Surat Younus

Surah: 10

Verse: 32

سورة يونس

فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الۡحَقُّ ۚ فَمَا ذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚ ۖ فَاَنّٰی تُصۡرَفُوۡنَ ﴿۳۲﴾

For that is Allah , your Lord, the Truth. And what can be beyond truth except error? So how are you averted?

سو یہ ہے اللہ تعالٰی جو تمہارا رب حقیقی ہے ۔ پھر حق کے بعد اور کیا رہ گیا بجز گمراہی کے ، پھر کہاں پھرے جاتے ہو؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَذَلِكُمُ اللّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ... Such is Allah, your Lord in truth. This Lord that you admitted is the One Who does all this, is your Lord and the True Deity that deserves to be worshipped alone. ... فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلاَّ الضَّلَلُ ... So after the truth, what else can there be, save error! any one worshipped other than Him is false, for there is no God but Allah, He Has no partners. ... فَأَنَّى تُصْرَفُونَ How then are you turned away! How then can you turn away from His worship to worship others while you know that He is the Lord that has created everything, the One who controls and governs everything! Allah then said: كَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ فَسَقُواْ أَنَّهُمْ لاَ يُوْمِنُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

32۔ 1 یعنی رب اور اللہ (معبود) تو یہی ہے جس کے بارے میں تمہیں خود اعتراف ہے کہ ہر چیز کا خالق ومالک اور مدبر وہی ہے، پھر اس معبود کو چھوڑ کر جو تم دوسرے معبود بنائے پھرتے ہو، وہ گمراہی کے سوا کچھ نہیں تمہاری سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی ؟ تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٦] یعنی توحید فی الربوبیت کے متعلق تم لوگوں کا جو عقیدہ ہے وہ عین حقیقت ہے اور درست اور سچ ہے اب اس حقیقت کے علاوہ جو کچھ بھی ہوگا وہ باطل ہی ہوسکتا ہے جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ توحید فی الربوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ عبادت بھی صرف اسی کی کی جائے اور یہی بات حق اور درست ہے اور اگر تم اللہ کے علاوہ دوسروں کی بھی عبادت کرو گے یا انہیں پکارو گے تو پھر یہ سراسر گمراہی ہی ہوگی۔ [٤٧] اس سوال میں مجہول کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گمراہ کرنے والا دوسرا شخص یا گروہ موجود ہے جس کا کام ہی یہ ہے کہ لوگوں کو درست انداز فکر سے ہٹا کر غلط رخ پر ڈال دے لہذا یہ سوال کیا گیا ہے کہ تم خود اندھے بن کر غلط قسم کے رہنماؤں کے پیچھے کیوں چل پڑتے ہو خود اپنی عقل سے کیوں کام نہیں لیتے ؟ گویا گمراہ کرنے والے شخص یا اشخاص کو پردہ میں رکھا گیا ہے تاکہ ان میں اشتعال نہ پیدا ہو اور ہر ایک کو ٹھنڈے دل سے غور کرنے کا موقع میسر آئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ثابت شدہ، سچا، یعنی تمہارے رزق، موت و حیات، تمہارے جسم کا مالک و خالق اور پوری کائنات کی تدبیر کرنے والا جب تم بھی اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہو تو جان لو کہ پھر تمہارا سچا، ثابت شدہ اور حق رب تو یہی اللہ ہے۔ اب خواہ کوئی بھی چیز ہو وہ یا تو حق ہوگی یا باطل، دونوں نہیں ہوسکتیں کہ حق بھی ہو باطل بھی، تو جب اللہ کا رب اور مالک ہونا حق ہے اور صرف اسی کا صاحب اختیار ہونا حق ہے تو پھر کسی اور کا صاحب اختیار ہونا یا اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کی قوت رکھنے والا ہونا باطل نہیں تو اور کیا ہے ؟ اس کے باوجود تمہارا دل کیسے مانتا ہے کہ حق کو چھوڑ کر گمراہی اور توحید کو چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرتے ہو۔ سوچو ! راہ حق سے کیسے ہٹائے جا رہے ہو ؟ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ حق ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے، یہ بات کہ جو جہاں لگا ہوا ہے لگا رہنے دو ، سب ٹھیک ہیں، یا مسلمانوں میں خیر القرون کے بعد بننے والے چاروں سنی فرقے، حنفی ہوں یا شافعی، مالکی ہوں یا حنبلی سب حق ہیں، اس آیت کے خلاف ہے۔ ان تمام مذاہب کی ہر بات ایک ہی وقت میں حق کیسے ہوسکتی ہے ؟ ان کے اختلافی مسائل میں حق مسئلہ اگر ہوا تو صرف ایک ہوگا، دوسرے خطا ہوں گے۔ مجتہد کو اگرچہ خطا کے باوجود اس کی نیک نیتی اور محنت کا ایک اجر مل جائے گا مگر اس کی خطا کو حق ہرگز نہیں کہہ سکتے، مثلاً ایک فرقے کی یہ بات کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور دوسرے کی یہ بات کہ صرف انگور یا کھجور کی بنائی ہوئی شراب حرام ہے، باقی نشہ آور چیزیں سب حلال ہیں، دونوں حق کیسے ہوسکتی ہیں ؟ ایک کی یہ بات کہ اجرت پر لا کر کسی عورت سے زنا کرے تو اس پر حد ہے اور دوسرے کی یہ بات کہ اجرت پر لائی ہوئی عورت سے زنا کرنے پر حد نہیں، دونوں کیسے درست ہوسکتی ہیں ؟ ایک مسلک کا یہ کہنا کہ ماں بہن سے نکاح کی حرمت کے علم کے باوجود نکاح کرکے زنا کرلے تو حد نہیں اور دوسرے کا یہ کہنا کہ یہ حرکت تو ارتداد ہے جس کی حد قتل ہے، دونوں باتیں کیسے درست ہوسکتی ہیں ؟ پھر بہت سے ائمہ کا کہنا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے اور اعمال ایمان کا جز ہیں اور ہمارے اور انبیاء و ملائکہ و صحابہ کے ایمان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس کے مقابلے میں بعض حضرات کا یہ کہنا کہ ایمان صرف دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کا نام ہے، اعمال خواہ نماز روزہ ہی ہوں، ایمان کا جز نہیں اور چونکہ تصدیق اور اقرار ہم نے بھی کیا ہے، جبریل (علیہ السلام) اور ابوبکر (رض) نے بھی کیا ہے، سو ایمان میں ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کہ کسی کا کم ہو یا کسی کا زیادہ، سب کا برابر ہے۔ آپ خود ہی بتائیں اتنے تضاد کے باوجود دونوں حق کس طرح ہوگئے ؟ خلاصہ یہ کہ ہر دو متضاد چیزوں میں اگر ایک حق ہے تو یقیناً دوسری ضلال اور گمراہی ہوگی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the concluding verse (32), it was said: فَذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَ‌بُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (So, that is Allah, your Lord in truth. And what is there, after truth, but error?), that is, ` this is the Sacred Being whose attributes of perfection have just been mentioned. Once you have found the Truth, there remains nothing else to find except error and straying. In other words, once it stands proved that Allah Ta` ala is the only true and rightful object of worship, it is terribly senseless to abandon this truth and allow yourself to be diverted elsewhere. important note In relation to issues of religious beliefs embedded in this verse, it must be borne in mind that the statement: مَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (What is there, after truth, but error?) proves that there is no intermediary link between truth and error. What is not the truth will be included in error and straying. There can be no such thing that is neither truth nor error. And it is also not possible that two opposite things could be the truth. This is an established rule in the sight of the majority of scholars in the Muslim Ummah. However, difference exists among ` Ulama& regarding minor and subsidiary juristic issues. In the view of some of them, both sides would be considered as on truth in Ijtihad-based issues and, according to the majority of them, there is consensus on the view that the taking of contra-position in Ijtihad-based problems cannot be termed as error and straying.

آخری آیت میں فرمایا (آیت) فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۚ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ، یعنی یہی ہے وہ ذات جس کی صفات کمال کا ذکر ابھی ابھی گزرا ہے پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ کا معبود برحق ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس حق کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف رخ پھیرنا کس قدر نامعقول بات ہے۔ اس آیت کے مسائل و فوائد میں سے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ آیت میں (آیت) مَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حق اور ضلال کے درمیان کوئی واسطہ نہیں جو حق نہیں ہوگا وہ ضلال و گمراہی میں داخل ہوگا، ایسا کوئی کام نہیں ہوسکتا جو نہ حق ہو نہ گمراہی اور یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ دو متضاد چیزیں حق ہوں، تمام اصول عقائد میں یہ قاعدہ جمہور امت کے نزدیک مسلم ہے، البتہ جزئی مسائل اور جزئیات فقہیہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض حضرات کے نزدیک اجتہادی مسائل میں دونوں جانبوں کو حق کہا جائے گا اور جمہور اس پر متفق ہیں کہ اجہتادی مسائل میں جانب خلاف کو ضلال و گمراہی نہیں کہہ سکتے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ۝ ٠ ۚ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ۝ ٠ ۚۖ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ۝ ٣٢ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ ( ماذا) يستعمل علی وجهين : أحدهما . أن يكون ( ما) مع ( ذا) بمنزلة اسم واحد، والآخر : أن يكون ( ذا) بمنزلة ( الذي) ، فالأوّل نحو قولهم : عمّا ذا تسأل ؟ فلم تحذف الألف منه لمّا لم يكن ما بنفسه للاستفهام، بل کان مع ذا اسما واحدا، وعلی هذا قول الشاعر : دعي ماذا علمت سأتّقيه أي : دعي شيئا علمته . وقوله تعالی: وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] ، فإنّ من قرأ : قُلِ الْعَفْوَ بالنّصب فإنّه جعل الاسمین بمنزلة اسم واحد، كأنّه قال : أيّ شيء ينفقون ؟ ومن قرأ : قُلِ الْعَفْوَ بالرّفع، فإنّ ( ذا) بمنزلة الذي، وما للاستفهام أي : ما الذي ينفقون ؟ وعلی هذا قوله تعالی: ماذا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ؟ قالُوا : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ النحل/ 24] ، و (أساطیر) بالرّفع والنصب ( ماذا ) اور ماذا ، ، بھی دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ اول یہ کہ ، ، مازا کے ساتھ مل کر بمنزلہ ایک اسم کے ہو ۔ دوم یہ کہ ذا لذی کے ہو ( ما بمعنی اول یہ کہ ماذا ، ، کے ساتھ مل کر بمنزلہ ایک اسم کے ہو ۔ دوم یہ کہ ذا بمنزلہ الذی کے ہو ( ما بمعنی ای شئی کے ہو پہلی قسم کی مثال جیسے : عما ذا تسال کہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے ہو اس صورت میں چونکہ ، ، ماذا اکیلا ، ، استفہام کے لئے نہیں ہے بلکہ ، ، ذا کے ساتھ مل کر ایک اسم بنتا ہے اس لئے ، ، ما ، ، کے الف کو حزف نہیں کیا گیا ۔ اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے یعنی جو چیز تجھے معلوم ہے اسے چھوڑ دے میں اس سے بچنے کی کوشش کرونگا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ کہ ( خدا کی راہ میں ) کونسا مال خرچ مال کریں ۔ میں جو لوگ کو منصوب پڑھتے ہیں ۔ وہ ماذا کو بمنزلہ ایک اسم کے مانتے ہیں کونسی چیز صرف کریں مگر جن کے نزدیک ہے اور ما استفہا میہ ہے یعنی وہ کونسی چیز ہے جسے خرچ کریں ۔ اس بنا پر آیت کریمہ : ۔ ماذا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ؟ قالُوا : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ النحل/ 24] کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہی تو کہتے ہیں کہ ( وہ تو ) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں ۔ میں اساطیر رفع اور نصب دونوں جائز ہیں ۔ ضَلل وإذا کان الضَّلَالُ تركَ الطّريق المستقیم عمدا کان أو سهوا، قلیلا کان أو كثيرا، صحّ أن يستعمل لفظ الضَّلَالِ ممّن يكون منه خطأ ما، ولذلک نسب الضَّلَالُ إلى الأنبیاء، وإلى الكفّار، وإن کان بين الضَّلَالَيْنِ بون بعید، ألا تری أنه قال في النّبي صلّى اللہ عليه وسلم : وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدى[ الضحی/ 7] ، أي : غير مهتد لما سيق إليك من النّبوّة . وقال في يعقوب : إِنَّكَ لَفِي ضَلالِكَ الْقَدِيمِ [يوسف/ 95] ، وقال أولاده :إِنَّ أَبانا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ [يوسف/ 8] ، إشارة إلى شغفه بيوسف وشوقه إليه، وکذلك : قَدْ شَغَفَها حُبًّا إِنَّا لَنَراها فِي ضَلالٍ مُبِينٍ [يوسف/ 30] ، وقال عن موسیٰ عليه السلام : فَعَلْتُها إِذاً وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ [ الشعراء/ 20] ، تنبيه أنّ ذلک منه سهو، وقوله : أَنْ تَضِلَّ إِحْداهُما[ البقرة/ 282] ، أي : تنسی، وذلک من النّسيان الموضوع عن الإنسان . جب کہ ضلال کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں خواہ وہ ہٹنا عمدا ہو یا سہوا تھوڑا ہو یا زیادہ تو جس سے بھی کسی قسم کی غلطی سرزد ہوگی اس کے متعلق ہم ضلالت کا لفظ استعمال کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انبیاء اور کفار دونوں کی طرف ضلالت کی نسبت کی گئی ہے گو ان دونوں قسم کی ضلالت میں بون بعید پایا جاتا ہے ۔ دیکھئے آنحضرت کو آیت کریمہ : وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدى[ الضحی/ 7] میں ضالا میں فرمایا ہے جس کے معنی یہ ہیں ک ہدایت نبوت کے عطا ہونے سے قبل تم اس راہ نمائی سے محروم تھے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں ان کی اولاد کا کہنا إِنَّكَ لَفِي ضَلالِكَ الْقَدِيمِ [يوسف/ 95] کہ آپ اسی پرانی غلطی میں مبتلا ) ہیں ۔ یا یہ کہنا :إِنَّ أَبانا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ [يوسف/ 8] کچھ شک نہیں کہ اباصریح غلطی پر ہیں ۔ تو ان آیات میں ضلال سے مراد یہ ہے کہ وہ یوسف ( (علیہ السلام) ) کی محبت اور ان کے اشتیاق میں سرگردان ہیں اسی طرح آیت کریمہ : قَدْ شَغَفَها حُبًّا إِنَّا لَنَراها فِي ضَلالٍ مُبِينٍ [يوسف/ 30] اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہیں ۔ میں بھی ضلال مبین سے والہانہ محبت مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ :إِذاً وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ [ الشعراء/ 20] اور میں خطا کاروں میں تھا ۔ میں موسیٰ ٰ (علیہ السلام) نے اپنے ضال ہونے کا اعتراف کرکے اشارہ کیا ہے کہ قتل نفس کا ارتکاب مجھ سے سہوا ہوا تھا ۔ اور آیت : أَنْ تَضِلَّ إِحْداهُما[ البقرة/ 282] اور اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی ۔ میں تضل کے معنی بھول جانا کے ہیں اور یہی وہ نسیان ہے جسے عفو قرار دیا گیا ہے أنى أَنَّى للبحث عن الحال والمکان، ولذلک قيل : هو بمعنی كيف وأين ، لتضمنه معناهما، قال اللہ عزّ وجل : أَنَّى لَكِ هذا [ آل عمران/ 37] ، أي : من أين، وكيف . ( انیٰ ) انی۔ یہ حالت اور جگہ دونوں کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اس لئے بعض نے کہا ہے کہ یہ بمعنیٰ این اور کیف ۔ کے آتا ہے پس آیت کریمہ ؛۔ { أَنَّى لَكِ هَذَا } ( سورة آل عمران 37) کے معنی یہ ہیں کہ کھانا تجھے کہاں سے ملتا ہے ۔ انی اسم ظرف ہے۔ (1) جب ظرف زمان ہو تو بمعنی متی۔ جب ۔ جس وقت۔ (2) اگر ظرف مکان ہو تو بمعنی این۔ جہاں۔ کہاں۔ ہوتا ہے۔ (3) اگر استفہامیہ ہو تو بمعنی کیف۔ کیسے۔ کیونکر۔ ہوتا ہے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٢) جو یہ تمام امور سرانجام دیتا ہے وہی تمہارا رب حقیقی ہے اور اسی کی عبادت حق اور ضروری ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بعد اور کس کی عبادت کی گنجائش رہ گئی، ماسوا شیطان کی پوجا کی پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان جھوٹے معبودوں کو کہاں لاتے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢ (فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّج فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ الاَّ الضَّلٰلُج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ ) یہی حق ہے جس کو تم اپنی فطرت کی نظر سے پہچان چکے ہو۔ اب اسی کو مضبوطی سے تھام لو اور پھر سے گمراہی میں مبتلا ہونے سے بچ جاؤ۔ یعنی تمہاری فطرت کے اندر حق کی پہچان موجود ہے۔ اس کی گواہی خود تمہاری اپنی زبانیں دے رہی ہیں۔ تم اللہ کو اپنا اور اس کائنات کا خالق ومالک مانتے ہو ‘ زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو۔ تو یہاں تک پہنچ کر پھر کیوں گمراہی میں اوندھے منہ گرجاتے ہو۔ تمہاری عقل کہاں الٹ جاتی ہے ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

38. Since it is God alone Who has the power to do all that has been mentioned here - the provision of livelihood, the bestowing of vision and hearing, the granting of life and causing death, and since even the unbelievers affirmed that it is Allah alone Who causes all that, then it is obvious that He alone deserves to be held as the true Lord, Provider and Master of man, and hence the Only One Who deserves to be worshipped. How, then, can any others than Allah - those who have no share in any of the things mentioned above - be considered to have any share in His Lordship? 39. Addressing the generality of the unbelievers, the Qur'an inquires: 'How. then, are you, being turned away?' The question that is posed here makes it clear that it is not the unbelievers themselves who are guilty of turning away, rather they are being made to turn away from the right way and that this is happening under the influence of some person or group who is engaged in misleading people, It is for this reason that in effect people are being asked: 'Why should they go about blindly following those who are out to mislead people? Why should they not use their brains and think for themselves why they are being turned in a direction which is contrary to reality?' This mode of questioning, with some modifications, appears on a number of occasions in the Qur'an. On all such occasions the question has been asked in the passive voice. This was presumably to avoid a pointed reference to those who were actually engaged in misleading people. This should make it possible for people who had held these leaders of misguidance in considerable esteem to consider the matter dispassionately. Such a mode should also spare them any provocation that might impair their capacity to think about the issue coolly. For it is quite obvious that pointed references to specific persons might have been exploited so as to provoke people by pointing out that their venerated forefathers and religious mentors were being maliciously criticized and attacked. This manner of address - the use of the passive rather than the active voice and the avoidance of pointed references to specific persons as the ringleaders of misguidance and mischief - embodies a valuable piece of wisdom for those who seek to invite others to accept the Message of Islam.

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :38 یعنی اگر یہ سارے کام اللہ کے ہیں ، جیسا کہ تم خود مانتے ہو ، تب تو تمہارا حقیقی پروردگار ، مالک ، آقا ، اور تمہاری بندگی و عبادت کا حق دار اللہ ہی ہوا ۔ دوسرے جن کا ان کاموں میں کوئی حصہ نہیں آخر ربوبیت میں کہاں سے شریک ہو گئے؟ سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :39 خیال رہے کہ خطاب عام لوگوں سے ہے اور ان سے سوال یہ نہیں کیا جا رہا کہ ” تم کدھر پھرے جاتے ہو “بلکہ یہ ہے کہ ” تم کدھر پھرائے جا رہے ہو“ ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی ایسا گمراہ کن شخص یا گروہ موجود ہے جو لوگوں کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ پر پھیر رہا ہے ۔ اسی بنا پر لوگوں سے اپیل یہ کی جا رہی ہے کہ تم اندھے بن کر غلط رہنمائی کرنے والوں کے پیچھے کیوں چلے جا رہے ہو ، اپنی گرہ کی عقل سے کام لے کر سوچتے کیوں نہیں کہ جب حقیقت یہ ہے ، تو آخر یہ تم کو کدھر چلایا جا رہا ہے ۔ یہ طرز سوال جگہ جگہ ایسے مواقع پر قرآن میں اختیار کیا گیا ہے ، اور ہر جگہ گمراہ کرنے والوں کا نام لینے کے بجائے ان کو صیغہ مجہول کے پردے میں چھپا دیا گیا ہے ، تاکہ ان کے معتقدین ٹھنڈے دل سے اپنے معاملے پر غور کر سکیں ، اور کسی کو یہ کہہ کر انہیں اشتعال دلانے اور ان کا دماغی توازن بگاڑ دینے کا موقع نہ ملے کہ دیکھو یہ تمہارے بزرگوں اور پیشواؤں پر چوٹیں کی جا رہی ہیں ۔ اس میں حکمت تبلیغ کا ایک اہم نکتہ پوشیدہ ہے جس سے غافل نہ رہنا چاہیے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: قرآن کریم نے مجہول کا جو صیغہ استعمال فرمایا ہے آیت نمبر 32 اور 34 کے ترجمے میں اس کا مفہوم ’’ کوئی‘‘ کا لفظ بڑھا کر ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور بظاہر قرآن کریم نے مجہول کا صیغہ یہ اشارہ کرنے کے لیے استعمال فرمایا ہے کہ درحقیقت ان کی نفسانی خواہشات ہیں جو انہیں الٹی سمت لے جا رہی ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٢۔ ٣٣۔ جب حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خدا کا یہ حکم ہوا کہ ان مشرکوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ کارخانہ دنیا کا کس نے بنایا کان آنکھ نطفہ اور نطفہ سے آدمی کس نے پیدا کیا جس کے جواب میں مشرکین یہی کہیں گے اللہ نے تو فرمایا اب ان کے جواب کے جواب میں یہ کہنا چاہئے کہ جب تم یہ بات مان چکے کہ سوائے خدا کے اور کسی میں بھی کسی بات کی قدرت نہیں تو پھر کیوں نہیں خدا سے ڈرتے ہو اور خالص اسی کی بندگی کرتے۔ بتوں سے کیوں غرض رکھتے ہو یہ حق کے بعد کیسی گمراہی ہے اپنی زبان سے آپ اقرار کرتے ہو کہ خدا کی ذات ایک ہے اسی میں ہر ایک بات کی قدرت ہے پھر بھی خدا کی طرف رجوع نہیں ہوتے بتوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو پھر فرمایا کہ خدا کی بات ان فاسقوں پر پوری اتری یہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے ان کے دلوں میں تو گمراہی بھری ہوئی ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے ١ ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اپنے علم کے موافق بےحکم لکھا تھا دنیا میں پیدا ہونے کے بعد جب وہ لوگ بےحکم رہے تو اس پر فرمایا کہ ان بےحکم لوگوں کے حق میں اللہ کی لکھی ہوئی بات ٹھیک آئی۔ ١ ؎ صححح مسلم ص ٣٣٥ ج ٢ باب حجاج آدم و موسیٰ ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:32) الحق۔ ربکم کی صفت ہے۔ ماذا۔ ما استفہامیہ ہے اور ذا بمعنی الذی۔ یعنی کیا ہے۔ کون ہے۔ فما ذو بعد الحق الا الضلال۔ کیا ہے حق کے بعد سوائے گمراہی کے۔ فانی تصرفون۔ انی اسم ظرف ہے۔ (1) جب ظرف زمان ہو تو بمعنی متی۔ جب ۔ جس وقت۔ (2) اگر ظرف مکان ہو تو بمعنی این۔ جہاں۔ کہاں۔ ہوتا ہے۔ (3) اگر استفہامیہ ہو تو بمعنی کیف۔ کیسے۔ کیونکر۔ ہوتا ہے۔ آیت ہذا میں 2 اور 3 ہر دو معنی ہوسکتے ہیں۔ یعنی تم کدھر بھٹکائے جا رہے ہو۔ یا تم کیسے بھٹکائے جا رہے ہو۔ تصرفون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے تم پھیرے جاتے ہو۔ تمہیں پھیر دیا جا ریا ہے۔ صرف۔ سے بمعنی پھرنا۔ اس سے تصریف پھیرنا۔ بدلنا۔ (باب تفعیل سے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 ۔ یعنی اس کے باوجود تمہارا دل کیسے مانتا ہے کہ حق کو چھوڑ کر گمراہی اور توحید کو چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرو ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی جو امر حق کی ضد ہوگی وہ گمراہی ہے اور توحید کا حق ہوناثابت ہوگیا پس شرک یقینا گمراہی ہے۔ 6۔ آگے تسلی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہ ان لوگوں کی باطل پرستی پر مغموم ہوا کرتے تھے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فذلکم اللہ بس یہ (تمام امور سر انجام دینے والا) ہی تو اللہ ہے جو معبود ہونے کا مستحق ہے۔ ربکم الحق جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ جس کی ربوبیت وجدان سے بھی ثابت ہے اور دلیل سے بھی۔ جب اسی نے تم کو پیدا کیا ‘ رزق دیا اور تمہارے سارے امور کا انتظام کیا تو اس کے سوا اور تمہارا رب کون ہو سکتا ہے ‘ وہی حق ہے۔ نہ اس کی ہستی قابل شک ہے نہ اس کی مالکیت لائق شبہ۔ فماذا بعد الحق الا الضلل پھر (امر) حق کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا رہ گیا۔ سوال انکاری ہے یعنی حق کے بعدگمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ پس حق کو ترک کرنے والا اور اللہ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک کرنے والا گمراہ ہے۔ فانی تصرفون۔ پھر (حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف) کہاں پھرے جاتے ہو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

48: یہ دلیل مذکور کا ثمرہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو صٖفات بالا سے متصف ہے وہی تمہارا کارساز ہے نہ وہ جنہیں تم نے بنا رکھا ہے۔ “ اي ھذا الذي یفعل ھذه الاشیاء ھو ربکم الحق لا ما اشرکتم معه ” (قرطبی ج 8 ص 335) ۔ “ فَانّٰی تُصْرَفُوْنَ ” یعنی مسئلہ واضح ہوجانے کے بعد پھر کس وجہ سے حق سے پھرے جا رہے ہو “ اَلَّذِیْنَ فَسَقُوْا ” فسق سے درجہ کاملہ یعنی کفر مراد ہے اور جملہ “ لَا یُؤْمِنوْنَ ۔ حَقَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ ” کا بیان ہے جو لوگ مسئلہ توحید کی اس قدر وضاحت کے بعد بھی نہ مانیں اور ضد وعناد سے کفر پر اڑے رہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خداوند تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ مہر جباریت کی وجہ سے انہیں ایمان کی توفیق سے محروم کردیا جاتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

32 پس یہی اللہ تعالیٰ تو تمہارا حقیقی اور سچا رب ہے پھر امر حق کے ثابت اور متحقق ہوجانے کے بعد سوائے گمراہی کے اور کیا رہ گیا پھر حق کو چھوڑ کر گمراہی اور باطل کی طرف کہاں پھرے جاتے ہو۔ یعنی امر حق ثابت ہوجانے کے بعد جو رہا وہ گمراہی ہے اب امر حق سے منہ موڑ کر جدھر جائو گے وہ گمراہی اور بطلان کے سوا اور کیا ہے۔