The Criminals will certainly be avenged -- whether in This World or in the Hereafter
Allah said to His Messenger:
وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ
...
Whether We show you some of what We promise them (the torment),
We shall avenge them in your lifetime so your eye will be delighted.
...
أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ
...
Or We cause you to die -- still unto Us is their return,
...
ثُمَّ اللّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ
and moreover Allah is Witness over what they used to do.
Allah will then be the Witness watching over their actions for you.
Allah then said,
اللہ تعالی مقتدر اعلی ہے
فرمان ہے کہ اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلالیں ۔ بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے ۔ اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گذشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے ۔ آپ نے فرمایا ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم
اپنے کسی ساتھی کو پہنچانتے ہو ایسے ہی میں نے انھیں پہچان لیا ہر امت کے رسول ہیں ۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہو گئی ۔ اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا ۔ جیسے ( وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بِالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 69 ) 39- الزمر:69 ) والی آیت میں ہے ۔ ہر امت اللہ کے سامنے ہوگی ، رسول موجود ہوگا ، نامہ اعمال ساتھ ہوگا ، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے ، ایک کے بعد دوسری امت آئے گی اس شریف امت کا فیصلہ سب سے پہلے ہوگا ۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے ۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے ۔ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ امت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے ۔