Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Ibn Umar narrated that :
The Prophet (S) said: Offer Salat in your homes and do not turn them into graves.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو ۱؎ اور انہیں قبرستان نہ بناؤ“ ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ۵۲ (۴۳۲)، والتہجد ۳۷ (۱۱۸۷)، صحیح مسلم/المسافرین ۲۹ (۷۷۷)، سنن ابی داود/ الصلاة ۲۰۵ (۱۰۴۳)، و۳۴۶ (۴۸ ۱۴)، سنن النسائی/قیام اللیل ۱ (۱۵۹۹)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱۸۶ (۱۳۷۷)، (تحفة الأشراف : ۸۰۱۰)، وکذا (۸۱۴۲)، مسند احمد (۲/۶، ۱۶، ۱۲۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس سے مراد نوافل اور سنن ہیں۔ ۲؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام ہوتا ہے وہ قبرستان کی طرح نہیں ہیں، اور جن گھروں میں نوافل وغیرہ کا اہتمام نہیں کیا جاتا وہ قبرستان کے مثل ہیں، جس طرح قبریں عمل اور عبادت سے خالی ہوتی ہیں ایسے گھر بھی عمل و عبادت سے محروم قبرستان کے ہوتے ہیں۔
451
Sahih