TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2691 - Chapter: What Has Been Related About That Seeking Permission Is Three Times - Chapters on seeking permission - Jam e Tirmazi in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
Chapter: What Has Been Related About That Seeking Permission Is Three Times
باب: کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأَذِنَ لِي ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا أَنْكَرَ عُمَرُ،‏‏‏‏ عِنْدَنَا،‏‏‏‏ عَلَى أَبِي مُوسَى حَيْثُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ وَقَدْ كَانَ عُمَرُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأَذِنَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَكُنْ عَلِمَ هَذَا الَّذِي رَوَاهُ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ .
Narrated Ibn 'Abbas: that Uman bin Al-Khattab said: I sought permission (to enter) from the Messenger of Allah (ﷺ) three times, then he permitted me.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس آنے کی تین بار اجازت مانگی، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوزمیل کا نام سماک الحنفی ہے، ۳- میرے نزدیک عمر کو ابوموسیٰ کی اس بات پر اعتراض اور انکار اس وجہ سے تھا کہ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجازت تین بار طلب کی جائے، اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ور نہ لوٹ جاؤ“۔ ( رہ گیا عمر رضی الله عنہ کا اپنا معاملہ ) تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اجازت طلب کی تھی تو انہیں اجازت مل گئی تھی، اس حدیث کی خبر انہیں نہیں تھی جسے ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”پھر اگر اندر جانے کی اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ“۔
2691
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
Reference : Jami` at-Tirmidhi 2691 In-book reference : Book 42, Hadith 4 English translation : Vol. 5, Book 40, Hadith 2691
ضعيف الإسناد، منكر المتن صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2691
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۰۴۹۹)

Related Chapters

1,060
1
CHAPTER: How many times should one say salam when seeking permission to enter.
باب: گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
2
Chapter: Seeking Permission to Enter
(گھر کے اندر داخل ہونے کے لیے) اجازت لینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
3
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam Before Seeking Permission Enter
باب: گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)
Jam e Tirmazi
4
(45) CHAPTER. If someone enters a house, should he offer prayers where he likes, or as he is told? And he should not look out to seek information about the place or do spying.
اس بارے میں کہ جب کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو کیا جس جگہ وہ چاہے وہاں نماز پڑھ لے یا جہاں اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا جائے ( وہاں پڑھے ) اور فالتو سوال و جواب نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
5
Chapter: It is disliked for the person who wants to perform wudu’, and others, to put his hand in the vessel (containing water) before washing it three times, if he is not sure whether something impure is on his hands or not
وضو کرنے والے یا کسی بھی انسان کے لیے مکروہ ہے کہ جس کے ہاتھ کے پلید ہونے کاشبہ ہو اسے تین دفعہ دھوئے بغیر برتن میں ڈالے
Sahih Muslim
6
CHAPTER: Seeking permission to enter.
باب: گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
7
CHAPTER: How is permission to be sought.
باب: گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت کس طرح طلب کی جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
8
CHAPTER: If a man is invited, that is considered permission to enter.
باب: آدمی کو بلایا جائے تو کیا بلایا جانا اس کے لیے گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
9
CHAPTER: Asking permission to enter at the three times of undress.
باب: پردے کے تینوں اوقات میں اجازت طلب کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
10
(34)Chapter: What Has Been Related About Wudu Three times (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو تین تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
11
(35)Chapter: What Has Been Related About Wudu One Time, Two Times And Three Times
باب: اعضائے وضو کو ایک ایک بار، دو دو بار اور تین تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
12
(36)Chapter: [What Has Been Related] About One Who performs Some Of Wudu, Two Times Each, And Some Of It Three
باب: وضو میں بعض اعضاء دو بار دھونے اور بعض تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What has been related about: The woman with three divorces gets no housing nor maintenance (from the husband)
باب: تین طلاق پائی عورت کو نہ رہنے کے لیے گھر ملے گا اور نہ کھانے پینے کا خرچہ
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Seeking Permission To Enter From In Front Of The House
باب: گھر کے (دروازے) کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مانگنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: Whoever Gazed Into a People's Home Without Their Permission
باب: کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
16
کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
17
(40) CHAPTER. It is permissible to pray at one's dwelling during rain or if there is a genuine excuse.
بارش اور کسی عذر کی وجہ سے گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت کا بیان
Sahih Bukhari
18
(98) CHAPTER. If somebody buys something for another without his permission and the latter accepts it.
کسی نے کوئی چیز دوسرے کے لیے اس کی اجازت کے بغیر خرید لی پھر وہ راضی ہو گیا تو یہ معاملہ جائز ہے
Sahih Bukhari
19
(105) CHAPTER. If a man takes the permission of his wives so as to stay in the house of one of them to be treated (during his ailment) and he is allowed by them (those wives will have no right to claim their lost turns).
اگر مرد اپنی بیماری کے دن کسی ایک بیوی کے گھر گزارنے کے لئے اپنی دوسری بیویوں سے اجازت لے اور اسے اس کی اجازت دی جائے ۔
Sahih Bukhari
20
(3) CHAPTER. One should not go for Jihad (fighting in Allah's Cause) without the permission of the parents.
والدین کی اجازت کے بغیر کسی کو جہاد کے لیے نہ جانا چاہیئے
Sahih Bukhari
21
(39) CHAPTER. Whoever teaches manners to (or inflicts punishement on) his family or others without taking the ruler's permission.
حاکم کی اجازت کے بغیر اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں یا کسی اور کو تنبیہ کرے
Sahih Bukhari
22
CHAPTER:.
باب: گھر میں داخل ہونے کے لیے دروازہ کھٹکھٹا کر اجازت لینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
23
Chapter: What Has Been Related About: One Who Stays With A People Should Not Fast Without Their Permission
باب: جو کسی جماعت کے یہاں آئے تو ان کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Seeking The Permission Of The Virgin And The Matron
باب: کنواری اور ثیبہ (شوہر دیدہ) سے اجازت لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: : What Has Been Related About One Who Divorced His Wife Three Times, Then She Married Someone Else, And He Divorced Her Before Having Intercourse With Her
باب: آدمی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر اس سے کوئی اور شادی کر کے دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے حکم کا بیان​
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About 'The Blood Of A Muslim Man Is Not Lawful Except For One Of Three Cases'
باب: ان تین اسباب میں سے کسی ایک کے پائے جانے پر ہی کسی مسلم کا خون حلال ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat From It Beyond Three Days
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ کر کھانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What has been Related About 'The Blood Of A Muslim is Not Lawful Except For One Of Three'
باب: تین صورتوں کے سوا کسی مسلمان کا خون حلال نہیں
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What has been Related About The Three Things That The Prophet (s.a.w) Requested For His Ummah
باب: امت کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تین دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
30
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
31
اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
Musnad Ahmad
32
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لاٹھی کسی صحابی کے لیے روشن ہو گئی،یہاں تک کہ وہ گھر پہنچ گیا
Musnad Ahmad
34
(24) CHAPTER. If a woman gets menses thrice a month. Can we believe a woman if she says she is menstruating or pregnant, and whatever is related to menses.
اس بارے میں کہ اگر کسی عورت کو ایک ہی مہینہ میں تین بار حیض آئے ؟
Sahih Bukhari
35
(56) CHAPTER. The saying of the Prophet , “The earth has been made for me a Masjid (place for praying) and a thing to purify (to perform Tayammum).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے ( یعنی تیمم کرنے ) کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
36
(166) CHAPTER. A woman shall ask her husband's permission (on wishing) to go to the mosque.
عورت مسجد جانے کے لیے اپنے خاوند سے اجازت لے
Sahih Bukhari
37
(6) CHAPTER. When a person forgets whether he has offered three or four Raka (then he should) perform two prostrations while sitting in his last Raka.
اگر کسی نمازی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کرلے
Sahih Bukhari
38
(53) CHAPTER. Whoever aligned in two or three rows behind the Imam for a funeral Salat (prayer).
امام کے پیچھے جنازہ کی نماز کے لیے دو یا تین صفیں کرنا
Sahih Bukhari
39
(19) CHAPTER. A Mutakif can let his head in the house for washing.
اعتکاف والا دھونے کے لیے اپنا سر گھر میں داخل کرتاہے
Sahih Bukhari
40
(58) CHAPTER. A seller should not urge somebody (in case of optional sale) to cancle a bargain the latter has already agreed upon with another seller so as to sell him his own goods; and a buyer should not urge the seller to cencle a barbain already agreed upon with another buyer so as to buy the goods himself, unless they are given permission in both cases, or the bargains are cancelled with the willingness of both the seller and the buyer.
کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی بیع میں دخل اندازی نہ کرے اور اپنے بھائی کے بھاؤ لگاتے وقت اس کے بھاؤ کو نہ بگاڑے جب تک وہ اجازت نہ دے یا چھوڑ نہ دے
Sahih Bukhari
41
(13) CHAPTER. If a person invests the money of someone else in cultivation without taking his permission and the enterprise effects profit, (to whom will the profit belong?)
جب کسی کے مال سے ان کی اجازت کے بغیر ہی کاشت کی اور اس میں ان کا ہی فائدہ رہا ہو
Sahih Bukhari
42
(8) CHAPTER. No animal may be milked without the permission of its owner.
کسی جانور کا دودھ اس کے مالک کی اجازت کے بغیر نہ دوہا جائے
Sahih Bukhari
43
(14) CHAPTER. If somebody allows another to do something, the permission is valid.
جب کوئی شخص کسی دوسرے کو کسی چیز کی اجازت دیدے تو وہ اسے استعمال کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
44
(4) CHAPTER. A partner sharing a meal should not eat two dates at a time unless he gets the permission of his partner.
دو دو کھجوریں ملا کر کھانا کسی شریک کو جائز نہیں جب تک دوسرے ساتھ والوں سے اجازت نہ لے
Sahih Bukhari
45
(19) CHAPTER. It is permissible to conclude a peace treaty of three days or any other fixed period.
تین دن یا ایک معین مدت کے لیے صلح کرنا
Sahih Bukhari
46
(87) CHAPTER. A woman should not allow anyone to enter her husband's house except with his consent.
عورت اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی غیر مرد کو اس کی اجازت کے بغیر اجازت نہ دے ۔
Sahih Bukhari
47
(13) CHAPTER. To greet somebody and ask permission thrice (only).
سلام اور اجازت تین مرتبہ ہو نی چاہئے
Sahih Bukhari
48
(33) CHAPTER. Whoever got up from his gathering or his house without taking the permission of his companions, or seemed to be ready to get up that the people might get up (and leave).
جو اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر مجلس یا گھر میں کھڑا ہوا یا کھڑے ہونے کے لئے ارادہ کیا تاکہ دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو جائیں تو یہ جائز ہے
Sahih Bukhari
49
Chapter: It is recommended to pour water over the head, and elsewhere, three times
سر اور باقی جسم پر تین دفعہ پانی بہانا مستحب ہے
Sahih Muslim
50
Chapter: The prophet (saws) asked his Lord for permission to visit the grave of his mother
بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کے لیے اجازت مانگنا
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

224
Jam e Tirmazi
1102
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَدِيثٌ فِيهِ اخْتِلَافٌ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاق. وَقَدْ رُوِيَ عن يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عنْ أَبِي إِسْحَاق، عنْ أَبِي بُرْدَةَ، عنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا. وَرَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَكَرَ بَعْضُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى وَلَا يَصِحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏عِنْدِي أَصَحُّ لِأَنَّ سَمَاعَهُمْ مِنْ أَبِي إِسْحَاق فِي أَوْقَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيُّ أَحْفَظَ وَأَثْبَتَ مِنْ جَمِيعِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ رِوَايَةَ هَؤُلَاءِ عِنْدِي أَشْبَهُ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيَّ سَمِعَا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي إِسْحَاق فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ مَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَسْأَلُ أَبَا إِسْحَاق:‏‏‏‏ أَسَمِعْتَ أَبَا بُرْدَةَ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَلَّ هَذَا الْحَدِيثُ عَلَى أَنَّ سَمَاعَ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ وَإِسْرَائِيلُ هُوَ ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏ثَبْتٌ فِي أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق الَّذِي فَاتَنِي، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا لَمَّا اتَّكَلْتُ بِهِ عَلَى إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ كَانَ يَأْتِي بِهِ أَتَمَّ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ عَائِشَةَ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ هُوَ حَدِيثٌ عِنْدِي حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ ثُمَّ لَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ فَأَنْكَرَهُ فَضَعَّفُوا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَجْلِ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ:‏‏‏‏ وَسَمَاعُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ لَيْسَ بِذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا صَحَّحَ كُتُبَهُ عَلَى كُتُبِ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏مَا سَمِعَ مِنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَضَعَّفَ يَحْيَى رِوَايَةَ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ فِي هَذَا الْبَابِ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَشُرَيْحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا يَقُولُ:‏‏‏‏ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Aishah narrated that: The Messenger of Allah said: Whichever woman married without the permission of her Wali her marriage is invalid, her marriage is invalid, her marriage is invalid. If he entered into her, then the Mahr is for her in lieu of what he enjoyed from her private part. If they disagree, then the Sultan is the Wali for one who has no Wali.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس نے اس سے دخول کر لیا ہے تو اس کی شرمگاہ حلال کر لینے کے عوض اس کے لیے مہر ہے، اور اگر اولیاء میں جھگڑا ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید انصاری، یحییٰ بن ایوب، سفیان ثوری، اور کئی حفاظ حدیث نے اسی طرح ابن جریج سے روایت کی ہے، ۳- ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی ( پچھلی ) حدیث میں اختلاف ہے، اسے اسرائیل، شریک بن عبداللہ، ابو عوانہ، زہیر بن معاویہ اور قیس بن ربیع نے بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اور اسباط بن محمد اور زید بن حباب نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۵- اور ابوعبیدہ حداد نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اس میں انہوں نے ابواسحاق کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۶- نیز یہ حدیث یونس بن ابی اسحاق سے بھی روایت کی گئی ہے انہوں نے بسند «أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۷- اور شعبہ اور سفیان ثوری بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“، اور سفیان ثوری کے بعض تلامذہ نے بسند «سفيان عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى» روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ان لوگوں کی روایت، جنہوں نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ابواسحاق سبیعی سے ان لوگوں کا سماع مختلف اوقات میں ہے اگرچہ شعبہ اور ثوری ابواسحاق سے روایت کرنے والے تمام لوگوں سے زیادہ پختہ اور مضبوط حافظہ والے ہیں پھر بھی ان لوگوں ( یعنی شعبہ و ثوری کے علاوہ دوسرے رواۃ ) کی روایت اشبہ ( قریب تر ) ہے۔ اس لیے کہ شعبہ اور ثوری دونوں نے یہ حدیث ابواسحاق سے ایک ہی مجلس میں سنی ہے، ( اور ان کے علاوہ رواۃ نے مختلف اوقات میں ) اس کی دلیل شعبہ کا یہ بیان ہے کہ میں نے سفیان ثوری کو ابواسحاق سے پوچھتے سنا کہ کیا آپ نے ابوبردہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں؟“ تو انہوں نے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شعبہ اور ثوری کا مکحول سے اس حدیث کا سماع ایک ہی وقت میں ہے۔ اور ابواسحاق سبیعی سے روایت کرنے میں اسرائیل بہت ہی ثقہ راوی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ مجھ سے ثوری کی روایتوں میں سے جنہیں وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں، کوئی روایت نہیں چھوٹی، مگر جو چھوٹی ہیں وہ صرف اس لیے چھوٹی ہیں کہ میں نے اس سلسلے میں اسرائیل پر بھروسہ کر لیا تھا، اس لیے کہ وہ ابواسحاق کی حدیثوں کو بطریق اتم بیان کرتے تھے۔ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث: ”بغیر ولی کے نکاح نہیں“ میرے نزدیک حسن ہے۔ یہ حدیث ابن جریج نے بطریق: «سليمان بن موسى، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم»،‏‏‏‏ نیز اسے حجاج بن ارطاۃ اور جعفر بن ربیعہ نے بھی بطریق: «الزهري، عن عروة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ نیز زہری نے بطریق: «هشام بن عروة، عن أبيه عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی کے مثل روایت کی ہے۔ بعض محدثین نے زہری کی روایت میں ( جسے انہوں نے بطریق: «عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ) کلام کیا ہے، ابن جریج کہتے ہیں: پھر میں زہری سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابن جریج سے اس بات کو اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کے علاوہ کسی اور نے نہیں نقل کیا ہے، یحییٰ بن معین کہتے ہیں: اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کا سماع ابن جریج سے نہیں ہے، انہوں نے اپنی کتابوں کی تصحیح عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد کی ان کتابوں سے کی ہے جنہیں عبدالمجید نے ابن جریج سے سنی ہیں۔ یحییٰ بن معین نے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کی روایت کو جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے ضعیف قرار دیا ہے۔ ۸- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «لا نكاح إلا بولي» ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ”پر ہے جن میں عمر، علی، عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم وغیرہ بھی شامل ہیں، اسی طرح بعض فقہائے تابعین سے مروی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں۔ ان میں سعید بن مسیب، حسن بصری، شریح، ابراہیم نخعی اور عمر بن عبدالعزیز وغیرہ ہیں۔ یہی سفیان ثوری، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
1120
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الْفُقَهَاءِ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ يَذْكُرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَكِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ يَنْبَغِي أَنْ يُرْمَى بِهَذَا الْبَابِ مِنْ قَوْلِ أَصْحَابِ الرَّأْيِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ جَارُودُ:‏‏‏‏ قَالَ وَكِيعٌ:‏‏‏‏ وَقَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ لِيُحَلِّلَهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا حَتَّى يَتَزَوَّجَهَا بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ.
Abdullah bin Mas'ud narrated: The Messenger of Allah cursed the Muhill and the one the Muhallal was done for.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور کرانے والے ( دونوں ) پر لعنت بھیجی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی اور طرق سے بھی روایت کی گئی ہے، ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ جن میں عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، عبداللہ بن عمر وغیرہم رضی الله عنہم بھی شامل ہیں۔ یہی تابعین میں سے فقہاء کا بھی قول ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، وکیع نے بھی یہی کہا ہے، ۴- نیز وکیع کہتے ہیں: اصحاب رائے کے قول کو پھینک دینا ہی مناسب ہو گا ۱؎، ۵- سفیان ثوری کہتے ہیں: آدمی جب عورت سے نکاح اس نیت سے کرے کہ وہ اسے ( پہلے شوہر کے لیے ) حلال کرے گا پھر اسے اس عورت کو اپنی زوجیت میں رکھ لینا ہی بھلا معلوم ہو تو وہ اسے اپنی زوجیت میں نہیں رکھ سکتا جب تک کہ اس سے نئے نکاح کے ذریعے سے شادی نہ کرے۔
Jam e Tirmazi
1574
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخلال، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ فُلَانًا قَدِ اسْتُشْهِدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَلَّا، ‏‏‏‏‏‏قَدْ رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ بِعَبَاءَةٍ قَدْ غَلَّهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُمْ يَا عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَنَادِ:‏‏‏‏ إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ ، ‏‏‏‏‏‏ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Narrated Simak Abu Rumail Al-Hanafi: I heard Ibn 'Abbas saying: 'Umar bin Al-Khattab narrated to me that he said: It was said: 'O Messenger of Allah! So-and-so has been martyred.' He said: No! I saw him in the fire of garment he pilfered from the spoils of war.' He said: 'Stand up O 'Umar! Call out that no one enters paradise except the believers.' Three times. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! فلاں آدمی شہید ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، میں نے اس عباء ( کپڑے ) کی وجہ سے اسے جہنم میں دیکھا ہے جو اس نے مال غنیمت سے چرایا تھا“، آپ نے فرمایا: ”عمر! کھڑے ہو جاؤ اور تین مرتبہ اعلان کر دو، جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے“ ( اور مومن آدمی خیانت نہیں کیا کرتے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
2656
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ مِنْ وَلَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ نِصْفَ النَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ مَا بَعَثَ إِلَيْهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا لِشَيْءٍ سَأَلَهُ عَنْهُ ؟ فَسَأَلْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ سَأَلَنَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعْنَاهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
Narrated 'Abdur-Rahman bin Aban bin 'Uthman: from his father who said: Zaid bin Thabit left to go to Marwan during the middle of the day. We said: 'He did not send for him [during] this hour except to ask him about something.' So we got up to ask him, and he said: 'Yes, he asked us about something we heard from the Messenger of Allah (ﷺ). I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: May Allah gladden a man who hears a Hadith from us, so he memorizes it until he conveys it to someone else. Perhaps he carries Fiqh to one who is more understanding than him, and perhaps the one who carries the Fiqh is not a Faqih.
ابان بن عثمان کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ دوپہر کے وقت مروان کے پاس سے نکلے ( لوٹے ) ، ہم نے کہا: مروان کو ان سے کوئی چیز پوچھنا ہو گی تبھی ان کو اس وقت بلا بھیجا ہو گا، پھر ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے ہم سے کئی چیزیں پوچھیں جسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو مجھ سے کوئی حدیث سنے پھر اسے یاد رکھ کر اسے دوسروں کو پہنچا دے، کیونکہ بہت سے احکام شرعیہ کا علم رکھنے والے اس علم کو اس تک پہنچا دیتے ہیں جو اس سے زیادہ ذی علم اور عقلمند ہوتے ہیں۔ اور بہت سے شریعت کا علم رکھنے والے علم تو رکھتے ہیں، لیکن فقیہہ نہیں ہوتے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ثابت کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، معاذ بن جبل، جبیر بن مطعم، ابو الدرداء اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
3081
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ نَظَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةُ عَشَرَ رَجُلًا، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ وَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ آتِنِي مَا وَعَدْتَنِي، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ مِنْ مَنْكِبَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَفَاكَ مُنَاشَدَتَكَ رَبَّكَ إِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ سورة الأنفال آية 9 فَأَمَدَّهُمُ اللَّهُ بِالْمَلَائِكَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا يَوْمَ بَدْرٍ.
Narrated Ibn 'Abbas: from 'Umar bin Al-Khattab, who said: The Prophet (ﷺ) looked over the idolaters, and there were a thousand of them, while his Companions were three-hundred and ten and some odd number of men. So the Prophet of Allah (ﷺ) faced the Qiblah, stretched forth his hands and began beseeching his Lord: 'O Allah! Fulfill what You promised for me. [O Allah! Bring about what You promised for me] O Allah! If you destroy this band of adherents to Islam, you will not be worshiped upon the earth,' He continued beseeching his Lord with his hands stretched, facing the Qiblah until his Rida fell from his shoulders. Abu Bakr came to him, took his Rida and placed it back upon his shoulders, then embraced him from behind and said: 'O Prophet of Allah! You have sufficiently beseeched your Lord, indeed He shall fulfill what He promised you.' So Allah, Blessed and Most High, revealed: When you sought help of your Lord and He answered you (saying): 'I will help you with a thousand of the angels in succession (8:9).'
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( جنگ بدر کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مشرکین مکہ پر ) ایک نظر ڈالی، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے صحابہ تین سو دس اور کچھ ( کل ۳۱۳ ) تھے۔ پھر آپ قبلہ رخ ہو گئے اور اپنے دونوں ہاتھ اللہ کے حضور پھیلا دیئے اور اپنے رب کو پکارنے لگے: ”اے میرے رب! مجھ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا فرما دے، جو کچھ تو نے مجھے دینے کا وعدہ فرمایا ہے، اسے عطا فرما دے، اے میرے رب! اگر اہل اسلام کی اس مختصر جماعت کو تو نے ہلاک کر دیا تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جا سکے گی“۔ آپ قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتے رہے یہاں تک کہ آپ کی چادر آپ کے دونوں کندھوں پر سے گر پڑی۔ پھر ابوبکر رضی الله عنہ نے آ کر آپ کی چادر اٹھائی اور آپ کے کندھوں پر ڈال کر پیچھے ہی سے آپ سے لپٹ کر کہنے لگے۔ اللہ کے نبی! بس، کافی ہے آپ کی اپنے رب سے اتنی ہی دعا۔ اللہ نے آپ سے جو وعدہ کر کھا ہے وہ اسے پورا کرے گا ( ان شاءاللہ ) پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی «إذ تستغيثون ربكم فاستجاب لكم أني ممدكم بألف من الملائكة مردفين» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- عمر رضی الله عنہ کی اس حدیث کو صرف عکرمہ بن عمار کی روایت سے جانتے ہیں۔ جسے وہ ابوزمیل سے روایت کرتے ہیں۔ ابوزمیل کا نام سماک حنفی ہے۔ ایسا بدر کے دن ہوا ۲؎۔
Sahih Muslim
3691
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا النَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى، وَيَقُولُونَ: طَلَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ، فَقَالَ عُمَرُ، فَقُلْتُ: لَأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا لِي وَمَا لَكَ [ص:1106] يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ، قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، فَقُلْتُ لَهَا: يَا حَفْصَةُ، أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَاللهِ، لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُحِبُّكِ، وَلَوْلَا أَنَا لَطَلَّقَكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَكَتْ أَشَدَّ الْبُكَاءِ، فَقُلْتُ لَهَا: أَيْنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: هُوَ فِي خِزَانَتِهِ فِي الْمَشْرُبَةِ، فَدَخَلْتُ، فَإِذَا أَنَا بِرَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَاعِدًا عَلَى أُسْكُفَّةِ الْمَشْرُبَةِ، مُدَلٍّ رِجْلَيْهِ عَلَى نَقِيرٍ مِنْ خَشَبٍ - وَهُوَ جِذْعٌ يَرْقَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَنْحَدِرُ - فَنَادَيْتُ: يَا رَبَاحُ، اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَى الْغُرْفَةِ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ، فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَبَاحُ، اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَى الْغُرْفَةِ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ، فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ رَفَعْتُ صَوْتِي، فَقُلْتُ: يَا رَبَاحُ، اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَنَّ أَنِّي جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَةَ، وَاللهِ، لَئِنْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَرْبِ عُنُقِهَا، لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهَا، وَرَفَعْتُ صَوْتِي، فَأَوْمَأَ إِلَيَّ أَنِ ارْقَهْ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى حَصِيرٍ، فَجَلَسْتُ، فَأَدْنَى عَلَيْهِ إِزَارَهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ، وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، فَنَظَرْتُ بِبَصَرِي فِي خِزَانَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ، وَمِثْلِهَا قَرَظًا فِي نَاحِيَةِ [ص:1107] الْغُرْفَةِ، وَإِذَا أَفِيقٌ مُعَلَّقٌ، قَالَ: فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ، قَالَ: «مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ» قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، وَمَا لِي لَا أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ، وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ لَا أَرَى فِيهَا إِلَّا مَا أَرَى، وَذَاكَ قَيْصَرُ وَكِسْرَى فِي الثِّمَارِ وَالْأَنْهَارِ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفْوَتُهُ، وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ، فَقَالَ: «يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الْآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا؟»، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ حِينَ دَخَلْتُ، وَأَنَا أَرَى فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا يَشُقُّ عَلَيْكَ مِنْ شَأْنِ النِّسَاءِ؟ فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهُنَّ، فَإِنَّ اللهَ مَعَكَ، وَمَلَائِكَتَهُ، وَجِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَأَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَكَ، وَقَلَّمَا تَكَلَّمْتُ وَأَحْمَدُ اللهَ بِكَلَامٍ، إِلَّا رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ اللهُ يُصَدِّقُ قَوْلِي الَّذِي أَقُولُ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ آيَةُ التَّخْيِيرِ: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ} [التحريم: 5]، {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ} [التحريم: 4]، وَكَانَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، وَحَفْصَةُ تَظَاهَرَانِ عَلَى سَائِرِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَطَلَّقْتَهُنَّ؟ قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَالْمُسْلِمُونَ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى، يَقُولُونَ: طَلَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، أَفَأَنْزِلُ، فَأُخْبِرَهُمْ أَنَّكَ لَمْ تُطَلِّقْهُنَّ، قَالَ: «نَعَمْ، إِنْ شِئْتَ»، فَلَمْ أَزَلْ أُحَدِّثُهُ حَتَّى تَحَسَّرَ الْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ، وَحَتَّى كَشَرَ فَضَحِكَ، وَكَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا، ثُمَّ نَزَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَزَلْتُ، فَنَزَلْتُ أَتَشَبَّثُ بِالْجِذْعِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ مَا يَمَسُّهُ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا كُنْتَ فِي الْغُرْفَةِ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، قَالَ: «إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ»، فَقُمْتُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي، لَمْ يُطَلِّقْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ} [النساء: 83] فَكُنْتُ أَنَا اسْتَنْبَطْتُ ذَلِكَ الْأَمْرَ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّخْيِيرِ
Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with him) reported: When Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) kept himself away from his wives, I entered the mosque, and found people striking the ground with pebblesand saying: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has divorced his wives, and that was before they were commanded to observe seclusion 'Umar said to himself: I must find this (actual position) today. So I went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and said (to her): Daughter of Abu Bakr, have you gone to the extent of giving trouble to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )? Thereupon she said: Son of Khattab, you have nothing to do with me, and I have nothing to do with you. You should look to your own receptacle. He ('Umar) said: I visited Hafsa daughter of 'Umar, and said to her: Hafsa, the (news) has reached me that you cause Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) trouble. You know that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) does not love you, and had I not been (your father) he would have divorced you. (On hearing this) she wept bitterly. I said to her: Where is Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )? Shesaid: He is in the attic room. I went in and found Rabah, the servant of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), sitting on the thresholds of the window dangling his feet on the hollow wood of the date-palm with the help of which Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) climbed (to the apartment) and came down. I cried: 0 Rabah, seek permission for me from Allah's Messenger (way peace be upon him). Rabah cast a glance at the apartment and then looked toward me but said nothing. I again said: Rabah, seek permission for me from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Rabah looked towards the apartment and then cast a glance at me, but said nothig. I then raised my voice and said: 0 Rabah, seek permission for me from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). I think that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) is under the impression that I have come for the sake of Hafsa. By Allah, if Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) would command me to strike her neck, I would certainly strike her neck. I raised my voice and he pointed me to climb up (and get into his apartment). I visited Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and he was lying on a mat. I sat down and he drew up his lower garment over him and he had nothing (else) over him, and that the mat had left its marks on his sides. I looked with my eyes in the store room of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). I found only a handful of barley equal to one sa' and an equal quantity of the leaves of Mimosa Flava placed in the nook of the cell, and a semi-tanned leather bag hanging (in one side), and I was moved to tears (on seeing this extremely austere living of the Holy Piophet), and he said: Ibn Khattab, what wakes you weep? I said: Apostle of Allah, why should I not shed tears? This mat has left its marks on your sides and I do not see in your store room (except these few things) that I have seen; Ceasar and Closroes are leading their lives in plenty whereas you are Allah's Messenger. His chosen one, and that is your store! He said: Ibn Khattab, aren't you satisfied that for us (there should be the prosperity) of the Hereafter, and for them (there should be the prosperity of) this world? I said: Yes. And as I had entered I had seen the signs of anger on his face, and I therefore, said: Messenger of Allah, what trouble do you feel from your wives, and if youhave divorced them, verily Allah is with you, His angels, Gabriel, Mika'il, I and Abu Bakr and the believers are with you. And seldom I talked and (which I uttered on that day) I hoped that Allah would testify to my words that I uttered. And so the verse of option (Ayat al-Takhyir) was revealed. Maybe his Lord, if he divorce you, will give him in your place wives better than you... (Ixv. 5). And if you back up one another against him, then surely Allah is his Patron, and Gabriel and the righteous believers, and the angels after that are the aidera (lvi. 4). And it was 'A'isha, daughter of Abu Bakr, and Hafsa who had prevailed upon all the wives of Allah's Prophet (way peace be upon him) for (pressing them for mote money). I said: Messenger of Allah, have you divorced them? He said: No. I said: Messenger of Allah, I entered the mosque and found the Muslims playing with pebbles (absorbed in thought) and saying: Allah's Messenger has divorced his wives. Should I get down and inform there that you have not divorced them? He said: Yes, if you so like. And I went on talking to him until I (found) the signs of anger disappeared on his face and (his seriousness was changed to a happy mood and as a result thereof) his face had the natural tranquillity upon it and he laughed and his teeth were the most charming (among the teeth) of all people. Then Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) climbed down and I also climbed down and catching hold of the wood of the palm-tree and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came down (with such ease) as if he was walking on the ground, not touching anything with his hand (to get support). I said: Messenger of Allah, you remained in your apartment for twenty-nine days. He said: (At times) the month consists of twenty-nine days. I stood at the door of the mosque and I called out at the top of my voice: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has not divorced his wives (and it was on this occasion that this) verse was revealed: And if any matter pertaining to peace or alarm comes within their ken, they broadcast it; whereas, if they would refer it to the Apostle and those who have been entrusted with authority amongst them, those of them who are engaged in obtaining intelligence would indeed know (what to do with) it (iv 83). And it was I who understood this matter, and Allah revealed the verse pertaining to option (given to the Prophet (may peace be upon him in regard to the retaining or divorcing of his wives).
سماک ابوزمیل سے روایت ہے ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار فرمائی ، کہا : میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو دیکھا وہ ( پریشانی اور تفکر میں ) کنکریاں زمین پر مار رہے ہیں ، اور کہہ رہے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ، یہ واقعہ انہیں پردے کا حکم دیے جانے سے پہلے کا ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : آج میں اس معاملے کو جان کر رہوں گا ۔ انہوں نے کہا : میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اور کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی! تم اس حد تک پہنچ چکی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دو؟ انہوں نے جواب دیا : خطاب کے بیٹے! آپ کا مجھ سے کیا واسطہ؟ آپ اپنی گھٹڑی ( یا تھیلا وغیرہ جس میں قیمتی ساز و سامان سنبھال کر رکھا جاتا ہے یعنی اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا ) کی فکر کریں ۔ انہوں نے کہا : پھر میں ( اپنی بیٹی ) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا : حفصہ! کیا تم اس حد تک پہنچ گئی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دو؟ اللہ کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے محبت نہیں رکھتے ۔ اگر میں نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیتے ۔ ( میری یہ بات سن کر ) وہ بری طرح سے رونے لگیں ۔ میں نے ان سے پوچھا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : وہ اپنے بالا خانے پر سامان رکھنے والی جگہ میں ہیں ۔ میں وہاں گیا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رَباح چوبارے کی چوکھٹ کے نیچے والی لکڑی پر بیٹھا ہے ۔ اس نے اپنے دونوں پاؤں لکڑی کی سوراخ دار سیڑھی پر لٹکا رکھے ہیں ۔ وہ کھجور کا ایک تنا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ( قدم رکھ کر ) چڑھتے اور اترتے تھے ۔ میں نے آواز دی ، رباح! مجھے اپنے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، حاضر ہونے کی اجازت لے دو ۔ رباح رضی اللہ عنہ نے بالا خانے کی طرف نظر کی ، پھر مجھے دیکھا اور کچھ نہ کہا ۔ میں نے پھر کہا : رباح! مجھے اپنے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، حاضر ہونے کی اجازت لے دو ، رباح رضی اللہ عنہ نے ( دوبارہ ) بالا خانے کی طرف نگاہ اٹھائی ، پھر مجھے دیکھا ، اور کچھ نہ کہا ، پھر میں نے اپنی آواز کو بلند کی اور کہا : اے رباح! مجھے اپنے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، حاضر ہونے کی اجازت لے دو ، میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا ہے کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کی ( سفارش کرنے کی ) خاطر آیا ہوں ، اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کی گردن اڑانے کا حکم دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا ، اور میں نے اپنی آواز کو ( خوب ) بلند کیا ، تو اس نے مجھے اشارہ کیا کہ اوپر چڑھ آؤ ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ، میں بیٹھ گیا ، آپ نے اپنا ازار درست کیا اور آپ ( کے جسم ) پر اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا اور چٹائی نے آپ کے جسم پر نشان ڈال دیے تھے ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے کمرے میں دیکھا تو صرف مٹھی بھر جو ایک صاع کے برابر ہوں گے ، جَو اور کمرے کے ایک کونے میں اتنی ہی کیکر کی چھال دیکھی ۔ اس کے علاوہ ایک غیر دباغت شدہ چمڑا لٹکا ہوا تھا ۔ کہا : تو میری آنکھیں بہ پڑیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " ابن خطاب! تمہیں رُلا کیا چیز رہی ہے؟ " میں نے عرض کی : اللہ کے نبی! میں کیوں نہ روؤں؟ اس چٹائی نے آپ کے جسم اطہر پر نشان ڈال دیے ہیں ، اور یہ آپ کا سامان رکھنے کا کمرہ ہے ، اس میں وہی کچھ ہے جو مجھے نظر آرہا ہے ، اور قیصر و کسری نہروں اور پھلوں کے درمیان ( شاندار زندگی بسر کر رہے ) ہیں ، جبکہ آپ تو اللہ کے رسول اور اس کی چنی ہوئی ہستی ہیں ، اور یہ آپ کا سارا سامان ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابن خطاب! کیا تمہیں پسند نہیں کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا ہو؟ " میں نے عرض کی : کیوں نہیں! کہا : جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپکے چہرے پر غصہ دیکھ رہا تھا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کو ( اپنی ) بیویوں کی حالت کی بنا پر کیا دشواری ہے؟ اگر آپ نے انہیں طلاق دے دی ہے تو اللہ آپ کے ساتھ ہے ، اس کے فرشتے ، جبرئیل ، میکائیل ، میں ، ابوبکر اور تمام مومن آپ کے ساتھ ہیں ۔ اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے کم ہی کوئی بات کہی ، مگر میں نے امید کی کہ اللہ میری اس بات کی تصدیق فرما دے گا جو میں کہہ رہا ہوں ۔ ( چنانچہ ایسے ہی ہوا ) اور یہ تخییر کی آیت نازل ہو گئی : " اگر وہ ( نبی ) تم سب ( بیویوں ) کو طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ ان کا رب ، انہیں تم سے بہتر بیویاں بدلے میں دے ۔ " اور " اگر تم دونوں ان کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی ، تو اللہ خود ان کا نگہبان ہے ، اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے ( ان کے ) مددگار ہیں ۔ " عائشہ بنت ابی بکر اور حفصہ رضی اللہ عنہن دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتی تھیں ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ان کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ۔ " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں مسجد میں داخل ہوا تھا تو لوگ کنکریاں زمین پر مار رہے تھے ، اور کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو چلاق دے دی ہے ۔ کیا میں اتر کر انہیں بتا دوں کہ آپ نے ان ( بیویوں ) کو طلاق نہیں دی؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ، اگر چاہو ۔ " میں مسلسل آپ سے گفتگو کرتا رہا یہاں تک کہ آپ کے چہرے سے غصہ دور ہو گیا ، اور یہاں تک کہ آپ کے لب وار ہوئے اور آپ ہنسے ۔ آپ کے سامنے والے دندانِ مبارک سب انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( بالا خانے سے نیچے ) اترے ۔ میں تنے کو تھامتے ہوئے اترا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے اترے جیسے زمین پر چل رہے ہوں ، آپ نے تنے کو ہاتھ تک نہ لگایا ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ بالا خانے میں 29 دن رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " مہینہ 29 دن کا ہوتا ہے ۔ " چنانچہ میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا ، اور بلند آواز سے پکار کر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی ، اور ( پھر ) یہ آیت نازل ہوئی : " اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں ، اور اگر وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اپنے معاملات سنبھالنے والوں کی طرف لوٹا دیتے ، تو وہ لوگ جو ان میں اس سے اصل مطلب اخذ کرتے ہیں اسے ضرور جان لیتے ۔ " تو میں ہی تھا جس نے اس معاملے کی اصل حقیقت کو اخذ کیا ، اور اللہ تعالیٰ نے تخییر کی آیت نازل فرمائی
Sahih Muslim
4588
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ [ص:1384] نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ، وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ: «اللهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اللهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي، اللهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ»، فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ، مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ، فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ، وَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ، فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ} [الأنفال: 9] فَأَمَدَّهُ اللهُ بِالْمَلَائِكَةِ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: فَحَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ، إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ يَقُولُ: أَقْدِمْ حَيْزُومُ، فَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ فَخَرَّ مُسْتَلْقِيًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ، وَشُقَّ وَجْهُهُ، كَضَرْبَةِ السَّوْطِ [ص:1385] فَاخْضَرَّ ذَلِكَ أَجْمَعُ، فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ، فَحَدَّثَ بِذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «صَدَقْتَ، ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ»، فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ، وَأَسَرُوا سَبْعِينَ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا أَسَرُوا الْأُسَارَى، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ: «مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى؟» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللهِ، هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ، أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً فَتَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ، فَعَسَى اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟» قُلْتُ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَّا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَتُمَكِّنِّي مِنْ فُلَانٍ نَسِيبًا لِعُمَرَ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا، فَهَوِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جِئْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْكِيَانِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمِ الْفِدَاءَ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ - شَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ} [الأنفال: 67] إِلَى قَوْلِهِ {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: 69] فَأَحَلَّ اللهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ
It has been narrated on the authority of `Umar b. al-Khattab who said: When it was the day on which the Battle of Badr was fought, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) cast a glance at the infidels, and they were one thousand while his own Companions were three hundred and nineteen. The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) turned (his face) towards the Qibla. Then he stretched his hands and began his supplication to his Lord: O Allah, accomplish for me what Thou hast promised to me. O Allah, bring about what Thou hast promised to me. O Allah, if this small band of Muslims is destroyed. Thou will not be worshipped on this earth. He continued his supplication to his Lord, stretching his hands, facing the Qibla, until his mantle slipped down from his shoulders. So Abu Bakr came to him, picked up his mantle and put it on his shoulders. Then he embraced him from behind and said: Prophet of Allah, this prayer of yours to your Lord will suffice you, and He will fulfill for you what He has promised you. So Allah, the Glorious and Exalted, revealed (the Qur'anic verse): When ye appealed to your Lord for help, He responded to your call (saying): I will help you with one thousand angels coming in succession. So Allah helped him with angels. Abu Zumail said that the hadith was narrated to him by Ibn `Abbas who said: While on that day a Muslim was chasing a disbeliever who was going ahead of him, he heard over him the swishing of the whip and the voice of the rider saying: Go ahead, Haizum! He glanced at the polytheist who had (now) fallen down on his back. When he looked at him (carefully he found that) there was a scar on his nose and his face was torn as if it had been lashed with a whip, and had turned green with its poison. An Ansari came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and related this (event) to him. He said: You have told the truth. This was the help from the third heaven. The Muslims that day (i.e. the day of the Battle of Badr) killed seventy persons and captured seventy. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to Abu Bakr and `Umar (Allah be pleased with them): What is your opinion about these captives? Abu Bakr said: They are our kith and kin. I think you should release them after getting from them a ransom. This will be a source of strength to us against the infidels. It is quite possible that Allah may guide them to Islam. Then the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: What is your opinion, Ibn Khattab? He said: Messenger of Allah, I do not hold the same opinion as Abu Bakr. I am of the opinion that you should hand them over to us so that we may cut off their heads. Hand over `Aqil to `Ali that he may cut off his head, and hand over such and such relative to me that I may cut off his head. They are leaders of the disbelievers and veterans among them. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) approved the opinion of Abu Bakr and did not approve what I said. The next day when I came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), I found that both he and Abu Bakr were sitting shedding tears. I said: Messenger of Allah, why are you and your Companion shedding tears? Tell me the reason. For I will weep, or I will at least pretend to weep in sympathy with you. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I weep for what has happened to your companions for taking ransom (from the prisoners). I was shown the torture to which they were subjected. It was brought to me as close as this tree. (He pointed to a tree close to him.) Then God revealed the verse: It is not befitting for a prophet that he should take prisoners until the force of the disbelievers has been crushed... to the end of the verse: so eat ye the spoils of war, (it is) lawful and pure. So Allah made booty lawful for them.
ابوزمیل سماک حنفی نے کہا : مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب در کا دن تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی طرف دیکھا ، وہ ایک ہزار تھے ، اور آپ کے ساتھ تین سو انیس آدمی تھے ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے ، پھر اپنے ہاتھ پھیلائے اور بلند آواز سے اپنے رب کو پکارنے لگے : "" اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا اسے میرے لیے پورا فرما ۔ اے اللہ! تو نے جو مجھ سے وعدہ کیا مجھے عطا فرما ۔ اے اللہ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین میں تیری بندگی نہیں ہو گی ۔ "" آپ قبلہ رو ہو کر اپنے ہاتھوں کو پھیلائے مسلسل اپنے رب کو پکارتے رہے حتی کہ آپ کی چادر آپ کے کندھوں سے گر گئی ۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے ، چادر اٹھائی اور اسے آپ کے کندھوں پر ڈالا ، پھر پیچھے سے آپ کے ساتھ چمٹ گئے اور کہنے لگے : اللہ کے نبی! اپنے رب سے آپ کا مانگنا اور پکارنا کافی ہو گیا ۔ وہ جلد ہی آپ سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا فرمائے گا ۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : "" جب تم لوگ اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ میں ایک دوسرے کے پیچھے اترنے والے ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا ۔ "" پھر اللہ نے فرشتوں کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی ۔ ابوزمیل نے کہا : مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : اس دوران میں ، اس دن مسلمانوں میں سے ایک شخص اپنے سامنے بھاگتے ہوئے مشرکوں میں سے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اچانک اس نے اپنے اوپر سے کوڑا مارنے اور اس کے اوپر سے گھڑ سوار کی آواز سنی ، جو کہہ رہا تھا : حیزوم! آگے بڑھ ۔ اس نے اپنے سامنے مشرک کی طرف دیکھا تو وہ چت پڑا ہوا تھا ، اس نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ اس کی ناک پر نشان پڑا ہوا تھا ، کوڑے کی ضرب کی طرح اس کا چہرہ پھٹا ہوا تھا اور وہ پورے کا پورا سبز ہو چکا تھا ، وہ انصاری آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا : "" تم نے سچ کہا ، یہ تیسرے آسمان سے ( آئی ہوئی ) مدد تھی ۔ "" انہوں ( صحابہ ) نے اس دن ستر آدمی قتل کیے اور ستر قیدی بنائے ۔ ابوزمیل نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب انہوں نے قیدیوں کو گرفتار کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : "" ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے؟ "" تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے نبی! یہ ہمارے چچا زاد اور خاندان کے بیٹے ہیں ۔ میری رائے ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں ، یہ کافروں کے خلاف ہماری قوت کا باعث ہو گا ، ہو سکتا ہے کہ اللہ ان کو اسلام کی راہ پر چلا دے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : "" ابن خطاب! تمہاری کیا رائے ہے؟ "" کہا : میں نے عرض کی : نہیں ، اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میری رائے وہ نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے ، بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ ہمیں اختیار دیں اور ہم ان کی گردنیں اڑا دیں ۔ آپ عقیل پر علی رضی اللہ عنہ کو اختیار دیں وہ اس کی گردن اڑا دیں اور مجھے فلاں ۔ ۔ عمر کے ہم نسب ۔ ۔ پر اختیار دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ یہ لوگ کفر کے پیشوا اور بڑے سردار ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو پسند کیا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہی تھی اور جو میں نے کہا تھا اسے پسند نہ فرمایا ۔ جب اگلا دن ہوا ( اور ) میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے ہوئے ہیں اور دونوں رو رہے ہیں ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! مجھے بتائیے ، آپ اور آپ کا ساتھی کس چیز پر رو رہے ہیں؟ اگر مجھے رونا آ یا تو میں بھی روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو بھی میں آپ دونوں کے رونے کی بنا پر رونے کی کوشش کروں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں اس بات پر رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے ان سے فدیہ لینے کے بارے میں میرے سامنے پیش کی تھی ، ان کا عذاب مجھے اس درخت سے بھی قریب تر دکھایا گیا "" ۔ ۔ وہ درخت جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھا ۔ ۔ اور اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائی ہیں : "" کسی نبی کے لیے ( روا ) نہ تھا کہ اس کے پاس قیدی ہوں ، یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون بہائے ۔ ۔ ۔ "" اس فرمان تک ۔ ۔ ۔ "" تو تم اس میں سے کھاؤ جو حلال اور پاکیزہ غنیمتیں تم نے حاصل کی ہیں ۔ "" تو اس طرح اللہ نے ان کے لیے غنیمت کو حلال کر دیا
Sahih Muslim
5628
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَأَتَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا حَتَّى وَقَفَ فَقَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ قَالَ أُبَيٌّ وَمَا ذَاكَ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَ قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ فَلَوْ مَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَاللَّهِ لَأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ وَبَطْنَكَ أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَوَاللَّهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَحْدَثُنَا سِنًّا قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا
Abd Sa'id Khudri reported: We were in the company of Ubayy b. Ka'b that Abu Musa Ash'ari came there in a state of anger. He stood (before us) and said: I ask you to bear witness in the name of Allah whether anyone amongst you heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Permission (for entering the house) should be sought three times and if permission is granted to you (then get in). otherwise go back. Ubayy b. Ka'b said: What is the iiiatter? He said: I sought permission yesterday from 'Umar b. Khattab three times but he did not permit me, so I came back; then I went to him today and visited him and informed him that I had come to him yesterday and greeted him thrice, then came back, whereupon he said: Yes, we did hear you but be were at that time busy, but why did you not seek permission (further and you must have never gone back until you were permitted to do so). He said: I sought permission (in the manner) that I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said (in connection 'With the seeking of permission for entering the house of a stranger). Thereupon he (Hadrat Umar) said: By Allah, I shall torture your back and your stomach unless you bring one who may bear witness to what you state. 'Ubayy b. Ka'b said: By Allah, none should stand with you (to bear testimony) but the youngest amongst us. And he therefore, said to Abu Sa'id: Stand up. So I stood up until I came to Umar and said: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say this.
بکیر بن اشج سے روایت ہے کہ بسر بن سعید نے انھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ایک مجلس میں ہم حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پا س بیٹھےہوئے تھے ۔ اتنے میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے کی حالت میں آئے اور کھڑے ہوگئے پھر کہنے لگے : میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم میں سے کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : "" اجازت تین بار مانگی جاتی ہے ، اگر تمھیں اجازت مل جائے ( تو اندر آجاؤ ) ، نہیں تو لوٹ جاؤ؟حضرت ابی نے کہا معاملہ کیا ہے؟انھوں نے کہا : میں نے کل حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تین بار اجازت مانگی ، مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں لوٹ گیا پھر میں آج ان کے پاس آیاتو ان کے پا س حاضر ہوگیا ۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں کل آیا تھا ، تین بار سلام کیا تھا ، پھر چلا گیا تھا ۔ کہنے لگے ہم نے سن لیاتھا ، اس وقت ہم کسی کام میں لگے ہوئے تھے تم کیوں نہ اجازت مانگتے رہے یہاں تک کہ تمھیں اجازت مل جاتی ۔ میں نے کہا : میں نے اسی طرح اجازت مانگی جس طرح میں نے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا ۔ کہنے لگے : اللہ کی قسم!میں تمھاری پشت اور پیٹھ پر کوڑے ماروں گا پھر تم کوئی ایسا شخص لے آؤ جو تمہارے لئے اس پر گواہی دے ۔ حضرت ابی ابن کعب کہنے لگے : اللہ کی قسم!تمھارے ساتھ ہم میں سے صرف وہ کھڑاہوگا جو عمر میں سب سے چھوٹاہے ( بڑے تو بڑے ہیں یہ حدیث ہم میں سے کم عمر لوگوں نے بھی سنی ہے اور یادرکھی ہے ۔ ) ابو سعید !اٹھو ، ( انھوں نے کہا ) تو میں اٹھا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا س طرح فرماتے ہوئے سنا تھا ۔
Sunnan Ibn e Maja
2155
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الْمَكِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فَرُّوخَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ وَالْإِفْلَاسِ .
It was narrated that 'Umar bin Khattab said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever hoards food (and keeps it from) the Muslims, Allah will afflict him with leprosy and bankruptcy. '
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو مسلمانوں کے کھانے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے جذام ( کوڑھ ) یا افلاس ( فقر ) میں مبتلا کر دے گا ۔