Surat Younus

Surah: 10

Verse: 15

سورة يونس

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ ۙ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَیۡرِ ہٰذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡہُ ؕ قُلۡ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اُبَدِّلَہٗ مِنۡ تِلۡقَآیِٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵﴾

And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who do not expect the meeting with Us say, "Bring us a Qur'an other than this or change it." Say, [O Muhammad], "It is not for me to change it on my own accord. I only follow what is revealed to me. Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day."

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو بالکل صاف صاف ہیں تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کی امید نہیں ہے یوں کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لائیے یا اس میں کچھ ترمیم کر دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں کہہ دیجئے کہ مجھے یہ حق نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں ترمیم کر دوں بس میں تو اسی کا اتباع کرونگا جو میرے پاس وحی کے ذریعے سے پہنچا ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Obstinance of the Chiefs of the Quraysh Allah tells; وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ايَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لاَ يَرْجُونَ لِقَاءنَا ايْتِ بِقُرْانٍ غَيْرِ هَـذَا أَوْ بَدِّلْهُ ... And when Our clear Ayat are recited unto them, those who hope not for their meeting with Us, say: "Bring us a Qur'an other than this, or change it." Allah tells us about the obstinance of the disbelievers of the Quraysh, who were opposed to the message and denied Allah. When the Messenger read to them from the Book of Allah and His clear evidence they said to him: "Bring a Qur'an other than this." They wanted the Prophet to take back this Book and bring them another book of a different style or change it to a different form. So Allah said to His Prophet: ... قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاء نَفْسِي ... Say: "It is not for me to change it on my own accord; This means that it is not up to me to do such a thing. I am but a servant who receives commands. I am a Messenger conveying from Allah. ... إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ I only follow that which is revealed unto me. Verily, I fear the torment of the Great Day (the Day of Resurrection) if I were to disobey my Lord. The Evidence of the Truthfulness of the Qur'an Muhammad (peace be upon him) then argued with supporting evidence to the truthfulness of what he had brought them: Allah tells;

کفار کی بدترین حجتیں مکے کے کفار کا بغض دیکھئے قرآن سن کر کہنے لگے ، اسے تو بدل لا ، بلکہ کوئی اور ہی لا ۔ تو جواب دے کہ یہ میرے بس کی بات نہیں میں تو اللہ کا غلام ہوں اس کا رسول ہوں اس کا کہا کہتا ہوں ۔ اگر میں ایسا کروں تو قیامت کے عذاب کا مجھے ڈر ہے ۔ دیکھو اس بات کی دلیل یہ کیا کم ہے؟ کہ میں ایک بےپڑھا لکھا شخص ہوں تم لوگ استاد کلام ہو لیکن پھر بھی اس کا معارضہ اور مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ میری صداقت و امانت کے تم خود قائل ہو ۔ میری دشمنی کے باوجود تم آج تک مجھ پر انگلی ٹکا نہیں سکتے ۔ اس سے پہلے میں تم میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں ۔ کیا پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے؟ شاہ روم ہرقل نے ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں دریافت کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی تم نے اسے جھوٹ کی تہمت لگائی ہے؟ تو اسے باوجود دشمن اور کافر ہو نے کے کہنا پڑا کہ نہیں ، یہ ہے آپ کی صداقت جو دشمنوں کی زبان سے بھی بےساختہ ظاہر ہوتی تھی ۔ ہرقل نے نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں کیسے مان لوں کہ لوگوں کے معاملات میں تو جھوٹ نہ بولے اور اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لے ۔ حضرت جعفر بن ابو طالب نے دربار نجاشی میں شاہ حبش سے فرمایا تھا ہم میں اللہ نے جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے ہم اس کی صدقت امانت نسب وغیرہ سب کچھ جانتے ہیں وہ نبوت سے پہلے ہم میں چالیس سال گزار چکے ہیں ۔ سعید بن مسیب سے تنتالیس سال مروی ہیں لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

15۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ کی الوہیت و واحدیت پر دلالت کرتے ہیں۔ 15۔ 2 مطلب یہ ہے کہ یا تو اس قرآن مجید کی جگہ قرآن ہی دوسرا لائیں یا پھر اس میں ہماری حسب خواہش تبدیلی کردیں۔ 15۔ 3 یعنی مجھ سے دونوں باتیں ممکن نہیں میرے اختیار میں ہی نہیں۔ 15۔ 4 یہ اس کی مذید تاکید ہے۔ میں تو صرف اس بات کا پیرو ہوں جو اللہ کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں کسی کمی بیشی کا ارتکاب کروں گا تو یوم عظیم کے عذاب سے میں محفوظ نہیں رہ سکتا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢] کفار مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پیروکار سمجھتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے تو پوری طرح قائل تھے مگر الوہیت کی صفات میں اپنے مختلف دیوی دیوتاؤں کو بھی شریک کرلیا تھا اور عقیدہ آخرت کے تو سخت منکر تھے۔ انکار آخرت کا عقیدہ کس دور میں ان کے مذہب میں شامل ہوا تھا یہ معلوم نہیں ہوسکا۔ [٢٣] کفار کی طرف سے قرآن میں تبدیلی کا مطالبہ :۔ گویا مشرکین قریش یہ سمجھتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہی تصنیف کردہ ہے لہذا اپنے اس زعم باطل کو بنیاد بنا کر انہوں نے دو مطالبات پیش کردیئے ایک یہ کہ اس قرآن کے بجائے کوئی ایسا قرآن لاؤ جو ہمارے لیے بھی قابل قبول ہو اور دوسرا یہ کہ اگر سارا قرآن دوسری قسم کا نہیں لاسکتے تو کم از کم اس میں کچھ ترمیم و تنسیخ کردو جس کی بنا پر ہم تمہارے ساتھ صلح و سمجھوتہ کی راہ استوار کرسکیں۔ بالفاظ دیگر قرآن میں سے اس حصہ کو حذف کردو جو بت پرستی وغیرہ سے متعلق ہے اس کے عوض ہماری طرف سے تم لوگوں کو عام اجازت ہوگی کہ جیسے اور جب چاہو اپنے اللہ کو پکارو اور اسی کی عبادت کرو وغیرہ وغیرہ۔ اور یہی وہ نظریہ ہے جسے آج کل بھی مختلف مذاہب کے درمیان صلح و آشتی کی بنیاد قرار دیا جارہا ہے && یعنی اپنی چھوڑو نہ اور دوسروں کو چھیڑو نہ && اور یہی وہ فاسد نظریہ ہے جس کے متعلق اقبال نے کہا تھا : باطل دوئی پرست ہے حق لاشریک ہے شرکت میانہ حق باطل نہ کر قبول [٢٤] اس جملہ میں کفار کے دونوں نظریات کی تردید کردی گئی یعنی یہ قرآن میری اپنی تصنیف نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر وحی کیا گیا ہے۔ لہذا یہ بات میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں کوئی اور قرآن لاؤں نیز میں اس وحی کی پیروی کا پابند ہوں جو اس قرآن میں ہے لہذا مجھے ایسا کوئی اختیار نہیں کہ اس میں کچھ ترمیم و تنسیخ کرکے اسے اس قابل بناسکوں جس کی بنیاد پر ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی سمجھوتہ یا درمیانی راہ طے پاسکے۔ نیز اگر میں کوئی ایسا کام کر گزروں درآں حالیکہ میں ہی اس قرآن کی اتباع کا داعی ہوں تو پھر مجھ سے بڑھ کر مجرم کون ہوسکتا ہے ؟ میں تو اس تصور اور پھر اس کے نتیجہ میں عذاب اخروی کے تصور سے ہی کانپ اٹھتا ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ ۔۔ : اس سے پچھلی آیات میں مشرکین کو مخاطب کیا تھا، یہاں ان کا ذکر غائب کے صیغے سے کیا ہے، اسے التفات کہتے ہیں اور یہاں اس سے مقصود مشرکین کی تحقیر اور ان پر ناراضگی کا اظہار ہے کہ یہ بےعقل لوگ خطاب کے قابل ہی نہیں ہیں۔ مشرکین کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور شرک کی تردید کا ذکر اور آخرت پر یقین کی بات سننا کسی طرح گوارا نہ تھا۔ وہ آیات الٰہی سن کر مطالبہ کرتے کہ اس قرآن کی جگہ کوئی اور قرآن لائیں، جس میں ہمارے لیے یہ تکلیف دہ باتیں نہ ہوں، بلکہ کچھ ہماری پسندیدہ باتیں بھی ہوں، اللہ کے سوا بھی کسی داتا، دستگیر، مشکل کشا، بگڑی بنانے والے کے اختیارات مذکور ہوں، اگر پورا قرآن اور نہیں لاسکتے تو اس میں ہماری خاطر داری کے لیے کچھ اپنے پاس ہی سے تبدیلیاں کردیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان سے کہہ دیں کہ پورا قرآن اور لانا تو بہت دور کی بات ہے میں تو اس میں اپنی طرف سے ایک شوشہ بھی نہیں بدل سکتا۔ میرا کام نہ قرآن تصنیف کرنا ہے، نہ اس میں ترمیم، تبدیلی یا اضافہ کرنا۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئے وہ پہنچا دوں، اگر میں ایسی کسی حرکت کا ارتکاب کروں گا تو میں اپنے رب کے عذاب سے ڈرتا ہوں جو بہت بڑے دن میں واقع ہونے والا ہے۔ 3 بعض مفسرین نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ مشرکین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تہمت لگاتے تھے کہ قرآن انھوں نے خود ہی تصنیف کیا ہے، اب اپنی اس بات کا ثبوت حاصل کرنے کے لیے وہ آپ سے کوئی اور قرآن لانے کا یا اس میں اپنے پاس سے تبدیلی کا مطالبہ کرتے تھے کہ اگر آپ یہ مطالبہ مان لیں گے تو ثابت ہوجائے گا کہ یہ قرآن خود انھی کا تصنیف کردہ ہے، پھر ہمیں آپ کو جھٹلانے اور مذاق اڑانے کا موقع مل جائے گا، کفار کی مراد پہلی تفسیر اور اس تفسیر میں مذکور دونوں باتیں ہی ہوسکتی ہیں اور ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the last three verses (15-17), there is the refutation of a false no¬tion entertained by the deniers of Akhirah and also the rejection of an inappropriate request made by them. They were a people who did not know much about God or Revelation or Prophets sent by Him. They took them to be like common human beings having nothing special about them. Think of the Holy Qur&an, which reached the world through the Prophet of Islam. Even this, they thought, was spoken and written by him. It was under this frame of mind that they told the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ` as for this Qur&an, it is against our beliefs and ideas.& These idols our forefathers have been worshipping since ever as providers of their needs are, according to the Qur&an, totally false and ineffectual. There are things we have been using and transactions we have been making all along. The Qur&an says that they are all unlawful. And then, the Qur&an tells us that we have to live again after we are dead and that we have to account for everything we have done. All these things make no sense to us. We are not ready to accept them. Therefore, you do one of the two things we are asking you to do. Either you replace this one with another Qur&an which does not have these things, or at the least, amend this very Qur&an and expunge those (undesirable) things from there.& Rejecting their false notion first, the Qur&an instructs the Holy Prophet a1JI to tell those people that the Qur&an was not his Word, nor could he change it on his own. He only followed what was revealed to him by Allah. If he were to make the least change in it on his own and by his choice, he would be committing a grave sin, and that he feared the punishment that falls upon those who disobey Al¬lah, therefore, he could not do that. Then he was asked to tell them that he did everything under Divine orders. Had it been the will of Allah Ta` ala that this Word should not be recited to them, neither would he have recited that to them, nor would He have let them know about that. Now that it was the very will of Allah Ta` ala that they should be made to listen to precisely that Word, who can dare make any addition or deletion therein?

پانچویں، چھٹی، ساتویں، آٹھویں چار آیتوں میں منکرین آخرت کے ایک غلط خیال اور بےجا فرمائش کی تردید ہے، ان لوگوں کو نہ خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل تھی اور نہ وحی و رسالت کے سلسلہ سے واقف تھے، انبیاء علہیم السلام کو بھی عام انسانوں کی طرح جانتے تھے قرآن کریم جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ دنیا کو پہنچا اس کے متعلق بھی ان کا یہ خیال تھا کہ یہ خود آپ کا کلام اور آپ کی تصنیف ہے، اسی خیال کی بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ مطالبہ کیا کہ قرآن تو ہمارے اعتقادات و نظریات کے خلاف ہے جن بتوں کی ہمارے باپ دادا ہمیشہ تعظیم کرتے آئے اور ان کو حاجت روا مانتے آئے ہیں قرآن ان سب کو باطل اور لغو قرار دیتا ہے، بہت سی چیزیں اور معاملات جو ہم برابر استعمال کرتے آئے ہیں قرآن ان سب کو حرام قرار دیتا ہے، اور پھر قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور حساب کتاب دینا ہوگا، یہ سب چیزیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ہم ان کو ماننے کے لئے تیار نہیں، اس لئے آپ یا تو ایسا کریں کہ اس قرآن کے بجائے کوئی دوسرا قرآن بنادیں جس میں یہ چیزیں نہ ہوں یا کم ازکم اسی میں ترمیم کرکے ان چیزوں کو نکال دیں۔ قرآن کریم نے اول ان کے غلط اعتقاد کو رد کرتے ہوئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت فرمائی کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ یہ نہ میرا کلام ہے، نہ اپنی طرف سے اس کو بدل سکتا ہوں میں تو صرف وحی الہٰی کا تابع ہوں، اگر میں ذرا بھی اس میں اپنے اختیار سے کوئی تبدیلی کروں تو سخت گناہ کا مرتکب ہوں گا اور نافرمانی کرنے والوں پر جو عذاب مقرر ہے میں اس سے ڈرتا ہوں اس لئے ایسا نہیں کرسکتا۔ پھر فرمایا کہ میں جو کچھ کرتا ہوں فرمان خداوندی کے تابع کرتا ہوں، اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوتی کہ تمہیں یہ کلام نہ سنایا جائے تو نہ میں تمہیں سناتا اور نہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے باخبر کرتے اور جب اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے کہ تمہیں یہی کلام سنوایا جائے تو کس کی مجال ہے جو اس میں کوئی کمی بیشی کرسکے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ۝ ٠ ۙ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْہُ۝ ٠ ۭ قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَاۗيِ نَفْسِيْ۝ ٠ ۚ اِنْ اَتَّبِـــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ۝ ٠ ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۝ ١٥ تلاوة تختص باتباع کتب اللہ المنزلة، تارة بالقراءة، وتارة بالارتسام لما فيها من أمر ونهي، وترغیب وترهيب . أو ما يتوهم فيه ذلك، وهو أخصّ من القراءة، فکل تلاوة قراءة، ولیس کل قراءة تلاوة، لا يقال : تلوت رقعتک، وإنما يقال في القرآن في شيء إذا قرأته وجب عليك اتباعه . هنالک تتلوا کلّ نفس ما أسلفت[يونس/ 30] ، وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا [ الأنفال/ 31] التلاوۃ ۔ بالخصوص خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتابوں کے اتباع تلاوۃ کہا جاتا ہے کبھی یہ اتباع ان کی قراءت پڑھنے ) کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی ان کے ادا مرد نواحی ( احکام ) ترغیب وترہیب اور جو کچھ ان سے سمجھا جا سکتا ہے ان کی اتباع کی صورت ہیں ، مگر یہ لفظ قرآت ( پڑھنے ) سے خاص ہے یعنی تلاوۃ کے اندر قراۃ کا مفہوم تو پایا جاتا ہے مگر تلاوۃ کا مفہوم قراء ۃ کے اندر نہیں آتا چناچہ کسی کا خط پڑھنے کے لئے تلوت رقعتک نہیں بالتے بلکہ یہ صرف قرآن پاک سے کچھ پڑھنے پر بولا جاتا ہے کیونکہ اس کے پڑھنے سے اس پر عمل کرنا واجب ہوجاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ هنالک تتلوا کلّ نفس ما أسلفت «3» [يونس/ 30] وہاں ہر شخص اپنے ( اپنے ) اعمال کی ) جو اس نے آگے بھجیے ہوں گے آزمائش کرلے گا ۔ میں ایک قرآت تتلوا بھی ہے یعنی وہاں ہر شخص اپنے عمل نامے کو پڑھ کر اس کے پیچھے چلے گا ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا [ الأنفال/ 31] اورا ن کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ لقی اللِّقَاءُ : مقابلة الشیء ومصادفته معا، وقد يعبّر به عن کلّ واحد منهما، يقال : لَقِيَهُ يَلْقَاهُ لِقَاءً ولُقِيّاً ولُقْيَةً ، ويقال ذلک في الإدراک بالحسّ ، وبالبصر، وبالبصیرة . قال : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] ، وقال : لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . ومُلَاقَاةُ اللہ عز وجل عبارة عن القیامة، وعن المصیر إليه . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] ( ل ق ی ) لقیہ ( س) یلقاہ لقاء کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں اور ان دونوں معنی میں سے ہر ایک الگ الگ بھی بولاجاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] اور تم موت ( شہادت ) آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے اور ملاقات الہی سے مراد قیامت کا بپا ہونا اور اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے دوبرو حاضر ہونا ہے ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے ہیں ۔ خواہ اس کی جگہ پر دوسری چیز نہ لائے قرآن میں ہے فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کو اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع گیا ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ عصا العَصَا أصله من الواو، لقولهم في تثنیته : عَصَوَانِ ، ويقال في جمعه : عِصِيٌّ. وعَصَوْتُهُ : ضربته بالعَصَا، وعَصَيْتُ بالسّيف . قال تعالی: وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] ، فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] ، قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] ، فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] . ويقال : ألقی فلانٌ عَصَاهُ : إذا نزل، تصوّرا بحال من عاد من سفره، قال الشاعر : فألقت عَصَاهَا واستقرّت بها النّوى وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع بِعَصَاهُ. قال تعالی: وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] ، وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُيونس/ 91] . ويقال فيمن فارق الجماعة : فلان شقّ العَصَا ( ع ص ی ) العصا : ( لاٹھی ) یہ اصل میں ناقص وادی ہے کیونکہ اس کا تثنیہ عصوان جمع عصی آتی عصوتہ میں نے اسے لاٹھی سے مارا عصیت بالسیف تلوار کو لاٹھی کی طرح دونوں ہاتھ سے پکڑ کت مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] اپنی لاٹھی دال دو ۔ فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] موسٰی نے اپنی لاٹھی ( زمین پر ) ڈال دی ۔ قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے ۔ فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔ القی فلان عصاہ کسی جگہ پڑاؤ ڈالنا کیونکہ جو شخص سفر سے واپس آتا ہے وہ اپنی لاٹھی ڈال دیتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 313 ) والقت عصاھا واستقربھا النوی ( فراق نے اپنی لاٹھی ڈال دی اور جم کر بیٹھ گیا ) عصی عصیانا کے معنی اطاعت سے نکل جانے کے ہیں دراصل اس کے معنی ہیں اس نے لاٹھی ( عصا ) سے اپنا بچاؤ کیا ۔ قرآن میں ہے : وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو ( وہ اپنے مطلوب سے ) بےراہ ہوگئے ۔ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا ۔ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ( جواب ملا کہ ) اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ۔ اور اس شخص کے متعلق جو جماعت سے علیدہ گی اختیار کر سے کہا جاتا ہے فلان شق لعصا ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما لکم لا ترجون للہ وقار ا۔ تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کے قائل نہیں ہو ۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ۔ تم اللہ کی عظمت سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ ہمارے ثواب کی طمع اور توقع نہیں رکھتے جس طرح کہا جاتا ہے۔ تاب رجاء لثواب اللہ وخوفاعن عقابہ فلاں شخص اللہ سے ثواب حاصل کرنے کی امید وار اس کے عقاب سے ڈر کی بنا پر تائب ہوگیا کوئی اور قرآن لائے اور قرآن کو تبدیل کرنے کے درمیان یہ فرق ہے کہ پہلی صورت رفع قرآن کی مقتضی نہیں ہے بلکہ اس میں دوسرے قرآن کے ہوتے ہوئے اس کے باقی رہنے کا بھی جواز ہوتا ہے جبکہ دوسری صورت یعنی تبدیل قرآن اسی وقت ہوسکتی ہوے جب رفع قرآن عمل میں آ جائے اور اس کی جگہ دوسرا قرآن یا اس کا کچھ حصہ رکھ دیا جائے ۔ کافروں کا یہ سوال بلا وجہ اور تلبیس کے طور پر تھا اس لیے کہ انہیں قرآن کے خلاف لب کشائی کے لیے اس کے سوا کوئی اور وجہ نظر نہیں آتی تھی ۔ دوسری طرف اس بات کا کوئی جواز نہیں تھا کہ قرآن کا معاملہ ان کی اپنی پسند اور بلاوجہ فیصلے پر چھوڑ دیا جاتا کیونکہ انہیں بندوں کے مصالح کا کوئی علم نہیں تھا، اگر ان کے کہنے پر کوئی قرآن لانے یا قرآن میں تبدیلی کا جواز ہوتا تو وہ دوسرے قرآن کے بارے میں وہی کچھ کہتے جو پہلے کے بارے میں کہتے تھے اور تیسرے قرآن کی صورت میں اس کے متعلق بھی ان کی دہی رائے ہوتی جو دوسرے کے متعلق تھی اور اس طرح یہ سلسلہ کہیں اختتام پذیر نہ ہوتا اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دلائل بیوقوفوں کے مقاصد اور ان کی خواہشات کے تابع ہو کر رہ جاتے ۔ حالانکہ موجودہ قرآن کے ذریعہ ان پر حجت تام ہوچکی تھشی ۔ جب یہ چیز انہیں مطمئن نہ کرسکی اور وہ اس حجت کی معارضت سے بھی عاجز رہے تو لازمی طور پر دوسرے اور تیسرے قرآن کے بارے میں بھی ان کا یہی طرز عمل ہوتا ہے۔ سنت وحی من اللہ ہے اس سے نسخ آیت قرآنی ممکن ہے اس آیت سے بعض ایسے حضرات نے استدلال کیا ہے جو سنت کے ذریعے نسخ قرآن کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس لیے کہ قول باری ہے قل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی جو لوگ سنت کے ذریعے نسخ قرآن کے جواز کے قائل ہوں گے وہ آیت کی رو سے اس امر کے جواز کے قائل بن جائیں گے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی طرف سے قرآن میں تبدیلی کرسکتے تھے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ معاملہ اس طرح نہیں ہے جس طرح ان حضرات نے سوچا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس بات کی ہرگز گنجائش نہیں تھی کہ آپ موجودہ قرآن کو اس جیسے کسی اور قرآن سے تبدیل کردیتے یا اس کی جگہ کوئی اور قرآن لے آتے۔ مشرکین نے آپ سے اسی کا سوال کیا تھا۔ انہوں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ قرآن کے الفاظ کی بجائے اس کے احکام کو بدل دیں۔ اس لیے زیر بحث مسئلے میں اس آیت سے استدلال کرنے والا شخص دراصل غفلت کا شکار ہے۔ اسے ایک اور پہلو سے دیکھے۔ ہمارے نزدیک قرآن کا نسخ صرف سنت کا ذریعے جائز ہے جسے وحی من اللہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے ۔ ارشاد باری ہے وما ینطق عن الھوی ان ھوالا وحی یوحی اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں ان کا کلام تو تمام تر وحی ہی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے۔ اس لیے سنت کے ذریعے قرآن کے حکم کا نسخ دراصل اللہ کی وحی کے ذریعے نسخ ہے ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے نسخ نہیں ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥) اور جب ان ٹھٹھہ کرنے والوں یعنی ولید بن مغیرہ اور اس کی جماعت کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں جو بالکل واضح طور پر اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی ہیں۔ تو یہ لوگ جن کو مرنے کے بعد کا خوف ہی نہیں اور وہ اسکا مذاق اڑاتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا تو اس کے سوا کوئی پورا دوسرا قرآن ہی لے آؤ یا کم سے کم اسی میں کچھ ترمیم کردو، یعنی آیت رحمت کو آیت عذاب اور آیت عذاب کو آیت رحمت سے بدل دیں، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے یوں فرما دیجیے کہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اپنے پاس سے اس میں کچھ ترمیم کروں، میں تو وہی کہوں گا اور اسی پر عمل کروں گا جو قرآن حکیم بذریعہ وحی میرے پاس پہنچتا ہے اگر میں اس میں تبدیلی کردوں تو میں ایک بڑے بھاری دن کے عذاب کا خود رکھتا ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥ (وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍلا قالَ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا اءْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ ہٰذَآ اَوْ بَدِّلْہُ ط) ” اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں ہماری روشن آیات تو کہتے ہیں وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں کہ (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے علاوہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی اور قرآن پیش کریں یا اس میں کوئی ترمیم کریں۔ “ یہاں وہی الفاظ پھر دہرائے جا رہے ہیں ‘ یعنی جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے وہ ہمارے کلام کو سنجیدگی سے سنتے ہی نہیں اور کبھی سن بھی لیتے ہیں تو استہزائیہ انداز میں جواب دیتے ہیں کہ یہ قرآن بہت سخت (rigid) ہے ‘ اس کے احکام ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔ اس میں کچھ مداہنت (compromise) کا انداز ہونا چاہیے ‘ کچھ دو اور کچھ لو (give and take) کے اصول پر بات ہونی چاہیے۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کتاب میں کچھ کمی بیشی کریں تو پھر اس کی کچھ باتیں ہم بھی مان لیں گے۔ (قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَآیئ نَفْسِیْج اِنْ اَ تَّبِعُ الاَّ مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ ج) ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) کہہ دیجیے کہ میرے لیے ہرگز یہ ممکن نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کرلوں ‘ میں تو پیروی کرتا ہوں اسی کی جو میری طرف وحی کیا جا رہا ہے۔ “ میں تو خود وحی الٰہی کا پابند ہوں۔ میں اپنی طرف سے اس میں کوئی کمی بیشی ‘ کوئی ترمیم وتنسیخ کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔ (اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) ” میں ڈرتا ہوں بڑے دن کے عذاب سے ‘ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

19. This statement of the unbelievers was based, first of all, on the misconception that the Qur'an, which the Prophet (peace he on him) presented in them as the 'Word of God'. was in fact a product of his own mind which he had ascribed to God merely to invest it with authority. Moreover, they wanted to impress upon the Prophet (peace he on him) that the contents of his message were of little practical, worldly use. The emphasis on the unity of God, on the Life to Come and on the moral principles which people were asked to follow -all these were of no practical consequence to them. They virtually told the Prophet 'peace be on him. that if he wanted to lead them he should come forth with something that would be of benefit to them and ameliorate their worldly life. And if this was not possible, then he should at least show some flexibility in his attitude which would enable them to strike a compromise with him by effecting mutual accommodation between the Makkan unbelievers and the Prophet (peace be on him) himself In other words, the Makkans felt that the Prophet's doctrine of God's unity should not totally exclude their polytheism: that his conception of devotion to God should be such as to allow them some scope for their worldliness and self-indulgence; that the call to believe in the Hereafter should be such that it might still be possible for them to behave in the world as they pleased and yet entertain the hope of somehow attaining salvation in the Next World. Likewise, the absolute and categorical nature of moral principles enunciated by the Prophet (peace be on him) was also unpalatable to them. They wanted moral principles to be propounded in a manner that would provide concessions to their predilections and biases, to their customs and usages, to their personal and national interests, and to the lusts and desires that they wished to satisfy. In effect, they suggested a compromise according to which one sphere of life should be earmarked as 'religious', and in this sphere men should render to God what rightfully belongs to Him. Beyond this sphere, however, it should be left to people's discretion to run their worldly affairs as they pleased, It seemed altogether outrageous to them that the doctrines of the unity of God and accountability in the Hereafter should embrace the whole gamut of human life, and that man should be asked to subject himself entirely to the Law of God. 20. This is the Prophet's response to what has been said above (see n. 19 above). It is made clear that the Prophet (peace be on him) was not the author of the Qur'an; and that since it had only been revealed to him, he had no authority therefore to make any alteration in it whatsoever. It is also made clear that the question was not one that could be the subject of any bargain. The unbelievers should either accept the faith propounded by the Prophet (peace be on him) in toto or reject it in toto.

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :19 ان کا یہ قول اول تو اس مفروضے پر مبنی تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ پیش کر رہے ہیں یہ خدا کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ان کے اپنے دماغ کی تصنیف ہے ، اور اس کو خدا کی طرف منسوب کر کے انہوں نے صرف اس لیے پیش کیا ہے کہ ان کی بات کا وزن بڑھ جائے ۔ دوسرے ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ تم نے توحید اور آخرت اور اخلاقی پابندیوں کی بحث کیا چھیڑ دی ، اگر رہنمائی کے لیے اٹھے ہو تو کوئی ایسی چیز پیش کرو جس سے قوم کا بھلا ہو اور اس کی دنیا بنتی نظر آئے ۔ تا ہم اگر تم اپنی اس دعوت کو بالکل نہیں بدلنا چاہتے تو کم از کم اس میں اتنی لچک ہی پیدا کرو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کم و بیش پر مصالحت ہو سکے ۔ کچھ ہم تمہاری مانیں ، کچھ تم ہماری مان لو ۔ تمہاری توحید میں کچھ ہمارے شرک کے لیے ، تمہاری خدا پرستی میں کچھ ہماری نفس پرستی اور دنیا پرستی کے لیے اور تمہارے عقیدہ آخرت میں کچھ ہماری ان امیدوں کے یے بھی گنجائش نکلنی چاہیے کہ دنیا میں ہم جو چاہیں کرتے رہیں ، آخرت میں ہماری کسی نہ کسی طرح نجات ضرور ہو جائے ۔ پھر تمہارے یہ قطعی اور حتمی اخلاقی اصول بھی ہمارے لیے ناقابل قبول ہیں ۔ ان میں کچھ ہمارے تعصبات کے لیے ، کچھ ہمارے رسم و رواج کے لیے ، کچھ ہماری شخصی اور قومی اغراض کے لیے ، اور کچھ ہماری خواہشات نفس کے لیے بھی جگہ نکلنی چاہیے ، کیوں نہ ایسا ہو کہ دین کے مطالبات کا ایک مناسب دائرہ ہماری اور تمہاری رضامندی سے طے ہو جائے اور اس میں ہم خدا کا حق ادا کر دیں ۔ اس کے بعد ہمیں آزاد چھوڑ دیا جائے کہ جس جس طرح اپنی دنیا کے کام چلانا چاہتے ہیں چلائیں ۔ مگر تم یہ غضب کر رہے ہو کہ پوری زندگی کو اور سارے معاملات کو توحید و آخرت کے عقیدے اور شریعت کے ضابطہ سے کس دینا چاہتے ہو ۔ سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :20 یہ اوپر کی دونوں باتوں کا جواب ہے ۔ اس میں یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ میں اس کتاب کا مصنف نہیں ہوں بلکہ یہ وحی کے ذریعہ سے میرے پاس آئی ہے جس میں کسی ردوبدل کا مجھے اختیار نہیں ۔ اور یہ بھی کہ اس معاملہ میں مصالحت کا قطعا کوئی امکان نہیں ہے ، قبول کرنا ہو تو اس پورے دین کو جوں کا توں قبول کرو ورنہ پورے کو رد کر دو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٥۔ ١٦۔ مفسرین سلف مثل قتادہ اور مقاتل بن حیان نے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین مکہ کو قرآن شریف کی وہ آیتیں سناتے جن میں ان کے بتوں اور بت پرستی کی مذمت ہوتی تو ولید بن مغیرہ، ابن امیہ اور سرکش مشرک کہتے تھے کہ اگر تم کو ہمیں اس قرآن کو تسلیم کرانا منظور ہے تو اس میں سے اس طرح کی آیتیں جن میں ہمارے بتوں کی مذمت ہے بدل ڈالو۔ امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ اس مقولہ سے ان مشرکین کی دو غرضیں خیال میں آتی ہیں یا تو مسخرے پن سے وہ ایسی بات کہتے تھے یا ان کا امتحان مقصود تھا کہ اگر خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بنایا ہوا یہ قرآن ہوگا تو وہ ہماری خاطر سے کچھ حکم اس کے بدل ڈالیں گے اور خدا کی طرف سے یہ قرآن اترتا ہوگا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی حکم اس کا ہماری خاطر سے نہ بدل سکیں گے اللہ تعالیٰ غیب دان نے ان کی دلی مقصود کو جان کر یہ جواب نازل فرمایا کہ ان منکر قرآن لوگوں سے کہہ دو کہ تمہاری عقلوں میں اتنی بات سمجھنے کی کیا قدرت نہیں ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے سے چالیس برس پیشتر میں تمہی لوگوں میں رہتا تھا اور تم لوگ مجھ کو سچا اور امین جانتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں پھر یہ گمان تمہیں کیوں کر ہے کہ یہ قرآن میں نے اپنی طرف سے بنا لیا ہے نہیں ہرگز نہیں یہ گمان تمہارا بالکل غلط ہے صحیح بات یہی ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اور اس میں کسی کی خاطر سے کچھ بدل سدل میرے اختیار میں ہرگز نہیں ہے میں فقط اللہ کے کلام کو اس کے حکم کے موافق تم لوگوں کو سنا دیتا ہوں ورنہ چالیس برس جس طرح چپ چاپ میں نے تم لوگوں میں کاٹ دئیے کبھی تمہارے بتوں کو تمہاری بت پرستی کو برا نہیں کہا اب بھی بلا حکم خدا کہ مجھ کو تم سے اس عداوت کے پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھا کر صحابہ سے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہوں ١ ؎ ترمذی، نسائی ابوداؤد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی آیت یا سورت نازل ہوتی تھی تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوراً کسی کاتب کو بلا کر اس آیت یا سورت کو لکھا لیا کرتے تھے ابن حبان اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ ٢ ؎ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں میں کچھ بدل سدل ہوجانے پر ان آیتوں میں عذاب کا خوف دلایا گیا تھا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں سب سے زیادہ خوف الٰہی تھا اس لئے جو وحی آتی تھی اس کو آپ فوراً لکھوا لیتے تھے تاکہ لکھوانے میں تاخیر ہو کر کسی آیت یا سورت کے لفظوں میں کچھ رد و بدل نہ ہوجاوے۔ قرآن کی صحت کا یہ انتظام تو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے تھا خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کی صحت کا یہ انتظام تھا کہ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک جس قدر حصہ قرآن کا نازل ہونا تھا اللہ کے حکم سے ہر رمضان میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اس حصہ کا دور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا کرتے تھے جس سے ناسخ منسوخ وغیرہ کی صحت پورے طور پر ہوجاتی تھی۔ چناچہ صحیح ٣ ؎ بخاری وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے اگرچہ رمضان کے روزے ہجرت کے بعد فرض ہوئے ہیں لیکن یہ دور کا طریقہ روزوں کے فرض ہونے سے پہلے مکہ میں بھی تھا۔ ١ ؎ مشکوۃٰ ص ٢٧ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔ ٢ ؎ تنقبح الروۃ ص ٦٥ ج ٢۔ ٣ ؎ مشکوۃ ص ١٨٣۔ باب الاعتکاف فصل اول۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:15) ائت۔ اتی یاتی (ضرب) اتیان مصدر۔ بمعنی آنا۔ جب اس کے صلہ میں باء آتی ہے تو یہ متعدی بمعنی لانا ہوجاتا ہے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اتی ب ۔۔ لانا۔ اور اتی ۔۔ ہ کسی کو کوئی چیز پیش کرنا۔ (10:15) من تلقاء نفسی۔ تلقاء ی۔ میری طرف سے۔ اپنی طرف سے۔ تلقائ۔ طرف ۔ لقائ۔ سے جس کے معنی ملاقات کرنے کے ہیں۔ ملاقات کرنے اور آمنے سامنے ہونے کی جگہ کو تلقاء کہتے ہیں اسی اعتبار سے طرف اور جہت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لقاء کا اسم ہے۔ جلس تلقاء وہ اس کے مقابل بیٹھا۔ فعل الامر من تلقاء نفسہ۔ اس نے اس کام کو خود کیا بغیر اس کے کہ کسی نے اس کو مجبور کیا ہو۔ ان اتبع۔ میں ان نافیہ ہے۔ یوم عظیم۔ بڑا سخت دن۔ یوم قیامت۔ یوم ترونھا تذہل کل مرضعۃ عما ارضعت (22:2) جس روز تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائیگی۔ عذاب یوم عظیم۔ یوم عظیم۔ موضوف وصفت مل کر مضاف الیہ عذاب مضاف مضاف مضاف الیہ مل کر فعل اخاف کا مفعول۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3۔ اس آیت میں نبوت پر ان کے تیسرے شہ بےکا جواب ہے (کبیر) مطلب یہ ہے کہ مشرکین آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تہمت لگاتے کہ یہ قرآن اپنے پاس سے بنا کرلے آتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے تجربہ اور امتحان کے لئے یا استھزا کے طور پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مطالبہ کیا کہ اس قرآن کے علاوہ ایک دوسرا قرآن بھی بنا لائو جس میں ہمارے بتوں کی مذمت نہ ہو اور یا اسی میں کچھ ردوبدل کردو اور ہمارے عقائد و رسوم کے رد اور بتوں کی مذمت پر جو آیات مشتمل میں ان کو نکال دو ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کا جواب دیا ہے کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں بتادیں کہ وحی الٰہی کے تابع ہوں اور اپنے پاس سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ (رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 15 تا 17 تتلی (تلاوت کی گئی، پڑھی گئی) ات (لے آ) غیر ھذا (اس کے سوا) بدل (بدل دے، تبدیل کر دے) تلقائی نفسی (اپنی طرف سے، اپنی خواہش سے) یوحی (وحی کی گئی ہے) عصیت (میں نے نافرمانی کی) تلوث (میں نے پڑھا (تلاوۃ) ، پڑھنا (ماضی کا صیغہ ہے) ادری (جتایا، ماضی کا صیغہ اذراء سے، درایۃ کے معنی سمجھ لیتا) لبثت (میں نے گزاری ہے، میں رہا ہوں) عمر (عمر تک) افتری (جس نے گھڑا) لایفلع (وہ فلاح نہیں پاتا، وہ کامیاب نہیں ہوتا) تشریح : آیت نمبر 15 تا 17 قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہدایت ہے جو اس نے اپنے محبوب بندے حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی جس کی اتباع اس کو پڑھ کر سنانے اس کو سکھانے اور اس کے علم و حکمت کے ذریعہ دلوں کو نور ایمانی سے سنوارنے اور نکھارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چناچہ مکہ مکرمہ کے جن لوگوں نے ایمان قبول کیا آپ نے قرآن کریم کے نور سے ان کے دلوں کو منور و روشن کردیا۔ قرآن کریم میں ایکط رف تو علم و حکمت کے اصولوں کی وضاحت فرمائی گئی ہے دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے کفار کی بری رسموں اور بتوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ ابتداء میں کفار مکہ یہ سمجھتے رہے کہ یہ کوئی وقتی نعرہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوجائے گا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ قرآن کریم اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت پاک سے ہر شخص کا ذہن بڑی تیزی سے متاثر ہو رہا ہے تب ان کو فکر لاحق ہوگئی اور انہوں نے ان تمام لوگوں کو جن کے دل نور ایمانی سے منور ہوچکے تھے ان کو طرح طرح کی اذیتیں دینا شروع کردیں اور پھر ان کا ظلم و ستم بڑھتا ہی چلا گیا۔ لیکن جب کفار مکہ نے یہ دیکھا کہ ان ظلم و ستم کے طریقوں سے کوئی فائدہ نہیں ہے تو انہوں نے پر فریب مصالحت کے طریقے نکالنے کی کوششیں شروع کردیں۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ صرف ہمارے بتوں میں سے بعض کو ہاتھ لگا دیں تو ہم آپ کی تصدیق کرنے لگیں گے۔ اس پر جبرئیل امین سورة کافرون لے کر نازل ہوئے جس میں کفار کے اعمال سے برأت اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے (حضرت عبداللہ ابن عباس روایت صالح) درحقیقت کفار مکہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ جب کہ ہماری نسل، قوم ، قبیلہ، زبان اور علاقہ ایک ہے تو پھر ہم آپس میں لڑ کر کمزور کیوں ہوں لہٰذا باہمی اتحاد کا راستہ نکال لیا جائے کہ ” ایک سال آپ ہمارے بتوں کی عبادت کیا کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبودوں کی عبادت و بندگی کرلیا کریں گے۔ (قرطبی) یہ اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کا وہی پرفریب نعرہ ہے جو آج کل بھی لگایا جاتا ہے۔ شدید انتشار اور اختلاف پیدا کرنے والے ہی لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے ” اتحاد “ کی باتیں کرتے ہیں اس میں شک نہیں کہ دین اسلام سب سے زیادہ اتحاد و اتفاق، باہمی محبت، حسن سلوک اور رواداری کا قائل ہے بلکہ اس دین کا تو بنیادی مقصد ہی انسانوں کو ایک لڑی میں پرونا ہے لیکن انسانی حقوق کی حد تک یہ بات محدود ہے۔ اللہ کے قانون اور اصول دین میں کسی قوم سے مصالحت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک مرتبہ سردار ان مکہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا کے پاس آ کر کہنے لگے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے بتوں اور ہماری رسموں کو برا کہنا چھوڑ دیں تو وہ ان کو اپنا سردار بنانے کے لئے تیار ہیں۔ دولت سے مالا مال بھی کیا جاسکتا ہے اور اگر وہ عرب کسی کسی بھی حسین لڑکی سے نکاح کے خواہش مند ہوں تو ہم ان کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ مگر آپ کا ہر موقع پر ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ اگر تم چاند اور سورج بھی میری ہتھیلی پر لا کر رکھ دو تب بھی میں اس دین کی سچائی کو پھیلانے سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹوں گا۔ ان ہی کوششوں میں سے ایک کوشش یہ بھی تھی جو زیر تشریح آیات میں ارشاد فرمائی گئی ہے۔ ان کا قیاس یہ تھا کہ (نعوذ باللہ) قرآن کریم آپ کی تصنیف ہے جس کو خود آپ نے بنا کر پیش کردیا ہے جس کو زور آور بنانے کے لئے اللہ کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس لئے انہوں نے یہ فرمائش کی کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا تو اس قرآن کو تم بدل دو یا کم از کم اتنی ترمیم تو کردو کہ جس میں ہمارے بتوں کو برا نہ کہا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے اس حقیقت کو واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہلوا دیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہہ دیجیے کہ یہ میری مجال نہیں کہ اللہ کے اس کلام کو میں اپنی مضری سے بدل دوں یا اس میں ترمیم کر دوں بلکہ میں تو خود اس وحی کی اتباع کرتا ہوں۔ اگر میں نے بھی اللہ کے حکم کے خلاف کوئی کام کیا تو (جو کہ ممکن ہی نہیں ہے) میں بھی ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ یہ کلام تو اللہ نے نازل فرمایا ہے اگر اللہ نہ چاہتا تو نہ میں اس قرآن کو تمہارے سامنے پڑھ سکتا اور نہ وہ میرے ذریعہ تمہیں اس سے باخبر کرتا۔ میں نے تمہارے اندر زندگی کا ایک بڑا حصہ گذارا ہے کیا تم اتنی بات سمجھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ ان آیات میں یہ ارشاد ہے ” کہ میں نے تمہارے درمیان زندگی کا ایک حصہ گذارا ہے “ یہ خود قرآن کی سچائی کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ مکہ کا ہر شخص اس بات سے واقف تھا کہ آپ نے چالیس سال کی عمر میں جس سچائی کا اعلان کیا ہے وہ جن آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کسی نے بھی ان کی زبان مبارک سے نہ سنی تھیں نہ آپ نے کسی سے ایک حرف بھی کسی ھا تھا وہ لکھے ہوئے ورق کو پڑھ بھی نہیں سکتے تھے یہ کیسے ممکن ہے کہ اچانک آپ کی زبان مبارک سے ان ایٓات کی تلاوت شروع ہوجائے جو ایک کھلا وہا معجزہ ہے اور جس کے لئے یہ کھلا چلنجن موجود تھا کہ تمام انسان اور جنات اور ان کے حمایتی قرآن کریم کی ایک سورت بھی بنا کر نہیں لاسکتے۔ یہ علم و حکمت کا سمندر جو بہنا شروع ہوا ہے یقینا یہ اسی اللہ کا کلام ہو سکتا ہے جو کائنات کے تمام علوم کا جاننے والا ہے۔ اس سے اس بات کو بھی ثابت کرنا ہے کہ مکہ مکرمہ کا ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ آپ صادق و امین ہیں۔ آپ نے کبھی دنیا کے کسی معاملے میں جھوٹ نہیں بولا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ آخرت کے معاملہ میں جھوٹ بولیں گے جس میں آپ کا کوئی فائدہ نہیں ہے سوائے تکلیفوں، فاقوں اور مشکلات کے کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا اہل مکہ کا یہ کہنا کہ یہ آپ کی تصنیف ہے یا آپ نے خود ہی اس قرآن کو گھڑ لیا ہے یہ نہ صرف کائنات کا سب سے بڑا جھوٹ ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک ایسی تہمت اور الزام ہے جس کو ظلم عظیم ہی کہا جاسکتا ہے۔ قرآن کے نور ہدایت کی سچائی یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے وہی اس کا محافظ ہے اور یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس میں سارے انسانوں کی بھلائی پوشیدہ ہے اور قرآن کریم کا انکار کرنا بدترین زیادتی ہے جس کی سزا آخرت کا عذاب ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مجر موں اور ہلاک ہونے والوں کا یہ بھی جرم تھا کہ وہ کتاب الٰہی کا انکار کرتے اور آخرت کے منکر تھے۔ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح اہل مکہ کا کردار بھی یہی تھا کہ وہ قیامت کے دن کی جواب دہی کا تصور بھول چکے تھے۔ جس بنا پر اس قدر بےخوف اور دلیر ہوئے کہ جب بھی ان کے سامنے ٹھوس اور واضح آیات نازل ہوتیں یا نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے سامنے کوئی معجزہ پیش کرتے تو وہ سر تسلیم خم کرنے کی بجائے گردن اکڑا کر یہ کہتے کہ ہم اسے ہرگز نہیں مانیں گے۔ اگر ہمیں منوانا چاہتے ہو تو۔ اس قرآن کی جگہ کوئی دوسری کتاب لے آؤ اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم اس میں اتنی تبدیلی ضرور کرو۔ جس میں ہمارے اور تمہارے درمیان مفاہمت کی کوئی راہ نکل آئے۔ اس کے لیے ان کی ایک تجویز یہ تھی کہ کچھ تم نرمی اختیار کرو اور کچھ ہم اپنے موقف سے ہٹ جاتے ہیں۔ (القلم : ٩) اس طرح ایک اللہ کی عبادت کے ساتھ ہمارے معبودوں کی عبادت کے لیے بھی گنجائش ہونی چاہیے۔ اس کے جواب میں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ آپ ان سے فرمائیں کہ میں اپنی طرف سے قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔ میں تو کلی طور پر اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی طرف سے وحی کا پابند ہوں۔ میں اس قدر اللہ کے حکم کا تابع ہوں کہ اگر میں کوئی ایک بات چھپاؤں تو گویا کہ میں نے اس کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔ (المائدہ : ٦٧) مجھے ڈر ہے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے عظیم عذاب دبوچ لے گا۔ ہوش کرو ! اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو میں کبھی بھی تمہارے سامنے قرآن پڑھتا اور نہ ہی توحید کی دعوت پیش کرتا۔ کیا تم غور نہیں کرتے کہ میں نے چالیس سال کا عرصہ تم میں گزارا ہے۔ اور اس پورے عرصہ میں نہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور نہ ہی اللہ کے ذمہ کوئی بات لگائی۔ اگر تم تھوڑا سا عقل سے کام لو تو میری سچائی اور قرآن کی صداقت کو سمجھ جاؤ گے۔ لیکن قرآن کے دلائل، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت اور عقلی دلیل کے باوجود کفار یہی پروپیگنڈہ کرتے رہے کہ ” محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) “ نے یہ کتاب اپنی طرف سے بنا ڈالی ہے۔ جس پر انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے یا تمہاری طرح اس کی آیات کو جھٹلائے جس کا صاف معنیٰ ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہیں مگر تم جھوٹے اور کذّاب ہو۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا یا اس کی آیات اور ضابطوں کو ٹھکرانا سب سے بڑا جرم ہے۔ مجرم کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتے۔ اس میں بیک وقت دو اشارے دیے جارہے ہیں۔ کہ رسول کامیاب ہوں گے اور اس کا انکار کرنے والے ہر صورت دنیا اور آخرت میں ناکام ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے رسول اور یہ قرآن من جانب اللہ اور تم اپنے موقف اور الزام میں سر اسر جھوٹے ہو۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ” وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ “ خَرَجَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حَتّٰی صَعِدَ الصَّفَا فَجَعَلَ یُنَادِیْ یَابَنِیْ فِھْرٍ یَابَنِیْ عَدِیٍّ لِبُطُوْنِ قُرَیْشٍ حَتَّی اجْتَمَعُوْا فَجَعَلَ الرَّجُلُ اِذَا لَمْ یَسْتَطِعْ اَنْ یَّخْرُجَ اَرْسَلَ رَسُوْلًا لِیَنْظُرَ مَاھُوَ فَجَاءَ اَبُوْ لَھَبٍ وَقُرَیْشٌ فَقَالَ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلاً تَخْرُجُ مِنْ سَفْحِ ھٰذَا الْجَبَلِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ اَنَّ خَیْلًا تَخْرُجُ بالْوَادِیْ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ اَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ قَالُوْا نَعَمْ مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ اِلَّا صِدْقًا قَالَ فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ قَالَ اَبُوْ لَھَبٍ تَبًّا لَّکَ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا فَنَزَلَتْ تَبَّتْ یَدَااَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ ) [ رواہ البخا ری : باب وانذرعشیرتک الاقربین ] ” عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں “ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور صفا پہاڑی پر چڑھ گئے ‘ آپ پکارنے لگے ‘ اے بنو فہر ! اے بنوعدی ! اسی طرح آپ نے قریش کے تمام قبائل کو مخاطب کیا۔ یہاں تک کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد جمع ہوگئے۔ اور جو شخص نہ آسکا تو اس نے یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کیا معاملہ ہے، اپنا نمائندہ بھیج دیا۔ چناچہ ابولہب اور قریش کے لوگ آئے۔ آپ نے فرمایا ‘ تم مجھے بتاؤ ‘ اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ ایک لشکر اس پہاڑ کی اوٹ سے نکل رہا ہے۔ اور دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ایک لشکر وادی سے نکل رہا ہے وہ تم پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے ‘ تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ ان سب نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ ہم نے آپ کے بارے میں ہمیشہ سچائی کا تجربہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا ‘ میں تمہیں اس شدید عذاب سے ڈرا رہا ہوں جو تمہیں پیش آنے والا ہے۔ یہ سن کر ابو لہب کہنے لگا ‘ تباہ ہوجائے کیا تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا ؟ اس پر یہ سورت نازل ہوئی ” ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ و بربادہو جائے۔ “ مسائل ١۔ آخرت کے منکر اس قرآن کے علاوہ کسی اور قرآن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ٣۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی وحی کے تابع تھے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واذا تتلی علیھم ایاتنا اور جب ان کے سامنے ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں۔ قتادہ کے قول پر مشرکین مکہ مراد ہیں۔ مقاتل نے کہا : پانچ آدمیوں کے حق میں اس آیت کا نزول ہو۔ مکرز بن حفص ‘ عمرو بن عبد اللہ بن ابو قیس عامری ‘ عاص بن عامر بن ہشام ‘ عبد اللہ بن ابی مخزومی ‘ ولید بن مغیرہ۔ بینٰت کھلی ہوئی یعنی جو واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ قال الذین لا یرجون لقاء نا کہتے ہیں : وہ لوگ جو ہماری پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یعنی حشر سے نہیں ڈرتے اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ ائت بقران غیر ھذا اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لاؤ۔ یعنی اس کے سوا کوئی دوسری کتاب لاؤ جس کو ہم پڑھیں اور اس کے اندر ایسے امور نہ ہوں جو ہماری نظر میں بعید از صداقت ہیں جیسے مرنے کے بعد ثواب و عذاب ہونا ‘ بتوں کی پوجا کی ممانعت اور ان کے عیوب کا اظہار۔ او بدلہ یا اسی کو بدل دو ۔ یعنی ایک آیت کی جگہ دوسری آیت رکھ دو ۔ مقاتل کا بیان ہے : مندرجۂ بالا پانچوں آدمیوں نے رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی خدمت میں عرض کیا تھا : اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو کوئی ایسا قرآن پیش کیجئے جو اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہو یا نہ ہو ‘ لات و منات اور عزّٰی کی برائی اور ان کی پوجا کی ممانعت اس میں نہ ہو۔ اگر اللہ کی طرف سے ایسا قرآن نہ آئے تو آپ خود اپنی طرف سے بنا دیجئے یا اسی کو بدل دیجئے۔ آیت عذاب کی جگہ آیت رحمت اور حرام کی جگہ حلال اور حلال کی جگہ حرام ہونے کا حکم دے دیجئے۔ قل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقآء نفسی (اے محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ اپنی طرف سے اس کو بدل دینا میرے لئے درست نہیں۔ جواب میں صرف تبدیل آیت (یا تبدیل حکم) کا ذکر کیا (دوسرا قرآن پیش کرنے کا ذکر نہیں کیا) کیونکہ جب تبدیل آیت کا امکان نہیں تو دوسرا قرآن پیش کرنا بدرجۂ اولیٰ ناممکن ہوگا۔ یا یوں کہا جائے کہ ایک آیت کی جگہ دوسری آیت پڑھ دینا تو انسانی اختیار میں ہے اور اس قرآن کی طرح دوسرا معجز قرآن پیش کرنا انسانی قدرت سے ہی خارج ہے۔ پس جب امکانی چیز سے انکار کا حکم دے دیا گیا تو خارج از قدرت کام سے انکار بدرجۂ اولیٰ ہوگیا۔ یا یہ کہا جائے کہ اُبَدِّلَہٗ میں تبدیل سے مراد عام تبدیل ہے۔ قرآن کی جگہ دوسرا قرآن لانا یا آیت کی جگہ دوسری آیت ذکر کرنا (یعنی کسی قسم کی تبدیلی میرے لئے درست نہیں) ۔ ان اتبع الا ما یوحی الی میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس وحی سے آتا ہے۔ یہ جملہ اختیار تبدیل نہ ہونے کی علت ہے جو محض متبع ہوتا ہے ‘ اس کو بذات خود کوئی تصرف اور خرد برد کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ قرآن میں بعض آیات ناسخ اور بعض منسوخ ہیں (اس طرح تبدیل آیات ہوجاتی ہے) اس سے پیدا ہونے والے وہم کا بھی اس جملہ سے ازالہ ہوگیا (کہ یہ تبدیلی بھی میری خودساختہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ کفار بعض آیات کی ناسخیت و منسوخیت کو دیکھ کر شبہ کرسکتے تھے کہ شاید یہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کا اپنا کلام ہے ‘ جب چاہا حکم دے دیا ‘ جب چاہا منسوخ کردیا۔ مِنْ تِلْقَآءِ نَفِسِیْ کے لفظ سے اس کی بھی تردید ہوگئی۔ اپنی طرف سے تبدیل کرنے کو آئندہ آیت میں نافرمانی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں گا تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔ بڑے دن سے مراد ہے قیامت کا دن۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ کافر مذکورۂ بالا خواہش (یعنی تبدیل حکم و تغیر قرآن کی درخواست) کی وجہ سے مستحق عذاب ہوگئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

منکرین کی اس بات کا جواب کہ دوسرا قرآن لے آئیے یا اس کو بدل دیجئے معالم التنزیل (ص ٣٤٧ ج ٢) میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے کہ وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ سے مشرکین مکہ مراد ہیں اور یہ بھی نقل کیا ہے کہ اہل مکہ میں سے پانچ آدمیوں نے آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یوں کہا تھا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو آپ اس قرآن کے علاوہ دوسرا قرآن لے آئیں جس میں لات اور عزیٰ اور منات کی عبادت چھوڑنے کا حکم نہ ہو اور ان بتوں کا برائی کے ساتھ ذکر بھی نہ ہو ‘ اگر اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات نازل نہیں کی ہیں تو آپ اپنے پاس سے بنا دیں یا اس قرآن کو بدل ہی دیں۔ آیت عذاب کی جگہ آیت رحمت لکھ دیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی جن پانچ آدموں نے یہ بات کہی تھی ان کے نام یہ ہیں (١) عبد اللہ بن امیہ (٢) ولید بن مغیرہ (٣) مکرز بن حفص (٤) عمرو بن عبید اللہ بن ابی قیس (٥) عاص بن عامر بن ہشام ‘ ان لوگوں کی اس بات پر آیت بالا نازل ہوئی کہ جب ان پر ہماری واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے (یعنی آخرت کو نہیں مانتے) یوں کہتے ہیں کہ آپ اس قرآن کے علاوہ دوسرا قرآن لے آئیے یا اس کو بدل دیجئے آپ فرما دیجئے کہ میں یہ نہیں کرسکتا کہ اپنے پاس سے بدل دوں ‘ میں تو صرف وحی کا پابند ہوں ‘ میری طرف جو وحی آتی ہے اس کا اتباع کرتا ہوں نہ اپنے پاس سے کچھ کہہ سکتا ہوں نہ اسے بدل سکتا ہوں۔ وحی کو بدلنا بہت بڑا گناہ ہے میں تمہیں جیسے اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہوں ایسے ہی اپنے بارے میں ڈرتا ہوں کہ اگر اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کی تو بڑے دن کا عذاب پہنچ جائے گا۔ میرا کام صرف پہنچانے کا ہے اپنے پاس سے قرآن بنانے کا نہیں ہے ‘ میں تو اللہ کا بندہ ہوں ‘ نافرمانی کروں تو عذاب میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رکھتا ہوں میں اللہ کا مامور ہوں اللہ کے حکم دینے پر تم کو اس کی کتاب سناتا ہوں وہ نہ چاہتا تو میں تم پر اس کی تلاوت نہ کرتا اور نہ تمہیں بتاتا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ مخاطبین کو یہ دیکھنا اور سوچنا چاہئے کہ میں عرصہ دراز تک تمہارے اندر رہا ہوں یعنی اسی سر زمین پر چالیس سال تک زندگی گزاری ہے اس دوران میں نے کبھی نہیں کہا کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور مجھ پر اللہ نے کتاب نازل فرمائی ہے۔ اگر میں اپنے پاس سے بنا کر کوئی بات اللہ کی طرف منسوب کر کے تمہارے اندر اپنا کوئی مقام بنانا چاہتا تو اس سے بہت پہلے ایسا کرچکا ہوتا ‘ جب یہ میرا کلام نہیں ہے تو اس میں کیسے ترمیم کر دوں ؟ تم مجھ سے کیسے کہتے ہو کہ میں اپنے پاس سے بنا کرلے آؤں ‘ کیا تم سمجھ نہیں رکھتے۔ آخر میں فرمایا اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے ‘ اللہ کا رسول جھوٹ نہیں بول سکتا اور اپنی بنائی ہوئی بات کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کرسکتا۔ ہاں تم لوگ جو اللہ کی آیات کو جھٹلا رہے ہو یہ ظلم تمہاری اپنی جانوں پر ہے اور سراپا جرم ہے (اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ ) ” بلاشبہ جرم کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے “۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26: ضمیر کی جگہ موصول کو رکھ کر ان کے قول کی علت بیان کرنا مقصود ہے۔ نیز اس طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اتنی بری بات اس لیے کہی کہ ان کے دلوں میں قیامت کے عذاب کا کوئی کھٹکا نہیں۔ “ وضع الموصول موضع الضمیر اشعارًا بعالیه فی حیز الصلة للعظیمة المحکیة عنھم وانھم انما اجترء وا علیھا لعدم خوفھم من عقابه تعالیٰ یوم اللقاء ” (ابو السعود ج 4 ص 799) ۔ 27: یہ جواب شکویٰ ہے۔ کوئی دوسرا قرآن لانے یا اسی قرآن میں ترمیم کرنے کا مجھ سے مطالطہ تو اس طرح کرتے ہیں کہ قرآن نازل کرنا میرے اختیار میں ہے یا میں اپنی مرضی سے قرآن لاسکتا ہوں حالانکہ مجھے ان باتوں کا اختیار نہیں میں تو صرف انہی احکام کی پیروی کرتا ہوں جو بذریعہ وحی میرے پاس اللہ کی طرف سے آتے ہیں میں اس معاملہ میں اللہ کے حکم کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ اگر میں اس کے احکام کی خلاف ورزی کروں اور اس کی کتاب کے احکام میں رد و بدل کروں تو مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے عذاب میں مبتلا کردے۔ “ انی اخشی من اللہ ان خالفت امره او غیرت احکام کتابه او بدلته فعصیته بذالک ان یعذبنی بعذاب عظیم فی توم تذھل کل مرضعة عما ارضعت ” (خازن ج 3 ص 179) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

15 اور جب ان لوگوں پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں اور ہمارے دلائل ان کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں توہ وہ لوگ جن کو ہمارے روبرو حاضر ہونے کا کوئی کھٹکا اور ڈر نہیں ہے اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ سے یوں کہتے ہیں یا تو اس پورے قرآن کریم کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن کریم ہی لے آیا اس میں کچھ ترمیم ہی کردے اور اس کو کچھ بدل ہی دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کہہ دیجئے مجھ کو یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی جانب سے اس قرآن کریم میں کوئی ردوبدل کرسکوں میں تو صرف اسی حکم کی پیروی اور اتباع کرتا ہوں جو میری جانب وحی کیا جاتا ہے اگر خدانخواستہ میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ یعنی مطالبہ یہ تھا کہ ہمارے معبودوں کی برائی اس میں سے نکال دو یا ایسا قرآن کریم لے آئو جس میں شرک کی مذمت اور برائی نہ ہو اس کا جواب دیا گیا کہ یہ کلام معجز نظام اللہ تعالیٰ کا ہے۔ میری کیا مجال ہے کہ میں اس میں کچھ ردوبدل کرسکوں یا اس کو چھوڑ کر کوئی اور قرآن کریم لے آئوں۔ میں وحی الٰہی کا پابند ہوں تم قیامت کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔ مگر میں خدانخواستہ نافرمانی کی جرأت کیسے کرسکتا ہوں میں تو قیامت پر ایمان رکھتا ہوں اور اس دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اس قرآن کریم کا پندو نصیحت تو پسند کرتے اور بتوں کا باطل کرنا نہ مانتے تو کہتے اتنا بدل ڈال تو یہ کلام ہم سب قبول کریں۔ 12