Surat Younus

Surah: 10

Verse: 100

سورة يونس

وَ مَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ یَجۡعَلُ الرِّجۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾

And it is not for a soul to believe except by permission of Allah , and He will place defilement upon those who will not use reason.

حالانکہ کسی شخص کا ایمان لانا اللہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں ۔ اور اللہ تعالٰی بے عقل لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُوْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ ... It is not for any person to believe, except by the leave of Allah, and He will put the Rijs, That is, disorder and misguidance, ... عَلَى الَّذِينَ لاَ يَعْقِلُونَ upon those who do not reason. meaning, Allah's proofs and evidences, and He is the Just in all matters, guiding whom He wills to guide, and leading whom He wills astray.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

100۔ 1 گندگی سے مراد عذاب یا کفر ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کی آیات پر غور نہیں کرتے، وہ کفر میں مبتلا رہتے ہیں اور یوں عذاب کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٨] اللہ کے اذن کا مفہوم :۔ یعنی اللہ کی توفیق اور منظوری کے بغیر کسی کو ایمان کی نعمت نصیب نہیں ہوتی اور یہ توفیق صرف اس شخص کو نصیب ہوتی ہے جو حق کی تلاش میں اپنی عقل سے کام لے اور اسے حق کی تلاش کی فکر دامن گیر ہو۔ اور وہ ہر طرح کے تعصبات اور خارجی نظریات سے ذہن کو پاک کرکے اللہ کی آیات میں خالی الذہن ہو کر غور و فکر کرے اور جو شخص اس انداز سے حق کا متلاشی ہو تو اللہ تعالیٰ یقیناً اسے حق کی راہ دکھا دیتا ہے اور ایمان لانے کی توفیق بھی بخشتا ہے اور اسی کا نام اللہ کا اذن ہے لیکن جو شخص آبائی تقلید، مذہبی تعصبات اور خارجی نظریات سے بالا تر ہو کر کچھ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کرے اسے اللہ، ایمان کی نعمت نصیب نہیں کرتا۔ اس کی قسمت میں جہالت، گمراہی، غلط کاری، غلط بینی اور کفر و شرک کی نجاستوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : یعنی جس طرح تکوینی طور پر دنیا کی کوئی نعمت کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی، یعنی دنیا کی نعمتوں میں بھی اگرچہ آدمی کی محنت کا دخل ہے، مگر اللہ کے اذن کے بغیر کوئی محنت نہ ہوسکتی ہے اور نہ نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کسی شخص کو ایمان کی نعمت حاصل ہونے یا نہ ہونے کا انحصار بھی اللہ کے اذن پر ہے۔ کوئی شخص اس نعمت کو نہ خود پاسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو عطا کرسکتا ہے، اس لیے اگر نبی چاہے بھی کہ تمام لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بنا سکتا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابوطالب، نوح (علیہ السلام) کا بیٹا اور نوح اور لوط (علیہ السلام) کی بیویاں اس کی مثال ہیں، اسی طرح بت گر آزر کا بیٹا ابراہیم، فرعون کی بیوی آسیہ، ابوجہل کا بیٹا عکرمہ اللہ کے اپنی مرضی سے ایمان کی نعمت عطا کرنے کی مثالیں ہیں۔ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ : یعنی اگرچہ ایمان کی توفیق دینے یا نہ دینے کا کلی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، مگر اس کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ اس نعمت سے انھی لوگوں کو محروم رکھتا ہے اور انھی کو کفر و شرک کی نجاست میں پڑے رہنے کے لیے چھوڑتا ہے جو اس کی عطا کردہ عقل سے کام نہیں لیتے اور جس راستے پر اپنے باپ دادا کو چلتے دیکھتے ہیں اسی پر آنکھیں بند کرکے چلتے رہنا پسند کرتے ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (٢٦، ٢٧) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ۝ ٠ ۭ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ۝ ١٠٠ نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه تعالیٰ إضافةُ المِلْك، ويعني بنفسه نُفُوسَنا الأَمَّارَةَ بالسُّوء، وأضاف إليه علی سبیل المِلْك . ( ن ف س ) النفس کے معنی روح کے آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] کہ نکال لو اپنی جانیں ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] اور جان رکھو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے ۔ اور ذیل کی دونوں آیتوں ۔ تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] اور جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے میں اسے نہیں جنتا ہوں ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے اور یہاں نفسہ کی اضافت اگر چہ لفظی لحاظ سے مضاف اور مضاف الیہ میں مغایرۃ کو چاہتی ہے لیکن من حیث المعنی دونوں سے ایک ہی ذات مراد ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ ہر قسم کی دوائی سے پاک ہے بعض کا قول ہے کہ ذات باری تعالیٰ کی طرف نفس کی اضافت اضافت ملک ہے اور اس سے ہمارے نفوس امارہ مراد ہیں جو ہر وقت برائی پر ابھارتے رہتے ہیں ۔ وأَذِنَ : استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه بالسماع، نحو قوله : فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ البقرة/ 279] . ( اذ ن) الاذن اور اذن ( الیہ ) کے معنی تو جہ سے سننا کے ہیں جیسے فرمایا ۔ { وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ } ( سورة الِانْشقاق 2 - 5) اور وہ اپنے پروردگار کا فرمان سننے کی اور اسے واجب بھی ہے اور اذن کا لفظ اس علم پر بھی بولا جاتا ہے جو سماع سے حاصل ہو ۔ جیسے فرمایا :۔ { فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة البقرة 279) تو خبردار ہوجاؤ کہ ندا اور رسول سے تمہاری چنگ ہے ۔ رجس الرِّجْسُ : الشیء القذر، ، والرِّجْسُ يكون علی أربعة أوجه : إمّا من حيث الطّبع، وإمّا من جهة العقل، وإمّا من جهة الشرع، وإمّا من کلّ ذلک کالمیتة، فإنّ المیتة تعاف طبعا وعقلا وشرعا، والرِّجْسُ من جهة الشّرع : الخمر والمیسر، وقیل : إنّ ذلک رجس من جهة العقل، وعلی ذلک نبّه بقوله تعالی: وَإِثْمُهُما أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما [ البقرة/ 219] ، لأنّ كلّ ما يوفي إثمه علی نفعه فالعقل يقتضي تجنّبه، وجعل الکافرین رجسا من حيث إنّ الشّرک بالعقل أقبح الأشياء، قال تعالی: وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَتْهُمْ رِجْساً إِلَى رِجْسِهِمْ [ التوبة/ 125] ، وقوله تعالی: وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لا يَعْقِلُونَ [يونس/ 100] ، قيل : الرِّجْسُ : النّتن، وقیل : العذاب ( ر ج س ) الرجس پلید ناپاک جمع ارجاس کہا جاتا ہے ۔ جاننا چاہیے کہ رجس چار قسم پر ہے ( 1 ) صرف طبیعت کے لحاظ سے ( 2 ) صرف عقل کی جہت سے ( 3 ) صرف شریعت کی رد سے ( 4 ) ہر سہ کی رد سے جیسے میتہ ( مردار سے انسان کو طبعی نفرت بھی ہے اور عقل و شریعت کی در سے بھی ناپاک ہے رجس جیسے جوا اور شراب ہے کہ شریعت نے انہیں رجس قرار دیا ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ چیزیں عقل کی رو سے بھی رجس ہیں چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَإِثْمُهُما أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما [ البقرة/ 219]( مگر ) فائدہ سے ان کا گناہ ( اور نقصان ) بڑھ کر ۔ میں اسی معنی پر تنبیہ کی ہے کیونکہ جس چیز کا نقصان اس کے نفع پر غالب ہو ضروری ہے کہ عقل سلیم اس سے مجتنب رہنے کا حکم دے اسی طرح کفار کو جس قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ شرک کرتے ہیں اور شرک عند العقل قبیح ترین چیز ہے جیسے فرمایا : ۔ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَتْهُمْ رِجْساً إِلَى رِجْسِهِمْ [ التوبة/ 125] اور جس کے دلوں میں نفاق کا روگ ہے تو اس ( سورت ) نے ان کی ( پہلی ) خباثت پر ایک اور خباثت پڑھادی ۔ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لا يَعْقِلُونَ [يونس/ 100] اور خدا ( شرک وکفر کی ) نجاست انہیں لوگون پر ڈالتا ہے جو ( دالائل وحدانیت ) میں عقل کو کام میں نہیں لاتے ۔ بعض نے رجس سے نتن ( بدبو وار ) اور بعض بت عذاب مراد لیا ہے عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٠) حالانکہ کہ کسی کافر کا ایمان لانا بغیر مشیت خداوندی اور اس کی توفیق کے ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں میں جو توحید خداوندی کو نہیں سمجھتے، کفر اور تکذیب کی گندگی کو بھردیتا ہے۔ یہ آیت ابوطالب کے بارے میں اتری ہے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ایمان لانے کے متمنی اور خواہش مند تھے مگر مشیت خداوندی ان کے ایمان لانے کے بارے میں نہ ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

103. All God's bounties are solely at His disposal and one can neither have access to any of these without His leave, nor can one confer them on others. The bounty of having faith and being directed to the right path is also fully contingent upon God's leave. Hence, it is simply inconceivable that without God's leave anyone can attain this bounty or confer it on anyone else. Even if the Prophet (peace be on him) sincerely wants people to believe, it does not lie in his power to accomplish that without God's leave and succour. 104. This fully explains that God's leave and succour are not bestowed on people arbitrarily. God does not capriciously permit or disallow people to embrace faith. There is a definite law - a law that is based on wisdom - according to which God disposes such matters. The law is that those who in their quest for the truth use their reason properly, and in an unbiased manner, are assisted by God. Owing to God's concern, the means of arriving at the truth are made available to them in proportion to the extent of the sincerity of their quest for the truth and their efforts to reach it. They are also granted the succour required for their success in grasping the truth. As for those who are not really in search of the truth, who keep their reason enmeshed in biases, or fail to make use of their reason in their search for the truth, such people are able to find nothing but the abomination of ignorance and misguidance, of false thinking and evil-doing. Their attitude makes it very clear that they merit nothing but ignorance and misguidance and, hence, that is what they are destined for.

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :103 یعنی جس طرح تمام نعمتیں تنہا اللہ کے اختیار میں ہیں اور کوئی شخص کسی نعمت کو بھی اللہ کے اذن کے بغیر نہ خود حاصل کر سکتا ہے نہ کسی دوسرے شخص کو بخش سکتا ہے ، اسی طرح یہ نعمت بھی کہ کوئی شخص صاحب ایمان ہو اور راہ راست کی طرف ہدایت پائے اللہ کے اذن پر منحصر ہے ۔ کوئی شخص نہ اس نعمت کو اذن الہی کے بغیر خود پاسکتا ہے ، اور نہ کسی انسان کے اختیار میں یہ ہے کہ جس کو چاہے یہ نعمت عطا کر دے ۔ پس نبی اگر سچے دل سے یہ چاہے بھی کہ لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بنا سکتا ۔ اس کے لیے اللہ تعالی کا اذن اور اس کی توفیق درکار ہے ۔ سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :104 ”سیدھی راہ“ یعنی وہ راہ جس سے انسان بامراد ہوتا اور حقیقی کامیابی کی منزل پر پہنچتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

41: اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کائنات میں کچھ نہیں ہوسکتا۔ لہذا اس کے بغیر کسی کا ایمان لانا بھی ممکن نہیں، لیکن جو شخص اپنی سمجھ اور اختیار کو صحیح استعمال کر کے ایمان لانا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی توفیق دے دیتا ہے، اور جو شخص عقل اور اختیار کو صحیح استعمال کر کے ایمان لانا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی توفیق دے دیتا ہے، اور جو شخص عقل اور اختیار سے کام نہ لے، اس پرکفر کی گندگی مسلط ہوجاتی ہے

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:100) یجعل الرجس۔ الرجس کے اصل معنی ناپاک، نجس، پلید اور گندہ کے ہیں۔ جیسے اولحم خنزیر فانہ رجس (16:45) یا سور کا گوشت کہ یہ چیزیں بیشک ناپاک ہیں :۔ ویجعل الرجس علی الذین لایعقلون ۔ اور خدا (شرک وکفر کی) نجاست انہیں لوگوں پر ڈالتا ہے جو (دلائل وحدانیت میں) عقل کو کام میں نہیں لاتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 ۔ یعنی جس طرح تکوینی طور پر دنیا کی کوئی نعمت کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی اسی طرح کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی اسی طرح کسی شخص کو ایمان کی نعمت حاصل ہونے یا نہ ہونے کا انحصار بھی اللہ تعالیٰ کے اذن پر ہے۔ کوئی شخص اس نعمت کو نہ خود پاسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو عطا کرسکتا ہے۔ اس لئے اگر نبی چاہے بھی کہ تمام لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بناسکتا۔ اس سے مقصود بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے (شوکانی) 10 ۔ یعنی اگرچہ ایمان کی توفیق دینے نہ دینے کا کلی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے مگر اس کا قاعدہ یہ ہے اس نعمت سے وہ انہی لوگوں کو محروم رکھتا ہے اور انہی کو کفر و شرک کی نجاست میں پڑے رہنے کے لئے چھوڑتا ہے جو اس کی عطا کی کردہ عقل سے کام نہیں لیتے اور جس راستے پر اپنے باپ دادا کو چلتے دیکھتے ہیں اس پر آنکھیں بند کرکے چلتے رہنا پسند کرتے ہیں۔ (کذافی فکبیر والشوکانی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وما کان لنفس ان تؤمن الا باذن اللہ کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ اللہ کے ارادہ و توفیق کے بغیر ایمان لا سکے۔ ویجعل الرجس علی الذین لا یعقلون۔ اور اللہ گندگی ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو سمجھتے نہیں۔ رجس سے مراد ہے عذاب یا اللہ کی مدد سے محرومی ‘ کیونکہ یہ محرومی ہی عذاب کا سبب ہے۔ نہ سمجھنے سے مراد ہے حق و باطل میں تمیز نہ کرنا ‘ یعنی کافروں کے دلوں پر چونکہ مہر لگی ہوئی ہے اور اللہ نہیں چاہتا کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کرسکیں ‘ اسلئے ان کو حق کا باطل سے امتیاز نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

109: اللہ تعالیٰ کے حکم تکوینی اور اس کی مشیت و توفیق کے بغیر کوئی شخص ایمان نہیں لاسکتا اور توفیق صرف انہی لوگوں کو ملتی ہے جو اللہ کی آیتوں میں عقل و فکر سے کام لیں اور ان کے دلوں میں ضد نہ ہو بلکہ انابت اور تلاش حق کا جذبہ ہو۔ “ اَلرِّجْسُ ” شرک کی پلیدی۔ جو لوگ عقل خداداد سے کام نہیں لیتے وہ ہمیشہ شرک کی نجاست سے ملوث رہتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

100 حالانکہ کسی شخص کو بغیر حکم خداوندی اور اس کی مشیت کے ایمان لانا ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ ان ہی لوگوں پر کفر کی گندگی واقع کردیتا ہے اور ان ہی کو کفر کی گندگی میں مبتلا رکھتا ہے جو عقل سے سوچنے سمجھنے کا کام نہیں لیتے یعنی جب تک کسی کے ایمان سے مشیت متعلق نہ ہو ایمان نصیب نہیں ہوتا اور وہی لوگ محروم رہتے ہیں جو بےعقل ہیں اور عقل سے کام نہیں لیتے۔