Surat Younus

Surah: 10

Verse: 109

سورة يونس

وَ اتَّبِعۡ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ وَ اصۡبِرۡ حَتّٰی یَحۡکُمَ اللّٰہُ ۚ ۖ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾٪  16

And follow what is revealed to you, [O Muhammad], and be patient until Allah will judge. And He is the best of judges.

اور آپ اس کی اتباع کرتے رہیے جو کچھ آپ کے پاس وحی بھیجی جاتی ہے اور صبر کیجئے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں میں اچھا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ ... And follow what has been revealed to you, and be patient, This means, `Adhere to that which Allah has revealed to you, and inspired you with, and be patient with the opposition that you meet from the people.' حَتَّىَ يَحْكُمَ اللّهُ until Allah gives judgment, This means, `Until Allah judges between you and them.' وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ And He is the best of judges. This means that He is the best of those who pass judgment, due to His Justice and His wisdom. This is the end of the Tafsir of Surah Yunus, and all praises and thanks are due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

109۔ 1 اللہ تعالیٰ جس چیز کی وحی کرے، اسے مضبوطی سے پکڑ لیں، جس کا امر کرے، اسے عمل میں لائیں، جس سے روکے رک جائیں اور کسی چیز میں کوتاہی نہ کریں۔ اور وحی کی اطاعت و پیروی میں جو تکلیفیں آئیں، مخالفین کی طرف سے جو ایذائیں پہنچیں اور تبلیغ و دعوت کی راہ میں جن دشواریوں سے گزرنا پڑے، ان پر صبر کریں اور ثابت قدمی سے سب کا مقابلہ کریں۔ 109۔ 2 کیونکہ اس کا علم بھی کامل ہے، اس کی قدرت و طاقت بھی وسیع ہے اور اس کی رحمت بھی عام ہے اس لئے اس سے زیادہ بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٧] یہ سورة مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی تھی جبکہ مسلمانوں پر کفار کے شدائد و مظالم کی انتہا ہوچکی تھی اور بعض جرأت مند صحابہ کی خواہش کے باوجود ابھی تک مسلمانوں کو جہاد کرنے کی بھی اجازت نہیں ملی تھی لہذا اس سورة کے اختتام پر ایک دفعہ پھر آپ کو اور مسلمانوں کو ابھی سب کچھ صبر کے ساتھ برداشت کرنے اور وحی کی اتباع کرنے کی تلقین کی جارہی ہے اور ساتھ ہی انھیں اچھے دنوں کی آمد کی خوشخبری بھی دی جارہی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ ۔۔ : یعنی آپ کی طرف جو وحی کی جاتی ہے اس کی پیروی کریں، خود بھی عمل کریں اور تمام لوگوں کو اس کی دعوت بھی دیں، پھر اس کے نتیجے میں آنے والی بےپناہ مشکلات اور آزمائشوں پر صبر کریں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اور آپ کے دشمنوں کے درمیان فیصلہ فرما دے کہ دنیا میں غالب ہو کر کسے رہنا ہے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے اور وہ فیصلہ اس نے قرآن میں کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، چناچہ فرمایا : (هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ ) [ الصف : ٩ ] ” وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرک برا مانیں۔ “ اور فرمایا : (وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ) [ آل عمران : ١٣٩ ] ” اور نہ کمزور بنو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب ہو اگر تم مومن ہو۔ “ اب اگر مسلمان مغلوب ہیں تو ان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شرط ” اگر تم مومن ہو “ پر غور کریں اور صحیح مومن بنیں، تاکہ خیر الحاکمین کا فیصلہ ان کے حق میں ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاتَّبِـــعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتّٰى يَحْكُمَ اللہُ۝ ٠ ۚۖ وَھُوَخَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ۝ ١٠٩ ۧ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں حَتَّى حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] . ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع، وفي كلّ واحد وجهان : فأحد وجهي النصب : إلى أن . والثاني : كي . وأحد وجهي الرفع أن يكون الفعل قبله ماضیا، نحو : مشیت حتی أدخل البصرة، أي : مشیت فدخلت البصرة . والثاني : يكون ما بعده حالا، نحو : مرض حتی لا يرجونه، وقد قرئ : حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] ، بالنصب والرفع «1» ، وحمل في كلّ واحدة من القراء تین علی الوجهين . وقیل : إنّ ما بعد «حتی» يقتضي أن يكون بخلاف ما قبله، نحو قوله تعالی: وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ، وقد يجيء ولا يكون کذلک نحو ما روي : «إنّ اللہ تعالیٰ لا يملّ حتی تملّوا» «2» لم يقصد أن يثبت ملالا لله تعالیٰ بعد ملالهم حتی ٰ ( حرف ) کبھی تو الیٰ کی طرح یہ حرف جر کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے مابعد غایت ماقبل کے حکم میں داخل ہوتا ہے اور کبھی عاطفہ ہوتا ہے اور کبھی استیناف کا فائدہ دیتا ہے ۔ جیسے اکلت السملۃ حتی ٰ راسھا ( عاطفہ ) راسھا ( جارہ ) راسھا ( مستانفہ قرآن میں ہے ليَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] کچھ عرصہ کے لئے نہیں قید ہی کردیں ۔ وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] طلوع صبح تک ۔۔۔۔ جب یہ فعل مضارع پر داخل ہو تو اس پر رفع اور نصب دونوں جائز ہوتے ہیں اور ان میں ہر ایک کی دو وجہ ہوسکتی ہیں نصب کی صورت میں حتی بمعنی (1) الی آن یا (2) گی ہوتا ہے اور مضارع کے مرفوع ہونے ایک صورت تو یہ ہے کہ حتی سے پہلے فعل ماضی آجائے جیسے ؛۔ مشیت حتی ادخل ۔ البصرۃ ( یعنی میں چلا حتی کہ بصرہ میں داخل ہوا ) دوسری صورت یہ ہے کہ حتیٰ کا مابعد حال واقع ہو جیسے مرض حتی لایرجون و دو بیمار ہوا اس حال میں کہ سب اس سے ناامید ہوگئے ) اور آیت کریمۃ ؛۔ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] یہاں تک کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکار اٹھے ۔ میں یقول پر رفع اور نصب دونوں منقول ہیں اور ان ہر دو قرآت میں دونوں معنی بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حتیٰ کا مابعد اس کے ماقبل کے خلاف ہوتا ہے ۔ جیسا ک قرآن میں ہے : وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ۔ اور جنابت کی حالت میں بھی نماز کے پاس نہ جاؤ ) جب تک کہ غسل ( نہ ) کرو ۔ ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور غسل نہ کرسکو تو تیمم سے نماز پڑھ لو ۔ مگر کبھی اس طرح نہیں بھی ہوتا جیسے مروی ہے ۔ اللہ تعالیٰ لاتمل حتی تملو ا ۔ پس اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہارے تھک جانے کے بعد ذات باری تعالیٰ بھی تھک جاتی ہے ۔ بلکہ معنی یہ ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو کبھی ملال لاحق نہیں ہوتا ۔ حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٩) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن کریم میں تبلیغ رسالت کے بارے میں جو احکامات آپ کو دیے جاتے ہیں آپ اسی کی اتباع کیجیے اور اسی پر صبر کیجیے، تاوقتیکہ اللہ تعالیٰ بدر کے دن ان کی ہلاکت اور خاتمہ کا تمہارے اور ان کے درمیاں فیصلہ فرمادیں اور وہ ان کی ہلاکت اور تمہاری مدد فرمانے میں تمام فیصلہ کرنے والوں میں سب سے زیادہ مستحکم فیصلہ فرمانے والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٩ (وَاتَّبِعْ مَا یُوْحٰٓی اِلَیْکَ وَاصْبِرْ ) اپنے موقف پر جمے رہیے اور ڈٹے رہیے ‘ مشکلات کے دباؤ کو برداشت کیجیے۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

44: مکی زندگی میں حکم یہ تھا کہ کفار کی طرف سے پہنچنے والی ہر تکلیف پر صبر کیا جائے، ہاتھوں سے انتقام لینے کی اجازت نہیں تھی، اس آیت میں یہی حکم دیا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ ان کافروں کا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑدو، وہی ان کے بارے میں مناسب فیصلہ کرے گا، چاہے اس طرح کہ دنیا میں ان کو عذاب دے، یا آخرت میں، اور چاہے اس طرح کہ مسلمانوں کو جہاد کی اجازت دے جس کے ذریعے ان کی زیادتیوں کا بدلہ لیا جاسکے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:109) یحکم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ فیصلہ کرتا ہے۔ وہ فیصلہ کر دے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ مطلب یہ کہ آپ اپنے ذاتی اور منصبی کام میں لگے رہیے ان کی فکر نہ کیجیے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ خاتمہ کلام ہے ، اور آغاز سورت کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور یہ آخری کلمات پوری سورت کے مضامین کے ساتھ بھی مناسب ہیں۔ قرآن کریم کا طرز کلام ہی یہ ہے کہ وہ بات متوازن تصویر کشی کے ذریعے پیش کرتا ہے۔ صدق اللہ العظیم !

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

117: یہ توحید پر دلیل وحی ہے۔ یعنی مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس چیز کی پیروی کروں جو میری طرف وحی کی گئی ہے اور مسئلہ توحید جس طرح دلائل کے ساتھ میں نے بیان کیا ہے بالکل بعینہ اسی طرح ذریعہ وحی مجھ پر نازل ہوا ہے۔ “ وَاصْبِرْا لخ ”۔ یہ آپ کے لیے تسلی ہے۔ یعنی اتباع وحی کی وجہ سے اگر آپ کو کوئی تکلیف یا گزند پہنچے تو آپ صبر وثبات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اور آپ کے دشمنوں کے درمیان آپ کو کامیاب و کامران اور ان کو ناکام اور ذلیل و خوار کر کے اپنا آخری فیصلہ فرما دے۔ “ و المعنی انه تعالیٰ امرہ باتباع الوحی والتنزیل فان وصل الیه بسبب ذلک الاتباع مکروہ فلیصبر علیه الی ان یحکم اللہ فیه وَھُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ (کبری ج 17 ص 176) و لا یخفی ما فی ھذہ الایات من الموعظة الحسنة وتسلیة النبی صلی اللہ علیه وسلم و وعد للمؤمنین والوعید للکافرین ” (روح ج 11 ص 202) سورة یونس کی خصوصیات اور اس میں آیات توحید 1 ۔ “ اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ ” تا “ ذٰلِکُمُ اللّٰهُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ۔ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ ”۔ (رکوع 1) نفی شرک اعتقادی و نفی شفاعت قہری۔ “ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْ بَعْدِ اِذْنِهٖ ” یہ اس سورت کی خصوصیت ہے۔ 2 ۔ “ ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاءً ” تا “ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ ” (رکوع 1) نفی شرک فی التصرف، 3 ۔ “ وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ” تا “ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ” (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف و نفی شفاعت قہری جو اس سورت کی خصوصیت ہے۔ 4 ۔ “ وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ” تا “ مَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ” (رکوع 3) ۔ دنیا میں جن کو کارساز سمجھ رکھا ہے آخرت میں وہ اپنے پجاریوں کی دعاء اور پکار سے لا علمی کا اظہار کریں گے۔ 5 ۔ “ ھُوَ الَّذِيْ یُسَیِّرُکُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ” تا “ فَنُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ”(رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ مشرکین مشکل ترین کاموں میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے۔ یہ بھی اس سورت کی خصوصیت ہے۔ 6 ۔ “ قُلْ ھَلْ مِنْ شُرَکَاءِکُمْ ” تا “ فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ” (رکوع 4) ۔ جن کو تم نے خدا کے شریک بنا رکھا ہے وہ بالکل عاجز اور بےبس ہیں اس لیے الوہیت کے لائق نہیں ہیں۔ 7 ۔ “ اَلاَ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِیْ السَّمٰوٰتِ ” تا “ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ” (رکوع 6) ۔ نفی شرک فی التصرف 8 ۔ “ قُلْ اَرَاَیْتُمْ مَّا اَنْزَلَ اللّٰهُ ” تا “ اَمْ عَلَی اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ ” (رکوع 6) ۔ نفی شرک فعلی، تحریمات غیر اللہ اور نذر لغیر اللہ۔ یہ سورت کی خصوصیت ہے۔ 9 ۔ “ وَ مَا تَکُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَاتَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ ” تا “ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ” (رکوع 7) ۔ نفی شرک فی العلم۔ 10 ۔ “ ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْلَ ” تا “ لِقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ” (رکوع 7) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 11 ۔ “ قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ ” تا “ وَ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ” (رکوع 11) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ الحمد للہ۔ سورة یونس ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

109 اور اے پیغمبر آپ کی جانب جو حکم بھیجا جائے اور آپ کی طرف جو وحی بھیجی جائے آپ اس کا اتباع اور پیروی کیجئے اور صبرو برداشت کرتے رہیے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کا فیصلہ کردے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں میں بہتر اور اچھا فیصلہ کرنے والا ہے فیصلہ کردے یعنی دنیا میں تباہی یا آخرت میں عذاب