TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapters on zuhd - کتاب: زہد ، ورع ، تقوی اور پرہیز گاری - Book 37 of Jam e Tirmazi with Urdu and English Translation

Book 37 of Jam e Tirmazi, with 58 chapters and 111 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

111 Hadith · 58 Chapters
Chapter: What Has Been Related About Losing One's Sight
باب: نابینا کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ يَخْتِلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّينِ، ‏‏‏‏‏‏يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ جُلُودَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ، ‏‏‏‏‏‏أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ، ‏‏‏‏‏‏وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الذِّئَابِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ أَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عَلَيَّ يَجْتَرِئُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَبِي حَلَفْتُ لَأَبْعَثَنَّ عَلَى أُولَئِكَ مِنْهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ مِنْهُمْ حَيْرَانًا ،‏‏‏‏ وفي الباب عن ابْنِ عُمَرَ
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: In the end of time there shall come men who will swindle the world with religion, decieving the people in soft skins of sheep, their tongues are sweeter than sugar and their hearts are the hearts of wolves. Allah [Mighty and Sublime is He] says: 'Is it me you try to delude or is it against me whom you conspire? By Me, I swear to send upon these people,among them, a Fitnah that leaves them utterly devoid of reason.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے، وہ لوگوں کو اپنی سادگی اور نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے، ان کی زبانیں شکر سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی جب کہ ان کے دل بھیڑیوں کے دل کی طرح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا مجھ پر جرات کرتے ہیں میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ ضرور میں ان پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۴۱۲۲)
2404
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About Losing One's Sight
باب: نابینا کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنَا حَمْزَةُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ خَلَقْتُ خَلْقًا أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنَ الصَّبْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَبِي حَلَفْتُ لَأُتِيحَنَّهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ مِنْهُمْ حَيْرَانًا، ‏‏‏‏‏‏فَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عَلَيَّ يَجْتَرِئُونَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Ibn 'Umar narrated that the Prophet(s.a.w) said: Indeed Allah, Most High, said:'I have created creatures whose tongues are sweeter than honey and their hearts are more bitter than aloes. So by Me, I swear to abase them with a Fitnah, leaving them utterly devoid of reason. Is it Me whom they try to delude, or it is against Me whom they conspire?'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے ایک ایسی مخلوق پیدا کی ہے جن کی زبانیں شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہیں اور ان کے دل ایلوا کے پھل سے بھی زیادہ کڑوے ہیں، میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں! کہ ضرور میں ان کے درمیان ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا، پھر بھی یہ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا جرات کرتے ہیں؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب ہے اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۷۱۴۸)
2405
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About Protecting The Tongue
باب: زبان کی حفاظت کا بیان
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ مَا النَّجَاةُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
Uqbah bin 'Amir narrated: I said: 'O Messenger of Allah! What is the means to salvation?' He said: 'That you control your tongue, suffice yourself your house, and cry over your sins.'
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۹۹۲۸)، وانظر مسند احمد (۴/۱۴۸)، و (۵/۲۵۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث میں زبان کی حفاظت کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے، کیونکہ اسے کنٹرول میں نہ رکھنے کی صورت میں اس سے بکثرت گناہ صادر ہوتے ہیں، اس لیے لایعنی اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرنا چاہیئے اور کوشش یہ ہو کہ ہمیشہ زبان سے خیر ہی نکلے، ایسے لوگوں اور مجالس سے دور رہنا چاہیئے جن سے شر کا خطرہ ہو، بحیثیت انسان غلطیاں ضرور ہوں گی ان کی تلافی کے لیے رب العالمین کے سامنے عاجزی کا اظہار کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔
2406
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Protecting The Tongue
باب: زبان کی حفاظت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَفَعَهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ،‏‏‏‏ فَإِنَّ الْأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَقُولُ:‏‏‏‏ اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّمَا نَحْنُ بِكَ فَإِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا .
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated (that the Prophet s.a.w) said: When the son of Adam wakes up in the morning, all of his body parts bow to the tongue and say: 'Fear Allah regarding us, we are only part of you. If you are straight we are straight and if you are crooked we are crooked.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان جب صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء زبان کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر اس لیے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم سب بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۴۰۳۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث میں زبان کو سارے اعضاء کے سدھار کا مرکز بتایا گیا ہے، حالانکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کا مرکز دل ہے، توفیق کی صورت یہ ہے کہ زبان کو جسم کے ترجمان کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے مجازا اسے سارے اعضاء کا مرکز کہا گیا، ورنہ مرکز دل ہے نہ کہ زبان۔
2407
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Protecting The Tongue
باب: زبان کی حفاظت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ يَتَكَفَّلُ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏أَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَهْلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ.
Sahl bin Sa'd narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Whoever guarantees for me what is between his jaws and what is between his legs, I shall guarantee Paradise for him.
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مجھ سے اپنی دونوں ڈاڑھوں اور دونوں ٹانگوں کے بیچ کا ضامن ہو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سہل بن سعد کی روایت سے حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرقاق ۲۳ (۶۴۷۴)، والحدود ۱۹ (۶۸۰۷) (تحفة الأشراف : ۴۷۳۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : چونکہ زبان اور شرمگاہ گناہوں کے صدور کا اصل مرکز ہیں، اسی لیے ان کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے، اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی حفاظت کی ضمانت دینے والوں کے لیے جنت کی ضمانت دی ہے۔
2408
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Protecting The Tongue
باب: زبان کی حفاظت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَشَرَّ مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ أَبُو حَازِمٍ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ وَهُوَ كُوفِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَازِمٍ الَّذِي رَوَى عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ هُوَ أَبُو حَازِمٍ الزَّاهِدُ مَدَنِيٌّ وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: For whomever Allah protects against the evil of what is between his jaws and the evil of what is between his legs, he shall enter Paradise.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اللہ نے اس کی ٹانگوں اور ڈاڑھوں کے درمیان کی چیز کے شر و فساد سے بچا لیا وہ جنت میں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمان ہے، یہ عزہ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور کوفی ہیں اور سہل بن سعد سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمہ بن دینار ہے جو زاہد مدنی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۳۴۲۹)
2409
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Protecting The Tongue
باب: زبان کی حفاظت کا بیان
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ.
Sufyan bin 'Abdullah Ath-Thaqafi said: I said: O Messenger of Allah! Inform me about a matter that I may hold fast to. He said: 'Say: My Lord is Allah, then be steadfast.' I said: O Messenger of Allah! What do you fear most for me? So he took hold of his tongue and said: 'This.'
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے ایسی بات بیان فرمائیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں، آپ نے فرمایا: ”کہو: میرا رب ( معبود حقیقی ) اللہ ہے پھر اسی عہد پر قائم رہو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو مجھ سے کس چیز کا زیادہ خوف ہے؟ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اسی کا زیادہ خوف ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث سفیان بن عبداللہ ثقفی سے کئی سندوں سے مروی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان ۱۴ (۳۸)، سنن ابن ماجہ/الفتن ۱۲ (۳۹۷۲) (تحفة الأشراف : ۴۴۷۸)، و مسند احمد (۳/۴۱۳)
2410
Sahih
Chapter: The Prohibition Of Talking Too Much Without The Remembrance Of Allah
باب: زبان کی حفاظت سے متعلق ایک اور باب
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي ثَلْجٍ الْبَغْدَادِيُّ صَاحِبُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ فَإِنَّ كَثْرَةَ الْكَلَامِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ قَسْوَةٌ لِلْقَلْبِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللَّهِ الْقَلْبُ الْقَاسِي .
Ibn 'Umar narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Do not talk too much without remembrance of Allah. Indeed excessive talking without remembrance of Allah hardens the heart. And indeed the furthest of people from Allah is the harsh-hearted.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام سے پرہیز کرو اس لیے کہ ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام دل کو سخت بنا دیتا ہے اور لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دور سخت دل والا ہو گا“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۷۱۲۳)
2411
Zaeef
Chapter: The Hadith: All Of The Son Of Adam's Speech Is Against Him Not For Him
باب: امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی آدمی کے لیے مفید ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ الْمَكِّيُّ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ حَسَّانَ الْمَخْزُومِيَّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَتْنِي أُمُّ صَالِحٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ كُلُّ كَلَامِ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لَا لَهُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ نَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ ذِكْرُ اللَّهِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ.
Umm Habibah, the wife of the Prophet (s.a.w), narrated from the Prophet (s.a.w) who said: The son of Adam's speech is against him not for him, except for commanding good, or forbidding evil, or remembrance of Allah.
ام المؤمنین حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کی ساری باتیں اس کے لیے وبال ہیں ان میں سے اسے امربالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے سوا اسے کسی اور کا ثواب نہیں ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے اسے ہم صرف محمد بن یزید بن خنیس کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الفتن ۱۲ (۳۹۷۴) (تحفة الأشراف : ۱۵۸۷۷)
2412
Zaeef
Chapter: The Hadith: All Of The Son Of Adam's Speech Is Against Him Not For Him
باب: امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی آدمی کے لیے مفید ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَبَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا شَأْنُكِ مُتَبَذِّلَةً ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ إِنَّ أَخَاكَ أَبَا الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا جَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ قَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُلْ فَإِنِّي صَائِمٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَكَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيَقُومَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ:‏‏‏‏ نَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَنَامَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ نَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَنَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الصُّبْحِ قَالَ لَهُ سَلْمَانُ:‏‏‏‏ قُمِ الْآنَ فَقَامَا فَصَلَّيَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، ‏‏‏‏‏‏وَلِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، ‏‏‏‏‏‏وَلِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ،‏‏‏‏ فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَا ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ صَدَقَ سَلْمَانُ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الْعُمَيْسِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ أَخُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيِّ.
Ubu Juhaifah narrated from his father who said: The Messenger of Allah (s.a.w) made a bond of brotherhood between Salman and Abu Ad-Darda. Salman went to visit Abu Ad-Darda, and saw Umm Ad-Darda wearing shabby clothes, So he said: 'Why are you wearing such shabby clothes?' She said: 'Your brother Abu Ad-Darda has no interest in the world.' So when Abu Ad-Darda arrived, he prepared some food for him (Salman) and said: 'Eat, for I am fasting.' He said: 'I shall not eat until you eat.' He said: So he ate. When night came Abu Ad-Darda started to leave and stand (in prayer), but Salman said to him: 'Sleep.' So he slept. Then he went to stand (in prayer) but he said to him: 'Sleep'. So he slept. When the morning (Fajr) came,Salman said: 'Get up now.'So he got up to perform Salat. Then he (Salman) said: 'Indeed your self has a right upon you, your Lord has a right upon you, your guest has a right upon you, and your family has a right upon you. So give each the right they are due. The Prophet (s.a.w), and that was mentioned to him, so he said: 'Salman has told the truth.'
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابو الدرداء کے مابین بھائی چارہ کروایا تو ایک دن سلمان نے ابوالدرداء رضی الله عنہ کی زیارت کی، دیکھا کہ ان کی بیوی ام الدرداء معمولی کپڑے میں ملبوس ہیں، چنانچہ انہوں نے پوچھا کہ تمہاری اس حالت کی کیا وجہ ہے؟ ان کی بیوی نے جواب دیا: تمہارے بھائی ابوالدرداء رضی الله عنہ کو دنیا سے کوئی رغبت نہیں ہے کہ جب ابو الدرداء گھر آئے تو پہلے انہوں نے سلمان رضی الله عنہ کے سامنے کھانا پیش کیا اور کہا: کھاؤ میں آج روزے سے ہوں۔ سلمان رضی الله عنہ نے کہا: میں نہیں کھاؤں گا یہاں تک کہ تم بھی میرے ساتھ کھاؤ۔ چنانچہ سلمان نے بھی کھایا۔ پھر جب رات آئی تو ابوالدرداء رضی الله عنہ تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے، تو سلمان نے ان سے کہا: سو جاؤ وہ سو گئے۔ پھر تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو کہا سو جاؤ، چنانچہ وہ سو گئے، پھر جب صبح قریب ہوئی تو سلمان نے ان سے کہا: اب اٹھ جاؤ چنانچہ دونوں نے اٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر سلمان نے ان سے کہا: ”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے رب کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر صاحب حق کو اس کا حق ادا کرو“، اس کے بعد دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس گفتگو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”سلمان نے سچ کہا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصوم ۵ (۱۹۶۸)، والأدب ۸۶ (۶۱۳۹) (تحفة الأشراف : ۱۱۸۱۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث میں بہت سارے فوائد ہیں : ایک بھائی کا دوسرے بھائی کی زیارت کرنا تاکہ اس کے حالات سے آگاہی ہو، عبادت کا وہی طریقہ اپنانا چاہیئے جو مسنون ہے تاکہ دوسروں کے حقوق کی پامالی نہ ہو، زیارت کے وقت اپنے بھائی کو اچھی باتوں کی نصیحت کرنا اور اس کی کوتاہیوں سے اسے باخبر کرنا، کسی پریشان حال کی پریشانی کی بابت اس سے معلومات حاصل کرنا، رات کی عبادت کا اہتمام کرنا وغیرہ۔
2413
Sahih
Chapter: The Punishment Of The One Who Seeks The People's Pleasure By Allah's Wrath And The Opposite
باب: دنیا کو ناراض کر کے اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ الْوَرْدِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،‏‏‏‏ أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ سَلَامٌ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنِ الْتَمَسَ رِضَاءَ اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ اللَّهُ مُؤْنَةَ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَاءِ النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ ،‏‏‏‏
Abdul-Wahhab bin Al-Ward narrated from a man among the inhabitants of Al-Madinah who said: Mu'awiyah wrote a letter to 'Aishah, that: 'Write a letter to advise me , and do not overburden me.' He said: So 'Aishah [may Allah be pleased with her]wrote to Mu'awiyah: 'Peace be upon you. As for what follows: Indeed I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: Whoever seeks Allah's pleasure by the people's wrath, Allah will suffice him from the people. And who ever seeks the people's pleasure by Allah's wrath, Allah will entrust him to the people. And Peace be upon you.'
عبدالوہاب بن ورد سے روایت ہے کہ ان سے مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا: معاویہ رضی الله عنہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ایک خط لکھا کہ مجھے ایک خط لکھئیے اور اس میں کچھ وصیت کیجئے لیكن ‌بہت ‌زیادہ ‌نہیں ۔ چنانچہ عائشہ رضی الله عنہا نے معاویہ رضی الله عنہ کے پاس خط لکھا: دعا و سلام کے بعد معلوم ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو لوگوں کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو تو لوگوں سے پہنچنے والی تکلیف کے سلسلے میں اللہ اس کے لیے کافی ہو گا اور جو اللہ کی ناراضگی میں لوگوں کی رضا کا طالب ہو تو اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کو اسے تکلیف دینے کے لیے مقرر کر دے گا“، ( والسلام علیک تم پر اللہ کی سلامتی نازل ہو ) ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۷۸۱۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا مندی ہر چیز پر مقدم ہے، اس لیے اگر کوئی ایسا امر پیش ہو جسے انجام دینے سے اللہ کی رضا مندی حاصل ہو گی لیکن لوگوں کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا تو لوگوں کو نظر انداز کر کے اللہ کی رضا مندی کا طالب بنے، کیونکہ ایسی صورت میں اسے اللہ کی نصرت و تائید حاصل رہے گی، اور اگر بندوں کے غیض و غضب سے خائف ہو کر اللہ کی رضا کو بھول بیٹھا تو ایسا شخص رب العالمین کی نصرت و تائید سے محروم رہے گا، ساتھ ہی اسے انہی بندوں کے ذریعہ ایسی ایذا اور تکلیف پہنچائے گا جو اس کے لیے باعث ندامت ہو گی۔
2414
Sahih

Chapters

58
01
Chapter: Health And Free Time Are Two Favors Squandered By Many Of The People
باب: تندرستی اور فرصت کی نعمتوں میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں
1 Hadith
02
Chapter: Whoever Guards Most Against The Unlawful, Then He Is The Most Worshiping Among The People
باب: حرام چیزوں سے بچنے والا سب سے بڑا عابد ہے
1 Hadith
03
Chapter: What Has Been Related About Racing To Act (To Do Works)
باب: اچھے کام میں سبقت کرنے کا بیان
1 Hadith
04
Chapter: What Has Been Related About Remembering Death
باب: موت کی یاد
1 Hadith
05
Chapter: What Has Been Related About The Grave's Horror And That It Is The First Stage Of The Hereafter
باب: قبر کی ہولناکی کا بیان
1 Hadith
06
Chapter: Whoever Loves To Meet Allah, Allah Loves To Meet Him
باب: جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے ملاقات کو پسند کیا
1 Hadith
07
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (s.a.w) Warning His People
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا اپنی قوم کو ڈرانا
1 Hadith
08
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Crying Out Of Fear Of Allah, Most High
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
09
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (s.a.w) Saying: If You Knew What I Know Then You Would Laugh Little
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ جو مجھے معلوم ہے وہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے تو بہت کم ہنسو گے اور بہت زیادہ روؤ گے​
2 Hadith
10
Chapter: What Has Been Related About One Who Says Something To Make People Laugh
باب: غیر شرعی طور پر ہنسنے ہنسانے کی بات کرنے والے پر وارد وعید کا بیان
2 Hadith
11
Chapter: Among The Excellence Of A Person's Islam Is His Leaving What Does Not Concern Him
باب: لایعنی بات کے برے انجام کا بیان
3 Hadith
12
Chapter: What Has Been Related About Speaking Little
باب: کم بولنے کی خوبی کا بیان
1 Hadith
13
Chapter: What Has Been Related About The Insignificance Of The World To Allah, The Mighty And Sublime
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقارت کا بیان
2 Hadith
14
Chapter: The Hadith: Indeed The World Is Cursed
باب: دنیا کے ملعون اور حقیر ہونے کا بیان
1 Hadith
15
Chapter: The Hadith: The World Is Compared To The Hereafter Is But Like What One Of You Gets When Placing His Water In The Sea
باب: آخرت کے مقابلے میں دنیا سمندر کے ایک قطرے کی مانند ہے
1 Hadith
16
Chapter: What Has Been Related About 'The World Is A Prison For The Believer And A Paradise For The Disbeliever
باب: دنیا مومن کے لیے قید خانہ (جیل) اور کافر کے لیے جنت (باغ و بہار) ہے
1 Hadith
17
Chapter: What Has Been Related About 'The Parable Of Th World Is That Of Four People'
باب: دنیا کی مثال چار قسم کے لوگوں کی مانند ہے
1 Hadith
18
Chapter: What Has Been Related About Anxiety Over The World And Love For It
باب: دنیا سے محبت اور اس کے غم و فکر میں رہنے کا بیان
1 Hadith
19
Chapter: What Has Been Related About What Suffices A Man From All His Wealth
باب: دنیا میں آدمی کے لیے صرف خادم اور جہاد کے لیے سواری کافی ہے
1 Hadith
20
Chapter: The Hadith:
باب: زمین جائیداد نہ بناؤ کہ اس سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی
1 Hadith
21
Chapter: What Has Been Related About The Believer's Long Life
باب: مومن کے حق میں لمبی عمر کے بہتر ہونے کا بیان
1 Hadith
22
Chapter: Which Of The People Is The Best And Which Of Them Is The Worst
باب: لمبی عمر والا اچھے اعمال کے ساتھ سب سے اچھا آدمی ہے اور برے کام کے ساتھ سب سے برا​
1 Hadith
23
Chapter: What Has Been Related About 'The Lifespan Of (The Individuals) In This Ummah Is Between Sixty And Seventy [Years]
باب: امت محمدیہ کی اوسط عمر ساٹھ سے ستر برس کے درمیان ہے
1 Hadith
24
Chapter: What Has Been Related About The Constriction Of Time And The Curtailment Of Hope
باب: قرب قیامت زمانہ سمٹ جائے گا اور آرزوئیں کم ہو جائیں گی
1 Hadith
25
Chapter: What Has Been Related About The Curtailment Of Hope
باب: آرزوئیں کم رکھنے کا بیان
1 Hadith
26
Chapter: What Has Been Related About The Curtailment Of Hope
باب: امت محمدیہ کا فتنہ مال ہے
3 Hadith
27
Chapter: What Has Been Related About If the Son of Adam had two valleys of wealth, He Would Desire A Third
باب: آدمی کے پاس دو وادی بھر مال ہو تو وہ تیسری وادی کا خواہشمند ہو گا
1 Hadith
28
Chapter: What Has Been Related About : 'The Heart Of an Old Man Remains Young Because of Love For Two Things'
باب: دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان ہوتا ہے: عمر اور مال
2 Hadith
29
Chapter: What Has Been Related About Abstinence in The world
باب: دنیا سے بے رغبتی کا بیان
5 Hadith
30
Chapter: About Reliance Upon Allah
باب: اللہ پر توکل (بھروسہ) کرنے کا بیان
2 Hadith
31
Chapter: About The Description Of The One For Whom The World Has Been Gathered
باب: زہد و قناعت سے متعلق ایک اور باب
1 Hadith
32
Chapter: What Has Been Related About What Is Sufficient And Being Patient With It
باب: بقدر کفاف (روزمرہ کے خرچ) پر صبر کی ترغیب
3 Hadith
33
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Poverty
باب: فقر کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
34
Chapter: What Has Been Related About 'The Poor Among The Muhajirin Will Enter Paradise Before The Rich Among Them'
باب: مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پہلے جائیں گے
5 Hadith
35
Chapter: What Has Been Related About The Subsistence of the Prophet (s.a.w) And His Family
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی معاشی زندگی کا بیان
9 Hadith
36
Chapter: What Has Been Related About The Subsistence Of The Companions Of The Prophet (s.a.w) And His Family
باب: صحابہ کرام رضی الله عنہم کی معاشی زندگی کا بیان
8 Hadith
37
Chapter: What Has Been Related About: Wealth Is Being Content With Oneself
باب: دل کی بے نیازی اور استغناء اصل دولت ہے
1 Hadith
38
Chapter: What Has Been Related About Taking Wealth Within One's Wealth
باب: حلال اور جائز طریقہ سے مال و دولت حاصل کرنے کا بیان
1 Hadith
39
Chapter: Regarding What Has Been Related About The Slave Of The Dinar And The Slave Of The Dirham
باب: درہم و دینار کے پجاری ملعون ہیں
1 Hadith
40
Chapter: The Hadith: Two Wolves Free Among Sheep
باب: دولت کی ہوس اور جاہ طلبی دین کے لیے انتہائی خطرناک ہیں
1 Hadith
41
Chapter: The Hadith: A Man Is Upon The Religion Of His Friend.
باب: ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے
1 Hadith
42
Chapter: What Has Been Related About The Parable Of The Son Of Adam, His Family, His Children, His Wealth, And His Deeds
باب: مال و دولت، اہل و عیال، رشتہ دار اور عمل کی مثال کا بیان
1 Hadith
43
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Eat Much
باب: زیادہ کھانے پینے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
44
Chapter: What Has Been Related About Showing Off And The Desire To Be Heard Of
باب: ریا و نمود اور شہرت کا بیان
3 Hadith
45
Chapter: The Secret Deed
باب: چھپا کر نیک عمل کرنے کا بیان
1 Hadith
46
Chapter: What Has Been Related About A Man Shall Be With Whom He Loves
باب: انجام کار آدمی اپنے دوست کے ساتھ ہو گا
3 Hadith
47
Chapter: What Has Been Related About Having Good Thoughts About Allah, Most High
باب: اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کا بیان
1 Hadith
48
Chapter: What Has Been Related About Righteous and Sin
باب: نیکی اور بدی کا بیان
1 Hadith
49
Chapter: What Has Been Related About Loving For The Sake Of Allah
باب: اللہ کی خاطر محبت کرنے کا بیان
2 Hadith
50
Chapter: What Has Been Related About Making One's Love Known
باب: محبت سے باخبر کرنے کا بیان
1 Hadith
51
Chapter: What Has Been Related About Praising Others Is Disliked,And Those Who Praise Others
باب: مداحوں کو ناپسند کرنے اور بے جا تعریف و مدح کی کراہت کا بیان
2 Hadith
52
Chapter: What Has Been Related About Accompanying The Believer
باب: مومن کی صحبت اختیار کرنے کا بیان
1 Hadith
53
Chapter: (What Has Been Related) About Having Patience With Afflictions
باب: مصیبت میں صبر کرنے کا بیان
4 Hadith
54
Chapter: What Has Been Related About Losing One's Sight
باب: نابینا کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
55
Chapter: What Has Been Related About Protecting The Tongue
باب: زبان کی حفاظت کا بیان
5 Hadith
56
Chapter: The Prohibition Of Talking Too Much Without The Remembrance Of Allah
باب: زبان کی حفاظت سے متعلق ایک اور باب
1 Hadith
57
Chapter: The Hadith: All Of The Son Of Adam's Speech Is Against Him Not For Him
باب: امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی آدمی کے لیے مفید ہے
2 Hadith
58
Chapter: The Punishment Of The One Who Seeks The People's Pleasure By Allah's Wrath And The Opposite
باب: دنیا کو ناراض کر کے اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.