TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book on fasting کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

Book 9 of Jam e Tirmazi, with 82 chapters and 127 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

127 Hadith · 82 Chapters
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، ‏‏‏‏‏‏وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَاب، ‏‏‏‏‏‏وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَاب، ‏‏‏‏‏‏وَيُنَادِي مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، ‏‏‏‏‏‏وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، ‏‏‏‏‏‏وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ وَذَلكَ كُلُّ لَيْلَةٍ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلْمَانَ.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: On the first night of the month of Ramadan, the Shayatin are shackled, the jinns are restrained, the gates of the Fires are shut such that no gate among them would be opened. The gates of Paradise are opened such that no gate among them would be closed, and a caller calls: 'O seeker of the good; come near!' and 'O seeker of evil; stop! For there are those whom Allah frees from the Fire.' And that is every night.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو شیطان اور سرکش جن ۱؎ جکڑ دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، پکارنے والا پکارتا ہے: خیر کے طلب گار! آگے بڑھ، اور شر کے طلب گار! رک جا ۲؎ اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کئے ہوئے بندے ہیں ( تو ہو سکتا ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو ) اور ایسا ( رمضان کی ) ہر رات کو ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ابن مسعود اور سلمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الصوم ۲ (۱۶۴۲)، (تحفة الأشراف : ۱۲۴۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ”مردة الجن“ کا عطف ”الشياطين“ پر ہے، بعض اسے عطف تفسیری کہتے ہیں اور بعض عطف مغایرت یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ جب شیاطین اور مردۃ الجن قید کر دئیے جاتے ہیں تو پھر معاصی کا صدور کیوں ہوتا ہے ؟ اس کا ایک جواب تو یہ کہ معصیت کے صدور کے لیے تحقق اور شیاطین کا وجود ضروری نہیں، انسان گیارہ مہینے شیطان سے متاثر ہوتا رہتا ہے رمضان میں بھی اس کا اثر باقی رہتا ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ لیڈر قید کر دیئے جاتے لیکن رضاکار اور والنیٹر کھُلے رہتے ہیں۔ ۲؎ : اسی ندا کا اثر ہے کہ رمضان میں اہل ایمان کی نیکیوں کی جانب توجہ بڑھ جاتی ہے اور وہ اس ماہ مبارک میں تلاوت قرآن ذکر و عبادات خیرات اور توبہ واستغفار کا زیادہ اہتمام کرنے لگتے ہیں۔
682
Sahih
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَالْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ الَّذِي رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ قَوْلَهُ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدِي مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: Whoever fasts Ramadan and stands (in the night prayer) for it out of faith and seeking a reward (from Allah), he will be forgiven what preceded of his sins. Whoever stands (in the night prayer) on the Night of Al-Qadr out of faith and seeking a reward (from Allah), he will be forgiven what preceded of his sins.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں قیام کیا تو اس کے سابقہ گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے۔ اور جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے بھی سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی ( پچھلی ) حدیث، جسے ابوبکر بن عیاش نے روایت کی ہے غریب ہے، اسے ہم ابوبکر بن عیاش کی روایت کی طرح جسے انہوں نے بطریق: «الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة» روایت کی ہے۔ ابوبکر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بسند «حسن بن ربیع عن أبی الأحوص عن الأعمش» مجاہد کا قول نقل کیا کہ جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے … پھر آگے انہوں نے پوری حدیث بیان کی، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث میرے نزدیک ابوبکر بن عیاش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۵۰۳۸ و۱۵۰۵۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔
683
Sahih
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلَا بِيَوْمَيْنِ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ ثُمَّ أَفْطِرُوا . رَوَى مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ الَّنَبِيِّ صَلى الله عليه وسَلم بِنَحْوِ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يَتَعَجَّلَ الرَّجُلُ بِصِيَامٍ قَبْلَ دُخُولِ شَهْرِ رَمَضَانَ لِمَعْنَى رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يَصُومُ صَوْمًا فَوَافَقَ صِيَامُهُ ذَلِكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ عِنْدَهُمْ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: Do not precede the month with a day nor with two days, unless that fast falls on a day that one of you would have (normally) fasted. Fast with its sighting and break fast with its sighting, and if it is cloudy, then count for thirty days, and then break (the fast).
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ماہ ( رمضان ) سے ایک یا دو دن پہلے ( رمضان کے استقبال کی نیت سے ) روزے نہ رکھو ۱؎، سوائے اس کے کہ اس دن ایسا روزہ آ پڑے جسے تم پہلے سے رکھتے آ رہے ہو ۲؎ اور ( رمضان کا ) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور ( شوال کا ) چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنا بند کرو۔ اگر آسمان ابر آلود ہو جائے تو مہینے کے تیس دن شمار کر لو، پھر روزہ رکھنا بند کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بعض صحابہ کرام سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے۔ وہ اس بات کو مکروہ سمجھتے ہیں کہ آدمی ماہ رمضان کے آنے سے پہلے رمضان کے استقبال میں روزے رکھے، اور اگر کسی آدمی کا ( کسی خاص دن میں ) روزہ رکھنے کا معمول ہو اور وہ دن رمضان سے پہلے آ پڑے تو ان کے نزدیک اس دن روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۵۰۵۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ فرض روزے نفلی روزوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو جائیں اور کچھ لوگ انہیں فرض نہ سمجھ بیٹھیں، لہٰذا تحفظ حدود کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانبین سے روزہ منع کر دیا کیونکہ امم سابقہ میں اس قسم کے تغیر وتبدل ہوا کرتے تھے جس سے زیادتی فی الدین کی راہ کھلتی تھی، اس لیے اس سے منع کر دیا۔ ۲؎ : مثلاً پہلے سے جمعرات یا پیر یا ایام بیض کے روزے رکھنے کا معمول ہو اور یہ دن اتفاق سے رمضان سے دو یا ایک دن پہلے آ جائے تو اس کا روزہ رکھا جائے کہ یہ استقبال رمضان میں سے نہیں ہے۔
684
Sahih
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَقَدَّمُوا شَهْرَ رَمَضَانَ بِصِيَامٍ قَبْلَهُ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: Do no precede the month of Ramadan by fasting a day or two before it, unless it is the case of a man who normally performs some fast, then let him fast it.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک یا دو دن پہلے ( رمضان کے استقبال میں ) روزہ نہ رکھو سوائے اس کے کہ آدمی اس دن روزہ رکھتا آ رہا ہو تو اسے رکھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ۱۵۴۰۶)
685
Sahih
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day OF Doubt
باب: شک کے دن روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُلُوا، ‏‏‏‏‏‏فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي صَائِمٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَمَّارٌ:‏‏‏‏ مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يَشُكُّ فِيهِ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَمَّارٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ كَرِهُوا أَنْ يَصُومَ الرَّجُلُ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَى أَكْثَرُهُمْ إِنْ صَامَهُ فَكَانَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يَقْضِيَ يَوْمًا مَكَانَهُ.
Silah bin Zufar said: We were with Ammar bin Yasir when a roasted sheep was brought and he said: 'Eat.' Someone among the people said: 'I am fasting.' So Ammar said: 'Whoever fasts on a day in which there is doubt, then he has disobeyed Abul-Qasim (pbuh).
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی تو انہوں نے کہا: کھاؤ۔ یہ سن کر ایک صاحب الگ گوشے میں ہو گئے اور کہا: میں روزے سے ہوں، اس پر عمار رضی الله عنہ نے کہا: جس نے کسی ایسے دن روزہ رکھا جس میں لوگوں کو شبہ ہو ۱؎ ( کہ رمضان کا چاند ہوا ہے یا نہیں ) اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمار رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی سفیان ثوری، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ان لوگوں نے اس دن روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے جس میں شبہ ہو، ( کہ رمضان کا چاند ہوا ہے یا نہیں ) اور ان میں سے اکثر کا خیال ہے کہ اگر وہ اس دن روزہ رکھے اور وہ ماہ رمضان کا دن ہو تو وہ اس کے بدلے ایک دن کی قضاء کرے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصیام ۳۷ (۲۱۹۰)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۳ (۱۶۴۵)، (تحفة الأشراف : ۱۰۳۵۴)، سنن الدارمی/الصوم ۱ (۱۷۲۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ” جس میں شبہ ہو “ سے مراد ۳۰ شعبان کا دن ہے یعنی بادل کی وجہ سے ۲۹ویں دن چاند نظر نہیں آیا تو کوئی شخص یہ سمجھ کر روزہ رکھ لے کہ پتہ نہیں یہ شعبان کا تیسواں دن ہے یا رمضان کا پہلا دن، کہیں یہ رمضان ہی نہ ہو، اس طرح شک والے دن میں روزہ رکھنا صحیح نہیں۔
686
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Counting The (Appearances OF) The Crescent Of Sha'ban For Ramadan
باب: رمضان کے لیے شعبان کے چاند کی گنتی کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَجَّاجٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ:‏‏‏‏ أَحْصُوا هِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَقَدَّمُوا شَهْرَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ . وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو اللَّيْثِيِّ.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: Count the (the appearances of) the crescent of Sha'ban for Ramadan.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے لیے شعبان کے چاند کی گنتی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے اس طرح ابومعاویہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور صحیح وہ روایت ہے جو ( عبدہ بن سلیمان نے ) بطریق «محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن پہلے روزہ شروع نہ کر دو، اسی طرح بطریق: «يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۵۱۲۳)
687
Sahih
Chapter: What Has Been Related About: Fasting And Breaking Fast Are Based Upon The Sighting (Of The Crescent)
باب: چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور دیکھ کر روزہ بند کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
Ibn Abbas narrated that : the Messenger of Allah said: Do not fast before Ramadan. Fast with its sighting, and break fast with its sighting, and if it is obscured from you, then complete thirty days.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے پہلے ۱؎ روزہ نہ رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور دیکھ کر ہی بند کرو، اور اگر بادل آڑے آ جائے تو مہینے کے تیس دن پورے کرو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں سے یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔ ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصیام ۷ (۲۳۲۷)، سنن النسائی/الصیام ۱۲ (۲۱۲۶)، (تحفة الأشراف : ۶۱۰۵)، وأخرجہ موطا امام مالک/الصیام ۱ (۳)، و مسند احمد (۱/۲۲۱)، وسنن الدارمی/الصوم۱ (۱۷۲۵) من غیر ہذا الطریق عنہ
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ”رمضان سے پہلے“ سے مراد شعبان کا دوسرا نصف ہے، مطلب یہ ہے کہ ۱۵ شعبان کے بعد نفلی روزے نہ رکھے جائیں تاکہ رمضان کے فرض روزوں کے لیے اس کی قوت و توانائی برقرار رہے۔ ۲؎ یعنی بادل کی وجہ سے مطلع صاف نہ ہو اور ۲۹ شعبان کو چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے رمضان کے روزے شروع کئے جائیں، اسی طرح اگر ۲۹ رمضان کو چاند نظر نہ آئے تو رمضان کے تیس روزے پورے کر کے عید الفطر منائی جائے۔
688
Sahih
Chapter: What Has Been Related About: The Month Is Twenty-Nine Days
باب: مہینہ ۲۹ دن کا بھی ہوتا ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ مَا صُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْنَا ثَلَاثِينَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ .
Ibn Mas'ud said: What I fasted with the Prophet hat was twenty-nine (days), was more than what we fasted that was thirty.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے رکھنے سے زیادہ ۲۹ دن کے روزے رکھے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عمر، ابوہریرہ، عائشہ، سعد بن ابی وقاص، ابن عباس، ابن عمر، انس، جابر، ام سلمہ اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ۲۹ دن کا ( بھی ) ہوتا ہے“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصوم ۴ (۲۳۲۲)، (تحفة الأشراف : ۹۴۷۸)، مسند احمد (۱/۴۴۱)
689
Sahih
Chapter: What Has Been Related About: The Month Is Twenty-Nine Days
باب: مہینہ ۲۹ دن کا بھی ہوتا ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Anas narrated: The Messenger of Allah vowed to stay away from his wives for a month, so he stayed in a loft for twenty-nine days. They said: 'O Messenger of Allah, your vow was for a month,' so he said: 'The month is twenty-nine (days).'
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک ماہ کے لیے ایلاء کیا ( یعنی اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھائی ) پھر آپ نے اپنے بالاخانے میں ۲۹ دن قیام کیا ( پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس آئے ) تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک مہینے کا ایلاء کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”مہینہ ۲۹ دن کا ( بھی ) ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۵۸۳)
690
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Fasting Based Upon Testimony
باب: چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ رکھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا بِلَالُ أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا . حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ نَحْوَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ اخْتِلَافٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سِمَاكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ سِمَاكٍ رَوَوْا عَنْ سِمَاكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ تُقْبَلُ شَهَادَةُ رَجُلٍ وَاحِدٍ فِي الصِّيَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلُ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ لَا يُصَامُ إِلَّا بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ وَلَمْ يَخْتَلِفْ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْإِفْطَارِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ لَا يُقْبَلُ فِيهِ إِلَّا شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ.
Ibn Abbas narrated: A Bedouin came to the Prophet and said: 'I have seen the crescent.' So he said: 'Do you testify that none has the right to be worshipped but Allah? Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah?' He said: 'Yes.' So he said: 'O Bilal! Announce to the people that they should fast tomorrow.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں نے چاند دیکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور کیا گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں دیتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث میں اختلاف ہے۔ سفیان ثوری وغیرہ نے بطریق: «سماك عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور سماک کے اکثر شاگردوں نے بھی بطریق: «سماك عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً ہی روایت کی ہے، ۲- اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ماہ رمضان کے روزوں کے سلسلے میں ایک آدمی کی گواہی قبول کی جائے گی۔ اور ابن مبارک، شافعی، احمد اور اہل کوفہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ روزہ بغیر دو آدمیوں کی گواہی کے نہ رکھا جائے گا۔ لیکن روزہ بند کرنے کے سلسلے میں اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس میں دو آدمی کی گواہی قبول ہو گی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصیام ۱۴ (۲۳۴۰)، سنن النسائی/الصوم ۸ (۲۱۱۵)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۶ (۱۶۵۲)، سنن الدارمی/الصوم ۶ (۱۷۲۴)، (تحفة الأشراف : ۶۱۰۴)
691
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About: The Two Months Of Eid Will Not Both Be Deficient
باب: عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا يَنْقُصَانِ مَعًا فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ شَهْرُ رَمَضَانَ وَذُو الْحِجَّةِ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ نَقَصَ أَحَدُهُمَا تَمَّ الْآخَرُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ مَعْنَاهُ لَا يَنْقُصَانِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ وَإِنْ كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَهُوَ تَمَامٌ غَيْرُ نُقْصَانٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى مَذْهَبِ إِسْحَاق يَكُونُ يَنْقُصُ الشَّهْرَانِ مَعًا فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ.
Abdur-Rahman bin Abi Bakrah narrated from his father that : the Messenger of Allah said: The two months of Eid will not both be deficient: Ramadn and Dhul-Hijjah.
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید کے دونوں مہینے رمضان ۱؎ اور ذوالحجہ کم نہیں ہوتے ( یعنی دونوں ۲۹ دن کے نہیں ہوتے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوبکرہ کی حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں: اس حدیث ”عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے“ کا مطلب یہ ہے کہ رمضان اور ذی الحجہ دونوں ایک ہی سال کے اندر کم نہیں ہوتے ۲؎ اگر ان دونوں میں کوئی کم ہو گا یعنی ایک ۲۹ دن کا ہو گا تو دوسرا پورا یعنی تیس دن کا ہو گا، ۴- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ۲۹ دن کے ہوں تو بھی ثواب کے اعتبار سے کم نہ ہوں گے، اسحاق بن راہویہ کے مذہب کی رو سے دونوں مہینے ایک سال میں کم ہو سکتے ہیں یعنی دونوں ۲۹ دن کے ہو سکتے ہیں ۳؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصوم ۱۲ (۱۹۱۲)، صحیح مسلم/الصوم ۷ (۱۰۸۹)، سنن ابی داود/ الصوم ۴ (۲۳۲۳)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۹ (۱۶۵۹)، (تحفة الأشراف : ۱۱۶۷۷)، مسند احمد (۵/۳۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ عید تو شوال میں ہوتی ہے پھر رمضان کو شہر عید کیسے کہا گیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قرب کی وجہ سے کہا گیا ہے چونکہ عید رمضان ہی کی وجہ سے متحقق ہوتی ہے لہٰذا اس کی طرف نسبت کر دی گئی ہے۔ ۲؎ : اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بعض اوقات دونوں انتیس (۲۹) کے ہوتے ہیں، تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عام طور سے دونوں کم نہیں ہوتے ہیں۔ ۳؎ : اور ایسا ہوتا بھی ہے۔
692
Sahih
Chapter: What Has Been Related About: For The People OF Every Land There Is A Sighting
باب: ہر شہر والوں کے لیے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ هِلَالُ رَمَضَانَ وَأَنَا بِالشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَأَنْتَ رَأَيْتَهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ رَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَكِنْ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا أَوْ نَرَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ لِكُلِّ أَهْلِ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ.
Muhammad bin Abi Harmalah narrated: Kuraib informed me that Umm Al-Fadl bin Al-Harith sent him to Mu'awiyah in Ash-Sham. He said: 'So I arrived in Ash-Sham and finished her errand, and I saw the crescent of Ramadan while I was in Ash-Sham. We saw the crescent on the night of Friday. Then I arrived in Al-Madinah at the end of the month. Ibn Abbas was questioning me, then he mentioned the crescent and he said: When did you see the crescent? I said: We saw it n the night of Friday. He said: Did you see it on the night of Friday? I said: The people saw it, so they fasted, and Mu'awiyah fasted. He said: But we saw it on the night of Saturday, so we will not stop fasting until we complete thirty days or we see it. So I said: Is not the sighting and fasting of Mu'awiyah enough for you? He said: This is not how the Messenger of Allah ordered us.
کریب بیان کرتے ہیں کہ ام فضل بنت حارث نے انہیں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور ( اسی درمیان ) رمضان کا چاند نکل آیا، اور میں شام ہی میں تھا کہ ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا ۱؎، پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ آیا تو ابن عباس رضی الله عنہما نے مجھ سے وہاں کے حالات پوچھے پھر انہوں نے چاند کا ذکر کیا اور کہا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہم نے اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم نے بھی جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ تو میں نے کہا: لوگوں نے اسے دیکھا اور انہوں نے روزے رکھے اور معاویہ رضی الله عنہ نے بھی روزہ رکھا، اس پر ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: لیکن ہم نے اسے ہفتہ ( سنیچر ) کی رات کو دیکھا، تو ہم برابر روزے سے رہیں گے یہاں تک کہ ہم تیس دن پورے کر لیں، یا ہم ۲۹ کا چاند دیکھ لیں، تو میں نے کہا: کیا آپ معاویہ کے چاند دیکھنے اور روزہ رکھنے پر اکتفا نہیں کریں گے؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی حکم دیا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ہر شہر والوں کے لیے ان کے خود چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصوم ۵ (۱۰۸۷)، سنن ابی داود/ الصیام ۹ (۲۳۳۲)، سنن النسائی/الصیام ۷ (۲۱۱۳)، (تحفة الأشراف : ۶۳۵۷)، مسند احمد (۱/۳۰۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس سے معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے اور توڑنے کے سلسلہ میں چاند کی رویت ضروری ہے، محض فلکی حساب کافی نہیں، رہا یہ مسئلہ کہ ایک علاقے کی رویت دوسرے علاقے کے لیے معتبر ہو گی یا نہیں ؟ تو اس سلسلہ میں علماء میں اختلاف ہے جو گروہ معتبر مانتا ہے وہ کہتا ہے کہ «صوموا» اور «افطروا» کے مخاطب ساری دنیا کے مسلمان ہیں اس لیے کسی ایک علاقے کی رویت دنیا کے سارے علاقوں کے لیے رویت ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک علاقے کی رویت دوسرے علاقے کے لیے کافی نہیں ان کا کہنا ہے کہ اس حکم کے مخاطب صرف وہ مسلمان ہیں جنہوں نے چاند دیکھا ہو، جن علاقوں میں مسلمانوں نے چاند دیکھا ہی نہیں وہ اس کے مخاطب ہی نہیں، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ ہر علاقے کے لیے اپنی الگ رویت ہے جس کے مطابق وہ روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے فیصلے کریں گے، اس سلسلہ میں ایک تیسرا قول بھی ہے کہ جو علاقے مطلع کے اعتبار سے قریب قریب ہیں یعنی ان کے طلوع و غروب میں زیادہ فرق نہیں ہے ان علاقوں میں ایک علاقے کی رویت دوسرے علاقوں کے لیے کافی ہے۔
693
Sahih
Chapter: What Has Been Related About What It Is Recommended To Break The Fast With
باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ وَجَدَ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ وَمَنْ لَا فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ مِثْلَ هَذَا غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَلَا نَعْلَمُ لَهُ أَصْلًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى أَصْحَابُ شُعْبَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الرَّبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رَوَوْا عَنْ شُعُبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلْمَانَ وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ شُعْبَةُ عَنِ الرَّبَاب، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ. وَابْنُ عُيَيْنَةَ وغير واحد، ‏‏‏‏‏‏سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمٍ الْأَحَوَلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الرَّبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّبَاب هي أم الرائح.
Anas bin Malik narrated that : the Messenger of Allah said: Whoever has dried dates, then let him break the fast with that, and whoever does not, then let him break the fast with water, for indeed water is purifying.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کھجور میسر ہو، تو چاہیئے کہ وہ اسی سے روزہ کھولے، اور جسے کھجور میسر نہ ہو تو چاہیئے کہ وہ پانی سے کھولے کیونکہ پانی پاکیزہ چیز ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ہم نہیں جانتے کہ انس کی حدیث سعید بن عامر کے علاوہ کسی اور نے بھی شعبہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث غیر محفوظ ہے ۱؎، ہم اس کی کوئی اصل عبدالعزیز کی روایت سے جسے انہوں نے انس سے روایت کی ہو نہیں جانتے، اور شعبہ کے شاگردوں نے یہ حدیث بطریق: «شعبة عن عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اور یہ سعید بن عامر کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، کچھ اور لوگوں نے اس کی بطریق: «شعبة عن عاصم عن حفصة بنت سيرين عن سلمان» روایت کی ہے اور اس میں شعبہ کی رباب سے روایت کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے اور صحیح وہ ہے جسے سفیان ثوری، ابن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے، اور ابن عون کہتے ہیں: «عن أم الرائح بنت صليع عن سلمان بن عامر» اور رباب ہی دراصل ام الرائح ہیں ۲؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائی فی الکبری) (تحفة الأشراف : ۱۰۲۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : کیونکہ سعیدبن عامر «عن شعبة عن عبدالعزيز بن صهيب عن أنس» کے طریق سے اس کی روایت میں منفرد ہیں، شعبہ کے دوسرے تلامذہ نے ان کی مخالفت کی ہے، ان لوگوں نے اسے «عن شعبة عن عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن سلمان بن عامر» کے طریق سے روایت کی ہے، اور عاصم الاحول کے تلامذہ مثلاً سفیان ثوری اور ابن عیینہ وغیرہم نے بھی اسے اسی طرح سے روایت کیا ہے۔ ۲؎ : یعنی ابن عون نے اپنی روایت میں «عن الرباب» کہنے کے بجائے «عن ام الروائح بنت صلیع» کہا ہے، اور رباب ام الروائح کے علاوہ کوئی اور عورت نہیں ہیں بلکہ دونوں ایک ہی ہیں۔
694
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About What It Is Recommended To Break The Fast With
باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ح. وَحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ. وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ زَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Salman bin Amir Ad-Dabbi narrated that : the Prophet said: When one of you breaks his fast, then let him do so with dried dates. And whoever does not find dates, then water, for it is purifying.
سلمان بن عامر ضبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو چاہیئے کہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ اس میں برکت ہے اور جسے ( کھجور ) میسر نہ ہو تو وہ پانی سے افطار کرے کیونکہ یہ پاکیزہ چیز ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصوم ۲۱ (۲۳۵۵)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۲۵ (۱۶۹۹)، (تحفة الأشراف : ۴۴۸۶)، مسند احمد (۴/، ۱۷، ۱۹، ۲۱۳، ۲۱۵)، سنن الدارمی/الصوم ۱۲ (۱۷۷۳)، وانظر أیضا ما تقدم برقم ۶۵۸
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اگرچہ قولاً اس کی سند صحیح نہیں ہے، مگر فعلاً یہ حدیث دیگر طرق سے ثابت ہے۔ ۲؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر افطار میں کھجور میسر ہو تو کھجور ہی سے افطار کرے کیونکہ یہ مقوی معدہ، مقوی اعصاب اور جسم میں واقع ہونے والی کمزوریوں کا بہترین بدل ہے اور اگر کھجور میّسر نہ ہو سکے تو پھر پانی سے افطار بہتر ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تازہ کھجور سے افطار کیا کرتے تھے اگر تازہ کھجور نہیں ملتی تو خشک کھجور سے افطار کرتے اور اگر وہ بھی نہ ملتی تو چند گھونٹ پانی سے افطار کرتے تھے۔ ان دونوں چیزوں کے علاوہ اجر و ثواب وغیرہ کی نیت سے کسی اور چیز مثلاً نمک وغیرہ سے افطار کرنا بدعت ہے، جو ملاؤں نے ایجاد کی ہے۔
695
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About What It Is Recommended To Break The Fast With
باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رُطَبَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَيْرَاتٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تُمَيْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَرُوِيَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفْطِرُ فِي الشِّتَاءِ عَلَى تَمَرَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الصَّيْفِ عَلَى الْمَاءِ .
Anas bin Malik narrated: The Messenger of Allah would break the fast with fresh dates before performing Salat. If there were no fresh dates then (he would break the fast) with dried dates, and if there were no dried dates then he would take a few sips of water.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مغرب ) پڑھنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے افطار کرتے تھے، اور اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سردیوں میں چند کھجوروں سے افطار کرتے اور گرمیوں میں پانی سے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصیام ۲۱ (۲۳۵۶)، (تحفة الأشراف : ۲۶۵)
696
Sahih
Chapter: What Has Been Related About: (The Fast Is The Day The People Fast And) The Breaking Of The Fast IS The Day When the People Break The Fast, And The Sacrifice Is The Day The People Sacrifice
باب: روزہ کا دن وہی ہے جب سب روزہ رکھیں، عیدالفطر کا دن وہی ہے
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا أَنَّ الصَّوْمَ وَالْفِطْرَ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَعُظْمِ النَّاسِ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: The fast is the day the people fast, the breaking of the fast is the day the people break their fast, and the sacrifice is the day the people sacrifice.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صیام کا دن وہی ہے جس دن تم سب روزہ رکھتے ہو اور افطار کا دن وہی ہے جب سب عید الفطر مناتے ہو اور اضحٰی کا دن وہی ہے جب سب عید مناتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تشریح یوں کی ہے کہ صوم اور عید الفطر اجتماعیت اور سواد اعظم کے ساتھ ہونا چاہیئے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۲۹۹۷) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الصوم۵ (۲۳۲۴) وسنن ابن ماجہ/الصیام۹ (۱۶۶۰) من غیر ہذا الطریق
Explanation
وضاحت: ۱؎ : امام ترمذی کا اس حدیث پر عنوان لگانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب چاند دیکھنے میں غلطی ہو جائے اور سارے کے سارے لوگ غور و خوض کرنے کے بعد ایک فیصلہ کر لیں تو اسی کے حساب سے رمضان اور عید میں کیا جائے۔
697
Sahih
Chapter: What Has Been Related About: When The Night Advances And The Day Retreats, Then The Fasting Person Break The Fast
باب: جب رات آ جائے اور دن چلا جائے یعنی سورج ڈوب جائے تو صائم افطار کرے
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرْتَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Umar bin Al-Khattab narrated that: The Messenger of Allah said: When the night advances and the day retreats, and the sun is hidden, then the fast is to be broken.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات آ جائے، اور دن چلا جائے اور سورج ڈوب جائے تو تم نے افطار کر لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصوم ۴۳ (۱۹۵۴)، صحیح مسلم/الصیام ۱۰ (۱۱۰۰)، سنن ابی داود/ الصیام ۱۹ (۲۳۵۱)، ۲۸، ۳۵، (تحفة الأشراف : ۱۰۴۷۴)، مسند احمد (۱/۴۸)، سنن الدارمی/الصوم ۱۱ (۱۷۴۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ”تم نے افطار کر لیا“ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تمہارے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم شرعاً روزہ کھولنے والے ہو گئے خواہ تم نے کچھ کھایا پیا نہ ہو کیونکہ سورج ڈوبتے ہی روزہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا اس میں روزہ کے وقت کا تعین کر دیا گیا ہے کہ وہ صبح صادق سے سورج ڈوبنے تک ہے۔
698
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Hastening To Break The Fast
باب: افطار میں جلدی کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ح. قَالَ:‏‏‏‏ وأَخْبَرَنَا أَبُو مُصْعَبٍ قِرَاءَةً، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمُ اسْتَحَبُّوا تَعْجِيلَ الْفِطْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Sahl bin Sa'd narrated that : the Messenger of Allah said: The people will remain upon goodness as long as they hasten to break the fast.
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ برابر خیر میں رہیں گے ۱؎ جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سہل بن سعد رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، عائشہ اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور یہی قول ہے جسے صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم نے اختیار کیا ہے، ان لوگوں نے افطار میں جلدی کرنے کو مستحب جانا ہے اور اسی کے شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی قائل ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصوم ۴۵ (۱۹۵۷)، (تحفة الأشراف : ۴۷۴۶)، موطا امام مالک/الصیام ۳ (۶)، مسند احمد (۵/۳۳۷، ۳۳۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : «خیر» سے مراد دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ۲؎ : افطار میں جلدی کریں گے، کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سورج ڈوبنے سے پہلے روزہ کھول لیں گے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ سورج ڈوبنے کے بعد روزہ کھولنے میں تاخیر نہیں کریں گے جیسا کہ آج کل احتیاط کے نام پر کیا جاتا ہے۔
699
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Hastening To Break The Fast
باب: افطار میں جلدی کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا .
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: Allah, Mighty and Sublime is He, said: 'Those of My worshippers who are most beloved to me are the quickest to break their fast.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: مجھے میرے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جو افطار میں جلدی کرنے والے ہیں“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۵۲۳۵)، وانظر: مسند احمد (۲/۲۳۸، ۳۲۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس محبت کی وجہ شاید سنت کی متابعت، بدعت سے دور رہنے اور اہل کتاب کی مخالفت ہے۔
700
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About Hastening To Break The Fast
باب: افطار میں جلدی کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
Abu Hurairah narrated: (A Hadith similar to no. 700 with a different chain).
اس سند سے بھی اوزاعی سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ
701
Zaeef

Chapters

82
01
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
02
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
03
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day OF Doubt
باب: شک کے دن روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
04
Chapter: What Has Been Related About Counting The (Appearances OF) The Crescent Of Sha'ban For Ramadan
باب: رمضان کے لیے شعبان کے چاند کی گنتی کرنے کا بیان
1 Hadith
05
Chapter: What Has Been Related About: Fasting And Breaking Fast Are Based Upon The Sighting (Of The Crescent)
باب: چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور دیکھ کر روزہ بند کرنے کا بیان
1 Hadith
06
Chapter: What Has Been Related About: The Month Is Twenty-Nine Days
باب: مہینہ ۲۹ دن کا بھی ہوتا ہے
2 Hadith
07
Chapter: What Has Been Related About Fasting Based Upon Testimony
باب: چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ رکھنے کا بیان
1 Hadith
08
Chapter: What Has Been Related About: The Two Months Of Eid Will Not Both Be Deficient
باب: عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے
1 Hadith
09
Chapter: What Has Been Related About: For The People OF Every Land There Is A Sighting
باب: ہر شہر والوں کے لیے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا
1 Hadith
10
Chapter: What Has Been Related About What It Is Recommended To Break The Fast With
باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
3 Hadith
11
Chapter: What Has Been Related About: (The Fast Is The Day The People Fast And) The Breaking Of The Fast IS The Day When the People Break The Fast, And The Sacrifice Is The Day The People Sacrifice
باب: روزہ کا دن وہی ہے جب سب روزہ رکھیں، عیدالفطر کا دن وہی ہے
1 Hadith
12
Chapter: What Has Been Related About: When The Night Advances And The Day Retreats, Then The Fasting Person Break The Fast
باب: جب رات آ جائے اور دن چلا جائے یعنی سورج ڈوب جائے تو صائم افطار کرے
1 Hadith
13
Chapter: What Has Been Related About Hastening To Break The Fast
باب: افطار میں جلدی کرنے کا بیان
4 Hadith
14
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Sahar
باب: سحری تاخیر سے کھانے کا بیان
2 Hadith
15
Chapter: What Has Been Related About Clarifying Al-Fajr
باب: صبح صادق کے واضح ہو جانے کا بیان
2 Hadith
16
Chapter: What Has Been Related About The Severity Of Back Biting For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے غیبت کرنے کی شناعت کا بیان
1 Hadith
17
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Sahar
باب: سحری کھانے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
18
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
19
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
3 Hadith
20
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The One At War To Break The Fast
باب: مجاہد اور غازی کے لیے روزہ توڑ دینے کی رخصت کا بیان
1 Hadith
21
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
1 Hadith
22
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
23
Chapter: (What Has Been Related About The Atonement)
باب: میت کے چھوڑے ہوئے روزے کے کفارہ کا بیان
1 Hadith
24
Chapter: What Has Been Related About The Fasting Person Who Is Overcome By Vomiting
باب: روزہ دار کو (خودبخود) قے آ جائے اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
25
Chapter: What Has Been Related About One Who Vomits Purposely
باب: جان بوجھ کر قے کر دینے والے کے حکم کا بیان
1 Hadith
26
Chapter: What Has Been Related About The Fasting Person Eating Or Drinking Forgetfully
باب: روزہ دار بھول کر کچھ کھا پی لے تو کیسا ہے؟
2 Hadith
27
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Fast On Purpose
باب: جان بوجھ کر رمضان کے روزے چھوڑ دینے کے حکم کا بیان
1 Hadith
28
Chapter: What Has Been Related About The Atonement For Breaking The Fast During Ramadan
باب: رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر عائد کفارہ کا بیان
1 Hadith
29
Chapter: What Has Been Related About The Siwak For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے مسواک کرنے کا بیان
1 Hadith
30
Chapter: What Has Been Related About Kuhl For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے سرمہ لگانے کا بیان
1 Hadith
31
Chapter: What Has Been Related About Kissing For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے بوسہ لینے کا بیان
1 Hadith
32
Chapter: What Has Been Related About Embracing For The Fasting Person
باب: روزہ دار کا بوس و کنار کیا ہے؟
2 Hadith
33
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Fast For The One Who Did Not Determine It During The (Preceding) Night
باب: جو رات ہی کو روزے کی نیت نہ کرے اس کا روزہ نہیں
1 Hadith
34
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Voluntary Fast
باب: نفلی روزے کے توڑنے کا بیان
2 Hadith
35
Chapter: Performing A Voluntary Fast Without Planning It The Night Before
باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
36
Chapter: What Has Been Reported About: The Obligation On Him To Make Up
باب: نفل روزہ توڑنے پر اس کی قضاء لازم ہے
1 Hadith
37
Chapter: What Has Been Related About Connecting Fasts Of Sha'ban To Ramadan
باب: روزہ رکھ کر شعبان کو رمضان سے ملا دینے کا بیان
2 Hadith
38
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast During The Second Half Of Sha'ban For The Sake of Ramdan
باب: رمضان کی تعظیم میں شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی کراہت
1 Hadith
39
Chapter: What Has Been Related About The Middle Night Of Sha'ban
باب: پندرھویں شعبان کی رات کا بیان
3 Hadith
40
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Friday
باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
1 Hadith
41
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast On Friday Alone
باب: خاص کر صرف جمعہ کو روزہ رکھنے کی کراہیت کا بیان
1 Hadith
42
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Saturday
باب: ہفتہ (سنیچر) کے دن کے روزہ کا بیان
1 Hadith
43
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Monday And Thursday
باب: سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان
3 Hadith
44
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Wednesday and Thursday
باب: بدھ اور جمعرات کے روزے کا بیان
1 Hadith
45
Chapter: What Has Been Related About The Virtue OF Fasting On The Day of Arafah
باب: عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
46
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day of Arafah While At Arafat
باب: میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان
2 Hadith
47
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Fast The Day Of Ashura
باب: عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب کا بیان
1 Hadith
48
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Not Fast The Day Of Ashura
باب: یوم عاشوراء کا روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
1 Hadith
49
Chapter: What Has Been Related About Which Day Ashura Is
باب: عاشوراء کا دن کون سا ہے؟
2 Hadith
50
Chapter: What Has Been Related About Fasting The Ten (Days Of Dhul-Hijjah)
باب: ذی الحجہ کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دن) کے روزوں کا بیان
1 Hadith
51
Chapter: What Has Been Related About Deeds During The Ten Days (Of Dhul-Hijjah)
باب: ذی الحجہ کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دن) کے عمل کے ثواب کا بیان
2 Hadith
52
Chapter: What Has Been Related About Fasting The Six Days Of Shawwal
باب: شوال کے چھ دن کے روزوں کا بیان
1 Hadith
53
Chapter: What Has Been Related About Fasting Three (Days) Of Every Month
باب: ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
54
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Fasting
باب: روزے کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
55
Chapter: What Has Been Related About Fasting Daily
باب: صوم دہر کا بیان
1 Hadith
56
Chapter: What Has Been Related About Fasting Consecutive Days
باب: پے در پے روزہ رکھنے کا بیان
3 Hadith
57
Chapter: What Has Been Related About It Being Dislike To Fast On The Day Of Fitr And The Day Of Nahr
باب: عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
2 Hadith
58
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Days Of Tashriq
باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
1 Hadith
59
Chapter: What Has Been Related About Cupping Being Disliked For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے پچھنا لگوانے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
60
Chapter: What Has Been Related About Permission For That
باب: روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانے کی رخصت کا بیان
3 Hadith
61
Chapter: What Has Been Related About Al-Wisal (Continuous) Fasting Is Disliked
باب: افطار کیے بغیر مسلسل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
62
Chapter: What Has Been Related About the Junub (Sexually Impure) Person Who Discovers That It Is Fajr Time When He Wants To Fast
باب: جنبی کو فجر پا لے اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہو تو کیا حکم ہے
1 Hadith
63
Chapter: What Has Been Related About The Fasting Person Accepting The Invitation (To A Meal)
باب: روزہ دار دعوت قبول کرے اس کا بیان
2 Hadith
64
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
65
Chapter: What Has Been Related About Delay When Making Up For Ramadan
باب: صیام رمضان کی قضاء دیر سے کرنے کا بیان
1 Hadith
66
Chapter: What Has Been Related About The Virtue For The Fasting Person When Others Are Eating In His Presence
باب: روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے
3 Hadith
67
Chapter: What Has Been Related About The Woman Who Menstruated Makes Up The Fasts But Not The Salat
باب: حائضہ عورت روزہ کی قضاء کرے گی نماز کی نہیں
1 Hadith
68
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Excessive Amounts Of Water Into the Nose (Al-Istinshaq) When Fasting
باب: روزہ دار کے لیے ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرنے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
69
Chapter: What Has Been Related About: One Who Stays With A People Should Not Fast Without Their Permission
باب: جو کسی جماعت کے یہاں آئے تو ان کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھے
1 Hadith
70
Chapter: What Has Been Related I'tikaf
باب: اعتکاف کا بیان
2 Hadith
71
Chapter: What Has Been Related About The Night of Al-Qadr
باب: شب قدر کا بیان
3 Hadith
72
Chapter: Something Else About That
باب: شب قدر سے متعلق ایک اور باب
2 Hadith
73
Chapter: What Has Been Related About Fasting During the Winter
باب: سردی کے روزہ کا بیان
1 Hadith
74
Chapter: What Has Been Related About: And For Those Upon Whom It Is Difficult.
باب: آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» کی تفسیر
1 Hadith
75
Chapter: What Has Been Related About The One Who Ate And Then Went Out To Travel
باب: رمضان میں کھانا کھا کر پھر سفر پر نکلے اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
76
Chapter: What Has Been Related About The Gift For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے تحفے کا بیان
1 Hadith
77
Chapter: What Has Been Related About When (The Days Of) Al-Fitr and Al-Adha Are
باب: عیدالفطر اور عید الاضحی کب منائی جائے؟
1 Hadith
78
Chapter: What Has Been Related About When One Leaves From I'tikaf
باب: اعتکاف پورا ہونے سے پہلے اس سے نکل آنے پر کیا حکم ہے؟
1 Hadith
79
Chapter: What Has Been Related About: Can The One Performing I'tikaf Leave For His Needs Or Not?
باب: معتکف اپنی ضرورت کے لیے نکل سکتا ہے یا نہیں؟
2 Hadith
80
Chapter: What Has Been Related About Standing (In The Night Prayer) During The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی راتوں میں قیام (تہجد پڑھنے) کا بیان
1 Hadith
81
Chapter: What Has Been Revealed About One Who Provides The Food For A Fasting Person To Break His Fast
باب: روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
82
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.