TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book on zakat - کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل - Book 8 of Jam e Tirmazi with Urdu and English Translation

Book 8 of Jam e Tirmazi, with 38 chapters and 65 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

65 Hadith · 38 Chapters
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The Prophet, His Household, and His Mawali To Accept Charity
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، اہل بیت اور آپ کے موالی سب کے لیے زکاۃ لینے کی حرمت
حَدَّثَنَا مُحَمّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ:‏‏‏‏ اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبَ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا وَإِنَّ مَوَالِيَ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ أَسْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أَبِي رَافِعٍ هُوَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏كَاتِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
Abu Rafi (may Allah be pleased with him) narrated that : the Messenger of Allah sent a man from Banu Makhzun to collect charity, so he said to Abu Rafi: Accompany me so that perhaps you may have some of it. So he said: Not until I ask the Messenger of Allah. So he went to the Prophet to ask him, and he said: Charity is not lawful for us, and to be the Mawda of a people to be the same as them.
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ کی وصولی پر بھیجا تو اس نے ابورافع سے کہا: تم میرے ساتھ چلو تاکہ تم بھی اس میں سے حصہ پاس کو، مگر انہوں نے کہا: نہیں، یہاں تک کہ میں جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں، چنانچہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں، اور قوم کے موالی بھی قوم ہی میں سے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابورافع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ ہیں، ان کا نام اسلم ہے اور ابن ابی رافع کا نام عبیداللہ بن ابی رافع ہے، وہ علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے منشی تھے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الزکاة ۲۹ (۱۶۵۰)، سنن النسائی/الزکاة ۹۷ (۲۶۱۳)، (تحفة الأشراف : ۱۲۰۱۸)، مسند احمد (۶/۱۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس اصول کے تحت ابورافع کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہوا کیونکہ ابورافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ تھے، لہٰذا وہ بھی بنی ہاشم میں سے ہوئے اور بنی ہاشم کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے۔ بنی ہاشم، بنی فاطمہ اور آل نبی کی طرف منسوب کرنے والے آج کتنے ہزار لوگ ہیں جو لوگوں سے زکاۃ وصدقات کا مال مانگ مانگ کر کھاتے ہیں، اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ” شاہ جی “ ہوتے ہیں۔
657
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Charity For Near Relatives
باب: رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا فَالْمَاءُ فَإِنَّهُ طَهُورٌ وقَالَ:‏‏‏‏ الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّبَاب هِيَ أُمُّ الرَّائِحِ بِنْتُ صُلَيْعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ،‏‏‏‏ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ الرَّبَاب، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رَوَى ابْنُ عَوْن،‏‏‏‏ وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ.
Hafsah bint Sirin narrated from Ar-Rabab, from her uncle Salman bin Amir that he related that : the Prophet said: When one of you breaks his fast, then let him do so with dried dates, for they are blessed. Whoever does not find dates, then water, for it is purifying. And he said: Charity given to the needy is (counted as) charity, and if it is given to relatives it is (counted as) two: charity and nurturing (the ties of kinship).
سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، کیونکہ اس میں برکت ہے، اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطار کرے وہ نہایت پاکیزہ چیز ہے“، نیز فرمایا: ”مسکین پر صدقہ، صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ میں دو بھلائیاں ہیں، یہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سلمان بن عامر کی حدیث حسن ہے، ۲- سفیان ثوری نے بھی عاصم سے بطریق: «حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن سلمان بن عامر، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- نیز شعبہ نے بطریق: «عاصم، عن حفصة، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے رباب کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- سفیان ثوری اور ابن عیینہ کی حدیث ۱؎ زیادہ صحیح ہے، ۵- اسی طرح ابن عون اور ہشام بن حسان نے بھی بطریق: «حفصة، عن الرباب، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے، ۶- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اہلیہ زینب، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصوم ۲۱ (۲۳۵۵)، (بالشطر الأول فحسب)، سنن النسائی/الزکاة ۸۲ (۲۵۸۳)، (بالشطر الثانی فحسب)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۲۵ (۱۶۹۹)، (بالشطر الأول)، والزکاة ۲۸ (۱۸۴۴)، (بالشطر الثانی)، (تحفة الأشراف : ۴۴۸۶)، مسند احمد (۴/۱۸، ۲۱۴)، سنن الدارمی/الزکاة ۳۸ (۱۷۲۳)، (بالشطر الثانی) نیز دیکھئے رقم: ۶۹۵پہلا فقرہ صیام سے متعلق
Explanation
وضاحت: ۱؎ : جس میں رباب کے واسطے کا ذکر ہے۔
658
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About: There Is A Duty On Wealthy Aside From Zakat
باب: مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حق ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزَّكَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ فِي الْمَالِ لَحَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ سورة البقرة آية 177 الْآيَةَ.
Fatimah bint Qais narrated that : she asked -or, the Prophet was asked - about Zakat, and he said: Indeed there is a duty on wealthy aside from Zakat. Then he recited this Ayah which is in Al-Baqarah: 'It is not Al-Birr (piety, righteousness) that you turn your faces.' (Al-Baqarah 2:177)
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے زکاۃ کے بارے میں پوچھا، یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زکاۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی کچھ حق ہے ۱؎“ پھر آپ نے سورۃ البقرہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی: «ليس البر أن تولوا وجوهكم» ”نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے پھیر لو“ ۲؎ الآیۃ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة ۳ (۱۷۸۹)، (لکن لفظہ ’’ لیس فی المال حق سوی الزکاة ‘‘)، سنن الدارمی/الزکاة ۱۳ (۱۶۷۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : بظاہر یہ حدیث «ليس في المال حق سوى الزكاة» کے معارض ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ زکاۃ اللہ کا حق ہے اور مال میں زکاۃ کے علاوہ جو دوسرے حقوق واجبہ ہیں ان کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے۔ ۲؎ : پوری آیت اس طرح ہے : «ليس البر أن تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملآئكة والكتاب والنبيين وآتى المال على حبه ذوي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل والسآئلين وفي الرقاب وأقام الصلاة وآتى الزكاة والموفون بعهدهم إذا عاهدوا والصابرين في البأساء والضراء وحين البأس أولئك الذين صدقوا وأولئك هم المتقون» (البقرة : 177) ” ساری اچھائی مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقۃً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے غلاموں کو آزاد کرنے نماز کی پابندی اور زکاۃ کی ادائیگی کرے، جب وعدہ کرے تو اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں “ آیت سے استدلال اس طرح سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکورہ وجوہ میں مال دینے کا ذکر فرمایا ہے پھر اس کے بعد نماز قائم کرنے اور زکاۃ دینے کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔
659
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About: There Is A Duty On Wealthy Aside From Zakat
باب: مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حق ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ فِي الْمَالِ حَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَمْزَةَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ يُضَعَّفُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَيَانٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْمَاعِيل بْنُ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ قَوْلَهُ وَهَذَا أَصَحُّ.
Fatimah bint Qais narrated that : the Prophet said: Indeed there is a duty on wealth aside from Zakat.
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حقوق ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص نہیں ہے ۱؎، ۲- ابوحمزہ میمون الاعور کو ضعیف گردانا جاتا ہے، ۳- بیان اور اسماعیل بن سالم نے یہ حدیث شعبی سے روایت کی ہے اور اسے شعبی ہی کا قول قرار دیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ
Explanation
وضاحت: ۱؎ : «إسناده ليس بذلك» الفاظ جرح میں سے ہے، اس کا تعلق مراتب جرح کے پہلے مرتبہ سے ہے، جو سب سے ہلکا مرتبہ ہے، ایسے راوی کی حدیث قابل اعتبار ہوتی ہے یعنی تقویت کے قابل اور اس کے لیے مزید روایات تلاش کی جا سکتی ہیں۔
660
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً تَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فُلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، ‏‏‏‏‏‏وَحَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: None gives charity from Tayyib - and Allah does not accept but Tayyib - but that Ar-Rahman accepts it with His Right (Hand). Even if it is a date, it is nurtured in the Hand of Ar-Rahman until it is greater than a mountain, just as one of you nurtures his foal or young camel.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھی کسی پاکیزہ چیز کا صدقہ کیا اور اللہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے ۱؎ تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۲؎ اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو، یہ مال صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بڑا ہو جاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے ایک اپنے گھوڑے کے بچے یا گائے کے بچے کو پالتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ، عدی بن حاتم، انس، عبداللہ بن ابی اوفی، حارثہ بن وہب، عبدالرحمٰن بن عوف اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الزکاة ۸ (تعلیقا عقب حدیث رقم: ۱۴۱۰)، والتوحید ۲۳ (تعلیقا عقب حدیث رقم: ۷۴۳۰)، صحیح مسلم/الزکاة ۱۹ (۱۰۱۴)، سنن النسائی/الزکاة ۴۸ (۲۵۲۶)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ۲۸ (۱۸۴۲)، (تحفة الأشراف : ۱۳۳۷۹)، مسند احمد (۲/۳۳۱، ۴۱۸، ۵۳۸)، سنن الدارمی/الزکاة ۳۵ (۱۷۱۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حرام صدقہ اللہ قبول نہیں کرتا ہے کیونکہ صدقہ دینے والا حرام کا مالک ہی نہیں ہوتا اس لیے اسے اس میں تصرف کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ ۲؎ : «یمین» کا ذکر تعظیم کے لیے ہے ورنہ رحمن کے دونوں ہاتھ «یمین» ہی ہیں۔
661
Sahih
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ . وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ سورة التوبة آية 104، ‏‏‏‏‏‏وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ سورة التوبة آية 104، ‏‏‏‏‏‏و يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ سورة البقرة آية 276. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنَ الرِّوَايَاتِ مِنَ الصِّفَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَنُزُولِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ قَدْ تَثْبُتُ الرِّوَايَاتُ فِي هَذَا وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلَا يُتَوَهَّمُ وَلَا يُقَالُ كَيْفَ. هَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ قَالُوا فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ:‏‏‏‏ أَمِرُّوهَا بِلَا كَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْجَهْمِيَّةُ فَأَنْكَرَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا تَشْبِيهٌ وَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابهِ الْيَدَ وَالسَّمْعَ وَالْبَصَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَأَوَّلَتْ الْجَهْمِيَّةُ هَذِهِ الْآيَاتِ فَفَسَّرُوهَا عَلَى غَيْرِ مَا فَسَّرَ أَهْلُ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَخْلُقْ آدَمَ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّ مَعْنَى الْيَدِ هَاهُنَا الْقُوَّةُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا يَكُونُ التَّشْبِيهُ إِذَا قَالَ:‏‏‏‏ يَدٌ كَيَدٍ أَوْ مِثْلُ يَدٍ أَوْ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ فَهَذَا التَّشْبِيهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا إِذَا قَالَ:‏‏‏‏ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ يَدٌ وَسَمْعٌ وَبَصَرٌ وَلَا يَقُولُ كَيْفَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَقُولُ مِثْلُ سَمْعٍ وَلَا كَسَمْعٍ، ‏‏‏‏‏‏فَهَذَا لَا يَكُونُ تَشْبِيهًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابهِ:‏‏‏‏ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ سورة الشورى آية 11.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: Indeed Allah accepts charity, and He accepts it with His Right (Hand) to nurture it for one of you, just like one of you would nuture his foal, until the bite (of food) becomes as large as Uhud. The Book of Allah, the Mighty and Sublime testifies to that: 'He accepts repentance from His worshipers, and accepts charity.'And: 'Allah will destroy Riba and give increase for charity.' (Abu Eisa) said: This Hadith is (Hasan) Sahih.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور اسے پالتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ لقمہ احد پہاڑ کے مثل ہو جاتا ہے۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب ( قرآن ) سے ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ألم يعلموا أن الله هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات» ”کیا انہیں نہیں معلوم کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے“ اور «‏ ( يمحق الله الربا ويربي الصدقات‏» ”اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نیز عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے اس حدیث کے بارے میں اور اس جیسی صفات کی دوسری روایات کے بارے میں اور باری تعالیٰ کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کے بارے میں کہا ہے کہ ”اس سلسلے کی روایات ثابت ہیں، ان پر ایمان لایا جائے، ان میں کسی قسم کا وہم نہ کیا جائے گا، اور نہ اس کی کیفیت پوچھی جائے۔ اور اسی طرح مالک، سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے، ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ ان حدیثوں کو بلاکیفیت جاری کرو ۱؎ اسی طرح کا قول اہل سنت و الجماعت کے اہل علم کا ہے، البتہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ان سے تشبیہ لازم آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے کئی مقامات پر ”ہاتھ، کان، آنکھ“ کا ذکر کیا ہے۔ جہمیہ نے ان آیات کی تاویل کی ہے اور ان کی ایسی تشریح کی ہے جو اہل علم کی تفسیر کے خلاف ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا، دراصل ہاتھ کے معنی یہاں قوت کے ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: تشبیہ تو تب ہو گی جب کوئی کہے: «يد كيد أو مثل يد» یا «سمع كسمع أو مثل سمع» ”یعنی اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح ہے، یا ہمارے ہاتھ کے مانند ہے، اس کا کان ہمارے کان کی طرح ہے یا ہمارے کان کے مانند ہے“ تو یہ تشیبہ ہوئی۔ ( نہ کہ صرف یہ کہنا کہ اللہ کا ہاتھ ہے، اس سے تشبیہ لازم نہیں آتی ) اور جب کوئی کہے جیسے اللہ نے کہا ہے کہ اس کے ہاتھ کان اور آنکھ ہے اور یہ نہ کہے کہ وہ کیسے ہیں اور نہ یہ کہے کہ فلاں کے کان کی مانند یا فلاں کے کان کی طرح ہے تو یہ تشبیہ نہیں ہوئی، یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا: «ليس كمثله شيئ وهو السميع البصير» ”اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سمیع ہے بصیر ہے“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۴۲۸۷)، وانظر: مسند احمد (۲/۲۶۸، ۴۰۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی ان پر ایمان لاؤ اور ان کی کیفیت کے بارے میں گفتگو نہ کرو۔ یہاں آج کل کے صوفیاء و مبتدعین کے عقائد کا بھی رد ہوا، یہ لوگ سلف صالحین کے برعکس اللہ کی صفات کی تاویل اور کیفیت بیان کرتے ہیں۔
662
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّوْمِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ شَعْبَانُ لِتَعْظِيمِ رَمَضَانَ ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَةٌ فِي رَمَضَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَصَدَقَةُ بْنُ مُوسَى لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَاكَ الْقَوِيِّ.
Anas narrated that : the Prophet was asked which fast was most virtuous after Ramadan? He said: Sha'ban in honor of Ramadan He said: Which charity is best? He (pbuh) said: Charity in Ramadan.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”شعبان کے روزے جو رمضان کی تعظیم کے لیے ہوں“، پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ”رمضان میں صدقہ کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- صدقہ بن موسیٰ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۴۴۹)
663
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّارُ الْبَصْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ عَنْ مِيتَةِ السُّوءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Anas bin Malik narrated that : the Messenger of Allah said: Indeed charity extinguishes the Lord's anger and it protects against the evil death.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۵۲۹)
664
Sahih
Chapter: , What Has Been Related About The Right Of The One Asking
باب: مانگنے والے کے حق کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنْ لَمْ تَجِدِي شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أُمِّ بُجَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abdur-Rahman bin Bujaid narrated from his grandmother; : Umm Bujaid - and she was one of those who gave the pledge to the Prophet - she said to the Messenger of Allah: There is a needy person who stands outside my door, but I cannot find anything to give to him. So the Messenger of Allah said to her: If you do not find anything to give him except a burnt trotter then hand it over to him.
عبدالرحمٰن بن بجید کی دادی ام بجید حواء رضی الله عنہا ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں ) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے اور اسے دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ( تو میں کیا کروں؟ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر اسے دینے کے لیے تمہیں کوئی جلی ہوئی کھر ہی ملے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام بجید رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، حسین بن علی، ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الزکاة ۳۳ (۱۶۶۷)، سنن النسائی/الزکاة ۷۰ (۲۵۶۶)، (تحفة الأشراف : ۱۸۳۵)، مسند احمد (۶/۳۸۲- ۳۸۳)، وأخرجہ موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ ۵ (۸)، و مسند احمد (۷۰۴)، و (۶/۴۳۵)، من غیر ہذا الطریق والسیاق
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس میں مبالغہ ہے، مطلب یہ ہے کہ سائل کو یوں ہی مت لوٹاؤ جو بھی میسر ہو اسے دے دو۔
665
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Giving To Those Whose Hearts Are Inclined (Toward Islam)
باب: تالیف قلب اور قریب لانے کے مقصد سے زکاۃ میں سے خرچ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَيَّ فَمَا زَالَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بِهَذَا أَوْ شِبْهِهِ فِي الْمُذَاكَرَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ صَفْوَانَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ أَصَحُّ وَأَشْبَهُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا هُوَ:‏‏‏‏ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ صَفْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يُعْطَوْا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّمَا كَانُوا قَوْمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَأَلَّفُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى أَسْلَمُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرَوْا أَنْ يُعْطَوْا الْيَوْمَ مِنَ الزَّكَاةِ عَلَى مِثْلِ هَذَا الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ الْيَوْمَ عَلَى مِثْلِ حَالِ هَؤُلَاءِ وَرَأَى الْإِمَامُ أَنْ يَتَأَلَّفَهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ فَأَعْطَاهُمْ جَازَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.
Sa'eed bin Al-Musayyab narrated from Safwan bin Umayyah who said: The Messenger of Allah gave to me on the Day of Hunain, and he was the most hated creature to me. But he did not stop giving to me until he was the most loved creature to me.
صفوان بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے روز مجھے دیا، آپ مجھے ( فتح مکہ سے قبل ) تمام مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض تھے، اور برابر آپ مجھے دیتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حسن بن علی نے مجھ سے اس حدیث یا اس جیسی چیز کو مذاکرہ میں بیان کیا، ۲- اس باب میں ابوسعید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- صفوان کی حدیث معمر وغیرہ نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے جس میں «عن صفوان بن أمية» کے بجائے «أن صفوان بن أمية قال أعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم» ہے گویا یہ حدیث یونس بن یزید کی حدیث سے زیادہ صحیح اور اشبہ ہے، یہ «عن سعید بن المسیب عن صفوان» کے بجائے «عن سعيد بن مسيب أن صفوان» ہی ہے ۱؎، ۴- جن کا دل رجھانا اور جن کو قریب لانا مقصود ہو انہیں دینے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ انہیں نہ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے چند لوگ تھے جن کی آپ تالیف قلب فرما رہے تھے یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے لیکن اب اس طرح ہر کسی کو زکاۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے، سفیان ثوری، اہل کوفہ وغیرہ اسی کے قائل ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اگر کوئی آج بھی ان لوگوں جیسی حالت میں ہو اور امام اسلام کے لیے اس کی تالیف قلب ضروری سمجھے اور اسے کچھ دے تو یہ جائز ہے، یہ شافعی کا قول ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الفضائل ۱۴ (۲۳۱۳)، (بلفظ ’’ عن ابن المسیب أن صفوان قال: … ‘‘)، (تحفة الأشراف : ۴۹۴۴)، مسند احمد (۳/۴۰۱) و (۶/۴۶۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : کیونکہ سعید بن مسیب نے صفوان بن امیہ سے کچھ بھی نہیں سنا ہے اور راوی فلان عن فلان اسی وقت کہتا ہے جب اس نے اس سے کچھ سنا ہو گو ایک ہی حدیث ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح مسلم میں «أن صفوان قال» ہی ہے) امام شافعی کا قول قابل قبول اور قابل عمل ہے۔
666
Sahih
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives Charity (Then) Inheriting His Charity
باب: صدقہ دینے والا اپنے صدقہ کا وارث ہو جائے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ صُومِي عَنْهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا يُعْرَفُ هَذَا مِنْ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ وَرِثَهَا حَلَّتْ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ شَيْءٌ جَعَلَهَا لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا وَرِثَهَا فَيَجِبُ أَنْ يَصْرِفَهَا فِي مِثْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَزُهَيْرٌ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ.
bdullah bin Buraidah narrated from his father: I was sitting with the Prophet when a woman came to him and said: 'O Messenger of Allah! I gave a slave girl to my mother in charity and she died.' He said: 'Your reward is already established, and your right to inherit her has returned it (that Sadaqah) to you.' She said: 'O Messenger of Allah! There was a month of fasting due on her, shall I perform the fast for her?' He said: 'Fast on her behalf.' She said: 'O Messenger of Allah! She never performed Hajj, shall I perform Hajj for her?' He said: 'Yes, perform Hajj on her behalf.'
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقے میں دی تھی، اب وہ مر گئیں ( تو اس لونڈی کا کیا ہو گا؟ ) آپ نے فرمایا: ”تمہیں ثواب بھی مل گیا اور میراث نے اُسے تمہیں لوٹا بھی دیا“۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! میری ماں پر ایک ماہ کے روزے فرض تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں؟ آپ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف سے روزہ رکھ لے“، اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! انہوں نے کبھی حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ان کی طرف سے حج کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بریدہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے۔ ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی جب کوئی صدقہ کرے پھر وہ اس کا وارث ہو جائے تو اس کے لیے وہ جائز ہے، ۴- اور بعض کہتے ہیں: صدقہ تو اس نے اللہ کی خاطر کیا تھا لہٰذا جب اس کا وارث ہو جائے تو لازم ہے کہ پھر اسے اسی کے راستے میں صرف کر دے ( یہ زیادہ افضل ہے ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصوم ۲۷ (۱۱۴۹)، سنن ابی داود/ الزکاة ۳۱ (۱۶۵۶)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ۳ (۲۳۹۴)، (تحفة الأشراف : ۱۹۸۰)، مسند احمد (۵/۳۵۱، ۳۶۱)
667
Sahih
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Back Charity
باب: صدقہ دے کر واپس لینے کی کراہت کا بیان
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ:‏‏‏‏ أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ رَآهَا تُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ.
Ibn Umar narrated that : Umar gave a horse to be used in the cause of Allah. Then he saw it being sold, so he wanted to buy it, but the Prophet said: Do not take back what you have given in charity.
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنا چاہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا صدقہ واپس نہ لو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزکاة ۱۰۰ (۲۶۱۷)، (تحفة الأشراف : ۱۰۵۲۶)، وأخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ۵۹ (۱۴۹۰)، والہبة ۳۰ (۲۶۲۳)، و۳۷ (۲۶۳۶)، والوصایا ۳۱ (۲۷۷۵)، والجہاد ۱۱۹ (۲۹۷۰)، و۱۳۷ (۳۰۰۳)، صحیح مسلم/الہبات ۱ (۱۶۲۰)، سنن النسائی/الزکاة ۱۰۰ (۲۶۱۶)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ۱ (۲۳۹۰)، موطا امام مالک/الزکاة ۲۶ (۴۹)، مسند احمد (۱/۴۰، ۵۴)، من غیر ہذا الطریق کما أخرجہ صحیح البخاری/الزکاة ۵۹ (۱۴۸۹)، وسنن النسائی/الزکاة ۱۰۰ (۲۶۱۸)، من مسند عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما
Explanation
وضاحت: ۱؎ : کیونکہ صدقہ دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے، ظاہر حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء نے اپنے دیئے ہوئے صدقے کے خریدنے کو حرام کہا ہے، لیکن جمہور نے اسے کراہت تنزیہی پر محمول کیا ہے کیونکہ فی نفسہ اس میں کوئی قباحت نہیں، قباحت دوسرے کی وجہ سے ہے کیونکہ بسا اوقات صدقہ دینے والا لینے والے سے جب اپنا صدقہ خریدتا ہے تو اس کے اس احسان کی وجہ سے جو صدقہ دے کر اس نے اس پر کیا تھا وہ قیمت میں رعایت سے کام لیتا ہے، نیز بظاہر یہ حدیث ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث «لا تحل الصدقة إلا لخمسة لعامل عليها اورجل اشتراها بما … الحديث» کے معارض ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ عمر رضی الله عنہ والی حدیث کراہت تنزیہی پر محمول کی جائے گی اور ابوسعید رضی الله عنہ والی روایت بیان جواز پر، یا عمر رضی الله عنہ کی روایت نفل صدقے کے سلسلہ میں ہے اور ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی روایت فرض صدقے کے بارے میں ہے۔
668
Sahih
Chapter: What Has Been Related About (Giving) Charity On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَهْلُ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُونَ:‏‏‏‏ لَيْسَ شَيْءٌ يَصِلُ إِلَى الْمَيِّتِ إِلَّا الصَّدَقَةُ وَالدُّعَاءُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ إِنَّ لِي مَخْرَفًا يَعْنِي:‏‏‏‏ بُسْتَانًا.
Ikrimah narrated from Ibn Abbas that : a man said: O Messenger of Allah! My mother died, will it benefit her if I give charity on her behalf? He said: 'Yes.' He said: 'I have a Makhraf, so bear witness that I have given it in charity on her behalf.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہو چکی ہیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا یہ ان کے لیے مفید ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے عرض کیا: میرا ایک باغ ہے، آپ گواہ رہئیے کہ میں نے اسے والدہ کی طرف سے صدقہ میں دے دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق «عن عمرو بن دينار عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اور یہی اہل علم بھی کہتے ہیں کہ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میت کو پہنچتی ہو سوائے صدقہ اور دعا کے ۱؎، ۴- «إن لي مخرفا» میں «مخرفاً» سے مراد باغ ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوصایا ۲۰ (۲۷۶۲)، سنن ابی داود/ الوصایا ۱۵ (۲۸۸۲)، سنن النسائی/الوصایا ۸ (۳۶۸۵)، (تحفة الأشراف : ۶۱۶۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ان دونوں کے سلسلہ میں اہل سنت والجماعت میں کوئی اختلاف نہیں، اختلاف صرف بدنی عبادتوں کے سلسلہ میں ہے جیسے صوم و صلاۃ اور قرأت قرآن وغیرہ عبادتیں۔
669
Sahih
Chapter: What Has Been Related About A Woman Spending From Her Husband's House
باب: عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا الطَّعَامُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا . وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
Abu Umamah Al-Bahili said: During a sermon of his in the year of the Farewell Hajj, I heard the Messenger of Allah say: 'A woman is not to spend anything from her husbands house without her husband's permission.' They said: 'O Messenger of Allah! What about food?' He said: 'That is our most virtuous wealth.'
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خطبہ میں فرماتے سنا: ”عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اور کھانا بھی نہیں؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”یہ ہمارے مالوں میں سب سے افضل مال ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، اسماء بنت ابی بکر، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/التجارات ۶۵ (۲۲۹۵)، (تحفة الأشراف : ۴۸۸۳)، مسند احمد (۵/۲۶۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : پہلی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر شوہر کی اجازت کے بیوی خرچ نہیں کر سکتی اور اگلی روایت میں اجازت کی قید نہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ اجازت کی دو قسمیں ہیں اجازت قولی اور اجازت حالی، بعض دفعہ شوہر بغیر اجازت کے بیوی کے کچھ دے دینے پر راضی ہوتا ہے جیسے دیہات وغیرہ میں فقیروں کو عورتیں کچھ غلہ اور آٹا وغیرہ دے دیا کرتی ہیں اور شوہر اس پر ان کی کوئی گرفت نہیں کرتا۔
670
Sahih
Chapter: What Has Been Related About A Woman Spending From Her Husband's House
باب: عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا كَانَ لَهَا بِهِ أَجْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلِلزَّوْجِ مِثْلُ ذَلِكَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَنْقُصُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِنْ أَجْرِ صَاحِبِهِ شَيْئًا لَهُ بِمَا كَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
Aishah narrated that : the Prophet said: When a woman gives in charity from her husband's house, she will get the reward for it, and for her husband is the same as that, and for the trustee is the same as that. The reward of each them will not be decreased at all by the reward of the other, for him is what he earned, and for her is what she spent.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ کرے تو اسے اس کا اجر ملتا ہے اور اتنا ہی اجر اس کے شوہر کو بھی، اور خزانچی کو بھی، اور ان میں کسی کا اجر دوسرے کے اجر کی وجہ سے کم نہیں کیا جاتا۔ شوہر کو اس کے کمانے کا اجر ملتا ہے اور عورت کو اس کے خرچ کرنے کا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ۱۶۱۵۴)
671
Sahih
Chapter: What Has Been Related About A Woman Spending From Her Husband's House
باب: عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا أَعْطَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا بِطِيبِ نَفْسٍ غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا مِثْلُ أَجْرِهِ لَهَا مَا نَوَتْ حَسَنًا وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي وَائِلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَذْكُرُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ مَسْرُوقٍ.
Aishah narrated that: the Messenger of Allah said: When a woman gives from her husband's home, with a good heart, not to spoil it, then she will get a reward similar to his, for her is the good she intended - and the same is for the trustee.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے خوش دلی کے ساتھ بغیر فساد کی نیت کے کوئی چیز دے تو اسے مرد کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔ اسے اپنی نیک نیتی کا ثواب ملے گا اور خازن کو بھی اسی طرح ثواب ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے جسے انہوں نے ابووائل سے روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، عمرو بن مرہ اپنی روایت میں مسروق کے واسطے کا ذکر نہیں کرتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الزکاة ۱۷ (۱۴۲۵)، و۲۵ (۱۴۳۷)، و۲۶ (۱۴۳۹)، والبیوع ۱۲ (۲۰۶۵)، صحیح مسلم/الزکاة ۲۵ (۱۰۲۴)، سنن ابی داود/ الزکاة ۴۴ (۱۶۸۵)، سنن النسائی/الزکاة ۵۷ (۲۵۴۰)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۶۵ (۲۲۹۴)، (تحفة الأشراف : ۱۷۶۰۸)، مسند احمد (۶/۴۴، ۹۹، ۳۷۸)
672
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Sadaqat al-Fitr
باب: صدقہ فطر کا بیان
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ، ‏‏‏‏‏‏إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَكَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو سَعِيدٍ:‏‏‏‏ فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ صَاعًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ صَاعٌ إِلَّا مِنَ الْبُرِّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يُجْزِئُ نِصْفُ صَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يَرَوْنَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated: We would give Zakat Al-Fitr - when the Messenger of Allah was among us - as a Sa of food, or a Sa of barely, or a Sa of dried dates, or a Sa of raisins, or a Sa of cheese. So we did not stop paying it (like that) until Mu'awiyah arrived in Al-Madinah and talked (about it). Among the things he addressed the people with, he said: 'I see that two Mudd of the wheat of Ash-Sham are equal to a Sa of dried dates.' So the people followed that. Abu Sa'eed said: I will not stop giving it in the manner that I had been giving it.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے - صدقہ فطر ۱؎ میں ایک صاع گیہوں ۲؎ یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع پنیر نکالتے تھے۔ تو ہم اسی طرح برابر صدقہ فطر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی الله عنہ مدینہ آئے، تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا، اس خطاب میں یہ بات بھی تھی کہ میں شام کے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور کے برابر سمجھتا ہوں۔ تو لوگوں نے اسی کو اختیار کر لیا یعنی لوگ دو مد آدھا صاع گیہوں دینے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ان کا خیال ہے کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے سوائے گیہوں کے، اس میں آدھا صاع کافی ہے، ۴- یہی سفیان ثوری اور ابن مبارک کا بھی قول ہے۔ اور اہل کوفہ کی بھی رائے ہے کہ گیہوں میں نصف صاع ہی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الزکاة ۷۲ (۱۵۰۵)، و۷۳ (۱۵۰۶)، و۷۵ (۱۵۰۸)، و۷۶ (۱۵۱۰)، صحیح مسلم/الزکاة ۴ (۹۸۵)، سنن ابی داود/ الزکاة ۱۹ (۱۶۱۶)، سنن النسائی/الزکاة ۳۸ (۲۵۱۵)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ۲۱ (۱۸۲۹)، (تحفة الأشراف : ۴۲۶۹)، مسند احمد (۳/۲۳، ۷۳، ۹۸)، سنن الدارمی/الزکاة ۲۷ (۱۷۰۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : صدقہ فطر کی فرضیت رمضان کے آغاز کے بعد عید سے صرف دو روز پہلے ۲ ھ میں ہوئی، اس کی ادائیگی کا حکم بھی نماز عید سے پہلے پہلے ہے تاکہ معاشرے کے ضرورت مند حضرات اس روز مانگنے سے بے نیاز ہو کر عام مسلمانوں کے ساتھ عید کی خوشی میں شریک ہو سکیں، اس کی مقدار ایک صاع ہے خواہ کوئی بھی جنس ہو، صدقہ فطر کے لیے صاحب نصاب ہونا ضروری نہیں۔ اور صاع ڈھائی کلوگرام کے برابر ہوتا ہے۔ ۲؎ : «صاعاً من طعام» میں «طعام» سے مراد «حنطۃ» ” گیہوں “ ہے کیونکہ «طعام» کا لفظ مطلقاً گیہوں کے معنی میں بولا جاتا تھا جب کہا جاتا ہے : «إذهب إلى سوق الطعام» تو اس سے «سوق الحنطۃ» ” گیہوں کا بازار “ ہی سمجھا جاتا تھا، اور بعض لوگوں نے کہا «من طعام مجمل» ہے اور آگے اس کی تفسیر ہے، یہ «عطف الخاص علی العام» ہے۔
673
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Sadaqat al-Fitr
باب: صدقہ فطر کا بیان
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُنَادِيًا فِي فِجَاجِ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا إِنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، ‏‏‏‏‏‏حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، ‏‏‏‏‏‏صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ أَوْ سِوَاهُ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عُمَرُ بْنُ هَارُونَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ مِينَاءَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ. حَدَّثَنَا جَارُودُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ هَذَا الْحَدِيثَ.
Amr bin Shu'aib narrated from his grandfather that : the Prophet sent a caller in the roads of Makkah proclaiming Sadaqatul-Fitr is required upon every Muslim, male or female, free or slave, young or old; it is two Mudd of wheat or its equivalent of a Sa of food.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مکہ کی گلیوں میں منادی کرنے کے لیے بھیجا کہ ”سنو! صدقہ فطر ہر مسلمان مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، گیہوں سے دو مد اور گیہوں کے علاوہ دوسرے غلوں سے ایک صاع واجب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عمر بن ہارون نے یہ حدیث ابن جریج سے روایت کی، اور کہا: «العباس بن ميناء عن النبي صلى الله عليه وسلم» پھر آگے اس حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۸۷۴۸)
674
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About Sadaqat al-Fitr
باب: صدقہ فطر کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، ‏‏‏‏‏‏صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ . قَالَ:‏‏‏‏ فَعَدَلَ النَّاسُ إِلَى نِصْفِ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَدِّ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَاب، ‏‏‏‏‏‏وَثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
Ibn Umar narrated: The Messenger of Allah made Sadaqatul-Fitr an obligation upon the male and female, the free and the bondsmen, as a Sa of dried dates or a Sa of barley. He said: So the people equated that to half a Sa of wheat.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر، ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو فرض کیا، راوی کہتے ہیں: پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، ابن عباس، حارث بن عبدالرحمٰن بن ابی ذباب کے دادا ( یعنی ابوذباب ) ، ثعلبہ بن ابی صعیر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الزکاة ۷۷ (۱۵۱۱)، صحیح مسلم/الزکاة ۴ (۹۸۴)، سنن النسائی/الزکاة ۳۰ (۲۵۰۲)، و۳۱ (۲۵۰۳)، (تحفة الأشراف : ۷۵۱۰)، مسند احمد (۲/۵)
675
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Sadaqat al-Fitr
باب: صدقہ فطر کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرَوَى مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَبِيدٌ غَيْرُ مُسْلِمِينَ لَمْ يُؤَدِّ عَنْهُمْ صَدَقَةَ الْفِطْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ يُؤَدِّي عَنْهُمْ وَإِنْ كَانُوا غَيْرَ مُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Ibn Umar narrated: The Messenger of Allah made Sadaqatul-Fitr of Ramadan an obligation - a Sa of dried dates or a Sa of barley - required upon every free person and slave, male and female among the Muslims.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام، مرد اور عورت پر فرض کیا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک نے بھی بطریق: «نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» ایوب کی حدیث کی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں «من المسلمين» کا اضافہ ہے۔ ۳- اور دیگر کئی لوگوں نے نافع سے روایت کی ہے، اس میں «من المسلمين» کا ذکر نہیں ہے، ۴- اہل علم کا اس سلسلے میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ جب آدمی کے پاس غیر مسلم غلام ہوں تو وہ ان کا صدقہ فطر ادا نہیں کرے گا۔ یہی مالک، شافعی اور احمد کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ غلاموں کا صدقہ فطر ادا کرے گا خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں، یہ ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ۸۳۲۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس روایت میں لفظ «فَرضَ» استعمال ہوا ہے جس کے معنی فرض اور لازم ہونے کے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ صدقہ فطر فرض ہے بعض لوگوں نے «فَرضَ» کو «قَدَّرَ» کے معنی میں لیا ہے لیکن یہ ظاہر کے سراسر خلاف ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ روایت میں «من المسلمين» کی قید اتفاقی ہے۔
676
Sahih

Chapters

38
01
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Severe Warning Against Withholding Zakat
باب: زکاۃ نہ نکالنے پر وارد وعید کا بیان
1 Hadith
02
Chapter: What Has Been Related About: When You Pay The Zakat You Have Fulfilled What Is Required Of You
باب: زکاۃ ادا کرنے سے اپنے اوپر عائد فریضہ کے ادا ہو جانے کا بیان
2 Hadith
03
Chapter: What Has Been Related About The Zakat On Gold And Silver
باب: سونے اور چاندی کی زکاۃ کا بیان
1 Hadith
04
Chapter: What Has Been Related About Zakat On Camels and Sheep
باب: اونٹ اور بکری کی زکاۃ کا بیان
1 Hadith
05
Chapter: What Has Been Related About Zakat On Cows
باب: گائے کی زکاۃ کا بیان
3 Hadith
06
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take The Choicest Wealth For Charity
باب: صدقے میں عمدہ مال لینے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
07
Chapter: What Has Been Related About Charity Due On Plants, Fruits And Grains
باب: کھیتی، پھل اور غلے کی زکاۃ کا بیان
2 Hadith
08
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Charity Due On Horses And Slaves
باب: گھوڑے اور غلام میں زکاۃ کے نہ ہونے کا بیان
1 Hadith
09
Chapter: What Has Been Related About Zakat On Honey
باب: شہد کی زکاۃ کا بیان
2 Hadith
10
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Zakat On Acquired Wealth Until The Hawl Has Passed
باب: حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے
2 Hadith
11
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Jizyah Required From The Muslims
باب: مسلمانوں پر جزیہ نہیں ہے
2 Hadith
12
Chapter: What Has Been Related About Zakat On Jewelry
باب: زیور کی زکاۃ کا بیان
3 Hadith
13
Chapter: What Has Been Related About Zakat On Greens (Produce)
باب: سبزیوں کی زکاۃ کا بیان
1 Hadith
14
Chapter: What Has Been Related About Charity On What Is Watered By Rivers Or Otherwise
باب: نہر وغیرہ سے سینچائی کر کے پیدا کی گئی فصل کی زکاۃ کا بیان
2 Hadith
15
Chapter: What Has Been Related About Zakat On The Orphan's Wealth
باب: یتیم کے مال کی زکاۃ کا بیان
1 Hadith
16
Chapter: What Has Been Related That The Injuries Caused By The Animal Are Without Liability And The Khumus Is Due On Rikaz
باب: جانوروں کا زخم رائیگاں ہے یعنی اس میں تاوان نہیں اور مدفون مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا​
1 Hadith
17
Chapter: What Has Been Related About Al-Khars (Assessment)
باب: درخت میں موجود پھل کا تخمینہ لگانا
2 Hadith
18
Chapter: What Has Been Related About The One Who Works In Collecting Sadaqah In Truth
باب: صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
19
Chapter: (What Has Been Related) About The One Who Commits Transgression With Charity
باب: زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والے کا بیان
1 Hadith
20
Chapter: What Has Been Related About Pleasing The Collector of Charity
باب: زکاۃ وصول کرنے والے کی رضا مندی کا بیان
2 Hadith
21
Chapter: What Has Been Related About: Charity Is Taken from The Rich To Be Distributed To The Poor
باب: مالداروں سے صدقہ لے کر فقراء و مساکین کو لوٹانے کا بیان
1 Hadith
22
Chapter: (What Has Been Reported About) For Whom The Zakat Is Lawful
باب: زکاۃ کس کے لیے جائز ہے؟
2 Hadith
23
Chapter: What Has Been Related About: For Whom Charity Is Not Lawful
باب: زکاۃ لینا کس کس کے لیے جائز نہیں؟
3 Hadith
24
Chapter: (What Has Been Related About) The Indebted And Others For Whom Charity Is Lawful
باب: قرض داروں اور دیگر لوگوں میں سے کس کس کے لیے زکاۃ حلال ہے؟
1 Hadith
25
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The Prophet, His Household, and His Mawali To Accept Charity
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، اہل بیت اور آپ کے موالی سب کے لیے زکاۃ لینے کی حرمت
2 Hadith
26
Chapter: What Has Been Related About Charity For Near Relatives
باب: رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا بیان
1 Hadith
27
Chapter: What Has Been Related About: There Is A Duty On Wealthy Aside From Zakat
باب: مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حق ہے
2 Hadith
28
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
29
Chapter: , What Has Been Related About The Right Of The One Asking
باب: مانگنے والے کے حق کا بیان
1 Hadith
30
Chapter: What Has Been Related About Giving To Those Whose Hearts Are Inclined (Toward Islam)
باب: تالیف قلب اور قریب لانے کے مقصد سے زکاۃ میں سے خرچ کرنے کا بیان
1 Hadith
31
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives Charity (Then) Inheriting His Charity
باب: صدقہ دینے والا اپنے صدقہ کا وارث ہو جائے تو کیسا ہے؟
1 Hadith
32
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Back Charity
باب: صدقہ دے کر واپس لینے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
33
Chapter: What Has Been Related About (Giving) Charity On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان
1 Hadith
34
Chapter: What Has Been Related About A Woman Spending From Her Husband's House
باب: عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟
3 Hadith
35
Chapter: What Has Been Related About Sadaqat al-Fitr
باب: صدقہ فطر کا بیان
4 Hadith
36
Chapter: What Has Been Related About: It Is To Be Paid Before The Salat
باب: نماز عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا بیان
1 Hadith
37
Chapter: What Has Been Related About Paying Zakat In Advance
باب: وقت سے پہلے زکاۃ دینے کا بیان
2 Hadith
38
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Begging
باب: دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.