Surat Younus

Surah: 10

Verse: 46

سورة يونس

وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۴۶﴾

And whether We show you some of what We promise them, [O Muhammad], or We take you in death, to Us is their return; then, [either way], Allah is a witness concerning what they are doing

اور جس کا ان سے ہم وعدہ کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھلا دیں یا ( ان کے ظہور سے پہلے ) ہم آپ کو وفات دے دیں سو ہمارے پاس تو ان کو آنا ہی ہے ۔ پھر اللہ ان کے سب افعال پر گواہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Criminals will certainly be avenged -- whether in This World or in the Hereafter Allah said to His Messenger: وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ ... Whether We show you some of what We promise them (the torment), We shall avenge them in your lifetime so your eye will be delighted. ... أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ... Or We cause you to die -- still unto Us is their return, ... ثُمَّ اللّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ and moreover Allah is Witness over what they used to do. Allah will then be the Witness watching over their actions for you. Allah then said,

اللہ تعالی مقتدر اعلی ہے فرمان ہے کہ اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلالیں ۔ بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے ۔ اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گذشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے ۔ آپ نے فرمایا ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم اپنے کسی ساتھی کو پہنچانتے ہو ایسے ہی میں نے انھیں پہچان لیا ہر امت کے رسول ہیں ۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہو گئی ۔ اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا ۔ جیسے ( وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بِالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 69؀ ) 39- الزمر:69 ) والی آیت میں ہے ۔ ہر امت اللہ کے سامنے ہوگی ، رسول موجود ہوگا ، نامہ اعمال ساتھ ہوگا ، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے ، ایک کے بعد دوسری امت آئے گی اس شریف امت کا فیصلہ سب سے پہلے ہوگا ۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے ۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے ۔ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ امت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

46۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے ہم ان کفار کے بارے میں جو وعدہ کر رہے ہیں اگر انہوں نے کفر و شرک پر اصرار جاری رکھا تو ان پر بھی عذاب الٰہی آسکتا ہے، جس طرح پچھلی قوموں پر آیا، ان میں سے بعض اگر ہم آپ کی زندگی میں بھیج دیں تو یہ بھی ممکن ہے، جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہونگی۔ لیکن اگر آپ اس سے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لئے گئے، تب بھی کوئی بات نہیں، ان کافروں کو بالآخر ہمارے پاس ہی آنا ہے۔ ان کے سارے اعمال و احوال کی ہمیں اطلاع ہے، وہاں یہ ہمارے عذاب سے کس طرح بچ سکیں گے، قیامت کے وقوع کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہاں اطاعت گزاروں کو ان کی اطاعت کا صلہ اور نافرمانوں کو ان کی نافرمانی کی سزا دی جائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٢] کافروں پر عذاب کی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی ؟:۔ کافروں اور مشرکوں کے لیے سب سے بڑا دکھ اور عذاب اسلام کا غلبہ اور ان کی ذلت آمیز شکست ہی ہوسکتا تھا تو اس عذاب کا بہت بڑا حصہ تو رسول اللہ کی زندگی میں ہی آپ نے خود اور سب مسلمانوں اور کافروں نے دیکھ لیا اسلام بدستور آگے بڑھتا رہا اور ترقی کی منازل بڑی تیزی سے طے کرتا گیا اور غزوہ بدر سے لے کر غزوہ تبوک تک کافروں کو میدان جنگ میں بھی اور معاشرتی طور پر بھی شکست اور ذلت ہی نصیب ہوتی رہی۔ رہی سہی کسر اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات کے بعد نکال دی اور دور عثمانی تک ایک وقت ایسا آیا جب کہ قریب قریب ساری دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجتا تھا اور کفر پوری طرح مغلوب و مقہور ہوچکا تھا۔ [٦٣] پھر کافروں سے عذاب کا وعدہ صرف دنیا کی زندگی پر ہی موقوف نہ تھا بلکہ آخرت میں عذاب کا وعدہ مستقل طور پر موجود تھا یہ نہیں ہوسکتا کہ اگر دنیا میں وہ عذاب سے دوچار ہوچکے تو آخرت میں چھوٹ جائیں گویا دنیا کی زندگی میں اگر کوئی کافر عذاب سے بچ بھی جائے تو اخروی عذاب تو بہرحال یقینی اور بڑا سخت ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُھُمْ ۔۔ : یعنی اسلام کے غلبے اور مخالفین کی ذلت و خواری، یعنی قتل و قید اور شکست کے جو وعدے ہم ان کفار سے وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں، اگر ہم ان میں سے بعض آپ کی زندگی ہی میں پورے کرکے آپ کو دکھلا دیں، یا ان میں سے بعض کے پورا کرنے سے پہلے ہی آپ کو اٹھا لیں، دونوں حالتوں میں انھیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس پر اچھی طرح گواہ ہے جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں۔ وہاں وہ ان کا انجام آپ کو دکھا دے گا۔ ” شَاہِدٌ“ کا معنی گواہ اور ” شَهِيْدٌ“ میں مبالغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کچھ وعدے آپ کی زندگی میں پورے کر دکھائے، مثلاً اہل مکہ پر قحط، بھوک اور خوف کا مسلط ہونا۔ دیکھیے نحل (١١٢) اس قحط کی وجہ سے ان کا ہڈیاں تک کھا جانا اور زمین و آسمان کے درمیان انھیں ہر طرف دھواں نظر آنا۔ دیکھیے دخان (١٠، ١١) حتیٰ کہ اس وقت کفار کے سردار ابوسفیان نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آ کر یوں بارش کی دعا کی درخواست کی : (أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ قَوْمَکَ قَدْ ھَلَکُوْا، فَادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَّکْشِفَ عَنْھُمْ ، فَدَعَا ) [ بخاری، التفسیر، باب ( ثم تولوا ۔۔ ) : ٤٨٢٤ ] ” اے محمد ! بیشک تیری قوم کے لوگ ہلاک ہوگئے، پس آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے (اس مصیبت کو) دور کر دے تو آپ نے دعا کی۔ “ پھر بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور آخر میں فتح مکہ و خیبر اور پورے جزیرۂ عرب کا آپ کی زندگی میں حلقہ بگوش اسلام ہونا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کی زندگی میں دکھا دیا اور کچھ وعدے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد خلفاء کے زمانے میں پورے ہوئے۔ بہرحال آپ کے سچا ہونے میں کوئی شک نہ رہا۔ موضح القرآن میں ہے : ” غلبۂ اسلام کچھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبرو ہوا اور باقی آپ کے خلیفوں سے۔ “ شاید ” اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ “ میں دوسرے دور کی طرف اشارہ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُھُمْ اَوْ نَــتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ اللہُ شَہِيْدٌ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ۝ ٤٦ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ بعض بَعْضُ الشیء : جزء منه، ويقال ذلک بمراعاة كلّ ، ولذلک يقابل به كلّ ، فيقال : بعضه وكلّه، وجمعه أَبْعَاض . قال عزّ وجلّ : بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] ( ب ع ض ) بعض الشئی ہر چیز کے کچھ حصہ کو کہتے ہیں اور یہ کل کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اسلئے کل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے : بعضہ وکلہ اس کی جمع ابعاض آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خرٰو و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ وفی ( موت) وتَوْفِيَةُ الشیءِ : بذله وَافِياً ، وقد عبّر عن الموت والنوم بالتَّوَفِّي، قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] ، وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] يا عِيسى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَ [ آل عمران/ 55] ، وقدقیل : تَوَفِّيَ رفعةٍ واختصاص لا تَوَفِّيَ موتٍ. قال ابن عباس : تَوَفِّي موتٍ ، لأنّه أماته ثمّ أحياه اور توفیتہ الشیئ کے معنی بلا کسی قسم کی کمی پورا پورادینے کے ہیں اور کبھی توفی کے معنی موت اور نیند کے بھی آتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] خدا لوگوں کی مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو رات کو ( سونے کی حالت میں ) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے ۔ اور آیت : ۔ يا عِيسى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَ [ آل عمران/ 55] عیسٰی (علیہ السلام) میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ توفی بمعنی موت نہیں ہے ۔ بلکہ اس سے مدراج کو بلند کرنا مراد ہے ۔ مگر حضرت ابن عباس رضہ نے توفی کے معنی موت کئے ہیں چناچہ ان کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی (علیہ السلام) کو فوت کر کے پھر زندہ کردیا تھا ۔ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے شَّهِيدُ وأمّا الشَّهِيدُ فقد يقال لِلشَّاهِدِ ، والْمُشَاهِدِ للشیء، وقوله : مَعَها سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] ، أي : من شهد له وعليه، وکذا قوله : فَكَيْفَ إِذا جِئْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنا بِكَ عَلى هؤُلاءِ شَهِيداً [ النساء/ 41] شھید یہ کبھی بمعنی شاہد یعنی گواہ آتا ہے چناچہ آیت مَعَها سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] اسکے ساتھ ( ایک) چلانے والا اور ( ایک ، گواہ ہوگا ۔ میں شہید بمعنی گواہ ہی ہے جو اس کے لئے یا اس پر گواہی دیگا ۔ اسی طرح آیت کریمہ : فَكَيْفَ إِذا جِئْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنا بِكَ عَلى هؤُلاءِ شَهِيداً [ النساء/ 41] بھلا اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو لوگوں کا حال بتانے کو گواہ طلب کریں گے ۔ میں بھی شہید بمعنی شاہد ہی ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٦) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کررہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھلا دیں، یہ اس عذاب کے دکھلانے سے پہلے ہی ہم آپ کو وفات دے دیں تو ہر صورت میں ان کو بعد از موت ہمارے پاس تو آنا ہی ہے پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں اور برائیوں سب کو جانتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَاِلَیْنَا مَرْجِعُہُمْ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیْدٌ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ ) یعنی آخری محاسبہ تو ان کا قیامت کے دن ہونا ہی ہے ‘ مگر ہوسکتا ہے کہ یہاں دنیا میں بھی سزا کا کچھ حصہ ان کے لیے مختص کردیا جائے۔ جیسا کہ بعد میں مشرکین مکہ پر عذاب آیا۔ ان پر آنے والے اس عذاب کا انداز پہلی قوموں کے عذاب سے مختلف تھا۔ اس عذاب کی پہلی قسط جنگ بدر میں ان کے ّ ستر سرداروں کے قتل اور ذلت آمیز شکست کی صورت میں سامنے آئی ‘ جبکہ دوسری اور آخری قسط ٩ ہجری میں واردہوئی جب انہیں الٹی میٹم دے دیا گیا : (فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ ۔ ) (التوبۃ : ٢) کہ اب تمہارے لیے صرف چند ماہ کی مہلت ہے ‘ اس میں ایمان لے آؤ ورنہ قتل کردیے جاؤ گے۔ اہل مکہ کے ساتھ عذاب کا معاملہ پہلی قوموں کے مقابلے میں شاید اس لیے بھی مختلف رہا کہ پہلی قوموں کی نسبت ان کے ہاں ایمان لانے والوں کی تعداد کافی بہتر رہی۔ مثلاً اگر حضرت نوح کی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ سے ٨٠ لوگ ایمان لائے (میری رائے میں وہ لوگ ٨٠ بھی نہیں تھے) تو یہاں مکہ میں حضور کی بارہ سال کی محنت کے نتیجے میں اہل ایمان کی تعداد اس سے دو گنا تھی اور ان میں حضرت ابوبکر ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت عثمان ‘ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ‘ حضرت عمر اور حضرت حمزہ (رض) جیسے بڑے بڑے لوگ بھی شامل تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

25: یہ اس شبہہ کا جواب ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے کافروں کو عذاب کی دھمکی تو دی ہوئی ہے، لیکن اب تک ان کی سرکشی اور مسلمانوں کے ساتھ کٹر دُشمنی کے رویے کے باوجود ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب اﷲ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اپنے وقت پر ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ہی میں ان کو دُنیا میں سزا مل جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی عذاب نہ آئے، لیکن بہتر صورت یہ بات طے ہے کہ جب یہ آخرت کی زندگی میں اﷲ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو انہیں ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٦۔ ٤٧۔ مشرک لوگ عذاب کا وعدہ سن کر اس وعدہ کے ظہور کی جلدی کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے طور پر فرمایا کہ اے رسول اللہ ہم تمہارے سامنے ان کافروں کو غارت کردیں اور ان کے کردار کی سزا اسی دنیا میں تمہاری حیات ہی میں ان کو دیں یا ان کو اسی حال پر چھوڑ کر تمہیں اپنے پاس بلا لیں بہرحال یہ لوگ ایک دن ہمارے روبرو حاضر ہونے والے اور اپنی بد اعمالی کی سزا بھگتنے والے ہیں کیوں کہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کو معلوم ہے۔ ذرہ ذرہ کا ایک دن مواخذہ ہوگا معتبر سند سے طبرانی میں ابو امامہ (رض) اور حذیفہ ابن اسید (رض) سے روایت ہے کہ ایک روز حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آج رات کو میری کل امت اول سے آخر تک مجھے دکھلا دی گئی ایک شخص نے کہا کہ جو آپ کی امت میں پیدا ہوچکے ہیں وہ تو خیر اور جو نہیں پیدا ہوئے ہیں انہیں کیسے آپ نے جانا فرمایا کہ جس طرح تم اپنے دوست احباب ہر ایک ملنے جلنے والے کو پہچانتے ہو اسی طرح میں ان کو پہچانتا ہوں ١ ؎ صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعضائے وضو کے نور سے امت کو میں نے بن دیکھے لوگوں کی پہچان اللہ کے رسول کو ہوگی۔ ٢ ؎ اسی طرح ابو امامہ (رض) کی طبرانی کی حدیث ٣ ؎ میں اس کی صراحت ہے۔ مجاہد (رض) کہتے ہیں کہ ہر ایک رسول کی امت کا قیامت کے دن اس کے رسول کے سامنے فیصلہ کیا جاوے گا اور اللہ پاک نہایت ہی عدل اور انصاف کے ساتھ حکم نافذ فرمائے گا نامہ اعمال سامنے رکھا ہوگا وہ بتلا دے گا کہ کس کے اعمال کیسے ہیں اور نامہ اعمال کے لکھنے والے فرشتے بھی گواہی دیں گے ہر ایک امت ایک کے بعد ایک آتی جائے گی اور اس کا حساب و کتاب ہوتا جائے گا۔ حضرت رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت اگرچہ سب امتوں سے پیچھے پیدا ہوئی ہے مگر اس کا حساب و کتاب سب سے پہلے ہوگا اور اس کے حساب و کتاب میں اتنا عرصہ بھی نہ ہوگا جتنا اوروں کے حساب میں ہوگا۔ صحیح بخاری و مسلم میں جو روایتیں ہیں ان میں یہ ذکر صراحت سے ہے کہ امت محمدیہ کا حساب اور امتوں سے پہلے ہوگا۔ ٤ ؎ بلکہ صحیح بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) کی روایت سے یہ بھی ہے کہ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر پل صراط پر بھی اور امتوں سے پہلے ہوگا۔ ٥ ؎ معتبر سند سے طبرانی کبیر اور اوسط میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ٦ ؎ ہے جس میں امت محمدیہ کے حساب کے جلدی طے ہوجانے کا ذکر تفصیل سے ہے۔ اوپر یہ جو گزرا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی سب امت کو دیکھا کہ یہ قصہ معراج کی رات کا ہے۔ چناچہ ترمذی اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی جو روایتیں ٧ ؎ ہیں ان میں معراج کی رات کا ذکر ہے اگرچہ یہ کل امت کے دیکھنے کی حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت صحیح بخاری میں بھی ہے۔ لیکن وہ مختصر ہے اس میں معراج کی رات کا ذکر نہیں ہے۔ ٨ ؎ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں حضرت حذیفہ (رض) کی روایت ہے لیکن اس میں ایک راوی کذاب ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری سب امت جنت میں جاوے گی مگر جو مجھ کو نہ مانے گا وہ دوزخ میں جاوے گا۔ صحابہ نے عرض کیا حضرت وہ کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا جو میری اطاعت نہیں کرتے۔ ٩ ؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اور امتوں سے پہلے حساب کے ہونے اور پل صراط پر سے پہلے گزرنے کی عزت امت محمدیہ کے ان ہی لوگوں کو دی جاوے گی جو اللہ کے رسول کے پورے فرمانبردار اور ہر طرح کی بدعت سے بیزار ہیں۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے روایتیں جو سورة النساء میں گزر چکی ہیں۔ ١٠ ؎ ان میں یہ ذکر تفصیل سے ہے کہ ہر امت کا فیصلہ ان کے رسول کے سامنے خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مقابلہ میں ہوگا اور ان روایتوں سے مجاہد کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔ ١ ؎ مجمع الزوائد ص ٦٩ ج ١٠ باب ١ ما جاء فی فضل الامۃ ٢ ؎ صحیح مسلم ص ١٢٦ ج ١ باب الستحباب الحالۃ الغرۃ الخ۔ ٣ ؎ مجمع الزوائد ص ٤٠٨۔ ٤٠٩ ج۔ ١ باب فیمن یدخل الجنۃ بغیر حساب۔ ٤ ؎ تفسیر ابن کبیر ص ٤١٩ ج ٢۔ ٥ ؎ مشکوۃ ٤٩٠ باب الحوض والشفاغۃ۔ ٦ ؎ مجمع الزوائد ص ٦٩ ج ١٠ باب ماجاء فی فضل الامۃ۔ ٧ ؎ فتح الباری ص ١٨١ ج ٦ باب یدخل الجنۃ سبعون الغابغیر حساب۔ ٨ ؎ صحیح بخاری ص ٩٦٨ ج ٢ باب یدخل الجنۃ سبعون الفا بغیر حساب۔ ٩ ؎ صحیح بخاری ص ١٠٨١ ج ٢ باب الاقتداء بسنن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ ١٠ ؎ تفسیر ہذا ٣٢١ ج ١۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:46) اما۔ اگر ۔ یا ۔ خواہ۔ نرینک۔ نرین۔ مضارع ۔ جمع متکلم بانون ثقیلہ ۔ ک ضمیر مفعول ۔ واحد مذکر حاضر۔ (اگر ۔ یا۔ خواہ) ہم تجھے دکھادیں۔ نعدہم۔ مضارع جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم وعدہ عذاب کرتے ہیں ۔ وعد۔ مصدر (باب ضرب) نتوفینک۔ مضارع جمع متکلم یا نون تاکید ثقیلہ توفی مصدر۔ (باب تفعل) ہم تیری زندگی پوری کردیں۔ ہم تیری روح قبض کرلیں۔ ہم تجھے وفات دیدیں۔ ثم۔ واؤ کے معنی میں یہاں استعمال ہوا ہے بعض نے اسے فتح سے پڑھا ہے۔ ثم بمعنی وہاں۔ ثم پھر۔ شھید۔ بمعنی شاھد گواہ۔ علم رکھنے والا۔ یا اس سے مراد مقتضائے شہادت ہے۔ یعنی عقاب۔ یعنی ثم اللہ یعاقب علی ما یفعلون۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو ان کے افعال کا بدلہ دیں گے۔ کبھی شاہدت کے معنی فیصلہ اور حکم کے آتے ہیں ۔ جیسے فرمایا وشھد شاھد من اہلھا (12:26) اس کے قبیلہ میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ :۔ جن برے نتائج یا عذاب سے ہم ان کو ڈرا رہے ہیں ان میں سے بعض نتائج کو بھگتنا۔ ہم خواہ آپ کو (آپ کی زندگی میں ہی) دکھادیں یا اس سے قبل ہی آپ کو اٹھالیں (اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا) بہرصورت ان کی باز گشت ہماری ہی طرف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں جو وہ کر رہے ہیں (اس لئے وہ نتائج سے بچ نہیں سکیں گے آپ کے جیتے جی نہیں تو آپ کے بعد یہاں نہیں تو آخرت میں اپنے کئے کا بدلہ ضرور پاکر رہیں گے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کا غلبہ اور مخالفین کی ذلت و خواری یعنی قتل و قید۔ الغرض یہ وعدے قرآن کے بیان کے مطابق بعض تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ظاہر ہوگئے اور کچھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد خلفائے (رض) کے زمانہ میں۔ بہرحال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہیں۔ موضح میں ہے۔ غلبہ اسلام کو کچھ حضرات کے رو بروہوا اور باقی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد خلفاء (رض) کے عہد میں ہوا۔ شاید ” اونتوفینک “ میں اس دوسرے دور کی طرف اشارہ ہے۔ (کذافی الکبیر) ۔ 7 ۔ یعنی وہاں ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کا عذاب دکھا دیں گے۔ اس میں تنبیہ ہے کہ حق پرستوں کی عاقبت محمود اور مخالفین کی عاقبت نہایت مذموم ہوگی۔ (کبیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یعنی اگر آپ کی حیات میں ان پر اس کا نزول ہوجائے۔ 7۔ غرض یہ کہ دنیا میں خواہ سزا ہو یا نہ ہو مگر اصلی موقع پر ضرور ہوگی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واما نرینک بعض الذی نعدھم او نتوفینک فالینا مرجعھم اور جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں ‘ اس میں سے تھوڑا سا (عذاب) اگر آپ کو دکھلا دیں (تو آپ دیکھ ہی لیں گے) یا (اس کے نزول کے قبل) ہم آپ کو وفات دے دیں ‘ سو ہمارے پاس ہی تو ان کو لوٹ کر آنا ہے (عذاب سے تو چھوٹ ہی نہیں سکتے ‘ ہم آپ کو آخرت میں دکھا دیں گے) ۔ ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر (سب کو معلوم ہے کہ) اللہ ان کے سب افعال کی اطلاع رکھتا ہے۔ اطلاع سے مراد ہے نتیجۂ اطلاع (سبب بول کر مسبب مراد ہے) اسی لئے شہادت کو رجوع کا نتیجہ قرار دیا ہے (یعنی شہید کے لفظ سے مطلع ہونا مراد نہیں ہے ورنہ قیامت کے دن واپسی کے بعد اللہ کا ان کے افعال پر مطلع ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اللہ تو دنیا میں بھی ان کے افعال سے واقف ہے ‘ قیامت کے دن واپسی کے بعد ہی واقف نہیں ہوگا۔ البتہ شہید کا معنی اگر عذاب دہندہ کہا جائے تو مطلب درست ہوجائے گا کہ واپسی سب کی اللہ کے پاس ہوگی اور واپسی کے بعد اللہ ان کو عذاب دے گا) مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے افعال سے واقف ہے ‘ قیامت کے دن اسی واقفیت کی بناء پر ان کو سزا دے گا۔ بعض علماء نے کہا : لفظ ثُمَّ بمعنی واؤ ہے (اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ ان کے اعمال سے واقف ہے۔ ان سب کی واپسی اللہ کے پاس ہوگی۔ گویا دونوں مضمون جدا جدا دو جملوں میں مستقل طور پر بیان کر دئیے گئے (کسی مضمون کا دوسرے سے تقدم و تأخر مراد نہیں ہے) مجاہد نے کہا : عذاب کا جو حصہ اللہ نے اپنے رسول ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کو آنکھوں سے دکھا دیا ‘ اس سے بدر کے دن کا عذاب (سرداران کفر کا قتل اور کافروں کی دوامی شکست) مراد ہے ‘ باقی انواع عذاب کا مرنے کے بعد وقوع ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ) (اور جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں اگر اس میں سے تھوڑا سا حصہ ہم آپ کو دکھلا دیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں سو ہمارے ہی پاس ان سب کو آنا ہے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب پر جو عذاب میں مبتلا کئے جانے کی وعیدیں نازل ہوتی رہتی تھیں ان کے بارے میں فرمایا کہ جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا عذاب اگر ہم آپ کو دکھا دیں یعنی آپ کی حیات ہی میں اس کا نزول ہوجائے یا ہم آپ کو اس سے پہلے وفات دے دیں سو یہ دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کے سامنے ہی عذاب آجائے اور یہ بھی ضرورت نہیں کہ آپ کے بعدان پر عذاب آجائے یعنی دنیا میں عذاب آنا لازم نہیں ‘ ہمارے پاس ان کو آنا ہی ہے جو بڑا عذاب ہے (یعنی آخرت کا عذاب) اس میں تو ہر منکر اور کافر کو مبتلا ہوناہی ہے (ثُمَّ اللّٰہُ شَھِیْدٌ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ ) پھر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے سب کاموں کا علم ہے وہ اپنے علم کے مطابق بدلہ دے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

63: تخویف دنیوی ہے۔ منکرین اور معاندین کو ذلیل ورسوا کرنے کا ہم نے آپ سے جو وعدہ کر رکھا ہے اس کی بعض صورتیں اگر ہم دنیا ہی میں ظاہر کردیں اور آپ کو دکھا دیں تو ہم اس پر بھی قادر ہیں اور اگر دنیا میں ان کی سزا اور رسوائی کی تمام صورتوں کے ظہور سے قبل ہی ہم آپ کو وفات دیدیں تو ان کی مزید ذلت ورسوائی آپ میدان حشر میں مشاہدہ فرمالیں گے۔ “ اي واما نرینک بعض الذي نعدھم فی الدنیا فذلک او نتوفینک قبل ان نریکه فنحن نریکه فی الاخرة ” (مدارک ج 2 ص 127) ۔ “ ثُمَّ اللّٰه الخ ” میں ثُمَّ تراخی کیلئے نہیں بلکہ محض تعقیب ذکری کیلئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں حاضر و ناظر ہے قیامت کی کیا خصوصیت ہے یا “ ثُمَّ ” بمعنی واؤ ہے یا شہادت سے مراد اس کا لازم ہے یعنی جزاء و سزا دینا اس صورت میں “ ثم ” تعقیب زمانی کیلئے ہوگا “ ھی علی الاول للتراخی الرتبی و علی الثانی علی الظاھر ” (روح ج 11 ص 129) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

46 اور جو وعدہ عذاب ہم ان سے کر رہے ہیں خواہ ان میں سے بعض کا وقوع آپ کو دکھا دیں اور آپ اپنی زندگی میں ابن کو مبتلائے عذاب دیکھ لیں یا اس عذاب کے وقوع سے قبل آپ کی عمر پوری کردیں بہر حال ان کو ہماری طرف واپس آنا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان سب اعمال کی اطلاع ہے جو وہ کر رہے ہیں یعنی ہم نے ان سے جو وعدے عذاب کے یا غلبہ اسلام کے کئے ہیں یہ ضروری نہیں کہ وہ سب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی ہی میں پورے ہوجائیں ہوسکتا ہے کہ بعض ان میں سے آپ کی زندگی میں پورے ہوجائیں کچھ آپ کی وفات کے بعد پورے ہوں اور قیامت میں تو ہمارے روبرو پیش ہونا ہی ہے وہاں تو وعدئہ عذاب پورا ہونا ہی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی غلبہ اسلام حضرت کے روبرو ہوا اور باقی ان کے خلفیوں سے 12 خلاصہ یہ کہ اسلام کا غلبہ آپ کی زندگی میں شروع ہوگیا اور اس کی تکمیل خلفائے راشدین کے عہد میں ہوئی اور پھر اس کا سلسلہ چلتا ہی رہا یہاں تک کہ ساتویں صدی ہجری میں ضعف شروع ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون