حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَال: سَمِعْتُ مُسْتَوْرِدًا أَخَا بَنِي فِهْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَاذَا يَرْجِعُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَوَالِدُ قَيْسٍ أَبُو حَازِمٍ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَوْفٍ، وَهُوَ مِنَ الصَّحَابَةِ.
Qa'is bin Abi Hazim said:
I heard Mustawrid, a member of Banu Fihr, saying: The Messenger of Allah (s.a.w) said: The world compared to the Hereafter is but like what one of you gets when placing his finger into the sea, so look at what you draw from it.
مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کی مثال آخرت کے سامنے ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کی انگلی سمندر کا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسماعیل بن ابی خالد کی کنیت ابوعبداللہ ہے، ۳- قیس کے والد ابوحازم کا نام عبد بن عوف ہے اور یہ صحابی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/صفة الجنة ۱۴ (۲۸۵۸)، سنن ابن ماجہ/الزہد ۳ (۴۱۰۸) (تحفة الأشراف : ۱۱۲۵۵)، و مسند احمد (۴/۲۲۹، ۲۳۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث میں آخرت کی نعمتوں اور اس کی دائمی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی قدر و قیمت اور اس کی زندگی کا تناسب بیان کیا گیا ہے، یہ تناسب ایسے ہی ہے جیسے ایک قطرہ پانی اور سمندر کے پانی کے درمیان تناسب ہے۔
2323
Sahih