Surat Younus

Surah: 10

Verse: 101

سورة يونس

قُلِ انۡظُرُوۡا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا تُغۡنِی الۡاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾

Say, "Observe what is in the heavens and earth." But of no avail will be signs or warners to a people who do not believe

آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to reflect upon the Creation of the Heavens and the Earth Allah says, قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ ... Say: "Behold all that is in the heavens and the earth." Allah, the Exalted, guides His servants to reflect upon His blessings. Allah, the Exalted, guides His servants to reflect upon His blessings. What Allah has created in the heavens and the earth is part of the clear signs for those who possess correct understanding. From that which is in the heavens are the luminous stars, the firmaments, the moving planetary bodies, the sun and the moon. This also includes the night and day, their alternating, and their merging so that one is long and the other is short. Then they alternate (through the year) so that the long one becomes short and the short one becomes long. Likewise, from the signs in the heavens is the rising of the sun, its vastness, its beauty and its adornment. Also, whatever rain that Allah sends down from the heavens, thereby bringing the earth to life after its death, and causing various types of fruits, crops, flowers and plants to grow, is from its signs. Whatever Allah creates in the earth from the various species of beasts, with their differing colors and benefits (for man), are signs. The mountains, plains, deserts, civilizations, structures and barren lands of the earth are signs. Then there are the wonders of the sea and its waves. Yet, it still has been made subservient and submissive to those who travel upon its surface. It carries their ships, allowing them to traverse upon it with ease. This is all under the control of the Most Able; there is no God worthy of worship except Him and there is no true Lord other than Him. Concerning Allah's statement, ... وَمَا تُغْنِي الايَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُوْمِنُونَ But neither Ayat nor warners benefit those who do not believe. This means, `What thing will benefit such disbelieving people besides the heavenly and earthly signs, and the Messengers with their miracles, proofs and evidences that clearly prove the truthfulness of their message.' This is similar to Allah's statement, إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لاَ يُوْمِنُونَ Truly! Those against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. (10:96) Concerning Allah's statement,

دعوت غور و فکر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اس کی قدرتوں میں اس کی پیدا کردہ نشانیوں میں غور و فکر کرو ۔ آسمان و زمین اور ان کے اندر کی نشانیاں بیشمار ہیں ۔ ستارے سورج ، چاند رات دن اور ان کا اختلاف کبھی دن کی کمی ، کبھی راتوں کاچھوٹا ہوجانا ، آسمانوں کی بلندی ان کی چوڑائی ان کا حسن و زینت اس سے بارش برسانا اس بارش سے زمین کا ہرا بھرا ہو جانا اس میں طرح طرح کے پھل پھول کا پیدا ہونا ، اناج اور کھیتی کا اگنا ، مختلف قسم کے جانوروں کا اس میں پھیلا ہوا ہونا ، جن کی شکلیں جدا گانہ ، جن کے نفع الگ الگ جن کے رنگ الگ الگ ، دریاؤں میں عجائبات کا پایا جانا ، ان میں طرح طرح کی ہزارہا قسم کی مخلوق کا ہونا ، ان میں چھوٹی بڑی کشتیوں کا چلنا ، یہ اس رب قدیر کی قدرتوں کے نشان کیا تمہاری رہبری ، اس کی توحید اس کی جلالت اس کی عظمت اس کی یگانگت اس کی وحدت اس کی عبادت ، اس کی اطاعت ، اس کی ملکیت کی طرف نہیں کرتی؟ یقین مانو نہ اس کے سوا کوئی پروردگار ، نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت ہے درحقیقت بے ایمانوں کے لیے اس سے زیادہ نشانیاں بھی بےسود ہیں ۔ آسمان انکے سر پر اور زمین انکے قدموں میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے ، دلیل و سند ان کے آگے ، لیکن یہ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے ۔ ان پر کلمہ عذاب صادق آچکا ہے ۔ یہ تو عذاب کے آجانے سے پہلے مومن نہیں ہوں گے ۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے اور انہی کٹھن دنوں کے منتظر ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں پر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے گزر چکے ہیں ۔ اچھا انہیں انتظار کرنے دے اور تو بھی انہیں اعلان کر کے منتظر رہ ۔ انہیں ابھی معلوم ہو جائے گا ۔ یہ دیکھ لیں گے کہ ہم اپنے رسولوں اور سچے غلاموں کو نجات دیں گے ۔ یہ ہم نے خود اپنے نفس کریم پر واجب کر لیا ہے ۔ جیسے آیت میں ہے کہ تمہارے پروردگار نے اپنے نفس پر رحمت لکھ لی ہے ۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب لکھی ہے جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آچکی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٩] ضد اور تعصب کی موجودگی میں اللہ کی کوئی نشانی فائدہ نہیں دیتی :۔ جو لوگ اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرتے ہیں ان کے لیے تو کائنات کی ایک ایک چیز میں اللہ کی معرفت کے دلائل مل سکتے ہیں حتیٰ کہ درختوں کے پتے، پھولوں کی مہک اور ان کے مختلف رنگ اور شکلیں بھی اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر بیشمار دلائل پیش کر رہی ہیں اور جو لوگ غور و فکر کے بجائے ہٹ دھرمی & ضد اور تعصب سے کام لیتے ہیں ان کے لیے حسی معجزے بھی بیکار ثابت ہوتے ہیں وہ انھیں بھی دیکھ کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو محض جادو کی کرشمہ سازیاں ہیں ان کے لیے نہ کوئی نصیحت کارگر ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت کا خوف انھیں ایمان لانے پر آمادہ کرسکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : یعنی ایمان لانے کے لیے زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی توحید کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ ) [ یوسف : ١٠٥ ] ” اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے گزرتے ہیں اور وہ ان سے بےدھیان ہوتے ہیں۔ “ اور فرمایا : (وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ ) [ الذاریات : ٢٠ ] ” اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں۔ “ وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، یعنی وہ لوگ جن کی قسمت ہی میں نہیں کہ وہ ایمان لائیں گے، انھیں نہ نشانیوں سے کچھ فائدہ ہوتا ہے نہ ڈرانے والی چیزوں یا ڈرانے والے پیغمبروں اور داعی حضرات سے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جو لوگ طے کرلیتے ہیں کہ چاہے کچھ ہوجائے ہم ہرگز اپنے باپ دادا کا راستہ چھوڑ کر ایمان نہیں لائیں گے، انھیں نشانیوں اور ڈرانے والے پیغمبروں سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ ” الَنُّذُر “ ” نَذِیْرٌ“ کی جمع ہے، ڈرانے والے معجزے ہوں یا آیات یا پیغمبر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو ( اور دیکھو) کہ کیا کیا چیزیں ہیں آسمان میں اور زمین میں ( آسمانوں میں ستارے وغیرہ اور زمین میں بےانتہا مخلوق نظر آتی ہے یعنی ان میں غور کرنے سے توحید کی دلیل عقلی حاصل ہوگی، یہ بیان ہوا ان کے مکلف ہونے کا) اور جو لوگ ( عنادًا) ایمان نہیں لاتے ان کو دلائل اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتے ( یہ بیان ہوا ان کے عناد کا) سو ( ان کی اس حالت عناد سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) وہ لوگ ( بدلالت حال) صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ( یعنی باجود دلائل اور وعیدوں کے جو ایمان نہیں لاتے تو ان کی حالت اس شخص کے مشابہ ہے جو ایسے عذاب کا منتظر ہو جو کہ پہلی قوموں پر آیا تھا سو) آپ فرما دیجئے کہ اچھا تو تم ( اس کے) انتظار میں رہو میں بھی تمہارے ساتھ ( اس کے) انتظار کرنے والوں میں ہوں ( جن گزشتہ قوموں کا اوپر ذکر تھا ہم ان پر تو عذاب واقع کرتے تھے) پھر ہم ( اس عذاب سے) اپنے پیغمبروں کو اور ایمان والوں کو بچا لیتے تھے ( جس طرح ان مؤمنین کو ہم نے نجات دی تھی) ہم اسی طرح سب ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں یہ ( حسب وعدہ) ہمارے ذمہ ہے ( پس اسی طرح اگر ان کفار پر کوئی افتاد پڑی تو مسلمان اس سے محفوظ رہیں گے خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں ) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۭ وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۝ ١٠١ ( ماذا) يستعمل علی وجهين : أحدهما . أن يكون ( ما) مع ( ذا) بمنزلة اسم واحد، والآخر : أن يكون ( ذا) بمنزلة ( الذي) ، فالأوّل نحو قولهم : عمّا ذا تسأل ؟ فلم تحذف الألف منه لمّا لم يكن ما بنفسه للاستفهام، بل کان مع ذا اسما واحدا، وعلی هذا قول الشاعر : دعي ماذا علمت سأتّقيه أي : دعي شيئا علمته . وقوله تعالی: وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] ، فإنّ من قرأ : قُلِ الْعَفْوَ بالنّصب فإنّه جعل الاسمین بمنزلة اسم واحد، كأنّه قال : أيّ شيء ينفقون ؟ ومن قرأ : قُلِ الْعَفْوَ بالرّفع، فإنّ ( ذا) بمنزلة الذي، وما للاستفهام أي : ما الذي ينفقون ؟ وعلی هذا قوله تعالی: ماذا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ؟ قالُوا : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ النحل/ 24] ، و (أساطیر) بالرّفع والنصب ( ماذا ) اور ماذا ، ، بھی دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ اول یہ کہ ، ، مازا کے ساتھ مل کر بمنزلہ ایک اسم کے ہو ۔ دوم یہ کہ ذا لذی کے ہو ( ما بمعنی اول یہ کہ ماذا ، ، کے ساتھ مل کر بمنزلہ ایک اسم کے ہو ۔ دوم یہ کہ ذا بمنزلہ الذی کے ہو ( ما بمعنی ای شئی کے ہو پہلی قسم کی مثال جیسے : عما ذا تسال کہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے ہو اس صورت میں چونکہ ، ، ماذا اکیلا ، ، استفہام کے لئے نہیں ہے بلکہ ، ، ذا کے ساتھ مل کر ایک اسم بنتا ہے اس لئے ، ، ما ، ، کے الف کو حزف نہیں کیا گیا ۔ اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے یعنی جو چیز تجھے معلوم ہے اسے چھوڑ دے میں اس سے بچنے کی کوشش کرونگا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ کہ ( خدا کی راہ میں ) کونسا مال خرچ مال کریں ۔ میں جو لوگ کو منصوب پڑھتے ہیں ۔ وہ ماذا کو بمنزلہ ایک اسم کے مانتے ہیں کونسی چیز صرف کریں مگر جن کے نزدیک ہے اور ما استفہا میہ ہے یعنی وہ کونسی چیز ہے جسے خرچ کریں ۔ اس بنا پر آیت کریمہ : ۔ ماذا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ؟ قالُوا : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ النحل/ 24] کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہی تو کہتے ہیں کہ ( وہ تو ) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں ۔ میں اساطیر رفع اور نصب دونوں جائز ہیں ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ غنی( فایدة) أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا ۔۔۔۔ لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] نہ تو ان کا مال ہی خدا کے عذاب سے انہیں بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی کچھ کام آئیگی الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والانَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔ النذ یر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠١) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم چاند، سورج، اور ستاروں کو دیکھو اور غور کرو کہ کیا کیا چیزیں زمین میں ہیں درخت، جانور، پہاڑ، دریا ان میں غور وفکر کرنے سے تمہارے لیے توحید پر دلیل عقلی قائم ہوگی اور علم ازلی میں جو لوگ ایمان لانے والے نہیں ان کو رسولوں کی دھمکیاں اور دلائل کچھ فائدہ نہیں دے سکتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠١ (قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیاں ہیں ‘ ان کو بنظر غائر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

105. This is the final and categorical response to the unbelievers. The unbelievers had asked that they be shown some convincing sign that would make them confirm the truth of the Prophet's claim to prophethood. Here they are being told that if the unbelievers had any desire to seek and accept the truth, there are innumerable signs scattered throughout the heavens and the earth, signs that are more than sufficient to convince them about the truth of the Prophet's message. All one needed to do was to look around with open eyes and to reflect on what one observes. Conversely, if there are some people who have no inclination to seek the truth, then no signs - howsoever extraordinary and wonder-provoking they may be - will help them to have faith. For, whenever such people witness any such sign, they cry out, as did Pharaoh and his chiefs, that it is 'plain sorcery' (see verse 76 above). Those who are afflicted with such a sickness, wake up to the truth only when God's punishment befalls them in all its horror. An instance in point is Pharaoh's realization of the truth as he faced death by drowning (see verse 90 above). But to repent only when one is being seized by God's wrath is of no avail.

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :105 یہ ان کے اس مطالبہ کا آخری اور قطعی جواب ہے جو وہ ایمان لانے کے لیے شرط کے طور پر پیش کرتے تھے کہ ہمیں کوئی نشانی دکھائی جائے جس سے ہم کو یقین آجائے کہ تمہاری نبوت سچی ہے ۔ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ اگر تمہارے اندر حق کی طلب اور قبول حق کی آمادگی ہو تو وہ بے حدوحساب نشانیاں جو زمین وآسمان میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں تمہیں پیغام محمدی کی صداقت کا اطمینان دلانے کے لیے کافی سے زیادہ ہیں ۔ صرف آنکھیں کھول کر انہیں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ لیکن اگر یہ طلب اور یہ آمادگی ہی تمہارے اندر موجود نہیں ہے تو پھر کوئی نشانی بھی ، خواہ وہ کیسی ہی خارق عادت اور عجیب و غریب ہو ، تم کو نعمت ایمان سے بہرہ ور نہیں کر سکتی ۔ ہر معجزے کو دیکھ کر تم فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف کہو گے کہ یہ تو جادوگری ہے ۔ اس مرض میں جو لوگ مبتلا ہوتے ہیں ان کی آنکھیں صرف اس وقت کھلا کرتی ہیں جب خدا کا قہروغضب اپنی ہولناک سختی گیری کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑتا ہے جس طرح فرعون کی آنکھیں ڈوبتے وقت کھلی تھیں ۔ مگر عین گرفتاری کے موقع پر جو توبہ کی جائے اس کی کوئی قیمت نہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

42: اس کائنات کی ہر چیز کو اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا شاہکار ہے، اس سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ محیر العقول کارخانہ خود بخود وجود میں نہیں آگیا، اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بلکہ اس سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ جو ذات اتنی عظیم کائنات پیدا کرنے پر قادر ہے، اسے اپنی خدائی کے لیے کسی شریک یا مددگار کی حاجت نہیں ہے، لہذا وہ ہے، اور ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس آئنہ خانے میں سبھی عکس ہیں تیرے اس آئنہ خانے میں تو یکتا ہی رہے گا

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠١۔ ١٠٣۔ اوپر منکرین قیامت کی کم عقلی کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان کو عقل سے کام لینے پر آمادہ کیا اور فرمایا کے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ زمین و آسمان میں کیا کچھ نہیں ہے اگر تم لوگ غور اور فکر کرو تو بات بات سے سمجھ لو کہ خدا کی خدائی میں تمہارے بتوں کو کچھ دخل نہیں ہے۔ چاند سورج دن کا ہونا رات کا ہونا اندھیری راتوں میں ستاروں کا نکلنا راتوں کو سفر کرنے والوں کو کیسا مفید ہے کہ وہ ستاروں کو دیکھ کر سمت دریافت کرلیا کرتے ہیں پھر بارش کا ہونا کھیتوں کا سرسبز کرنا کیسا فائدہ مند ہے غرض کہ ہوشیار آدمی درختوں کے پتہ تک سے خدا کی وحدانیت کا پتہ لگا لیتا ہے پھر فرمایا کہ یہ قدرت کی سب نشانیاں اسی کو بکار آمد ہیں جو ایمان بھی لاوے اور جو ایمان لانے والے نہیں ہیں یہ نشانیاں انہیں کیا فائدہ پہنچائیں گی کیوں کہ ان لوگوں کو بھی اسی روز بد کا انتظار ہے جیسے اگلے رسولوں کی قوم کو تھا کہ اپنے رسول کو جھٹلاتے رہے اور آخر ایک روز ان پر عذاب آیا اور وہ اس سے بچ نہ سکے اگر یہ بھی اسی کے منتظر ہیں تو کہہ دو کہ کان اور آنکھیں اسی کی راہ اور آواز پر رکھو ہم بھی تمہارے ساتھ بیٹھے انتظار کر رہے ہیں اور یہ یاد رکھو کہ خدا کا عذاب جب آتا ہے تو وہ اپنے رسول اور مومنوں کو بچا لیتا ہے اور رسول کے جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیتا ہے خدا نے اپنے ذمہ یہ بات ضروری ٹھہرائی ہے کہ وہ مومنوں کو نجات دے گا اور پناہ میں رکھے گا اور نافرمان لوگوں کو ایک دن عذاب میں گرفتار کرے گا۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) کی یہ روایت سورة انفال میں گزر چکی ہے کہ ابو جہل وغیرہ نے اپنی سرداری کے غرور میں یہ دعا مانگی تھی۔ کہ یا اللہ اگر یہ قرآن اور دین اسلام سچ ہو اور ہم اس کو نہ مانتے ہوں تو ہم پر پتھروں کا مینہ برسے یا اور کوئی عذاب ہم پر آجاوے۔ ١ ؎ اسی طرح صحیح بخاری میں انس بن مالک (رض) کی حدیث ہے کہ بدر کی لڑائی میں جب ابو جہل سخت زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا تھا تو عبد اللہ بن مسعود (رض) نے غصہ سے اس کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ ٢ ؎ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ عذاب کے آنے سے پہلے جب مشرکین مکہ کو عذاب سے ڈرایا جاتا تھا تو سرکشی کر کے عذاب کے آنے کی خود دعا مانگتے تھے اور جب ان مکی آیتوں کے وعدہ کے موافق ہجرت کے بعد عذاب آگیا تو ان کے بڑے بڑے سرداروں کی ساری عزت اور سرکشی خاک میں مل گئی ابو جہل جیسے سرکش سردار کی ڈاڑھی پکڑی جاوے اور کوئی حمایت کو نہ کھڑا ہو اس سے زیادہ عزت اور سرکشی اور کیا خاک میں مل سکتی ہے۔ ان حدیثوں سے یہ تفسیر بھی ہوسکتی ہے کہ جس طرح آیتوں میں ذکر تھا آخر وہی ہوا کہ مکہ کے سرکش ازلی گمراہ لوگ اپنی سرکشی کے سبب سے عقل کو کچھ کام میں نہ لاسکے نہ قدرت الٰہی کی کسی نشانی سے کچھ فائدہ اٹھا سکے اور آیتوں کے موافق ان کا جو کچھ انجام ہوا وہ انہوں نے اور سب نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ١ ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص ٣٧٢۔ ٢ ؎ صحیح بخاری ص ٥٦٥ ج، باب قتل ابی جہل

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10: 101) انظروا۔ نظر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم دیکھو۔ تم غور کرو۔ ماذا۔ ماذا کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔ (1) اسم جنس ہے ۔ (2) موصول ہے اور الذی کا ہم معنی ہے (3) ما استفہامیہ ہے اور ذا موصولہ ہے۔ (4) ما استفہامیہ ہے اور ذا اسم اشارہ ہے (5) ذا اسم اشارہ اور ما زائدہ ہے (6) ما استفہامیہ اور ذا زائدہ ہے۔ ماذا۔ کیا ۔ ماذا اتفعل تو کیا کر رہا ہے ۔ لما ذا جئت تو کیسے آیا۔ کس لئے آیا ۔ یسئلونک ماذا ینفقون ۔ (2:219) تم سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں۔ یہاں آیۃ میں ذا بمعنی الذی آیا ہے۔ ماتغنی۔ ما نافیہ ہے۔ النذر۔ نذیر کی جمع ہے ڈرانے والے۔ یعنی رسول۔ پیغمبران اور اگر النذیر بمعنی مصدر ہو تو بمعنی انذار (ڈرانا۔ تنبیہ کرنا) یعنی جو لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے ان کو (اللہ کی) آیات اور رسول (یا اس کی تنبی ہیں) کچھ بھی نفع نہیں پہنچاتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ یا جو طے کرلیتے ہیں کہ چاہے کچھ ہوجائے ہم ہرگز اپنے باپ دادا کے راستہ کو چھوڑ کر ایمان نہیں لائیں گے۔ (کذافی فی الوحیدی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی ان میں غور کرنے سے توحید کی دلیل عقلی حاصل ہوگی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے تذکرہ کے بعد۔ انسان کو توجہ دلائی گئی ہے اگر تھوڑا سا عقل سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر غور کرے تو اس کے لیے ہدایت کے راستے کھل جائیں گے۔ اللہ کی قدرت کی نشانیاں زمین و آسمان میں اس قدر نمایاں اور پھیلی ہوئی ہیں کہ آدمی تھوڑی سی توجہ کرے تو وہ خود بخود اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں۔ آسمان کی طرف دیکھیے کب سے جوں کا توں بلا ستون کھڑا ہے نہ اس کی رنگت میں کوئی فرق آیا ہے اور نہ ہی کہیں سے جھکا اور پھٹا ہے یہاں تک کہ اس میں دراڑ اور نشیب و فراز بھی نظر نہیں آتا۔ اب اپنے پاؤں تلے زمین پر غور فرمائیے کہ بظاہر ایک ہی دھرتی ہونے کے باوجود اس مٹی کی ہزاروں قسمیں ہیں۔ ایک زمین چنے کی فصل اگاتی ہے اگر آپ وہاں چاول کی فصل لگائیں تو وہ اسے ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ زمین کا ایک قطعہ سبزیوں کے لیے مفید ہے جبکہ دوسرا گنے اور کپاس کی فصل زیادہ اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو اتنا امانت دار اور فراخ دل بنایا ہے کہ آپ ایک کھیت میں بیس پچیس کلو بیج ڈالتے ہیں تو وہ نہ صرف اس کی حفاظت کرتی ہے بلکہ بیس پچیس کلو کی جگہ چالیس پچاس من گندم واپس کرتی ہے پھر غور فرمائیں زمین، پانی، موسم ایک ہونے کے باوجود پھلوں کے ذائقے اور رنگت میں زمین آسمان سے بھی زیادہ فر ق ہے۔ آپ جوں جوں قادرمطلق کی قدرت پر غور کریں گے اسی انداز سے اپنے مالک کو پہچانتے جائیں گے۔ بیشمار نشانیاں اور ان گنت شواہد اس شخص کو کچھ فائدہ نہیں دیتے جو اللہ تعالیٰ کی ثبت کردہ نشانیوں سے بےاعتنائی اور اس کے خوف سے بےخوف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس برے وقت کا انتظار کرتے ہیں جو ان سے پہلے مجرم قوموں پر وارد کیا گیا تھا۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بس ان ناعاقبت اندیش، خدا کے خوف سے تہی دامن اور عقل کے اندھوں کو یہی کہنا چاہیے کہ تم اپنے انجام کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ اس کا انتظار کرتا ہوں۔ لیکن یاد رکھنا کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا تو وہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو اس سے محفوظ فرمائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے جب نبی کی موجودگی میں اس کی قوم پر عذاب آتا ہے تو نبی اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو اس بستی سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوا کرتا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے بےایمان لوگ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ اپنے عذاب سے اپنے رسولوں اور مومنین کو محفوظ رکھتا ہے۔ ٣۔ مومنوں کو نجات دینا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ مومنوں کی مدد کرتا ہے : ١۔ پھر ہم اپنے پیغمبروں اور ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں۔ (یونس : ١٠٣) ٢۔ مومنوں کی مدد کرنا ہمارے لیے لازم ہے۔ (الروم : ٤٧) ٣۔ بیشک ہم مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں۔ (المومن : ٥١) ٤۔ اے ایمان والو ! تم اللہ کی مدد کرو (یعنی اللہ کے دین کی) اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ (محمد : ٧) ٥۔ ہم نے ان کی مدد کی سو وہ غالب آگئے۔ (الصٰفٰت : ١١٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل انظروا ما ذا فی السموت والارض (اے محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ دیکھو ‘ غور کرو ‘ سوچو ! آسمان اور زمین میں کیسی عجیب نشانیاں ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ ستارے ‘ ان کی بناوٹ ‘ مربوط رفتار ‘ پہاڑ ‘ ان کی استقامت ‘ سمندر ‘ دریا ‘ درخت اور کائنات نباتی و حیوانی ‘ ان تمام چیزوں کے اندر ایک صانع و قادر ‘ دانا و یگانہ کی قدرت و صنعت جھلک رہی ہے ‘ اس کی ذات کی عظمت اور صفات کے کمال کا ان سے ظہور ہو رہا ہے۔ وما تغنی الایت والنذر عن قوم لا یؤمنون۔ جو قوم (ا اللہ کے علم میں اور اس کی مشیت میں) ایمان لانے والی نہیں ‘ اس کو (علم و یقین پیدا کرنے والی) نشانیوں اور ڈرانے والے (پیغمبروں اور عبرتوں) سے کیا فائدہ۔ ما تُغْی میں لفظ مانافیہ ہے (کوئی فائدہ نہیں) یا استفہام انکاری کیلئے (کیا فائدہ) ۔ النُّذُرُجمع ۔ نذیر ‘ ڈرانے والے۔ اس سے مراد ہیں اللہ کے پیغمبر (جو اللہ کی نافرمانی کی سزا سے ڈراتے ہیں) اور دوسری عبرت آفریں چیزیں جیسے بڑھاپا (جو فنا اور موت کا نشان ہے) اور ساتھیوں کی موت (جو انسان کیلئے اپنی موت کا یقین دلانے اور ڈرانے کیلئے کافی ہے) چونکہ ایمان محض عطیۂ خداوندی ہے (اس کی مشیت پر اس کا حصول موقوف ہے) اسلئے فرمایا کہ جو ایمان لانے والے نہیں یعنی اللہ کی مشیت و علم میں ان کا مؤمن ہونا مقدر نہیں ‘ وہ کسی نشانی کو دیکھ کر اور ڈراوا سن کر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

110: آپ ان کو زمین و آسمان کی عجائب المخلوقات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیں مگر یہ تکوینی دلائل اور انبیاء ورسل (علیہم السلام) کی آسمانی تعلیم ایسے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں دیتی جن سے مہر جباریت کی وجہ سے توفیق ایمان سلب کرلی گئی ہو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

101 اے پیغمبر ! آپ ان سے فرما ئیے کہ تم ذرا غور کرو اور دیکھو کہ کیا چیزیں ہیں آسمانوں میں اور زمین میں اور جو لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ان کو نہ دلائل کچھ فائدہ پہونچا تے ہیں اور نہ ڈرانے والے یعنی آسمان و زمین میں قدرت کی نشانیاں بھری ہوئی ہیں ذرا غور و فکر کی ضرورت ہے۔