapter: The revelation of Allah's saying: Divorce is two times
باب: طلاق سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Option Of The Buyer And The Seller
باب: بائع اور مشتری کی رضا مندی اور اختیار سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
33
Chapter: 'Fulfill The Trust For The One Who Entrusted You'
باب: خرید و فروخت (بیع و شرائط) سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
34
Chapter: Permission Regarding The Price Of A Hunting Dog
باب: کتے کی قیمت کھانے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
35
Chapter: Something Else About That
باب: بیع عرایا سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
36
Chapter: About Share-Cropping
باب: مزارعت ہی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
37
Chapter: The Best Sacrifice Is The Male Sheep
باب: قربانی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
38
Chapter: About The 'Aqiqah
باب: عقیقہ سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
39
Chapter: The Prohibition Of Attacking If A Masjid Is Seen Or The Adhan Is Heard
باب: جہاد سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
40
Chapter: Also About That
باب: ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Verbally Abusing The Muslim Is Disobedience, And Fighting Him Is Disbelief
باب: گالی گلوچ کی مذمت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
42
باب: بخار کے علاج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
43
باب: سابقہ موضوع سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
44
باب: شفاء حاصل کرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
45
باب: مریض کی عیادت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
46
باب: تقدیر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
47
Chapter: Something else about that
باب: معروف و منکر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
48
Chapter: About Restraining The Tongue During Fitnah
باب: فتنہ و فساد سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
49
Chapter: The Hadith: When The Sword Is Imposed On My Ummah, It Shall Not Be Removed From It Until The Day Of Resurrection.
باب: فتنہ سے متعلق ایک اور پیش گوئی
Jam e Tirmazi
50
Chapter: Something Else: There Shall Not Come A Time Except That The One After It Is More Evil Than It
باب: فتنوں کے پھیلنے سے متعلق ایک پیش گوئی
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

3,442
Sunnan Ibn e Maja
4061
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ،‏‏‏‏ عَنْنَافِعٍ،‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ فُلَانًا يُقْرِأُ عَليْكَ السَّلَامَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ،‏‏‏‏ فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ،‏‏‏‏ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ يَكُونُ فِي أُمَّتِي أَوْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ،‏‏‏‏ وَذَلِكَ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ .
It was narrated from Nafi’ that a man came to Ibn ‘Umar and said: “So-and-so sends his Salam to you.” He said: “I have heard that he has introduced innovations (into Islam). If he has indeed introduced innovations, then do not convey my Salam to him, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘There will be among my nation – or among this nation – transformations, the earth collapsing, and Qadhf.’ That was concerning Ahlul-Qadar.”
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے، انہوں نے کہا: مجھے خبر پہنچی ہے کہ اس نے دین میں بدعت نکالی ہے، اگر اس نے ایسا کیا ہو تو اسے میرا سلام نہ کہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں ( یا اس امت میں ) مسخ ( صورتوں کی تبدیلی ) ، اور زمین کا دھنسنا آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا ہو گا ، اور یہ قدریہ میں ہو گا جو تقدیر کے منکر ہیں ۱؎۔
Jam e Tirmazi
303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى ابْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُوَ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ كَيْسَانُ،‏‏‏‏ وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ يُكْنَى أَبَا سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَيْسَانُ عَبْدٌ كَانَ مُكَاتَبًا لِبَعْضِهِمْ.
Abu Hurairah narrated: Allah's Messenger entered the Masjid, and a man entered and offered Salat. Then he came to give Salam to the Propet. He returned the Salam to him and said: 'Go back and perform Salat, for indeed you have not prayed.' So the man returned to pray as he had prayed. Then he came to give Salam to the Prophet. He returned Salam to him, then [Allah's Messenger] said: 'Go back and perform Salat, for indeed you have not prayed' until he had done that three times. So the man said to him: 'By the One who sent you with the Truth, I do not know any better than this, so teach me.' So he said [to him]: 'When you stand for Salat then say the Takbir, then recite what is easy for you of the Quran. Then bow until you are at rest while bowing, then rise up until you are at rest sitting. Do that in all of your Salat.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اتنے میں ایک اور شخص بھی داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی پھر آ کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”تم واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، چنانچہ آدمی نے واپس جا کر نماز پڑھی، جیسے پہلے پڑھی تھی، پھر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، یہاں تک اس نے تین بار ایسا کیا، پھر اس آدمی نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔ لہٰذا آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیجئیے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جب نماز کا ارادہ کرو تو «اللہ اکبر» کہو پھر جو تمہیں قرآن میں سے یاد ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں تمہیں خوب اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اچھی طرح کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ خوب اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اسی طرح سے اپنی پوری نماز میں کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن نمیر نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن «عن أبیہ» نہیں ذکر کیا ہے، ۳- یحییٰ القطان کی روایت میں «عبداللہ بن عمر عن سعید بن أبی المقبری عن أبیہ عن أبی ہریرہ» ہے، اور یہ زیادہ صحیح۔
Jam e Tirmazi
2289
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ النَّاسَ اجْتَمَعُوا، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَعَ أَبُو بَكْرٍ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ فِيهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ عُمَرُ فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
Salim bin 'Abdullah narrated from 'Abdullah bin 'Umar about the dream of the Prophet (s.a.w) and Abu Bakr and 'Umar, so he said: I saw that the people had gathered, so Abu Bakr drew a bucket or two buckets- in him was some weakness- and Allah forgive him. Then 'Umar stood to draw and the bucket turned into a very large one, and I have never seen a strong man toiling so hard until it was as if the people had gathered at a (camel) watering hole.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے بارے میں مروی ہے جس میں آپ نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا، آپ نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ لوگ ( ایک کنویں پر ) جمع ہو گئے ہیں، پھر ابوبکر نے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اللہ ان کی مغفرت کرے، پھر عمر رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ڈول کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا، میں نے کسی مضبوط اور طاقتور شخص کو نہیں دیکھا جس نے ایسا کام کیا ہو، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی آرام گاہوں میں جگہ پکڑی“ ( یعنی سب آسودہ ہو گئے ۱؎ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
2290
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَوَّلْتُهَا وَبَاءَ الْمَدِينَةِ يُنْقَلُ إِلَى الْجُحْفَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Salim bin 'Abdullah narrated from his father about the dream of the Prophet (s.a.w) who said: I saw a black woman with unkempt hair going out of Al-Madinah, until she stood in Mabaya'ah, and it is Al-Juhfah. So I interpreted that to be an epidemic in Al-Madinah that would spread to Al-Juhfah.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے بارے میں روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے پراگندہ بالوں والی ایک کالی عورت کو دیکھا جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں ٹھہر گئی ( مهيعه، جحفه کا دوسرا نام ہے ) ، میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ وہ مدینہ کی ( بخار والی ) وبا ہے جو جحفہ چلی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Sahih Muslim
2905
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، وَأَبُو عَاصِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، وَعِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «أَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي» قَالَ: فَأَدْرَكَتْ
Ibn Abbas reported that Duba'a bint al-Zubair b. 'Abd al-Muttalib (Allah be pleased with her) came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: I am an ailing woman but I intend to perform Hajj; what you command me (to do)? He (the Holy Prophet) said: Enter into the state of Ihram (uttering these words) of condition: I would be free from it when Thou wouldst detain me. 'He (the narrator) said: But she was able to complete (the Hajj without breaking down).
ابو زبیر نے طاوس کو اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عکرمہ کو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے سنا کہ ضباعہ بنت زبیر بن اعبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ۔ اور کہا میں ( بیماری کی وجہ سے ) خود کو مشکل سے اٹھا پاتی ہوں اور حج بھی کرنا چا ہتی ہوں ۔ آپ نے فر ما یا " حج کا احرا م باندھ لو اور شرط لگا کو کہ ( اے اللہ ! ) جہاں تو مجھے روک دے گا وہی میرے احرام کھول دینے کا مقام ہو گا ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کہ ضباعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) حج کر لیا ۔
Sunnan Abu Dawood
503
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ يَعْنِي عَبْدَ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ،‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قُلْ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ ارْجِعْ فَمُدَّ مِنْ صَوْتِكَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .
Abu Mahdurah reported: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم himself taught me the call to prayer (adhan). He asked me to pronounce: Allah is most great. Allah is most great. Allah is most great. Allah is most great: I testify that there is no god but Allah. I testify that there is no god but Allah; I testify that Muhammad is the Messenger of Allah, I testify that Muhammad is Messenger of Allah. Then repeat and raise your voice; I testify that there is no god but Allah, I testify that there is no god but Allah ; I testify that Muhammad is the Messenger of Allah; I testify that Muhammad is the Messenger of Allah; come to prayer, come to prayer; come to salvation, come to salvation; Allah is most great. Allah is most great; there is no god but Allah.
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے اذان کے کلمات سکھائے اور فرمایا: کہو: «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله» دو دو بار ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر دہراؤ اور اپنی آواز کھینچ کر یوں کہو: «أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» ۔
Sunnan Abu Dawood
672
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمِّي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلَاةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ.
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: The best of you are those whose shoulders are soft in prayer.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔
Sunnan Abu Dawood
5176
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا رَوْحٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ وَجَدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلْتُ وَلَمْ أُسَلِّمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ارْجِعْ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْ:‏‏‏‏ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ،‏‏‏‏ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَمْرٌو:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ صَفْوَانَ بِهَذَا أَجْمَعَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُدَ:‏‏‏‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ يَحْيَى أَيْضًا:‏‏‏‏ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ الْحَنْبَلِ أَخْبَرَهُ.
Narrated Kaladah ibn Hanbal: Safwan ibn Umayyah sent him with some milk, a young gazelle and some small cucumbers to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم when he was in the upper part of Makkah. I entered but I did not give a salutation. He said: Go back and say: Peace be upon you ! This happened after Safwan ibn Umayyah and embraced Islam. Amr said: Ibn Safwan told me all this on the authority of Kaladah ibn Hanbal, and he did not say: I heard it from him. Abu Dawud said: Yahya bin Habib said: Umayyah bin Safwan. He did not say: I heard from Kaladah bin Hanbal. Yahya also said: Amr bin Abdullah bin Safwan told him that Kaladah bin al-Hanbal told him.
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دودھ، ہرن کا بچہ اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اس وقت آپ مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس گیا، اور آپ کو سلام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ کر ( باہر ) جاؤ اور ( پھر سے آ کر ) السلام علیکم کہو، یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے اسلام قبول کر لینے کے بعد کا ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
708
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ بْنِ مِعْيَرٍ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ:‏‏‏‏ أَيْ عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَإِنِّي عَنْ تَأْذِينِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْهُ مُتَنَكِّبُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَرَخْنَا َحْكِيهِ نَهْزَأُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا قَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَقْعَدُونَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ؟ فَأَشَارَ إِلَيَّ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَصَدَقُوا، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي وَقَالَ لِي:‏‏‏‏ قُمْ فَأَذِّنْ ، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْتُ وَلَا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قُلْ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ لِي:‏‏‏‏ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَارَكَ عَلَيْكَ ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَمَرْتَنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ أَمَرْتُكَ ، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي ذَلِكَ مَنْ أَدْرَكَ أَبَا مَحْذُورَةَ عَلَى مَا أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ.
Ibn Juraij narrated: Abdul-'Aziz bin 'Abdul-Malik bin Abu Mahdhurah narrated from 'Abdullah bin muhairiz who was an orphan under the care of Abu Mahdhurah bin mi'yar that when he was preparing him to travel to Sham, he said: 'O my uncle, I am going out to Sham, and I will be asked about how you started the Adhan.' So he informed me that. Abu Mahdhurah said: 'I went out with a group of people, and we were somewhere on the road, when the Mu'adh-dhin of the Messenger of Allah gave the call to prayer in the presence of the Messenger of Allah. We heard the voice of the Mu'adh-dhin, and we were shunning it (the Adhan), so we started yelling, imitating it and mocking it. The Messenger of Allah heard us, so he sent some people who brought us to sit in front of him. He said: 'Who is the one whose voice I heard so loud?' The people all pointed to me, and they were telling the truth. He sent them all away, but kept me there and said to me: 'Stand up and give the call to prayer.' I stood up and there was nothing more hateful to me than the Messenger of Allah and what he was telling me to do. I stood up in front of the Messenger of Allah and the Messenger of Allah himself taught me the call. He said: Say: 'Allahu Akbar Allahu Akbar, Allahu Akbar Allahu Akbar; Ash-hadu an la ilaha illallah, Ash-hadu an la ilaha illallah; Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah, Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah (Allah is the Most great, Allah is the most Great, Allah is the most Great, Allah is the most Great; I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah).' Then he said: Raise your voice (and say). Ash-hadu an la ilaha illallah, Ash-hadu an la ilaha illallah; Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah, Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah; Hayya 'alal-salah, Hayya 'alal-salah; Hayya 'alal-falah, Hayya 'alal-falah; Allahu Akbar Allahu Akbar; La ilaha illallah (I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to the Prayer, Come to the Prayer; Come to the prosperity, Come to the prosperity; Allah is the Most great, Allah is the Most Great; None has the right to be worshipped but Allah).' Then he called me when I had finished saying the Adhan, and gave me a small bag in which there was some silver. Then he put his hand on the forelock of Abu Mahdhurah, then passed it over his face, then over his chest, and over his heart, until the hand of the Messenger of Allah reached his navel. Then the Messenger of Allah said: 'May Allah bless you and send blessings upon you.' I said: 'O Messenger of Allah, do you command me to give the call to prayer in Makkah?' He said: 'Yes, I command you (to do so).' Then all the hatred I had felt towards the Messenger of Allah disappeared, and was replaced with love for the Messenger of Allah. I came to 'Attab bin Asid, the governor of the Messenger of Allah in Makkah, and gave the call to prayer with him by command of the Messenger of Allah. (Sahih)He ('Abdul-'Aziz) said: Someone who met Abu Mahdhurah told me the same as 'Abdullah bin Muhairiz told me.
عبداللہ بن محیریز جو یتیم تھے اور ابومحذورہ بن معیر کے زیر پرورش تھے، کہتے ہیں کہ جس وقت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سامان تجارت دے کر شام کی جانب روانہ کیا، تو انہوں نے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: چچا جان! میں ملک شام جا رہا ہوں، اور لوگ مجھ سے آپ کی اذان کے سلسلے میں پوچھیں گے، ابومحذورہ نے مجھ سے کہا کہ میں ایک جماعت کے ہمراہ نکلا، ہم راستے ہی میں تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم نے مؤذن کی آواز سنی چونکہ ہم اس ( اذان یا اسلام ) سے متنفر تھے ( کیونکہ ہم کفر کی حالت میں تھے ) اس لیے ہم چلا چلا کر اس کی نقلیں اتارنے اور اس کا ٹھٹھا کرنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہوں نے ہمیں پکڑ کر آپ کے سامنے حاضر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں وہ کون شخص ہے جس کی آواز ابھی میں نے سنی کافی بلند تھی ، سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، اور وہ سچ بولے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو چھوڑ دیا اور صرف مجھے روک لیا، اور مجھ سے کہا: کھڑے ہو اذان دو ، میں اٹھا لیکن اس وقت میرے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس چیز سے جس کا آپ مجھے حکم دے رہے تھے زیادہ بری کوئی اور چیز نہ تھی، خیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا، آپ نے خود مجھے اذان سکھانی شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله»، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: بآواز بلند کہو: «أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله»، جب میں اذان دے چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، پھر اپنا ہاتھ ابومحذورہ کی پیشانی پر رکھا اور اسے ان کے چہرہ، سینہ، پیٹ اور ناف تک پھیرا، پھر فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے اور تم پر برکت نازل فرمائے ، پھر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تمہیں حکم دیا ہے بس اس کے ساتھ ہی جتنی بھی نفرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی وہ جاتی رہی، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بدل گئی، ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان کی گورنری کے زمانہ میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی۔ عبدالعزیز بن عبدالملک کہتے ہیں کہ جس طرح عبداللہ بن محیریز نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی اسی طرح اس شخص نے بھی بیان کی جو ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے ملا تھا۔