TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3630 - باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور آپ کے خصائص و امتیازات - Chapters on virtues - Jam e Tirmazi in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 36 in this chapter
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور آپ کے خصائص و امتیازات
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ:‏‏‏‏ عَرَضْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ:‏‏‏‏ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، ‏‏‏‏‏‏فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ فِي يَدِي، ‏‏‏‏‏‏وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ،‏‏‏‏ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ؟ ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِطَعَامٍ ؟ ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ:‏‏‏‏ قُومُوا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقُوا، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ:‏‏‏‏ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ،‏‏‏‏ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ ؟ ،‏‏‏‏ فَأَتَتْهُ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِعُكَّةٍ لَهَا فَآدَمَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ،‏‏‏‏ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ،‏‏‏‏ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas bin Malik: Abu Talhah said to Umm Sulaim: 'I heard the voice of the Messenger of Allah (ﷺ) sounding weak and I sensed some hunger in it. Do you have anything? She said: 'Yes.' So she got some loaves of wheat bread, then she took out a Khimar of hers, and put the bread in it. Then she put it under my arm, and wrapped my upper body with part of it, and she sent me to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: So I brought it to him, and I found the Messenger of Allah (ﷺ) sitting in the Masjid, and there were people with him. So I stood among them, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Has Abu Talhah sent you?' I said: 'Yes.' He said: 'With food?' I said: 'Yes.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said to those with him: 'Stand up.' So they left, and I left in front of them, until I came to Abu Talhah, and I told him (that they were coming). Abu Talhah said: 'O Umm Sulaim! The Messenger of Allah (ﷺ) is coming with people, and we don't have anything to feed them.' Umm Sulaim said: 'Allah and His Messenger know best.' He said: So Abu Talhah departed until he met up with the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah came, while Abu Talhah was with him, until they entered, when the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Come O Umm Sulaim! What do you have?' So she brought him that bread, and he (ﷺ) ordered that it be broken into pieces. Umm Sulaim poured some butter from an oil-skin upon them, then the Messenger of Allah (ﷺ) recited whatever Allah willed for him to say over it. Then he said: 'Let ten come.' So ten were admitted, and they ate until they were full, and then they left. Then he said: 'Let ten come.' So ten were admitted, and they ate until they were full, and they left. Then he said: 'Let ten come.' So ten were admitted, and they ate until they were full, and there were seventy or eighty men.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ام سلیم رضی الله عنہما سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی، وہ کمزور تھی، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ یعنی بغل کے نیچے چھپا دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ مجھے اڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ملے اور آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، تو میں جا کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”کھانا لے کر؟“ میں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام لوگوں سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا: ”اٹھو چلو“، چنانچہ وہ سب چل پڑے اور میں ان کے آگے آگے چلا، یہاں تک کہ میں ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے کہا: ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں جو ہم انہیں کھلائیں، ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، تو ابوطلحہ رضی الله عنہ چلے اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ابوطلحہ رضی الله عنہ آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ دونوں اندر آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلیم! جو تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ“، چنانچہ وہ وہی روٹیاں لے کر آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توڑنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ توڑی گئیں اور ام سلیم نے اپنے گھی کی کُپّی کو اس پر اوندھا کر دیا اور اسے اس میں چیپڑ دیا، پھر اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا جو اللہ نے پڑھوانا چاہا، پھر آپ نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا اور وہ کھا کر آسودہ ہو گئے، پھر وہ نکل گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”دس کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا وہ بھی کھا کر خوب آسودہ ہو گئے اور نکل گئے، اس طرح سارے لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور وہ سب کے سب ستر یا اسی آدمی تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
3630
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 46, Hadith 3630 Arabic reference : Book 49, Hadith 3990
صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3630
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ۴۳ (۴۲۲)، والمناقب ۲۵ (۳۵۷۸)، والأطعمة ۶ (۵۳۸۱)، والأیمان والنذور ۲۲ (۶۶۸۸)، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ۲۰ (۲۰۴۰) (تحفة الأشراف : ۲۰۰)، وط/صفة النبی ﷺ ۱۰ (۱۹)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : آپ کی دعا کی برکت سے کھانا معجزانہ طور پر اتنا زیادہ ہوا کہ ستر اسی لوگوں نے اس سے شکم سیر ہو کر کھایا، یہ معجزا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی ایک اہل دلیل ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بھوک لگتی تھی، کیونکہ آپ بھی فطرتاً انسان تھے، بعض علماء کا یہ کہنا بالکل یہ درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کھلاتا پلاتا تھا اس لیے آپ کو بھوک نہیں لگتی تھی، کبھی ایسا بھی ہوتا تھا، اور کبھی بھوک بھی لگتی تھی، ورنہ پیٹ پر پتھر کیوں باندھتے، آواز کیوں نحیف ہو جاتی ؟

Related Chapters

156
1
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء بیان
Jam e Tirmazi
2
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Prescribed Times for Salat From The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے منقول اوقات نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related That The Prophet (saws) Would Not Raise His Hands Except For The First Time
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے تھے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (S) Saying: I Hear The Crying Of A Small Boy During Salat and Shorten It
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز ہلکی کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Night Prayer Of The Prophet (S)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تہجد کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Description of As-Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا طریقہ
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sending Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About the Prophet Going To The Eid By One Route, And Returning By Another
باب: عید کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک راستے سے جاتے اور دوسرے سے واپس آتے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Mentioned About Praising Allah And Sending Salat Upon The Prophet Before Supplicating
باب: دعا سے پہلے اللہ کی تعریف کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: How The Prophet Performed Voluntary Prayers During The Day
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دن میں نفل نماز کیسی ہوتی تھی؟
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What has been mentioned about the Prophet (saws) performing Mas-h after the revelation of (Surat) Al-Ma'idah
باب: سورہ مائدہ کے نزول کے بعد بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے موزوں پر مسح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The Prophet, His Household, and His Mawali To Accept Charity
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، اہل بیت اور آپ کے موالی سب کے لیے زکاۃ لینے کی حرمت
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About How Many Times The Prophet Performed Haj
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کتنے حج کئے؟
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About How Many Times The Prophet Performed Umrah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Which Location The Prophet Assumed Ihram
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کس جگہ سے احرام باندھا؟
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About When The Prophet Assumed Ihram
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے احرام کب باندھا؟
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Prophet Entering Makkah From Its Higher Side, and Leaving From Its Lower Side
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے مکہ میں بلندی کی طرف
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Prophet Entering Makkah During The Day
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا مکہ میں دن کے وقت داخل ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Performing Umrah From Al-Jiranah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے عمرہ جعرانہ کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Umrah During Dhul-Qa'dah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ذی قعدہ والے عمرے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About How Many Shrouds Were Used For The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے کفن کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Prophet Performing Salat For (The Death Of) An-Najashi
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What has been related about the saying of the Prophet (saws): The Lahd is for us and the Hole is for other than us
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد ”بغلی ہمارے لیے ہے اور صندوقی اوروں کے لیے“ کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Those Who Deal In Trade And What The Prophet (S) Called Them
باب: تاجروں کا ذکر اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ان کے نام رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About How The Prophet (saws) Would Swear
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Giving The Pledge To The Prophet (saws)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بیعت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Exhortation Of The Prophet (saws) Regarding Fighting
باب: جہاد کے سلسلے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی وصیت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Battles Of The Prophet (saws) And How Many There Were
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے غزوات کا ذکر اور ان کی تعداد کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Bed Of The Prophet (saws)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Sandals Of The Prophet (saws)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے جوتے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: The Entrance Of The Prophet (saws) In Makkah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے مکہ میں داخل ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Ben Related About: The Prophet (saws) LIked Sweets And Honey
باب: میٹھی چیز اور شہد سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی رغبت اور پسند کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Character Of The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What has been Related That The Prophet (s.a.w) did not Leave A Will
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے (کوئی مالی) وصیت نہیں کی
Jam e Tirmazi
36
Chapter: Regarding The Prophet (s.a.w) Encouraging Gifts
باب: ہدیہ دینے پر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What has been Related About The Three Things That The Prophet (s.a.w) Requested For His Ummah
باب: امت کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تین دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What has been Related About Do Not Revert to Disbelief After Me, Some Of You Striking The Necks Of Others
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردن نہ مارنا
Jam e Tirmazi
40
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان: «من رآني في المنام فقد رآني» کا بیان
Jam e Tirmazi
41
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں دودھ اور قمیص دیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (s.a.w) Warning His People
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا اپنی قوم کو ڈرانا
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Subsistence of the Prophet (s.a.w) And His Family
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی معاشی زندگی کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Jibril Describing Iman and Islam to the Prophet (SAW)
باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ایمان و اسلام کے اوصاف بیان کرنا
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Saying Has Been Prohibited Regarding The Hadith Of the Prophet (SAW)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی حدیث سن کر کیا کہنا منع ہے؟
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Permitting That
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے احادیث لکھنے کی اجازت
Jam e Tirmazi
49
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسماء گرامی کا بیان
Jam e Tirmazi
50
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ رکھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

211
Jam e Tirmazi
1204
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، أَنْبَأَنَا مَعْنٌ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ، وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَتْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَبَقُوا حَتَّى إِذَا كَانَ بِطَرَفِ الْقَدُومِ، ‏‏‏‏‏‏لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ. قَالَتْ:‏‏‏‏ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْ لِي مَسْكَنًا يَمْلِكُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَفَقَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَعَمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ فِي الْمَسْجِدِ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَمَرَ بِي فَنُودِيتُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ قُلْتِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ لَهُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ امْكُثِي فِي بَيْتِكِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ . قَالَتْ:‏‏‏‏ فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَاتَّبَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَضَى بِهِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاق بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَرَوْا لِلْمُعْتَدَّةِ أَنْ تَنْتَقِلَ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَعْتَدَّ حَيْثُ شَاءَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ لَمْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
Zainab bint Ka'b bin Ujrah narrated that : Al-Furay'ah bint Malik bin Sinan - the sister of the Abu Sa'eed Al-Khudri - informed her that she went to the Messenger of Allah to ask him if she could return to her family in Banu Khudrah. Her husband had gone out searching for his runaway slaves, and when he was in Turaf Al-Qadum he caught up with them and they killed him. She said: So I asked the Messenger of Allah if I could return to my family since my husband had not left me a home that he owned nor any maintenance. She said: So the Messenger of Allah said: 'Yes.' Then I left. When I was in the courtyard, or, in the Masjid, the Messenger of Allah called me or, summoned for me to come back t him and he said: 'What did you say?' She said: So I repeated the store that I had mentioned to him about the case of my husband. He said: 'Stay in your house until what is written reaches its term.' She said: So I observed my Iddah there for four months and ten (days). She said: During the time of Uthman, he sent a message to me asking me about that, so I informed him. He followed it and judged accordingly.
زینب بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی الله عنہا جو ابو سعید خدری کی بہن ہیں نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس بنی خدرہ میں واپس چلی جائیں ( ہوا یہ تھا کہ ) ان کے شوہر اپنے ان غلاموں کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے تھے جو بھاگ گئے تھے، جب وہ مقام قدوم کے کنارے پر ان سے ملے، تو ان غلاموں نے انہیں مار ڈالا۔ فریعہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں؟ کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے اپنی ملکیت کا نہ تو کوئی مکان چھوڑا ہے اور نہ کچھ خرچ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، چنانچہ میں واپس جانے لگی یہاں تک کہ میں حجرہ شریفہ یا مسجد نبوی ہی میں ابھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی۔ ( یا آپ نے حکم دیا کہ مجھے آواز دی جائے ) پھر آپ نے پوچھا: ”تم نے کیسے کہا؟ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں ذکر کیا تھا، آپ نے فرمایا: ”تم اپنے گھر ہی میں رہو یہاں تک کہ تمہاری عدت ختم ہو جائے“، چنانچہ میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ پھر جب عثمان رضی الله عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے بلوایا اور مجھ سے اس بارے میں پوچھا تو میں نے ان کو بتایا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ محمد بن بشار کی سند سے بھی اس جیسی اسی مفہوم کی حدیث آئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، یہ لوگ عدت گزارنے والی عورت کے لیے درست نہیں سمجھتے ہیں کہ اپنے شوہر کے گھر سے منتقل ہو جب تک کہ وہ اپنی عدت نہ گزار لے۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر عورت اپنے شوہر کے گھر میں عدت نہ گزارے تو اس کو اختیار ہے جہاں چاہے عدت گزارے، ۴- ( امام ترمذی ) کہتے ہیں: پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
2
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ، ‏‏‏‏‏‏أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ‏‏‏‏‏‏خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبُو صَالِحٍ وَالِدُ سُهَيْلٍ هُوَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْمُهُ ذَكْوَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو هُرَيْرَةَ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ عَبْدُ شَمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل وَهُوَ الْأَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ،‏‏‏‏ وَثَوْبَانَ،‏‏‏‏ وَالصُّنَابِحِيِّ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ،‏‏‏‏ وَسَلْمَانَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَالصُّنَابِحِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ لَيْسَ لَهُ سَمَاعٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏رَحَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الطَّرِيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَالصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ الْأَحْمَسِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ الصُّنَابِحِيُّ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا حَدِيثُهُ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: When a Muslim, or believer, performs Wudu', washing his face, every evil that he looked at with his eyes leaves with the water - or with the last drop of water, or an expression similar to that - and when he washes his hands, every evil he did with his hands leaves with the water - or with the last drop of water - until he becomes free of sin.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں ۱؎، جو اس کی آنکھوں نے کیے تھے یا اسی طرح کی کوئی اور بات فرمائی، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎، ۲- اس باب میں عثمان بن عفان، ثوبان، صنابحی، عمرو بن عبسہ، سلمان اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صنابحی جنہوں نے ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ان کا سماع رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے نہیں ہے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلہ، اور کنیت ابوعبداللہ ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس سفر کیا، راستے ہی میں تھے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔ اور صنابح بن اعسرا حمسی صحابی رسول ہیں، ان کو صنابحی بھی کہا جاتا ہے، انہی کی حدیث ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں میں اپنی اکثریت پر فخر کروں گا تو میرے بعد تم ہرگز ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا“۔
Jam e Tirmazi
32
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق 1.
Abdullah bin Zaid narrated that: Allah's Messenger wiped over his head with his hands, going over the front with them and the rear. He began with the front of his head until they went to the nape of his neck. Then he brought them back again to the place where he began. Then he washed his feet.
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لائے، یعنی اپنے سر کے اگلے حصہ سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر انہیں واپس لوٹایا یہاں تک کہ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر آپ نے دونوں پیر دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں معاویہ، مقدام بن معدیکرب اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کی حدیث سب سے صحیح اور عمدہ ہے اور اسی کے قائل شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔
Jam e Tirmazi
92
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ عِنْدَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ،‏‏‏‏ قَالَتْ كَبْشَةُ:‏‏‏‏ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ ،‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ عِنْدَ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ ابْنُ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق لَمْ يَرَوْا بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ بَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ جَوَّدَ مَالِكٌ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَأْتِ بِهِ أَحَدٌ أَتَمَّ مِنْ مَالِكٍ.
Humaidah bint Ubaid bin Rifa'ah narrated: Kabshah bint Ka'b bin Malik - she was (married) with Ibn Abi Qatadah - narrated That Abu Qatadah visited her, [so she said:] 'So I poured water for him to use for Wudu.' She said: 'A cat came to drink, so he lowered he container until it drank.' Kabshah said: 'So he saw me looking at it and said, O my niece! Are you surprised at that? So I said yes. He said: Indeed Allah's Messenger said 'It is not impure, it is only one of those roam around among you.'
کبشہ بنت کعب (جو ابن ابوقتادہ کے نکاح میں تھیں) کہتی ہیں کہ ابوقتادہ میرے پاس آئے تو میں نے ان کے لیے ( ایک برتن ) وضو کا پانی میں ڈالا، اتنے میں ایک بلی آ کر پینے لگی تو انہوں نے برتن کو اس کے لیے جھکا دیا تاکہ وہ ( آسانی سے ) پی لے، کبشہ کہتی ہیں: ابوقتادہ نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا: بھتیجی! کیا تم کو تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ ( بلی ) نجس نہیں، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث مروی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ بلی کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے۔
Jam e Tirmazi
153
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ . قَالَ الْأَنْصَارِيُّ:‏‏‏‏ فَيَمُرُّ النِّسَاءُ مُتَلَفِّفَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ قُتَيْبَةُ:‏‏‏‏ مُتَلَفِّعَاتٍ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَقَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ يَسْتَحِبُّونَ التَّغْلِيسَ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ.
Aishah narrated: Allah's Messenger would pray Subh (at such time that) the women would leave (after the prayer) - AI-AnsarI (one of the narrators) said - the women would pass by wrapped in their Mirts and they would not be recognizable due to the darkness. And Qutaibah said: covered. (instead of wrapped. )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب فجر پڑھا لیتے تو پھر عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی لوٹتیں وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، انس، اور قیلہ بنت مخرمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی کو صحابہ کرام جن میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے بہت سے اہل علم نے پسند کیا ہے، اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ فجر «غلس» ( اندھیرے ) میں پڑھنا مستحب ہے۔
Jam e Tirmazi
186
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنْ الْأَعْرَجِ يُحَدِّثُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ . وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَصْحَابُنَا وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَهُمْ لِصَاحِبِ الْعُذْرِ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلُ الرَّجُلِ الَّذِي يَنَامُ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ يَنْسَاهَا فَيَسْتَيْقِظُ وَيَذْكُرُ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: Whoever catches a Rak'ah of Subh before the sun has risen, then he has caught Subh. Whoever catches a Rak'ah of Asr before the sun has set, then he has caught Asr.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے عصر پالی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ہمارے اصحاب، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، یہ حدیث ان کے نزدیک صاحب عذر کے لیے ہے مثلاً ایسے شخص کے لیے جو نماز سے سو گیا اور سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت بیدار ہوا ہو یا اسے بھول گیا ہو اور وہ سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت اسے نماز یاد آئی ہو۔
Jam e Tirmazi
208
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح قَالَ:‏‏‏‏ وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي رَافِعٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأُمِّ حَبِيبَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَمُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَمُعَاوِيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رَوَى مَعْمَرٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ مَالِكٍ أَصَحُّ.
Abu Sa'eed narrated that : Allah's Messenger said: Whenyou hear the call (to prayer) then say the similar to what the Mu'adh-dhin says
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسے مؤذن کہتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوسعید رضی الله عنہ والی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابورافع، ابوہریرہ، ام حبیبہ، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن ربیعہ، عائشہ، معاذ بن انس اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- معمر اور کئی رواۃ نے زہری سے مالک کی حدیث کے مثل روایت کی ہے، عبدالرحمٰن بن اسحاق نے اس حدیث کو بطریق: «الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، مالک والی روایت سب سے صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
216
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: Indeed a man's Salat in the congregation is increased by twenty five rewards over his Salat alone.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی باجماعت نماز اس کی تنہا نماز سے پچیس گنا بڑھ کر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
225
وقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ أَنَّ النَّاسَ يَعْلَمُونَ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ،‏‏‏‏
Narrator not mentioned: And the Prophet said: If the people knew what (reward) is in the call (Adhan) and the first row, and they found no other way to get that except drawing lots, then they would draw lots.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان اور پہلی صف میں کیا ثواب ہے، اور وہ اسے قرعہ اندازی کے بغیر نہ پا سکتے تو اس کے لیے قرعہ اندازی کرتے“۔