TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان - علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان - علم کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of علم کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 18 · 6 Hadith
۔ (۲۷۳)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَکَتَمَہُ أُلْجِمَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَلْجَمَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ) بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس آدمی سے علم سے متعلق کوئی سوال کیا گیا، لیکن اس نے اس کو چھپایا تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو آگ سے لگام ڈالیں گے۔
Takhreej
(۲۷۲) تخریج: حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۳۷، وابن ماجہ: ۵۷۲(انظر: ۳۰۵۶)
Explanation
فوائد: …اہل علم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہر وقت مستعد رہیں اور لوگوں کے شرعی مسائل کے حل کو اپنے حق میں باعث ِ اعزاز سمجھیں اور اجر ِ عظیم کی امید میں ان معاملات کو آسان سمجھیں۔
273
Sahih
۔ (۲۷۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَثَلَ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ کَمَثَلِ کَنَزٍ لَا یُنْفَقُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۴۸۱)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے ہی روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جس علم سے فائدہ حاصل نہیں کیا جاتا، اس کی مثال اس خزانے کی سی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کیا جاتا۔
Takhreej
(۲۷۴) تخریج: حدیث محتمل للتحسین ۔ أخرجہ الدارمی: ۵۵۶، والبزار: ۱۷۶، والطبرانی فی الاوسط : ۶۹۳ (انظر: ۱۰۴۷۶)
Explanation
فوائد: …خزانہ کوئی بھی ہو، اس کے مالکان کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ اس میں سے خرچ کرتے رہیں۔
274
Sahih
۔ (۲۷۵)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَمَّا أُسْرِیَ بِیْ مَرَرْتُ بِرِجَالٍ تُقْرَضُ شِفَاہُھُمْ بِمَقَارِیْضَ مِنْ نَارٍ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰؤُلَائِ یَا جِبْرِیْلُ؟ قَالَ: ہٰؤُلَائِ خُطَبَائُ مِنْ أُمَّتِکَ یَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَیَنْسَوْنَ أَنْفُسَہُمْ وَہُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتَابَ، أَفَلَا یَعْقِلُوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۴۵۴)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مجھے اسراء کروایا گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ آپ کی امت کے وہ خطیب لوگ ہیں، جو لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہیں، لیکن اس کے بارے میں اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہیں، جبکہ یہ کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہیں، کیا پس یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔
Takhreej
(۲۷۵) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ البیھقی: ۴۹۶۶، وابویعلی: ۴۱۶۰، وابن حبان: ۵۳ (انظر:۱۳۴۲۱)
Explanation
فوائد: …ہم اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، کوئی بھی مذہبی رہنما یا خطیب ہو، اس کو سب سے پہلے اپنی ذات اور اپنے گھر کی فکر کرنی چاہیے۔
275
Sahih
۔ (۲۷۶)۔عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّکُمْ فِیْ زَمَانٍ عُلَمُائُ ہُ کَثِیْرٌ، خُطَبَائُ ہُ قَلِیْلٌ، مَنْ تَرَکَ فِیْہِ عُشَیْرَ مَا یَعْلَمُ ہَوٰی، أَوْ قَالَ: ہَلَکَ، وَسَیَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَقِلُّ عُلُمَائُ ہُ وَیَکْثُرُ خُطَبَائُ ہُ، مَنْ تَمَسَّکَ فِیْہِ بِعَشِیْرِ مَا یَعْلَمُ نَجَا۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۹۹)
سیدنا ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اب تم ایسے زمانے میں ہو کہ جس میں علماء زیادہ ہیں اور خطباء کم ہے، ایسے میں جس نے اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل نہ کیا تو وہ ہلاک ہو جائے گا، لیکن عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جس میں علماء کم ہوں گے اور خطباء زیادہ ہوں گے، اس زمانے میں جس نے اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل کر لیا تو وہ نجات پا جائے گا۔
Takhreej
(۲۷۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، مؤمل بن اسماعیل سییء الحفظ ولابھام الراوی عن ابی ذر (انظر: ۲۱۳۷۲)
276
Zaeef
۔ (۲۷۷)۔عَنْ شَقِیْقٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ؓ قَالَ: قِیْلَ لَہُ: أَلَا تَدْخُلُ عَلَی ھٰذَا الرَّجُلِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَلَا تُکَلِّمُ عُثْمَانَ) قَالَ: فَقَالَ: أَلَا تَرَوْنَ أَنِّیْ لَا أُکَلِّمُہُ اِلَّا أُسْمِعُکُمْ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ کَلَّمْتُہُ فِیْمَا بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ مَادُوْنَ أَنْ أَفْتَحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَکُوْنَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ فَتَحَہُ وَلَا أَقُوْلُ لِرَجُلٍ أَنْ یَکُوْنَ عَلَیَّ أَمِیْرًا اِنَّہُ خَیْرُالنَّاسِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَا أَقُوْلُ لِرَجُلٍ اِنَّکَ خَیْرُ النَّاسِ وَاِنْ کَانَ عَلَیَّ أَمِیْرًا) بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یُؤْتٰی بِالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِہِ فَیَدُوْرُ بِہَا فِی النَّارِ کَمَا یَدُوْرُ الْحِمَارُ بِالرَّحٰی، قَالَ: فَیَجْتَمِعُ أھَلُ النَّارِ اِلَیْہِ، فَیَقُوْلُوْنَ: یَا فَلَانُ! أَمَا کُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْہَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ؟ قَالَ: فیَقُوْلُ: بَلٰی! قَدْ کُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ فَـلَا آتِیْہِ وَ أَنْہٰی عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۱۴۳)
شقیق کہتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زیدؓ سے کسی نے کہا: کیا تم اس آدمی یعنی سیدنا عثمان ؓ کے پاس جا کرگفتگو نہیں کرتے، انھوں نے کہا: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میں جب بھی ان سے گفتگو کروں تو تم کو سناؤں گا، اللہ کی قسم ہے! کسی چیز کا اعلان کیے بغیر میں نے ان سے گفتگو کی ہے، جبکہ اس مجلس میں صرف میں اور وہ تھے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایسے امور کا پہلے میں اعلان کروں، میں یہ حدیث سننے کے بعد کسی بندے کے بارے میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ لوگوں میں سب سے بہتر ہے، اگرچہ وہ میرا امیر بھی ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایک آدمی کو قیامت کے روز لایا جائے گا اور اس کو آگ میں ڈال دیا جائے گا، اس کے پیٹ کی انتڑیاں نکل آئیں گی اور وہ جہنم میں ان کے ارد گرد چکر کاٹنا شروع کر دے گا، جیسے گدھاچکی کے چکر کاٹتا ہے، اس کی یہ حالت دیکھ کر جہنمی لوگ اس کے پاس جمع ہو کر کہیں گے: کیا تو تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، لیکن میں تم کو نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود اس کو نہیں کرتا تھا اور تم کو برائی سے منع کرتا تھا، لیکن خود اس کا ارتکاب کر جاتا تھا۔
Takhreej
(۲۷۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۶۷، ومسلم: ۲۹۸۹(انظر: ۲۱۸۰۰)
Explanation
فوائد: …سیدنا عثمان ؓسے گفتگو کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ان تک یہ بات پہنچائی جائے کہ وہ اپنے رشتہ داروں میں مختلف عہدے تقسیم کر رہے ہیں، لوگوں کو ان کی اس کاروائی پر اعتراض ہے، آگے سے سیدنا اسامہ ؓنے جواب دیا کہ اس نے مصلحت اور ادب کے ساتھ اُن کے ساتھ گفتگو کی ہے، اب یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ کھلے عام انکار شروع کر دے، اس سے تو مسلمانوں میں اختلاف پڑ جاتا ہے۔
277
Sahih
۔ (۲۷۸)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یُبْتَغٰی بِہِ وَجْہُ اللّٰہِ لَا یَتَعَلَّمُہُ اِلَّا لِیُصِیْبَ بِہِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْیَا لَمْ یَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّۃَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) یَعْنِیْ رِیْحَہَا۔ (مسند أحمد:۸۴۳۸)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ علم جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا چہرہ تلاش کیا جاتا ہے، جو آدمی اس کو سامانِ دنیا حاصل کرنے کے لیے سیکھتا ہے وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔
Takhreej
(۲۷۸) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۶۴، وابن ماجہ: ۲۵۲ (انظر: ۸۴۵۷)
Explanation
فوائد: …جو چیز محض عبادت ہو، جیسے قرآن و حدیث کی تعلیم، صدقہ و خیرات، جہاد اور دوسرے امورِ اسلام، ان کے حصول کے وقت کوئی دنیوی مقصد مدنظر نہیں رکھنا چاہیے، یہ انتہائی نازک مسئلہ ہے اور کم لوگ ہیں، جو اس نزاکت کو سمجھ پاتے ہیں، جبکہ یہ معاملات انتہائی سنجیدگی اور غور وفکر کا مطالبہ کرتے ہیں۔
278
Sahih

Chapters

18
01
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
02
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
7 Hadith
03
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
04
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
8 Hadith
05
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
4 Hadith
06
عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
1 Hadith
07
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
8 Hadith
08
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
1 Hadith
09
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
6 Hadith
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
11
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
7 Hadith
12
صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان
3 Hadith
13
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
3 Hadith
14
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
15
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
4 Hadith
16
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
2 Hadith
17
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
9 Hadith
18
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.