Surat Younus

Surah: 10

Verse: 16

سورة يونس

قُلۡ لَّوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا تَلَوۡتُہٗ عَلَیۡکُمۡ وَ لَاۤ اَدۡرٰىکُمۡ بِہٖ ۫ ۖفَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶﴾

Say, "If Allah had willed, I would not have recited it to you, nor would He have made it known to you, for I had remained among you a lifetime before it. Then will you not reason?"

آپ یوں کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو نہ تو میں تم کو وہ پڑھ کر سناتا اور نہ اللہ تعالٰی تم کو اس کی اطلاع دیتا کیونکہ میں اس سے پہلے تو ایک بڑے حصہ عمر تک تم میں رہ چکا ہوں ۔ پھر کیا تم عقل نہیں رکھتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُل لَّوْ شَاء اللّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَدْرَاكُم بِهِ ... Say: "If Allah had so willed, I should not have recited it to you nor would He have made it known to you..." This indicates that he brought this only with the permission and will of Allah for him to do so. The proof of this was that he had not fabricated it himself and that they were incapable of refuting it, and that they should be fully aware of his truthfulness and honesty since he grew up among them, until Allah sent the Message to him. The Prophet was never criticized for anything or held in contempt. So he said, ... فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ أَفَلَ تَعْقِلُونَ Verily, I have stayed among you a lifetime before this. Have you then no sense! Which meant "don't you have brains with which you may distinguish the truth from falsehood!" When Heraclius, the Roman king, asked Abu Sufyan and those who were in his company about the Prophet, he said: "Have you ever accused him of telling lies before his claim?" Abu Sufyan replied: "No." Abu Sufyan was then the head of the disbelievers and the leader of the idolators, but he still admitted the truth. This is a clear and irrefutable testimony since it came from the enemy. Heraclius then said: "I wondered how a person who does not tell a lie about others could ever tell a lie about Allah." Jafar bin Abu Talib said to An-Najashi, the king of Ethiopia: "Allah has sent to us a Messenger that we know his truthfulness, ancestral lineage, and honesty. He stayed among us before the Prophethood for forty years."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

16۔ 1 یعنی سارا معاملہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، وہ چاہتا تو میں نہ تمہیں پڑھ کر سناتا نہ تمہیں اس کی کوئی اطلاع دی جاتی، بعض نے ادراکم بہ کے معنی کیے ہیں اعلمکم بہ علی لسانی، کہ وہ تم کو میری زبانی اس قرآن کی بابت کچھ بھی نہ بتلاتا۔ 16۔ 2 اور تم بھی جانتے ہو کہ دعوائے نبوت سے قبل چالیس سال میں نے تمہارے اندر گزارے کیا میں نے کسی استاذ سے کچھ سیکھا ہے ؟ اسی طرح تم میری امانت و صداقت کے بھی قائل رہے ہو۔ کیا اب یہ ممکن ہے کہ میں اللہ پر افترا باندھنا شروع کردوں ؟ مطلب ان دونوں باتوں کا یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے نہ میں نے کسی سے سن یا سیکھ کر اسے بیان کیا ہے اور نہ یوں ہی جھوٹ موٹ اسے اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٥] آپ کی سابقہ زندگی سے قرآن کے منزل من اللہ ہونے کا ثبوت :۔ یہ کفار کے مطالبات کا دوسرا جواب ہے یعنی اللہ کی یہی مشیت تھی کہ اس نے مجھے اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا تاکہ میں تمہیں اس کے پیغام سے آگاہ کر دوں اور اگر وہ نہ چاہتا تو نہ میں تمہیں قرآن سناتا اور نہ ہی تم اس کے مضامین پر آگاہ ہوتے اس میں میرے اپنے اختیار کی کوئی بات نہیں البتہ ایک بات کی طرف تمہاری توجہ ضرور دلاتا ہوں اور وہ ہے میری سابقہ زندگی جو میں نے تمہارے ہی درمیان گزاری ہے اور تم ان باتوں سے خوب واقف ہو کہ : ١۔ میں خود امی یا ان پڑھ ہوں تمام تر زندگی میں نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہیں کیا کہ کسی دوسرے سے سیکھ کر ایسا کلام پیش کردیتا جس کی مثل پیش کرنے سے تمہارے سب شعراء اور ادباء عاجز آچکے ہیں۔ ٢۔ نبوت سے پیشتر میں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے یہ شبہ ہوسکے کہ ایسا کلام کہنا میری جبلّت میں موجود تھا جس میں ترقی کرتے کرتے میں ایسا کلام پیش کرنے کے قابل ہوگیا ہوں جیسا کہ شعراء اور ادباء کی زندگی میں ایسا ملکہ ابتداء سے ہی موجود ہوتا ہے۔ ٣۔ میں نے کبھی نہ کسی سے جھوٹ بولا نہ فریب کیا اور تم لوگ میری صداقت و راست بازی اور دیانت و امانت کے معترف بھی ہو اور کئی دفعہ اپنی زبانی ایسا اعتراف بھی کرچکے ہو۔ پھر ان حقائق کی موجودگی میں تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ میں قرآن بنا لایا ہوں یا بناسکتا ہوں نیز یہ کہ آج تک میں نے کسی آدمی کے ذمہ کوئی جھوٹی بات منسوب بھی نہیں کی تو پھر اللہ کی نسبت ایسا جھوٹ کیسے منسوب کرتا ہوں کہ یہ قرآن اللہ نے میری طرف وحی کیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ لَّوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ ۔۔ : ” تَلَوْتُ “ ” تَلاَ یَتْلُوْ تِلَاوَۃً “ (ن) سے واحد متکلم ماضی معلوم کا صیغہ ہے۔ ” مَا تَلَوْتُہٗ ‘ میں اسے نہ پڑھتا۔ ” أَدْرٰی “ یہ ” دَرٰی یَدْرِیْ “ (ض) (جاننا، معلوم کرنا) سے باب افعال ” اَدْرٰی یُدْرِیْ “ کا ماضی معلوم واحد غائب کا صیغہ ہے۔ ” وَلَا اَدْرٰکُم “ اور نہ وہ تمہیں اس کی خبر دیتا، یا تمہیں یہ معلوم کرواتا۔ مطلب یہ ہے کہ میں نبوت سے پہلے ایک عمر، یعنی چالیس برس تم میں رہا، اس ساری مدت میں تم سب جانتے ہو کہ نہ مجھے پڑھنا آتا تھا نہ لکھنا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ) [ العنکبوت : ٤٨ ]” اور اس سے پہلے تو نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے ضرور شک کرتے۔ “ اور دیکھیے سورة شوریٰ (٥٢، ٥٣) اور تم سب کا میرے صدق اور امانت پر بھی اتفاق ہے۔ دیکھیے سورة انعام (٣٣) تو کیا تمہاری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ قرآن جس کی سب سے چھوٹی سورت کی مثل پیش کرنے سے اللہ کے سوا پوری کائنات عاجز ہے، وہ میں نے کیسے تصنیف کرلیا اور تم اعتبار کیوں نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو نہ وہ اسے مجھ پر نازل کرتا، نہ میں اسے پڑھ کر تمہیں سناتا اور نہ وہ اس کی خبر تمہیں دیتا۔ اب کوئی اور قرآن میں کہاں سے لاؤں، یا اس میں اپنے پاس سے تبدیلی کیسے کروں ؟ یہ بات میرے امکان اور میرے بس میں ہی نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After that, the fact that the Qur&an was from Allah and that it was His Word was driven home with an open argument by saying: فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرً‌ا مِّن قَبْلِهِ (Then I have lived among you for years before it). In effect, he was saying, ` just think for a moment. Is it not that, much before the revelation of the Qur&an, I have spent a long period of forty years of my life among you? During this period, you have never heard me compos¬ing and reciting poetry or writing essays in prose. Had I been profi¬cient in saying something like this Word of Allah, I would have natu¬rally said at least some of it during this period of forty years. In addition to that, you have a direct experience of my character and conduct, particularly of my truth and honesty, during these long forty years of my life among you. You know that I have never lied then. How and why would I start lying now after all those forty years?& This clear¬ly proves that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is true and trustworthy. Whatever there is in the Qur&an is the Word of Allah Ta` ala and has come from Him. Important Note No doubt, this argument of the Qur&an provides a perfect proof of its veracity as the Word of Allah. But, it has also given us a standing rule of conduct in matters of common interest where we must be able to separate the genuine from the counterfeit and the true from the false. When an office or rank of responsibility has to be given to a per-son, it becomes necessary to assess the qualification and capability of the incumbent. To do that, the best rule is to go through the record of his past life. If the person concerned is found to be true and trustwor¬thy, the same can be expected from him in the future as well. And if, there is no evidence to prove his honesty and truth in that person&s past life, trusting him for the future just because of what he says or claims is not a wise thing to do. In our time, finding the right person for an office of responsibility has become a nightmare. All sorts of er¬rors (of intent, background research and decision making) are being committed and errors are compounded by widespread disorders (in so¬cial and governmental institutions). The real reason why all this is happening is the abandonment of this natural principle in favor of what is customary, formal (or straight dishonest).

اس کے بعد قرآن کے من جانب اللہ اور کلام الہٰی ہونے کو ایک واضح دلیل سے سمجھایا، (آیت) فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ ، یعنی تم ذرا یہ بھی تو سوچو کہ نزول قرآن سے پہلے میں نے تمہارے سامنے چالیس سال کی طویل مدت گزاری ہے، اس مدت میں تم نے کبھی مجھے شعر و سخن یا کوئی مقالہ لکھتے ہوئے نہیں سنا، اگر میں اپنی طرف سے ایسا کلام کہہ سکتا تو کچھ نہ کچھ اس چالیس سال کے عرصہ میں بھی کہا ہوتا، اس کے علاوہ اس چالیس سالہ طویل زندگی میں تم میرے چال چلن میں صدق و دیانت کا تجربہ کرچکے ہو کہ عمر بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا تو آج چالیس سال کے بعد آخر جھوٹ بولنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے، اس سے بدیہی طور پر ثابت ہوا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صادق امین ہیں، قرآن میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کا کلام اسی کی طرف سے آیا ہوا ہے۔ اہم فائدہ : قرآن کریم کی اس دلیل نے صرف قرآن کے کلام حق ہونے پر ہی مکمل ثبوت پیش نہیں کیا بلکہ عام معاملات میں کھرے کھو ٹے اور حق و باطل کی پہچان کا ایک اصول بھی بتادیا کہ کسی شخص کو کوئی عہدہ یا منصب سپرد کرنا ہو تو اس کی قابلیت اور صلاحیت کو جانچنے کا بہترین اصول یہ ہے کہ اس کی پچھلی زندگی کا جائزہ لیا جائے، اگر اس میں صدق و امانت داری موجود ہے تو آئندہ بھی اس کی توقع کی جاسکتی ہے، اور اگر پچھلی زندگی میں اس کی دیانت و امانت اور صدق و سچائی کی شہادت موجود نہیں تو آئندہ کے لئے محض اس کے کہنے اور دعوے کی وجہ سے اس پر اعتماد کرنا کوئی دانشمندی نہیں، آج عہدوں کی تقسیم اور ذمہ داریوں کی سپردگی میں جس قدر غلطیاں اور ان کی وجہ سے عظیم مفاسد پیدا ہو رہے ہیں ان سب کی اصلی وجہ اسی اصول فطرت کو چھوڑ کر رسمی چیزوں کے پیچھے پڑجانا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ لَّوْ شَاۗءَ اللہُ مَا تَلَوْتُہٗ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَدْرٰىكُمْ بِہٖ۝ ٠ ۡ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُـرًا مِّنْ قَبْلِہٖ۝ ٠ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝ ١٦ شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق ہے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ دری الدّراية : المعرفة المدرکة بضرب من الحیل، يقال : دَرَيْتُهُ ، ودَرَيْتُ به، دِرْيَةً ، نحو : فطنة، وشعرة، وادَّرَيْتُ قال الشاعر : وماذا يدّري الشّعراء منّي ... وقد جاوزت رأس الأربعین والدَّرِيَّة : لما يتعلّم عليه الطّعن، وللناقة التي ينصبها الصائد ليأنس بها الصّيد، فيستتر من ورائها فيرميه، والمِدْرَى: لقرن الشاة، لکونها دافعة به عن نفسها، وعنه استعیر المُدْرَى لما يصلح به الشّعر، قال تعالی: لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] ، وقال : وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 111] ، وقال : ما كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتابُ [ الشوری/ 52] ، وكلّ موضع ذکر في القرآن وما أَدْراكَ ، فقد عقّب ببیانه نحو وما أَدْراكَ ما هِيَهْ نارٌ حامِيَةٌ [ القارعة/ 10- 11] ، وَما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ [ القدر/ 2- 3] ، وَما أَدْراكَ مَا الْحَاقَّةُ [ الحاقة/ 3] ، ثُمَّ ما أَدْراكَ ما يَوْمُ الدِّينِ [ الانفطار/ 18] ، وقوله : قُلْ لَوْ شاءَ اللَّهُ ما تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْراكُمْ بِهِ [يونس/ 16] ، من قولهم : دریت، ولو کان من درأت لقیل : ولا أدرأتكموه . وكلّ موضع ذکر فيه : وَما يُدْرِيكَ لم يعقّبه بذلک، نحو : وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى [ عبس/ 30] ، وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ [ الشوری/ 17] ، والدّراية لا تستعمل في اللہ تعالی، وقول الشاعر : لا همّ لا أدري وأنت الدّاري فمن تعجرف أجلاف العرب ( د ر ی ) الدرایۃ اس معرفت کو کہتے ہیں جو کسی قسم کے حیلہ یا تدبیر سے حاصل کی جائے اور یہ دریتہ ودریت بہ دریۃ دونوں طرح استعمال ہوتا ہے ( یعنی اس کا تعدیہ باء کے ساتھ بھی ہوتا ہے ۔ اور باء کے بغیر بھی جیسا کہ فطنت وشعرت ہے اور ادریت بمعنی دریت آتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ع اور شعراء مجھے کیسے ہو کہ دے سکتے ہیں جب کہ میں چالیس سے تجاوز کرچکاہوں قرآن میں ہے ۔ لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے کے بعد کوئی ( رجعت کی سبیلی پیدا کردے ۔ وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 111] اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو ۔ ما كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتابُ [ الشوری/ 52] تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے ۔ اور قرآن پاک میں جہاں کہیں وما ادراک آیا ہے وہاں بعد میں اس کا بیان بھی لایا گیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَما أَدْراكَ ما هِيَهْ نارٌ حامِيَةٌ [ القارعة/ 10- 11] اور تم کیا سمجھتے کہ ہاویہ ) کیا ہے ؟ ( وہ ) دھکتی ہوئی آگ ہے ۔ وَما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ [ القدر/ 2- 3] اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ۔ وَما أَدْراكَ مَا الْحَاقَّةُ [ الحاقة/ 3] اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا چیز ہے ؟ ثُمَّ ما أَدْراكَ ما يَوْمُ الدِّينِ [ الانفطار/ 18] اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ قُلْ لَوْ شاءَ اللَّهُ ما تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْراكُمْ بِهِ [يونس/ 16] یہ بھی ) کہہ و کہ اگر خدا چاہتا تو ( نہ تو ) میں ہی یہ کتاب ) تم کو پڑھکر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا ۔ میں سے ہے کیونکہ اگر درآت سے ہوتا تو کہا جاتا ۔ اور جہاں کہیں قران میں وما يُدْرِيكَآیا ہے اس کے بعد اس بیان مذکور نہیں ہے ( جیسے فرمایا ) وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى [ عبس/ 30] اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے ۔ وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ [ الشوری/ 17] اور تم کیا خبر شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو یہی وجہ ہے کہ درایۃ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال نہیں ہوتا اور شاعر کا قول ع اے اللہ ہی نہیں جانتا اور تو خوب جانتا ہے میں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوا ہے بےسمجھ اور اجڈ بدر دکا قول ہے ( لہذا حجت نہیں ہوسکتا ) الدریۃ ( 1 ) ایک قسم کا حلقہ جس پر نشانہ بازی کی مشق کی جاتی ہے ۔ ( 2 ) وہ اونٹنی جسے شکار کو مانوس کرنے کے لئے کھڑا کردیا جاتا ہے ۔ اور شکار اسکی اوٹ میں بیٹھ جاتا ہے تاکہ شکا کرسکے ۔ المدوی ( 1 ) بکری کا سینگ کیونکہ وہ اس کے ذریعہ مدافعت کرتی ہے اسی سے استعارہ کنگھی یا بار یک سینگ کو مدری کہا جاتا ہے جس سے عورتیں اپنے بال درست کرتی ہیں ۔ مطعن کی طرح مد سر کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی بہت بڑے نیزہ باز کے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے وہ ایک چیز ہے جسے سمندر کنارے پر پھینک دیتا ہے ۔ لبث لَبِثَ بالمکان : أقام به ملازما له . قال تعالی: فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] ، ( ل ب ث ) لبث بالمکان کے معنی کسی مقام پر جم کر ٹھہرنے اور مستقل قیام کرنا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] تو وہ ان میں ۔ ہزار برس رہے ۔ عمر ( زندگی) والْعَمْرُ والْعُمُرُ : اسم لمدّة عمارة البدن بالحیاة، فهو دون البقاء، فإذا قيل : طال عُمُرُهُ ، فمعناه : عِمَارَةُ بدنِهِ بروحه، وإذا قيل : بقاؤه فلیس يقتضي ذلك، فإنّ البقاء ضدّ الفناء، ولفضل البقاء علی العمر وصف اللہ به، وقلّما وصف بالعمر . والتَّعْمِيرُ : إعطاء العمر بالفعل، أو بالقول علی سبیل الدّعاء . قال : أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ ما يَتَذَكَّرُ فِيهِ [ فاطر/ 37] ، وَما يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهِ [ فاطر/ 11] ، وَما هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذابِ أَنْ يُعَمَّرَ [ البقرة/ 96] ، وقوله تعالی: وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ [يس/ 68] ، قال تعالی: فَتَطاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ [ القصص/ 45] ، وَلَبِثْتَ فِينا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ [ الشعراء/ 18] . والعُمُرُ والْعَمْرُ واحد لکن خُصَّ القَسَمُ بِالْعَمْرِ دون العُمُرِ «3» ، نحو : لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ [ الحجر/ 72] ، وعمّرک الله، أي : سألت اللہ عمرک، وخصّ هاهنا لفظ عمر لما قصد به قصد القسم، ( ع م ر ) العمارۃ اور العمر والعمر اس مدت کو کہتے میں جس میں بدن زندگی کے ساتھ آباد رہتا ہے اور یہ بقا سے فرو تر ہے چنناچہ طال عمر ہ کے معنی تو یہ ہوتے ہیں کہ اس کا بدن روح سے آباد رہے لیکن طال بقاء ہ اس مفہوم کا مقتضی نہیں ہے کیونکہ البقاء تو فناء کی ضد ہے اور چونکہ بقاء کو عمر پر فضیلت ہے اس لئے حق تعالیٰ بقاء کے ساتھ تو موصؤف ہوتا ہے مگر عمر کے ساتھ بہت کم متصف ہوتا ہے ۔ التعمیر کے معنی ہیں بالفعل عمر بڑھانا نا یا زبان کے ساتھ عمر ک اللہ کہنا یعنی خدا تیری عمر دراز کرے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ ما يَتَذَكَّرُ فِيهِ [ فاطر/ 37] کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا ۔ وَما يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهِ [ فاطر/ 11] اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے ۔ وَما هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذابِ أَنْ يُعَمَّرَ [ البقرة/ 96] اگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی ۔ اور آیت : ۔ وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ [يس/ 68] اور جس کو بڑی عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں ۔ فَتَطاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ [ القصص/ 45] یہاں تک کہ ( اسی حالت میں ) ان کی عمر ین بسر ہوگئیں ۔ وَلَبِثْتَ فِينا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ [ الشعراء/ 18] اور تم نے برسوں ہمارے عمر بسر کی ۔ العمر والعمر کے ایک ہی معنی ہیں لیکن قسم کے موقعہ پر خاص کر العمر کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے ۔ عمر کا لفظ نہیں بولا جاتا جیسے فرمایا : ۔ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ [ الحجر/ 72] تمہاری زندگی کی قسم وہ اپنی مستی میں عمرک اللہ خدا تمہاری عمر دارز کرے یہاں بھی چونکہ قسم کی طرح تاکید مراد ہے اس لئے لفظ عمر کو خاص کیا ہے ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٦) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے یوں فرما دیجیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہوتا کہ میں اس کا رسول نہ ہوں تو نہ میں تمہیں یہ قرآن حکیم پڑھ کر سنا سکتا اور نہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس قرآن حکیم کے ملنے کی اطلاع کرتاکیوں کہ آخر اس کلام پاک کے ظاہر کرنے سے پہلے بھی چالیس سال تک تم میں رہ چکا ہوں اور اس وقت اس کے متعلق ایک جملہ بھی نہیں نکلا تو پھر کیا تم انسانوں جیسی اتنی عقل بھی نہیں رکھتے کہ یہ قرآن کریم میری اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کلام ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦ (قُلْ لَّوْ شَآء اللّٰہُ مَا تَلَوْتُہٗ عَلَیْکُمْ وَلاآ اَدْرٰٹکُمْ بِہٖز) ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) کہیے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ میں یہ قرآن تمہیں پڑھ کر سناتا اور نہ وہ تمہیں اس سے واقف کرتا “ (فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ) ” میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اس سے پہلے۔ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ! “ میں پچھلے چالیس برس سے تمہارے درمیان زندگی بسر کر رہا ہوں۔ تم مجھے اچھی طرح سے جانتے ہو۔ تم جانتے ہو کہ میں شاعر نہیں ہوں ‘ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں کاہن یا جادو گر بھی نہیں ہوں ‘ تمہیں یہ بھی علم ہے کہ مجھے ان چیزوں سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی اور میں نے ان چیزوں کو سیکھنے کے لیے کبھی مشق یا ریاضت بھی نہیں کی۔ تم اس حقیقت کو بھی خوب سمجھتے ہو کہ کوئی شخص ایک دن میں کبھی شاعر یا کاہن نہیں بن جاتا۔ ان تمام حقائق کا علم رکھنے کے باوجود بھی تم مجھے ایسے الزامات دیتے ہو ‘ تو کیا تم لوگ تعصب کی بنا پر عقل سے بالکل ہی عاری ہوگئے ہو ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

21. This is indeed a very weighty argument in refutation of the unbelievers' allegation that the Prophet (peace be on him) had himself authored the Qur'an and subsequently ascribed it to God. So far as other arguments are concerned, they might be considered as somewhat remote. But the argument based on the life and character of the Prophet (peace be on him) was particularly weighty since the Makkans were thoroughly familiar with the whole of his life. Before his designation as a Prophet, he had spent a full forty years in their midst. He was born in their city. They had observed his childhood, and then his youth, and it was in their city that he had reached his middle age. He had also had a variety of dealings with them. He had had social interaction, business transactions, matrimonial ties, and relationships of every conceivable nature with his people so that no aspect of his life was hidden from their view. Could there be a more powerful testimony to the truth of his claim to prophethood than his blameless life and character? Two things about the life of the Prophet (peace be on him) were especially clear and were quite well known to all Makkans. First, that during the forty years of his life before his designation as a Prophet, he had received no instruction from, or even enjoyed the company of learned people which could have served as the source of the ideas which began to flow, as would a stream, from his lips as soon as he claimed, at the age of forty, that he had been designated as a Prophet. Before that he was never seen to have been concerned with the problems, or to have discussed the subjects, or to have expressed the ideas which frequently recur in the Qur'an. In fact none of his closest friends and relatives had foreseen in his pre-Prophetic life any signs indicative of the great message which he suddenly started to preach at the age of forty. These pieces of evidence, taken together, provide incontrovertible evidence that the Qur'an is not a product of the Prophet's mind; that it had come to the Prophet (peace be on him) from without. For no human being can produce something for which traces of growth and evolution are not found in the earlier period of his life. This explains the fact that when some of the more crafty Makkan unbelievers realized the sheer absurdity of their allegation that the Prophet (peace be on him) was the author of the Qur'an, they chose to propagate that there must be some other person who had taught the Prophet (peace be on him) the Qur'an. Such a statement, however, was even more preposterous since they failed to convincingly point out who that other person was who was the true source of the Qur'an. Even leaving aside Makka, the fact is that there was not a single person throughout the length and breadth of Arabia who possessed the competence needed for the authorship of the Qur'an. Had such an extraordinary person existed, how could he have remained hidden from the sight of others? Second, the pre-Prophetic life of Muhammad (peace be on him) clearly shows him to be a man of exceptionally high moral character for there was not the least trace of any evil - whether lies, deceit, vile cunning or trickery. On the contrary, all those who came into contact with the Prophet (peace be on him) were impressed by him as a person of flawless character, as one utterly truthful and trustworthy. An illustration in point is the incident related in connection with the re-building of the Ka'bah five years before his designation as a Prophet. There was a serious dispute between the various families of the Quraysh on the question as to who should have the privilege of placing the Black Stone in its place in the edifice of the Ka'bah, In order to reach an amicable accord, they resolved that they would abide by the ruling given by the first person who entered the Ka'bah the following day. The next day people saw it was the Prophet (peace be on him) who was the first to enter. They exclaimed: 'Here is a trustworthy man (amin). We agree [to follow his ruling]. He is Muhammad.' (Ibn Sa'd, al-Tabaqat, vol. 1, p. 146 - Ed.) Thus, before designating Muhammad (peace be on him) as a Prophet, God had the whole body of the Quraysh testify to his trustworthiness. No room was left, therefore, for suspecting that he who had never resorted to lying or deceit throughout his life would suddenly resort to fabricating a gigantic lie; that he would first compose something, then deny that it was his work, and would then ascribe it to God. In view of the above, God directs the Prophet (peace be on him) to ask the unbelievers to use their brains before levelling such a stupid allegation against him. For the Prophet (peace be on him) was after all no stranger to them; he had spent virtually a whole lifetime in their midst. In view of the well-known and uniformly high level of his conduct and character, how could it even be conceived that he would falsely ascribe the Qur'an to God if God had not actually revealed it to him. (For further elaboration see al-Qasas 28, n. 109.)

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :21 یہ ایک زبردست دلیل ہے ان کے اس خیال کی تردید میں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو خود اپنے دل سے گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کر رہے ہیں ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دعوے کی تائید میں کہ وہ خود اس کے مصنف نہیں ہیں بلکہ یہ خدا کی طرف سے بذریعہ وحی ان پر نازل ہو رہا ہے ۔ دوسرے تمام دلائل تو پھر نسبتا دور کی چیز تھے ، مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تو ان لوگوں کے سامنے کی چیز تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے پورے چالیس سال ان کے درمیان گزارے تھے ۔ ان کے شہر میں پیدا ہوئے ، ان کی آنکھوں کے سامنے بچپن گزرا ، جوان ہوئے ، ادھیڑ عمر کو پہنچے ۔ رہنا سہنا ، ملنا چلنا ، لین دین ، شادی بیاہ ، غرض ہر قسم کا معاشرتی تعلق انہی کے ساتھ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کوئی پہلو ان سے چھپا ہوا نہ تھا ۔ ایسی جانی بوجھی اور دیکھی بھالی چیز سے زیادہ کھلی شہادت اور کیا ہو سکتی تھی ۔ آپ کی اس زندگی میں دو باتیں بالکل عیاں تھیں جنہیں مکہ کے لوگوں میں سے ایک ایک شخص جانتا تھا: ایک یہ کہ نبوت سے پہلے کی پوری چالیس سالہ زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی تعلیم ، تربیت اور صحبت نہیں پائی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ معلومات حاصل ہوتیں جن کے چشمے یکا یک دعوائے نبوت کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے پھوٹنے شروع ہو گئے ۔ اس سے پہلے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسائل سے دلچسپی لیتے ہوئے ، ان مباحث پر گفتگو کرتے ہوئے ، اور ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھے گئے جو اب قرآن کی ان پے درپے سورتوں میں زیر بحث آرہے تھے ۔ حد یہ ہے کہ اس پورے چالیس سال کے دوران میں کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گہرے دوست اور کسی قریب ترین رشتہ دار نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرکات و سکنات میں کوئی ایسی چیز محسوس نہیں کی جسے اس عظیم الشان دعوت کی تمہید کہا جا سکتا ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک چالیسویں سال کو پہنچ کر دینی شروع کر دی ۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت تھا کہ قرآن آپ کے اپنے دماغ کی پیداوار نہیں ہے ، بلکہ خارج سے آپ کے اندر آئی ہوئی چیز ہے ۔ اس لیے کہ انسانی دماغ اپنی عمر کے کسی مرحلے میں بھی ایسی کوئی چیز پیش نہیں کر سکتا جس کے نشونما اور ارتقاء کے واضح نشانات اس سے پہلے کے مرحلوں میں نہ پائے جاتے ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ کے بعض چالاک لوگوں نے جب خود محسوس کر لیا کہ قرآن کو آپ کے دماغ کی پیداوار قرار دینا صریح طور پر ایک لغو الزام ہے تو آخر کو انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ کوئی اور شخص ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں سکھا دیتا ہے ۔ لیکن یہ دوسری بات پہلی بات سے بھی زیادہ لغو تھی ۔ کیونکہ مکہ تو درکنار ، پورے عرب میں کوئی اس قابلیت کا آدمی نہ تھا جس پر انگلی رکھ کر کہہ دیا جاتا کہ یہ اس کلام کا مصنف ہے یا ہو سکتا ہے ۔ ایسی قابلیت کا آدمی کسی سوسائٹی میں چھپا کیسے رہ سکتا ہے؟ دوسری بات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سابق زندگی میں بالکل نمایاں تھی ، وہ یہ تھی کہ جھوٹ ، فریب ، جعل ، مکاری ، عیاری اور اس قبیل کے دوسرے اوصاف میں سے کسی کا ادنیٰ شائبہ تک آپ کی سیرت میں نہ پایا جاتا تھا ۔ پوری سوسائٹی میں کوئی ایسا نہ تھا جو یہ کہہ سکتا ہو کہ اس چالیس سال کی یکجائی معاشرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی صفت کا تجربہ اسے ہوا ہے ۔ برعکس اس کے جن جن لوگوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ پیش آیا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اک نہایت سچے ، بے داغ ، اور قابل اعتماد ( امین ) انسان کی حیثیت ہی سے جانتے تھے ۔ نبوت سے پانچ ہی سال پہلے تعمیر کعبہ کے سلسلہ میں وہ مشہور واقعہ پیش آچکا تھا جس میں حجر اسود کو نصب کرنے کے معاملہ پر قریش کے مختلف خاندان جھگڑ پڑے تھے اور آپ میں طے ہوا تھا کہ کل صبح پہلا شخص جو حرم میں داخل ہوگا اسی کو پنچ مان لیا جائے گا ۔ دوسرے روز وہ شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو وہاں داخل ہوئے ۔ آپ کو دیکھتے ہی سب لوگ پکار اٹھے ھذا الامین ، رضینا ، ھٰذا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ” یہ بالکل راستباز آدمی ہے ، ہم اس پر راضی ہیں ۔ یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے“ ۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مقرر کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ پورے قبیلہ قریش سے بھرے مجمع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ” امین“ ہونے کی شہادت لے چکا تھا ۔ اب یہ گمان کرنے کی کیا گنجائش تھی کہ جس شخص نے تمام عمر کبھی اپنی زندگی کے کسی چھوٹے سے چھوٹے معاملہ میں بھی جھوٹ ، جعل اور فریب سے کام نہ لیا تھا وہ یکایک اتنا بڑا جھوٹ اور ایسا عظیم الشان جعل و فریب لے کر اٹھ کھڑا ہوا کہ اپنے ذہن سے کچھ باتیں تصنیف کیں اور ان کو پورے زور اور تحدی کے ساتھ خدا کی طرف منسوب کرنے لگا ۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ان کے اس بیہودہ الزام کے جواب میں ان سے کہو کہ اللہ کے بندو ، کچھ عقل سے تو کام لو ، میں کوئی باہر سے آیا ہوا اجنبی آدمی نہیں ہوں ، تمہارے درمیان اس سے پہلے ایک عمر گزار چکا ہوں ، میری سابق زندگی کو دیکھتے ہوئے تم کیسے یہ توقع مجھ سے کر سکتے ہو کہ میں خدا کی تعلیم اور اس کے حکم کے بغیر یہ قرآن تمہارے سامنے پیش کر سکتا تھا ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ قصص ، حاشیہ نمبر ۱۰۹ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: یعنی یہ قرآن میرا بنایا ہوا نہیں ہے، بلکہ اﷲ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہے۔ اگر وہ نہ چاہتا تو نہ میں تمہارے سامنے پڑھ سکتا تھا، نہ تمہیں اس کا علم ہوسکتا تھا۔ یہ تو اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر نازل فرما کر مجھے حکم دیا کہ تمہیں سناؤں، اس لئے سنا رہا ہوں۔ لہٰذا اس میں کسی قسم کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 7: یعنی تمہارا یہ مطالبہ کہ میں اس قرآن کو بدل دوں، دراصل میری نبوت کا انکار اور مجھ پر (معاذ اﷲ) جھوٹ کا الزام ہے، حالانکہ میں نے عمر کا بڑا حصہ تمہارے درمیان گذارا ہے، اور میری ساری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح تمہارے سامنے رہی ہے۔ قرآنِ کریم کے نازل ہونے سے پہلے تم سب مجھے سچا اور امانت دار کہتے رہے ہو، اور چالیس سال کے طویل عرصے میں کبھی کسی ایک شخص نے بھی مجھ پر جھوٹ کا الزام نہیں لگایا۔ اب نبوت جیسے معاملے میں مجھ پر یہ الزام لگانا بے عقلی نہیں تو اور کیا ہے؟

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:16) من تلقاء نفسی۔ تلقاء ی۔ میری طرف سے۔ اپنی طرف سے۔ تلقائ۔ طرف ۔ لقائ۔ سے جس کے معنی ملاقات کرنے کے ہیں۔ ملاقات کرنے اور آمنے سامنے ہونے کی جگہ کو تلقاء کہتے ہیں اسی اعتبار سے طرف اور جہت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لقاء کا اسم ہے۔ جلس تلقاء وہ اس کے مقابل بیٹھا۔ فعل الامر من تلقاء نفسہ۔ اس نے اس کام کو خود کیا بغیر اس کے کہ کسی نے اس کو مجبور کیا ہو۔ ان اتبع۔ میں ان نافیہ ہے۔ یوم عظیم۔ بڑا سخت دن۔ یوم قیامت۔ یوم ترونھا تذہل کل مرضعۃ عما ارضعت (22:2) جس روز تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائیگی۔ عذاب یوم عظیم۔ یوم عظیم۔ موضوف وصفت مل کر مضاف الیہ عذاب مضاف مضاف مضاف الیہ مل کر فعل اخاف کا مفعول۔ (10:12) ماتلوتہ۔ میں تلاوت نہ کرتا۔ میں نہ پڑھتا اس کو (قرآن کو) تلوت ماضی واحد متکلم ۔ لاادرکم۔ لاادری۔ ماضی منفی واحد مذکر غائب۔ وہ خبردار نہ کرتا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ نہ ہی وہ (اللہ تعالیٰ ) آگاہ کرتا تمہیں بہ اس (قرآن) سے۔ لبث۔ ماضی واحد متکلم لبث مصدر۔ میں رہا۔ میں رہتا رہا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4۔ اس آیت کا تعلق بھی اسی جواب سے ہے یعنی میری پچھلی ساری زندگی تمہارے سامنے ہے اس پوری مدت میں نہ تو میں نے کسی سے تربیت حاصل کی ہے نہ کسی کی صحبت میں رہا ہوں اور نہ کبھی جھوٹ ہی بولا ہے۔ تم سب مجھے ” امین “ کہہ کر پکارے ہے تو کیا میں اب یکایک اتنا ماہر اور جھوٹا بن گیا ہوں کہ اس قرآن کو خود تصنیت کرکے تمہارے سامنے خدائی کلام کے نام سے پیش کردوں۔ لہٰذا اگر اس قرآن کو خود میری تصنیت کردوہ کتاب قرار دے کر جھٹلا رہے ہو تو جھٹلانے سے پہلے کچھ تو عقل سے کام لو اور میری گزشتہ زندگی پر کو ب غور کرلو۔ (ازکبیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ پس جب میں تم کو سنا رہا ہوں اور میرے ذریعے سے تم کو اطلاع ہورہی ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کو اس کلام معجز کا سنورنا اور اطلاع کرنا منظور ہوا اور سنانا اور اطلاع دینا بدون وحی کے بوجہ اس کے معجز ہونے کے ممکن نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے وہ وحی منزل اور کلام الٰہی ہے۔ 2۔ یعنی اگر یہ میرا کلام ہے تو یا تو اتنی مدت تک ایک جملہ بھی اس طرح کانہ نکلا اور یا دفعتا اتنی بڑی بات بنالی یہ تو بالکل عق کے خلاف ہے۔ فائدہ۔ اعجاز کے اثبات میں فقد لبثت فیکم سے استدلال علی سبیل التنزل ہے یعنی استدلال یہ ہے فاتوا بسورة من مثلہ اور اس میں کوئی بعید احتمال نکالنا کہ شاید عام اس پر قادر نہ ہوں آپ قادر ہوں اس احتمال پر یہ جواب دیا ہے کہ دفعتا ایسے اعلی طرف کا کلام طویل پیش کردینا ممتنعات عادیہ سے ہے اور اعجاز میں امتناع عادی ہی پر مدار ہوتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل لو شآء اللہ آپ کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کو کچھ اور منظور ہوتا۔ یا یہ مطلب کہ اگر اللہ کو اس قرآن کی تلاوت کرانی منظورنہ ہوتی تو وہ مجھ پر اس کو نازل نہ فرماتا۔ ما تلوتہ علیکم ولا ادرٰں کم بہ نہ میں تم کو پڑھ کر سناتا نہ اللہ اس سے تم کو میری زبانی واقف بناتا۔ فقد لبثت بیکم عمرا من قبلہ میں تمہارے اندر ایک مدت یعنی چالیس سال سے نزول قرآن سے پہلے رہتا ہوں اور جب تک میرے پاس وحی نہیں آئی ‘ میں نے کچھ نہیں بیان کیا۔ اس جملہ سے قرآن کے معجز ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ جو شخص چالیس برس کچھ لوگوں کے ساتھ رہا ہو اور نہ تعلیم حاصل کی ہو ‘ نہ کسی عالم سے ملا ‘ نہ کبھی شعر کہا ہو ‘ نہ خطبہ دیا ہو ‘ پھر اچانک وہ ایسی کتاب پیش کر دے جس کی فصاحت ہر کلام کی فصاحت سے اعلیٰ اور ہر نظم و نثر سے بالا ہو اور انکار و اعمال کے تمام ضابطے اس میں مذکور ہوں اور گذشتہ و آئندہ کے واقعات صحیح صحیح بیان کئے گئے ہوں تو یقیناً ایسی کتاب کسی مخلوق کی ساختہ پرداختہ نہیں ہو سکتی ‘ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہی ہوگی۔ افلا تعقلون کیا تم اپنی دانش و عقل سے قرآن پر غور نہیں کرتے کہ تم کو معلوم ہوجاتا کہ یہ کتاب میری ساختہ پرداختہ نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ فائدہ : وحی سے پہلے چالیس سال کی عمر تک رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) مکہ میں رہے ‘ پھر وحی نازل ہوئی تو نزول وحی کے بعد بھی تیرہ سال تک مکہ میں ہی قیام پذیر رہے ‘ اس کے بعد مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کو تشریف لے گئے اور دس سال تک وہاں سکونت پذیر رہے۔ وفات کے وقت حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی عمر ٦٣ سال تھی۔ رواہ مسلم عن ابن عباس۔ محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ تمام علماء کا اس امر پر تو اتفاق ہے کہ ہجرت کے بعد رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) مدینہ میں دس سال قیام پذیر رہے اور وحی سے پہلے چالیس سال مکہ میں رہے لیکن نبوت کے بعد مکہ میں کتنی مدت گذری ‘ یہ اختلافی مسئلہ ہے۔ صحیح قول یہ ہے کہ نبوت کے تیرہ سال آپ نے مکہ میں گذارے۔ بغوی نے حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ آغاز نبوت کے بعد دس سال حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) مکہ میں رہے اور ساٹھ سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔ ابن سعد ‘ عمرو بن شیبہ اور حاکم نے اکلیل میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بھی یہی قول نقل کیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اوّل روایت (یعنی ٦٣ سال کی عمر میں وفات ہونا اور نبوت کے بعد مکہ میں ١٣ سال قیام پذیر رہنا) زیادہ مشہور بھی ہے اور واضح بھی ___ مسلم نے حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی وفات ٦٣ سال کی عمر میں ہوئی اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی بھی یہی عمر ہوئی۔ ابو داؤد طیالسی اور مسلم نے معاویہ بن ابی سفیان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر کی وفات ٦٣ سال کی عمر میں ہوئی۔ شیخین نے حضرت عائشہ کی روایت سے لکھا کہ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی وفات ٦٣ سال کی عمر میں ہوئی۔ نووی نے اسی کو صحیح اور مشہور اور علماء کا متفق علیہ قول قرار دیا ہے۔ احمد اور مسلم نے لکھا ہے کہ عمار بن ابی عمار نے بیان کیا : میں نے حضرت ابن عمر سے دریافت کیا : وفات کے وقت رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی عمر کیا تھی ؟ فرمایا : کیا تم گنتی نکالو گے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : چالیس جس میں بعثت ہوئی ‘ پندرہ تک مکہ میں امن و خوف کی حالت میں قیام رکھا اور دس ہجرت کے بعد مدینہ میں گذارے۔ حاکم نے اکلیل میں علی بن ابی زید کی وساطت سے یوسف بن مہران کی روایت بیان کی ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ٦٥ سال کی عمر میں رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی وفات ہوئی۔ حاکم نے اکلیل میں اور نووی نے لکھا ہے کہ علماء کے نزدیک بالاتفاق صحیح ترین روایت ٦٣ سال والی ہے ‘ باقی روایات کی تاویلیں کی گئی ہیں۔ ساٹھ سال والی روایت میں صرف دہائیاں ذکر کی گئی ہیں ‘ اکائی نظر انداز کردی گئی ہیں ___ ٦٥ والی روایت بھی قابل تاویل یا مشکوک ہے۔ عروہ نے حضرت ابن عباس کی ٦٥ سال والی روایت کا انکار کیا ہے اور اس کو غلط قرار دیا ہے۔ آغاز نبوت کا دور حضرت ابن عباس نے نہیں پایا۔ محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس کا قول اکثر روایتوں میں ٦٣ سال کا آیا ہے ‘ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے حضرت ابن عباس کے قول میں ٦٥ سال کی عمر میں وفات پانے کا ذکر تھا ‘ پھر آپ نے اکثر کے قول کی طرف رجوع کرلیا (یعنی ٦٣ سال کی عمر میں وفات پانا تسلیم کرلیا) ۔ قاضی عیاض نے حضرت ابن عباس اور حضرت سعید بن مسیب کے حوالہ سے ٤٣ سال کی عمر میں بعثت ہونے کا ذکر کیا ہے مگر یہ راویت شاذ ہے ‘ صحیح ٤٠ سال کی عمر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

فائدہ : یہ جو فرمایا (فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ ) (کہ میں اپنی عمر کے بڑے حصہ تک تمہارے اندر رہا ہوں) اس میں تحدی ہے یعنی مخاطبین کو چیلنج ہے کہ میں نے عمر کا بہت بڑا حصہ تمہارے اندر گزارا ہے اس حصہ میں میں نے تم سے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اس کے تم گواہ ہو تو پھر میں اللہ پر کیسے جھوٹ باندھ سکتا ہوں سوال جواب تو قرآن مجید کو بدلنے یا اپنے پاس سے بنانے سے متعلق تھا لیکن الفاظ کے عموم میں آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات طیبہ کے اخلاق عالیہ اور افعال جمیلہ اور اعمال صالحہ کی طرف بھی اشارہ کردیا اور بتادیا کہ مجھے دیکھ چکے ہو ہر طرح سے پرکھ چکے ہو۔ ہمیشہ سے صادق اور امین کہتے آئے ہو اب جب اللہ کا پیغام پہنچاتا ہوں تو کیوں دور بھاگتے ہو ؟ اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی کو کوئی عہدہ سپرد کیا جائے تو اس کا ماضی دیکھ لیا جائے اب تک اس کا کیا کردار تھا اس کے اعمال کیا تھے ‘ اس میں تقویٰ اور رجوع الی اللہ کتنا تھا ان چیزوں کو سامنے رکھ کر کسی عہدہ کا اہل ہونے نہ ہونے کا فیصلہ کرلیا جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

28: یعنی سب کچھ اللہ کے اختیار ومرضی سے ہے۔ میں اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو مجھے نہ بھیجتا اور میں تم کو قرآن کی آیتیں پڑھ کر نہ سناتا اور میری وساطت سے اللہ تعالیٰ تمہیں قرآن کی خبر نہ دیتا۔ “ والمنعی ان الامر کله منوط بمشیته تعالیٰ ولیس لی منه شیئ قط ” (ابو السعود ج 4 ص 802) ۔ “ یعنی لو شاء اللہ لم ینزل علی ھذا القراٰن ولم یامرنی بقراء ته علیکم ” (خازن) ۔ 29: یہ ماقبل کی دلیل ہے۔ نزول قرآن سے پہلے میں تم میں ایک طول عرصہ یعنی چالیس برس رہ چکا ہوں۔ میری امانت و دیانت کو تم بخوبی جانتے ہو اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میں نے کسی سے لکھنا پڑھنا بھی نہیں سیکھا تو معلوم ہوا کہ اب میں جو قرآن تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں یہ میرا خود ساختہ نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کے حکم سے پیش کرتا ہوں۔ “ اي من قبل القراٰن تعرفوننی بالصدق والامانة لا اقرا ولا اکتب ثم جئتکم بالمعجزات ” (قرطبی ج 8 ص 321) ۔ “ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ” تو کیا اب بھی تم نہیں سوچتے اور نہیں سمجھتے کہ یہ قرٓان اور اس میں مذکورہ مسئلہ توحید میری اختراع نہیں بلکہ یہ سب کچھ من جانب اللہ ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

16 اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان سے فرما دیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا اور اس کو منظور ہوتا تو میں یہ قرآن کریم نہ تو تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ خدا تم کو اس کی خبر دیتا آخر اس قرآن کریم سے پہلے بھی تو میں تم میں اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ گزار چکا ہوں اور عمر کے بڑے حصے تک تم میں رہ چکا ہوں تو کیا تم کو اتنی بھی عقل نہیں۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ میں تم کو یہ قرآن کریم نہ سنائوں اور میرے ذریعہ سے تم کو اس کی اطلاع نہ دے تو وہ یہ قرآن کریم مجھ پر نازل نہیں کرتا یہ دلیل ہے اس کی کہ یہ کلام معجز میرا بنایا ہوا نہیں ہے آخر اس سے پہلے بھی تو میں تم میں رہتا تھا پھر تم نے آج تک میرے منہ سے ایسا کلام سنا یا میرے منہ سے کوئی ایسی بات سنی اتنا تو سمجھ سے کام لو کہ اگر میری یہ عادت ہوتی یا میرے دل میں کوئی ایسی بات ہوتی تو اس کا اظہار کبھی تو ہوتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی میں اپنی طرف سے بناتا تو چالیس 40 برس کی عمر میں بناتا یا اسی قسم کا خیال رکھتا۔ 12