Surat Younus

Surah: 10

Verse: 106

سورة يونس

وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾

And do not invoke besides Allah that which neither benefits you nor harms you, for if you did, then indeed you would be of the wrongdoers.'"

اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے ، پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلاَ تَدْعُ مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَنفَعُكَ وَلاَ يَضُرُّكَ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ "And do not invoke besides Allah what will not benefit you nor harm you. For if you did, you would certainly be one of the wrongdoers." Concerning His statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

106۔ 1 یعنی اگر اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبودوں کو آپ پکاریں گے جو کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہیں تو یہ ظلم کا ارتکاب ہوگا، عبادت چونکہ صرف اللہ کا حق ہے جس نے تمام کائنات بنائی ہے اور تمام اسباب حیات بھی وہی پیدا کرتا ہے تو اس مستحق عبادت ذات کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا نہایت ہی غلط ہے اس لئے شرک کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں بھی خطاب اگرچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے لیکن اصل مخاطب افراد انسانی اور امت محمدیہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٤] مشرک کی عام فہم تعریف & کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا :۔ انسان جب بھی کسی ہستی یا معبود کو پکارتا ہے تو اس سے اس کی اغراض دو ہی قسم کی ہوسکتی ہیں یا تو کسی ایسے کام کے لیے پکارے گا جس سے اسے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہو جیسے اولاد یا رزق کی طلب یا کسی ایسے کام کے لیے پکارے گا جس سے اس کی کوئی مصیبت یا تکلیف دور ہوسکتی ہو۔ اصطلاح عام میں ان دونوں اغراض کو جلب منفعت اور دفع مضرت اور آسان تر الفاظ میں حاجت روائی اور مشکل کشائی کہا جاتا ہے اور ان دونوں طرح کے اغراض کے لیے اللہ کے سوا کسی کو پکارنا ہی اس کی عبادت ہوتی ہے اور اس مضمون پر کتاب و سنت میں بیشمار دلائل موجود ہیں۔ اور یہی بات سب سے بڑا شرک یا ظلم عظیم ہوتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ : اس میں اللہ تعالیٰ کے سوا زمین و آسمان کی ہر زندہ یا مردہ ہستی اور ہر جان دار یا بےجان چیز آگئی۔ یہ مطلب نہیں کہ پہلے تو کسی بزرگ یا نبی کی قبر کے بارے میں یہ غلط عقیدہ قائم کرلیا جائے کہ وہ نفع نقصان پہنچا سکتی ہے، پھر اسے سجدے کیے جائیں اور اس سے مرادیں طلب کی جائیں اور کہا جائے کہ ہم نفع نقصان کا اختیار رکھنے والوں ہی کو پکار رہے ہیں۔ اس آیت کی اس طرح تاویل کرنا اللہ کی کتاب سے کھیلنا اور اس کا مذاق اڑانا ہے۔ اس آیت کا صاف مطلب مشرکین کو سمجھانا ہے کہ ہر قسم کے نفع نقصان کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ (فتح القدیر) اس سے اگلی آیت میں اس کی صراحت بھی آرہی ہے۔ یہاں اگرچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیر اللہ کے پکارنے سے منع کیا گیا ہے، مگر درحقیقت پوری امت کو اس سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ اس شخص کو منع کرنا جس نے نہ وہ کام کیا ہو نہ کبھی کرنا ہو، اس کا مطلب دوسروں کو منع کرنے میں مبالغہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ) [ الزمر : ٦٥ ] ” اور بلاشبہ یقیناً تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقیناً تیرا عمل ضرور ضائع ہوجائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہوجائے گا۔ “ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيْنَ : کیونکہ شرک کے برابر کوئی ظلم نہیں، جیسے فرمایا : (اِنَّ الشِّرْکَ لَظٗلْمٌ عَظِیْم) [ لقمان : ١٣] ” بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔ “ ظلم کا مطلب ہے : ” وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ “ کہ کسی چیز کو بےموقع اور غلط جگہ استعمال کرنا۔ تو عبادت جو صرف خالق کا حق ہے کسی مخلوق کو دینے سے بڑا ظلم اور بےانصافی کیا ہوسکتی ہے۔ یہاں ” اگر تو نے ایسا کیا “ سے مراد ہے کہ اگر تو نے اس کو پکارا جو نہ تجھے نفع دے نہ نقصان تو ظالموں میں سے ہوگا۔ یہ مضمون قرآن مجید کی کئی آیات میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی نہ کسی نفع کا مالک ہے نہ نقصان کا۔ دیکھیے سورة نمل (٦٢) ، مائدہ (٧٦) اور سبا (٢٢) اور بھی بہت سی آیات ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ۝ ٠ ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِــمِيْنَ۝ ١٠٦ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ نفع النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] ( ن ف ع ) النفع ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں ۔ ضر الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم والفضل والعفّة، وإمّا في بدنه لعدم جارحة ونقص، وإمّا في حالة ظاهرة من قلّة مال وجاه، وقوله : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] ، فهو محتمل لثلاثتها، ( ض ر ر) الضر کے معنی بدحالی کے ہیں خواہ اس کا تعلق انسان کے نفس سے ہو جیسے علم وفضل اور عفت کی کمی اور خواہ بدن سے ہو جیسے کسی عضو کا ناقص ہونا یا قلت مال وجاہ کے سبب ظاہری حالت کا برا ہونا ۔ اور آیت کریمہ : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] اور جوان کو تکلیف تھی وہ دورکردی ۔ میں لفظ ضر سے تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٦) اور یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت نہ کروں کہ جو تجھ کو نہ عبادت کی حالت میں کوئی نفع دنیوی واخروی پہنچا سکے اور نہ ترک عبادت کی حالت میں کوئی دنیاوی واخروی نقصان پہنچا سکے پھر اگر بالفرض ایسا کیا تو تم اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠٦۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے یہ فرمایا ہے کہ جس کے ہاتھ میں کچھ نفع و نقصان نہ ہو اس کو مدد کی غرض سے پکارنا اور اس کی پرستش کرنا بےفائدہ اور بڑے ظلم اور ستم کی بات ہے کیوں کہ جس اللہ نے پیدا کیا اور جس اللہ کی قدرت میں بندہ کا نیک و بد نفع و نقصان سب کچھ ہے اس پروردگار کو چھوڑ کر بےنفع و نقصان کی چیزوں کو اپنا معبود بنانا اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی ظلم اور ستم نہیں ہے۔ اس آیت کے مطلب میں بظاہر یہ خطاب تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا ہے اور دراصل مکہ کے بت پرست لوگوں کو یہ مطلب سمجھایا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے معبود حقیقی کو چھوڑ کر جو لوگ بتوں کی پرستش کرتے ہیں وہ لوگ بڑے ظالم اور ستم گار ہیں آگے کی آیت میں اس مطلب کے ثابت کرنے کی دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف کی غیب کی تکلیف اور راحت کا بدلنا جب کہ دنیا میں ہر ایک کے اختیار سے باہر ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معبود بننے کا حق نہیں ہے اور جو لوگ بغیر کسی حق اور استحقاق کے سوا اللہ تعالیٰ کے اور چیزوں کو معبود قرار دیتے ہیں وہ بڑے ظالم اور ستمگار ہیں مسند امام احمد اور ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی حدیث گویا ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبد اللہ بن عباس (رض) کو نصیحت کرتے وقت یہ فرمایا کہ ہر طرح کی مدد کی خواہش تجھ کو اللہ تعالیٰ سے ہی کرنی چاہیے کیوں کہ تمام دنیا تجھ کو ضرر پہنچانا چاہے یا نفع جب تک اللہ کی مرضی نہ ہو نہ کوئی تجھ کو نفع پہنچا سکتا ہے نہ کچھ ضرر پہونچا سکتا ہے۔ ١ ؎ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ ١ ؎ مشکوۃ ص ٤٥٣ باب التوکل والصبر۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:106) لا تدع۔ فعل نہیج واحد مذکر حاضر۔ آخر سے واؤ حرف علت محذوف ہے۔ تو مت پکار۔ تو مت عبادت کر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے سوا زمین و آسمان کی ہر زندہ یا مردہ ہستی اور ہر جاندار یا بےجان چیز آگئی۔ یہ مطلب نہیں کہ پہلے تو کسی بزرگ یا نبی کی قبر کے بارے میں یہ غلط عقیدہ قائم کرلیا جائے کہ وہ نفع و نقصان پہنچا سکتی ہے اور پھر اسے سجدے کئے جائیں اور اس سے مرادیں طلب کی جائیں۔ اس آیت کی اس طور پر تاویل کرنا اللہ کی کتاب سے کھیلنا اور اس کا مذاق اڑانا ہے۔ مطلب مشرکین کو سمجھانا ہے کہ ہر قسم کے نفع و نقصان کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ (فتح القدیر) ۔ 5 ۔ کیونہ شرک کے برابر کوئی ظلم نہیں ہے جیسے فرمایا : ان الشرک لظم عظیم۔ یہاں پر ” فعل “ کنایہ ہے۔ دعا سے ای ان دعوت ما لا ینفع ولا یضرالخ۔ (روح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : صرف ایک اللہ کی عبادت اس لیے بھی کرنا ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی نفع و نقصان کا مالک نہیں نہ ہی اس کے علاوہ کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ توحید یہ ہے کہ اللہ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی زندہ یا مردہ کو شریک نہ سمجھا جائے۔ یہ عقیدہ دین کی ابتداء اور انتہا ہے۔ اسے سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ بار بار مختلف انداز اور الفاظ استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ اس پر پکے ہوجاو۔ یہی دنیا میں انسان کی کامیابی اور آخرت کی فلاح کا راستہ ہے۔ اس عقیدہ کی اہمیت اور فرضیت کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لے کر ہر انسان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کسی کی عبادت کرے اور نہ ہی کسی کو اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھے۔ اسی سے انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان ہر قسم کے نفع و نقصان سے بالا تر ہو کر محض اخلاص کی بنیاد پر دوسرے آدمی کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے۔ یہ عقیدہ زندگی کے ہر میدان میں انسان کو ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہو کر رہنے کا سبق دیتا ہے۔ کیونکہ اس کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف ایک اللہ ہے اگر وہ نہ چاہے تو کوئی مجھے نہ فائدہ دے سکتا ہے اور نہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس عظیم تصور اور عقیدے کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنے رسول کو مخاطب کیا ہے کہ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر آپ بھی اس عقیدہ سے ہٹ جائیں تو آپ کا شمار ظالموں میں ہوگا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک اور اس کا ارتکاب کرنے والے ظالم ہوں گے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی بےمثال ہستی اور اس کی عظیم صفات کے ساتھ مردوں اور ادنیٰ چیزوں کو شریک بناتے ہیں۔ اس عقیدہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی تکلیف دینے کا فیصلہ کرے تو زمین و آسمان میں کوئی طاقت نہیں جو اس تکلیف کو آپ سے دور کردے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو خیر اور بھلائی عطا کرنا چاہیے ہے تو زمین و آسمان میں کوئی قوت نہیں جو اللہ کے فضل کو آپ سے دور کرسکے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے۔ کیونکہ وہ بہت معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ اس عقیدہ کی تازگی اور پختگی کے لیے آپ نے اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عباس (رض) کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یوں فرمایا۔ (عَنِ الْمُغِےْرَۃِ ابْنِ شُعْبَۃَ (رض) اَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَانَ ےَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلٰوۃٍ مَّکْتُوْبَۃٍ (لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِےْرٌ اَللّٰھُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا اَعْطَےْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا ےَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ )[ رواہ البخاری : باب الذکر بعد الصلٰوۃ ] ” حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) ذکر کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نماز کے بعد اکثر یہ کلمات ادا فرمایا کرتے تھے۔ ” صرف ایک اللہ ہی معبود حق ہے اس کا کسی لحاظ سے کوئی شریک نہیں اس کی حکمرانی ہے ‘ وہی تعریفات کے لائق ہے اور وہ ہر چیز پر اقتدار اور اختیار رکھنے والا ہے۔ الٰہی جسے تو کوئی چیز عنایت فرمائے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جو تو روک لے وہ کوئی دے نہیں سکتا۔ تیری کبریائی کے مقابلے میں کسی بڑے کی بڑائی فائدہ نہیں دے سکتی۔ “ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ کُنْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَوْمًا فَقَالَ یَا غُلاَمُ اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکُ اِحْفِظِ اللّٰہَ تَجِدْہٗ تَجَاہَکَ وَإِذَا سَأَلْتَ فَاَسْأَلِ اللّٰہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِاجْتَمَعَتْ عَلَی أَنْ یَّنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلاَّ بَشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہِ لَکَ وَلَوِاجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلاَّ بِشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجُفَّتِ الصُّحُفُ )[ رواہ أحمد ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھا آپ نے فرمایا اے بچے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد کر اس کو اپنے سامنے پائے گا۔ جب مانگے تو فقط اللہ ہی سے سوال کر۔ مدد کی ضرورت ہو تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو۔ اس بات کو ذہن نشین کرلو اگر ساری دنیا والے تجھے نفع پہنچانے کے لیے جمع ہوجائیں تو نفع نہیں پہنچا سکتے مگر اتنا ہی جتنا اللہ نے تیرے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ اگر تمام کے تمام تجھے نقصان پہنچانے کے درپے ہوجائیں تو تجھے نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اتنا ہی جتنا تیرے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔ قلمیں اٹھا دی گئیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں پکارنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نفع نقصان کا مالک نہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو پکارنے والا ظالم ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کسی کو نقصان پہچانا چاہے تو کوئی بچا نہیں سکتا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کو کوئی ہٹا نہیں سکتا۔ ٦۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنا فضل کا عطا فرماتا ہے۔ ٧۔ اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں : ١۔ اللہ کے سوا کسی کو مت پکاریں جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (یونس : ١٠٦) ٢۔ اللہ کے سوا کوئی تکلیف دور کرنے والا نہیں۔ (بنی اسرائیل : ٥٦) ٣۔ اللہ کے سوا مجبور کی دعا سننے والا اور اس کی مصیبت دور کرنے والا کون ہے ؟ (النمل : ٦٢) ٤۔ اللہ ہی تکلیف دور کرتا ہے لہٰذا اسی کو پکارو۔ (الانعام : ٤١) ٥۔ اللہ کے سوا کوئی تمہارا ولی اور مددگار نہیں۔ (البقرۃ : ١٠٧) ٦۔ لوگوں کا اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں جو ان کی مدد کرسکے۔ (الشورٰی : ٤٦) ٧۔ اس دن کافر لوگ جان لیں گے جب ان کے چہروں اور پشتوں سے آگ ہٹانے والا کوئی نہیں ہوگا اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔ (الانبیاء : ٣٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولا تدع من دون اللہ ما لا ینفعک ولا یضرک اور نہ عبادت کرنا اللہ کے علاوہ۔ ایسی چیزوں کی جو تجھے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتیں (اگر تو ان کی پوجا کرے) اور نہ تجھے ضرر پہنچا سکتی ہے (اگر تو ان کی پوجا چھوڑ دے) (١) [ یعنی اللہ کے سوا کسی مخلوق کی عبادت نہ کر ، پکارنے سے مراد ہے عبادت کرنا ، کیونکہ مخلوق نفع و نقصان پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتی ] یہ جملہ لاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ پر معطوف ہے اور اس کی تشریح ہے۔ یہ حقیقت ہے اور عقلی و نقلی شہادت سے اس کی تائید ہو رہی ہے کہ انصاف کی نظر سے اگر اس دین اسلام کو دیکھا جائے اور غور و تامل سے کام لیا جائے تو دین کی صحت ثابت ہوجاتی ہے اور دین کے خلاف ہر شک و شبہ خود دور ہوجاتا ہے۔ فان فعلت فانک اذا من الظلمین۔ اور اگر (بالفرض) تو نے ایسا کیا تو بلاشک ایسی حالت میں تو (ا اللہ کی) حق تلفی کرنے والوں میں سے ہوجائے گا۔ یعنی اگر تو ایسی چیز کی عبادت کرے گا جو فائدہ بخش بھی نہیں اور ضرر رساں بھی نہیں تو یقیناً ایسی حالت میں تو بیجا حرکت کرنے والا (ظالم) ہوگا کہ اپنی عبادت کا محور ایسی ہستی کو بنائے گا جو محل عبادت نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد یوں فرمایا (وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکََ ) (اور اے مخاطب اسے مت پکار جو تجھے نفع نہ دے سکے اور نہ ضرر، جو لوگ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اس میں ان کی بےوقوفی اور حماقت بیان فرمائی ‘ نفع اور ضرر کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو شخص غیر اللہ کی پرستش کرتا ہے اس نے غیر اللہ کو معبود بنا رکھا ہے جو ذرا بھی نفع یا ضرر نہیں دے سکتے۔ مزید فرمایا (فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ ) (سوا گر تو نے ایسا کیا یعنی غیر اللہ کی عبادت کی جو نفع اور ضرر کا مالک نہیں تو ظالموں میں سے ہوجائے گا) مشرک اپنی جان پر ظلم کرتا ہے جس کی سزا دوزخ کا عذاب ہے اور اپنی عقل وفہم پر بھی ظلم کرتا ہے جو مشرکین کی اتباع کرتا ہے اور اپنی عقل سے نہیں سوچتا کہ میں کس کو پوجتا ہوں ‘ مجھے اس سے کیا فائدہ ہے ؟ اور اس کی عبادت نہ کروں تو مجھے کیا نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ خالق اور مالک کو چھوڑ کر اپنے سے بھی کم حیثیت والی مخلوق کی عبادت کرنا جو نہ بولے اور نہ سنے اور جو اپنی تراشی اور بنائی ہوئی ہے۔ یہ اپنی جان اور اپنی عقل وفہم پر ظلم کرنا نہیں ہے تو کیا ہے ؟

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

106 اور نیز مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ خدا کو چھوڑ کر کسی ایسی چیز کو نہ پکارنا جو تم کو نہ نفع پہونچا سکے اور نہ تم کو نقصان پہونچا سکے پھر اگر بالفرض تم نے ایسا کیا تو اس وقت تم بھی نا انصافوں میں شمار ہوجائو گے۔ اور تم اللہ تعالیٰ کا حق ضائع کرنے والوں میں سے ہوگے یعنی ان کی عبادت کرو تو نفع ان کے اختیار میں نہیں اور ان کی عبادت چھوڑدو تو نقصان ان کے بس میں نہیں پھر اگر اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسے اپاہج اور بےبسوں کو پوجو گے تو یقینا ظالم قرار پائو گے۔