Surat Younus

Surah: 10

Verse: 5

سورة يونس

ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ الشَّمۡسَ ضِیَآءً وَّ الۡقَمَرَ نُوۡرًا وَّ قَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعۡلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِیۡنَ وَ الۡحِسَابَ ؕ مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالۡحَقِّ ۚ یُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۵﴾

It is He who made the sun a shining light and the moon a derived light and determined for it phases - that you may know the number of years and account [of time]. Allah has not created this except in truth. He details the signs for a people who know

وہ اللہ تعالٰی ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اس کے لئے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کر لیا کرو ۔ اللہ تعالٰی نے یہ چیزیں بے فائدہ نہیں پیدا کیں ۔ وہ یہ دلائل ان کو صاف صاف بتلا رہا ہے جو دانش رکھتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Everything is a Witness to the Power of Allah Allah tells; هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاء وَالْقَمَرَ نُورًا ... It is He Who made the sun a shining thing and the moon as a light, Allah tells us about the signs He created that are indicative of His complete power and great might. He made the rays that come forth from the bright sun as the source of light, and made the beams that come forth from the moon as light. He made them of two different natures so they would not be confused with one another. Allah made the dominion of the sun in the daytime and the moon in the night. He ordained phases for the moon, where it starts small then its light increases until it completes a full moon. Then it begins to decrease until it returns to its first phase at the conclusion of the month. Allah said: وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَـهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالعُرجُونِ الْقَدِيمِ لااَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَأ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلااَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ And the moon, We have measured for it mansions (to traverse) till it returns like the old dried curved date stalk. It is not for the sun to overtake the moon, nor does the night outstrip the day. They all float, each in an orbit. (36:39-40) And He said: وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَاناً And the sun and the moon for counting. (6:96) And in this Ayah He said: ... وَقَدَّرَهُ ... and measured, that is the moon, Allah said: ... وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُواْ عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ... And measured out for it stages that you might know the number of years and the reckoning. The days are revealed by the action of the sun, and the months and the years by the moon. Allah then stated ... مَا خَلَقَ اللّهُ ذَلِكَ إِلاَّ بِالْحَقِّ .. Allah did not create this but in truth. He didn't create that for amusement but with great wisdom and perfect reasoning. With a similar meaning, Allah said: وَمَا خَلَقْنَا السَّمَأءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire! (38:27) He also said: أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَـكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لاَ تُرْجَعُونَ فَتَعَـلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ "Did you think that We had created you in play (without any purpose), and that you would not be brought back to Us!" So Exalted be Allah, the True King: None has the right to be worshipped but He, the Lord of the Supreme Throne! (23:115-116) Allah said: .... يُفَصِّلُ الايَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ He explains the Ayat in detail for people who have knowledge. In other words, He explained the signs and proofs for people who know. Allah further stated:

اللہ عزوجل کی عظمت و قدرت کے ثبوت مظاہر کائنات اس کی کمال قدرت ، اس کی عظیم سلطنت کی نشانی یہ چمکیلا آفتاب ہے اور یہ روشن ماہتاب ہے ۔ یہ اور ہی فن ہے اور وہ اور ہی کمال ہے ۔ اس میں بڑا ہی فرق ہے ۔ اس کی شعاعیں جگمگا دیں اور اس کی شعاعیں خود منور رہیں ۔ دن کو آفتاب کی سلطنت رہتی ہے ، رات کو ماہتاب کی جگمگاہٹ رہتی ہے ، ان کی منزلیں اس نے مقرر کر رکھی ہیں ۔ چاند شروع میں چھوٹا ہوتا ہے ۔ چمک کم ہوتی ہے ۔ رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اور روشن بھی ہوتا ہے پھر اپنے کمال کو پہنچ کر گھٹنا شروع ہوتا ہے واپسی اگلی حالت پر آجاتا ہے ۔ ہر مہینے میں اس کا یہ ایک دور ختم ہوتا ہے نہ سورج چاند کو پکڑلے ، نہ چاند سورج کی راہ روکے ، نہ دن رات پر سبقت کرے نہ رات دن سے آگے بڑھے ۔ ہر ایک اپنی اپنی جگہ پابندی سے چل پھر رہا رہے ۔ دور ختم کر رہا ہے ۔ دونوں کی گنتی سورج کی چال پر اور مہینوں کی گنتی چاند پر ہے ۔ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ بحکمت ہے ۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزیں باطل پیدا شدہ نہیں ۔ یہ خیال تو کافروں کا ہے ۔ جن کا ٹھکانا دوزخ ہے ۔ تم یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے تمہیں یونہی پیدا کر دیا ہے اور اب تم ہمارے قبضے سے باہر ہو ۔ یاد رکھو میں اللہ ہوں ، میں مالک ہوں ، میں حق ہوں ، میرے سوا کسی کی کچھ چلتی نہیں ۔ عرش کریم بھی منجملہ مخلوق کے میری ادنیٰ مخلوق ہے ۔ حجتیں اور دلیلیں ہم کھول کھول کر بیان فرما رہے ہیں کہ اہل علم لوگ سمجھ لیں ۔ رات دن کے رد و بدل میں ، ان کے برابر جانے آنے میں رات پر دن کا آنا ، دن پر رات کا چھا جانا ، ایک دوسرے کے پیچھے برابر لگا تار آنا جانا اور زمین و آسمان کا پیدا ہونا اور ان کی مخلوق کا رچایا جانا یہ سب عظمت رب کی بولتی ہوئی نشانیاں ہیں ۔ ان سے منہ پھیر لینا کوئی عقلمندی کی دلیل نہیں یہ نشانات بھی جنہیں فائدہ نہ دیں انہیں ایمان کیسے نصیب ہوگا ؟ تم اپنے آگے پیچھے اوپر نیچے بہت سی چیزیں دیکھ سکتے ہو ۔ عقلمندوں کے لیے یہ بڑی بڑی نشانیاں ہیں ۔ کہ وہ سوچ سمجھ کر اللہ کے عذابوں سے بچ سکیں اور اس کی رحمت حاصل کر سکیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 ضیاء ضوء کے ہم معنی ہے۔ مضاف یہاں محذوف ہے ذات ضیاء والقمر ذانور، سورج کو چمکنے والا اور چاند کو نور والا بنایا۔ یا پھر انہیں مبالغے پر محمول کیا جائے گویا کہ یہ بذات خود ضیا اور نور ہیں۔ آسمان و زمین کی تخلیق اور ان کی تدبیر کے ذکر کے بعد بطور مثال کچھ اور چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کا تعلق تدبیر کائنات سے ہے جس میں سورج اور چاند کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سورج کی حرارت اور تپش اور اس کی روشنی، کس قدر ناگزیر ہے اس سے ہر با شعور آدمی واقف ہے۔ اسی طرح چاند کی نورانیت کا جو لطف اور اس کے فوائد ہیں، وہ بھی محتاج بیان نہیں۔ حکما کا خیال ہے کہ سورج کی روشنی بالذات ہے اور چاند کی نورانیت ہے جو سورج کی روشنی سے مستفاد ہے (فتح القدیر) 5۔ 2 یعنی ہم نے چاند کی چال کی منزلیں مقرر کردی ہیں ان منزلوں سے مراد مسافت ہے جو وہ ایک رات اور ایک دن میں اپنی مخصوص حرکت یا چال کے ساتھ طے کرتا ہے یہ 28 منزلیں ہیں۔ ہر رات کو ایک منزل پر پہنچتا ہے جس میں کبھی خطا نہیں ہوتی۔ پہلی منزل میں وہ چھوٹا اور باریک نظر آتا ہے، پھر بتدریخ بڑا ہوتا جاتا ہے حتٰی کے چودھویں شب یا چودھویں منزل پر وہ مکمل (بدر کامل) ہوجاتا ہے اس کے بعد پھر وہ سکڑنا اور باریک ہونا شروع ہوجاتا ہے حتٰی کے آخر میں ایک یا دو راتیں چھپا رہتا ہے۔ اور پھر ہلال بن کر طلوع ہوجاتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرسکو۔ یعنی چاند کی ان منازل اور رفتار سے ہی مہینے اور سال بنتے ہیں۔ جن سے تمہیں ہر چیز کا حساب کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ یعنی سال 12 مہینے کا، مہینہ 29، 30 دن کا ایک دن 24 گھنٹے یعنی رات اور دن کا۔ جو ایام استوا میں 12، 12 گھنٹے اور سردی گرمی میں کم و بیش ہوتے ہیں، علاوہ ازیں دینوی منافع اور کاروبار ہی ان منازل قمر سے وابستہ نہیں۔ دینی منافع بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اس طلوع بلال سے حج، صیام رمضان، اشہر حرم اور دیگر عبادات کی تعین ہوتی ہے جن کا اہتمام ایک مومن کرتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧] ضیاء اور نور کا فرق :۔ ضیاء اور نور میں فرق یہ ہے کہ نور کا لفظ عام ہے اور ضیاء کا خاص۔ گویا ضیاء بھی نور ہی کی ایک قسم ہے نور میں روشنی اور چمک ہوتی ہے جبکہ ضیاء میں روشنی اور چمک کے علاوہ حرارت، تپش اور رنگ میں سرخی بھی ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے عموماً ضیاء کا لفظ سورج کی روشنی کے لیے اور نور کا لفظ چاند کی روشنی کے لیے استعمال فرمایا ہے۔ [٨] چاند کی منزلیں :۔ بطلیموسی نظریہ ہیئت کے مطابق ہئیت دانوں نے آسمان پر چاند کی اٹھائیس منزلیں مقرر کر رکھی ہیں دور نبوی میں یہی نظریہ ہیئت مقبول عام تھا اور درس گاہوں میں اسی نظریہ کی درس و تدریس ہوتی تھی۔ لہذا اس آیت میں اگر وہی ٢٨ منزلیں مراد لی جائیں تو بھی کوئی حرج نہیں تاہم اکثر علماء منازل قمر سے اشکال قمر مراد لیتے ہیں اور ان کی یہ دلیل ایک دوسری آیت ( وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ 39؀) 36 ۔ يس :39) سے ماخوذ ہے جس کے آخر میں ہلال (نئے یا پہلی رات کے چاند) کا ذکر کیا گیا ہے۔ [٩] قمری تقویم اور اس کی خصوصیات :۔ اس سے معلوم ہوا کہ قمری تقویم ہی حقیقی تقویم ہے شمسی نہیں۔ لہذا جہاں بھی ایک ماہ یا اس سے زائد مدت کا شمار ہوگا شرعی نقطہ نگاہ سے وہ قمری تقویم کے مطابق ہی ہوگا جیسے ایام عدت و رضاعت، معاہدات میں مدت کی تعیین وغیرہ نیز احکام اسلام مثلاً حج، روزہ، حرمت والے مہینے، عیدین سب کا تعلق قمری تقویم سے ہے قمری تقویم کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ یہ سادہ اور فطری تقویم ہے جو انسانی دستبرد (مثلاً کبیسہ اور اس کی اقسام مختلف) سے پاک ہے اس میں مہینہ کے دنوں کی تعداد کو بدلا نہیں جاسکتا اس میں سال ہمیشہ بارہ ہی ماہ کا ہوگا اور اس میں تمام دنیا کے لوگوں کے لیے مساوات اور ہمہ گیری کا اصول کار فرما ہے، اور اس پر دنیوی رسم و رواج اور اغراض اثر انداز نہیں ہوسکتیں۔ (مزید تفصیلات کے لیے میری تصنیف && الشمس والقمر بحسبان && ملاحظہ فرمائیے) [١٠] سورج اور چاند کی کی گردش کے فوائد :۔ یعنی سورج اور چاند کی مقررہ حساب کے مطابق گردش بلامعنی نہیں بلکہ اس کے کئی فوائد ہیں۔ پہلا فائدہ یہ ہے کہ نمازوں کے اوقات اور کاروبار کے اوقات سورج کی گردش سے متعین کرسکتے ہو، اور جب مدت کا شمار صرف ایک ماہ سے کم ہوگا تو یہ مدت سورج سے متعین ہوسکتی ہے اور چاند سے بھی، مگر جب یہ مدت ایک ماہ سے زائد ہوگی تو اس کا شمار چاند کے حساب سے ہوگا جس کی تقسیم انسانی دستبرد سے محفوظ ہے اس طرح تم مدت کا صدیوں تک کا حساب رکھ سکتے ہو دوسرا فائدہ یہ ہے کہ سورج، چاند اور دیگر ستاروں کی گردش کا نظام اس قدر مربوط، منظم اور فرمان الٰہی کا پابند ہے کہ اس میں ایک لمحہ کی تقدیم و تاخیر ناممکن ہے۔ اور اس طرح تم آئندہ بھی صدیوں تک کے لیے تقویم تیار کرسکتے ہو اور تیسرا سب سے اہم اور حقیقی فائدہ یہ ہے کہ تم ان چیزوں کو پیدا کرنے والی & انہیں اپنی گردش میں اس طرح جکڑ بند کرنے والی ہستی کے تصرف اور اختیار پر غور کرو اور دیکھو جو ہستی اتنے اتنے عظیم الشان کارنامے سرانجام دے سکتی ہے وہ تمہیں دوبارہ پیدا نہیں کرسکتی، یہ گویا معاد پر دوسری دلیل ہوئی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً ۔۔ : ” ضِيَاۗءً “ ” ضَاءَ یَضُوْءُ ضَوْءً ا وَ ضِیَاءً “ سے ہے اور ” قِیَامًا “ کی طرح مصدر ہے، بعض کہتے ہیں یہ ” ضَوْءٌ“ کی جمع ہے، جیسا کہ ” سَوْطٌ۔ “ کی جمع ” سِیَاطٌ“ یعنی سورج کو ” ذَاتَ ضِیَاءٍ “ تیز روشنی والا اور چاند کو ” ذَا نُوْرٍ “ نور والا بنایا، پھر ” ذَاتَ “ اور ” ذَا “ کو حذف کرکے مبالغہ کے لیے سورج کو سراپا ضیاء اور چاند کو سراپا نور قرار دیا۔ ضیاء اور نور میں وہی فرق ہے جو سورج کی تیز اور گرم روشنی اور چاند کی پر سکون روشنی میں ہوتا ہے۔ انسان اور کائنات کی حرکت و سکون کے لیے دن اور رات کی طرح سورج اور چاند بھی ضروری ہیں۔ وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ ۔۔ : یعنی چاند کی منزلیں مقرر فرمائیں کہ ہر روز گھٹتا اور بڑھتا ہے، اگرچہ سورج کی بھی منزلیں مقرر ہیں، جس کا ذکر اگلی آیت میں آ رہا ہے، مگر چاند کا اٹھائیس منزلوں میں روزانہ شکل بدل کر آنا، پھر ایک یا دو دن چھپ کرنئے سرے سے طلوع ہونا تاریخ اور ماہ و سال کی تعیین کے لیے زیادہ آسان اور قابل عمل ہے۔ اس لیے شریعت کے تمام احکام مثلاً حج، روزہ اور کفارہ وغیرہ بھی اسی سے متعلق ہیں۔ دیکھیے (یَسْئَلٗوْنَکَ عَنِ الْاَھِلَّۃ) [ البقرۃ : ١٨٩ ] کی تفسیر۔ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بےفائدہ اور بےمقصد پیدا نہیں فرمایا۔ یہ تفصیل علم و فہم رکھنے والوں کے لیے ہے، کیونکہ بےعلم اور بےسمجھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کے بیان سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary These two verses mention some signs openly visible in the universe of our experience. They are evidences of the perfect power and elo¬quent wisdom of the most exalted Allah. They prove that the Lord Almighty is fully capable of bringing about the end of this universe, re¬ducing it to particles, then reassembling the particles and bringing everything back to life, all anew, making everyone account for one&s deeds and get punishment or reward as enforced. And when He does that, it will be nothing but reasonable and wise. Thus, these two vers¬es are an extension of what was said briefly in verse 3. Mentioned there was the creation of the heavens and the earth in six days, the po¬sitioning on the Throne and the management of matters. The later proved that He did not, after having created the universe, abandon it to survive on its own, instead, He manages, directs and controls everything, all the time, every moment. The opening statement of verse هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ‌ نُورً‌ا firm (He is the One who has made the sun a glow and the moon a light) is a part of this very system and its management. Both words: ضِيَاءً (diya& ) and نُورً‌ (nur) mean glow and light, therefore, many master lexicographers have taken these as synonyms. ` Allamah al-Zamakhshari, al-Tibi, beside some others, said: Though the sense of light is common to both words, but نُور nur is general. Whether strong or weak, dim or clear, every light is referred to as nur, while ضُوء و ضِیَاء (daw& and diya& ) refer to light that is strong and clear. One needs both kinds of light. For the usual business of life, the sharp and clear light of the day is required, while the com-paratively dim light of the night is preferred for ordinary chores. If the day had nothing but the pale light of the moon, business will be affected adversely, and if the sun were to keep shining also during the night, sleep and chores that must be taken care of at that time alone would be disturbed. Therefore, nature made arrangements to provide both kinds of light by giving sunlight the degree of daw& ضُوء and diya& ضِیَاء and let it manifest itself at the time when people are busy in business, vo¬cation or other avenues of livelihood. And the moonlight was made to be gentle, pale and pleasing and the night was appointed to be the time of its manifestation. The Holy Qur&an has differentiated the lights of the sun and the moon variously at several places. In Surah Nuh, it was said: وَجَعَلَ الْقَمَرَ‌ فِيهِنَّ نُورً‌ا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَ‌اجًا ﴿١٦﴾ I (And made the moon a light therein and made the sun, a lamp - 71:16). Again, in Surah al-Furqan, it was said: وَجَعَلَ فِيهَا سِرَ‌اجًا وَقَمَرً‌ا مُّنِيرً‌ا 1f (and placed in it [ the sky ] a lamp, and a shining moon - 25:61). &Siraj& means lamp and since the light from a lamp is its own and not borrowed from somewhere else, therefore, some commentators have said that ضیا (diya& ) is the intrinsic light of something while (nar) is extrinsic light derived from something else. This semantic approach appears to be influenced by Greek thought, otherwise it has no lexical basis and the Qur&an too has not given any categorical verdict about it. Zajjaj takes diya& to be the plural of daw&. Perhaps, this may be in¬dicative of the Sun being a compendium of the seven colours of light which show up in the post-rain rainbow. (Al-Manar) Another manifestation of Divine power related to the system of the sun and the moon appears in the second sentence of verse وَقَدَّرَ‌هُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ` and determined for it stages, so that you may know the number of years and the calculation (of time).& The word قَدَّرَ‌هُ (&qaddara& ) is a derivation from تَقدِیر (taqdir) which means to maintain something at the level of a particular quantity and measure in terms of time or place or attributes. To keep the timings of the night and the day at a particular measure, the Holy Qur&an has said: وَاللَّـهُ يُقَدِّرُ‌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ‌ (And Allah determines [ the measure on the night and the day - 73:20). That spatial and travel distances have been kept at a particular meas¬ure finds mention elsewhere. In Surah Saba,& it was said about the habitations lying in between Syria and Saba&: وَقَدَّرْ‌نَا فِيهَا السَّيْرَ‌(and We determined between them the [ distance on journey - 34:18). And about quantitative measures in general, it was said: وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَ‌هُ تَقْدِيرً‌ا (and created everything then determined a measure for it, determining precisely - Surah a1-Furgan, 25:2). The word: مَنَازِل (manazil) in the verse under study is the plural form of مَنَزِل (manzil) which essentially means the place one arrives at on a journey, its stage or destination. Allah Ta` ala has appointed specific limits for the movement of the Sun and the Moon, each of which is called مَنَزِل manzil or stage. Since the Moon completes its orbit of the Earth every month, the count of its stages comes to thirty or twenty nine. However, since the Moon is not visible at least for a day, therefore, its stages are usually known as twenty- eight. The orbit of the Sun is com¬plete in a year and it has 360 or 365 stages. During the Arab Jahiliy-ah, and by astronomers and mathematicians as well, particular names were given to these stages as borrowed from stars located in their proximity. Being above such technical nomenclatures, the Holy Qur&an has simply referred to the distances the Sun and the Moon cover in specified number of days. In the verse under discussion, the words: قَدَّرَ‌هُ مَنَازِلَ (and determined for it stages) have been used with a pronoun in the singular form - although, being referred to here are the stages of both the Sun and the Moon. Therefore, some commentators say that, no doubt, what has been mentioned here is in the singular form, but in terms of the refer¬ence to each single one, it includes both. Examples of this usage abound in the Qur&an, and Arabic idiom. Some other commentators have said, ` though, Allah Ta` ala has de¬termined stages for the Sun and the Moon both but, at this place, the purpose is to describe the stages of the Moon only. Therefore, the pro-noun in قَدَّرَ‌هُ (qaddarahu: determined for it) refers back to the Moon. The reason for this specification is that one cannot find out the stages of the Sun without the help of relevant instruments and calculations. Sunrise and sunset follow the same pattern every day throughout the year. A simple observation cannot tell anybody in what stage the Sun is on a given day. This is contrary to the case of the Moon. It’ s states are different every day. By the end of the month, it is just not visible. By observing such changes, even uneducated people can figure out the dates. For example, let us say the date today is March 8. Now, by just looking at the Sun, nobody can tell whether it is the 8th or the 21st. The case of the Moon is different. One can find out the date even by looking at it. In the cited verse, the purpose is to tell people that man&s own in¬terest is also tied to these great signs of Allah Ta` ala since the count of years, months and its dates can be kept through them. No doubt, this calculation can be made from the Sun and the Moon both. Years and months, both Solar and Lunar, are universally known. Then, the Qur&an has also mentioned in Surah al-&Isra& (Banu Isra&il): وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ‌ آيَتَيْنِ ۖ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ‌ مُبْصِرَ‌ةً لِّتَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّ‌بِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ And We made the night and the day two signs. Then made the sign of the night disappear, and put the sign of the day with the light to see, so that you may seek bounty from your Lord, and that you may come to know the number of years, and the count (of time) - (17:12). Here, ` the sign of the night& means the Moon and ` the sign of the day,& the Sun. It is only after having mentioned both that it was said that you can find out the number of years and the dates of the months from these. And in Surah Ar-Rahman it was said: which tells us that we can calculate the date, the month and the year through the Sun and the Moon both. But, the calculation of month and date through the Moon is based on observation and experience. On the contrary, when done through the Sun, the calculations are so complex that no one other than regu¬lar mathematicians would understand them. Therefore, after having mentioned both the Sun and the Moon in this verse, when the Qur&an talks about having determined their stages, it elects to say: قَدَّرَ‌هُ (qaddarahu: determined for it) using the pronoun in its singular form, whereby mentioned there were the stages of the Moon only. Since great attention is paid in the injunctions of Islam, practically in all situations, to ensure that abiding by them is easy for everyone - educated or uneducated, urbanized or rustic - therefore, reliance has usually been placed on lunar year, month and dates in its laws. Thus, it is the lunar calendar that operates in all matters of Islamic obliga¬tions and duties, such as, Salah, Sawm, Zakah, ` Iddah etc. This does not mean that using the Solar Calendar is impermissi¬ble. In fact, one can choose to use the Lunar Calendar in the case of Sa¬lah, Sawm, Hajj, Zakah and ` Iddah in accordance with the Shari’ ah, but use the Solar Calendar in commercial and vocational activities. However, this is subject to the condition that the Lunar Calendar must continue to be in use among Muslims on a collective basis, so that the occasions and timings of religious obligations such as Ramadan and Hajj are in common knowledge at all times. This is to avoid the terri¬ble situation in which Muslims just know no other months but Janu¬ary, February etc. Muslim jurists, may the mercy of Allah be on them, have placed the responsibility of keeping the Lunar Calendar alive and functional on Muslims as Fard al-Kifayah (collective obligation). And there is no doubt about it that the Calendar used in the Tradi¬tion of the blessed prophets and in the Sunnah of the Last among them, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and in the practice of his rightly-guided Khulafa& was no other but this very Lunar Calendar. Using it, following in their footsteps, is certainly an effective cause of blessings and rewards for modern day Muslims as well. In short, the verse points out to the perfect power and wisdom of Allah who created two inexhaustible treasure troves of light so harmo¬niously synchronized with the rest of the creation. And then, He determined ideal measures of their movement which help us find the time frame we are in, the year, the month, the day and its hours right up to every second. Neither does their movement vary, nor do they go ahead or remain behind, nor do these God-made marvels of what we call machines need any workshop appointments for repairs, nor greasing, nor replacement of worn-out parts. Someone in eternity had asked them to move and be good. This they are doing even today. For added warning, it was said at the end of the verse (5): مَا خَلَقَ اللَّـهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (Allah has not created all this but for something right. He elaborates the signs for a people who understand). It means that Allah did not create all these things in vain. There is great wis¬dom behind it, and certainly numerous are the benefits they bring for human beings. These are elaborated signs. They are loud and clear. They are telling the truth to people who are blessed with reason and insight.

خلاصہ تفسیر وہ اللہ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو ( بھی) نورانی بنایا اور اس ( کی چال) کے لئے منزلیں مقرر کیں (کہ ہر روز ایک منزل قطع کرتا ہے) تاکہ ( ان اجرام کے ذریعہ سے) تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو، اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بےفائدہ نہیں پیدا کیں، وہ یہ دلائل ان لوگوں کو صاف بتلا رہے ہیں جو دانش رکھتے ہں، بلاشبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کے واسطے ( توحید کے) دلائل ہیں جو ( خدا کا) ڈر مانتے ہیں۔ معارف و مسائل ان آیتوں میں کائنات عالم کی بہت سی نشانیاں مذکور ہیں جو اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ پر شاہد اور اس کے دلائل ہیں کہ رب العزت اس پر پوری طرح قادر ہے کہ اس عالم کو فنا کرنے اور ذرہ ذرہ کردینے کے بعد پھر ان ذرات کو جمع کردے اور از سرنو ان سب کو زندہ کردے اور حساب و کتاب کے بعد جزاء و سزاء کا قانون نافذ کردے اور یہ کہ یہی عقل و حکمت کا مقتضی ہے اس طرح یہ آیتیں اس اجمال کی تفصیل ہیں جو گذشتہ تیسری آیت میں آسمان و زمین کی چھ دن میں پیدائش اور پھر اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ کے بعد يُدَبِّرُ الْاَمْرَ کے الفاظ میں بیان کیا تھا کہ اس نے عالم کو صرف پیدا کرکے نہیں چھوڑ دیا بلکہ ہر وقت ہر آن میں ہر چیز کا نظام بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اسی نظام و انتظام کا ایک جزء یہ ہے (آیت) ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا، ضیاء اور نور دونوں کے معنی چمک اور روشنی کے ہیں اسی لئے بہت سے ائمہ لغت نے ان دونوں لفظوں کو مرادف کہا ہے، علامہ زمخشری اور طیبی وغیرہ نے فرمایا کہ اگرچہ روشنی کے معنی ان دونوں لفظوں میں مشترک ہیں مگر لفظ نور عام ہے، ہر قوی و ضعیف ہلکی اور تیز روشنی کو نور کہا جاتا ہے اور ضوء و ضیاء قوی اور تیز روشنی کو کہتے ہیں، انسان کو دونوں قسم کی روشنیوں کی ضرورت پڑتی ہے، عام کاروبار کے لئے دن کو بھی صرف چاند کی پھیکی روشنی رہے تو کاروبار میں خلل آئے اور رات کو بھی آفتاب چمکتا رہے تو نیند اور رات کے مناسب کاموں میں خلل آئے، اس لئے قدرت نے دونوں طرح کی روشنی کا انتظام اس طرح فرمایا کہ آفتاب کی روشنی کو ضوء و ضیاء کا درجہ دیا اور کاروبار کے وقت اس کا ظہور فرمایا اور چاند کی روشنی کو ہلکی اور پھیکی روشنی بنایا اور رات کو اس کا محل ظہور بنایا۔ قرآن کریم نے شمس و قمر کی روشنیوں میں فرق و امتیاز کو متعدد جگہ مختلف عنوانات سے بیان فرمایا ہے، سورة نوح میں ہے (آیت) وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا، سورة فرقان میں فرمایا (آیت) وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا، سراج کے معنی چراغ کے ہیں اور چونکہ چراغ کا نور ذاتی ہوتا ہے کسی دوسری چیز سے حاصل کردہ نہیں ہوتا اس لئے بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ضیاء کسی چیز کی ذاتی روشنی کو کہتے ہیں اور نور اس کو جو دوسرے سے مستفاد اور حاصل کردہ ہو، مگر یہ بظاہر یونانی فلسفہ سے متاثر ہو کر کہا گیا ہے ورنہ لغت میں اس کی کوئی اصل نہیں، اور قرآن کریم نے بھی اس کا کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا۔ زجاج نے لفظ ضیاء کو ضوء کی جمع قرار دیا ہے، اس کی رو سے شاید اس طرف اشارہ ہو کہ روشنی کے ساتھ مشہور رنگ اور قسمیں جو دنیا میں پائی جاتی ہیں آفتاب ان تمام اقسام کا جامع ہے جو بارش کے بعد قوس قزح میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ( منار) ۔ نظام شمس و قمر میں آیات قدرت کا ایک دوسرا مظاہرہ یہ ہے (آیت) وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ، قدر لفظ تقدیر سے بنا ہے، تقدیر کے معنٰی کسی چیز کو زمانہ یا مکان یا صفات کے اعتبار سے ایک مخصوص مقدار اور پیمانہ پر رکھنے کے ہیں، رات اور دن کے اوقات کو ایک خاص پیمانہ پر رکھنے کے لئے قرآن کریم نے فرمایا (آیت) وَاللّٰهُ يُقَدِّرُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، مکانی فاصلے اور مسافت کو ایک خاص پیمانہ پر رکھنے کے لئے دوسری جگہ ملک شام اور سباء کی درمیانی بستیوں کے متعلق فرمایا (آیت) وَّقَدَّرْنَا فِيْهَا السَّيْرَ ، اور عام مقادیر کے متعلق فرمایا (آیت) وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا۔ لفظ منازل منزل کی جمع ہے جس کے اصلی معنی جائے نزول کے ہیں، اللہ تعالیٰ نے شمس و قمر دونوں کی رفتار کے لئے خاص حدود مقرر فرمائی ہیں جن میں سے ہر ایک کو منزل کہا جاتا ہے، چاند چونکہ اپنا دورہ ہر مہینہ میں پورا کرلیتا ہے اس لئے اس کی منزلیں تیس (٣٠) یا انتیس (٢٩) ہوتی ہیں مگر چونکہ ہر مہینہ میں چاند کم ازکم ایک دن غائب رہتا ہے اس لئے عموما چاند کی منزلیں اٹھائیس کہی جاتی ہیں، اور آفتاب کا دورہ سال بھر میں پورا ہوتا ہے اس کی منزلیں تین سو ساٹھ یا پینسٹھ ہوتی ہیں، قدیم جاہلیت عرب میں بھی اور اہل ہیئت و ریاضی کے نزدیک بھی ان منزلوں کے خاص خاص نام ان ستاروں کی مناسبت سے رکھ دیئے گئے ہیں جو ان منازل کی محاذات میں پائے جاتے ہیں، قرآن کریم ان اصطلاحی ناموں سے بالاتر ہے، اس کی مراد صرف وہ فاصلے ہیں جن کو شمس و قمر خاص خاص دنوں میں طے کرتے ہیں۔ آیت مذکورہ میں قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ بضمیر مفرد استعمال کیا ہے، حالانکہ منزلیں شمس و قمر دونوں کی ہیں، اس لئے بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اگرچہ ذکر مفرد کا ہے مگر مراد ہر ہر واحد کے اعتبار سے دونوں ہیں جس کی نظائر قرآن اور عربی محاورات میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اگرچہ منزلیں اللہ تعالیٰ نے شمس و قمر دونوں ہی کے لئے قائم فرما دی ہیں مگر اس جگہ بیان صرف چاند کی منازل کا مقصود ہے اس لئے قَدَّرَهٗ کی ضمیر قمر کی طرف راجع ہے، وجہ تخصیص کی یہ ہے کہ آفتاب کی منزلیں تو آلات رصدیہ اور حسابات کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتیں اس کا طلوع و غروب ایک ہی ہیئت میں سال کے تمام ایام میں ہوتا رہتا ہے، مشاہدہ سے کسی کو یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ آج آفتاب کون سی منزل میں ہے، بخلاف چاند کے کہ اس کے حالات ہر روز مختلف ہوتے ہیں آخر ماہ میں با لکل نظر نہیں آتا، اس طرح کے تغیرات کے مشاہدہ سے بےعلم لوگ بھی تاریخوں کا پتہ چلا سکتے ہیں، مثلاً آج مارچ کی آٹھ تاریخ ہے کوئی شخص آفتاب کو دیکھ کر یہ معلوم نہیں کرسکتا کہ آٹھ ہے یا اکیس بخلاف چاند کے کہ اس کو دیکھ کر بھی تاریخ کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ آیت مذکورہ میں چونکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان عظیم الشان نشانیوں سے انسان کا یہ فائدہ بھی وابستہ ہے کہ ان کے ذریعہ وہ سال اور مہینہ اور اس کی تاریخوں کا حساب معلوم کرے اور یہ حساب بھی اگرچہ شمس و قمر دونوں ہی سے معلوم ہوسکتا ہے اور دنیا میں دونوں طرح کے سال اور مہینے شمسی اور قمری قدیم زمانہ سے معروف بھی ہیں، اور قرآن کریم نے بھی سورة اسراء کی آیت ١٢ میں فرمایا (آیت) وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ، اس میں اٰيَةَ الَّيْلِ سے مراد چاند اور اٰيَةَ النَّهَارِ سے مراد آفتاب ہے، اور دونوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان سے تم سالوں کا عدد اور مہینوں کی تاریخوں کا حساب معلوم کرسکتے ہیں، اور سورة رحمن میں فرمایا (آیت) اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْـبَانٍ ، جس میں بتلایا گیا ہے کہ شمس و قمر دونوں کے ذریعہ تاریخ مہینہ اور سال کا حساب معلوم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن قمر کے ذریعہ مہینہ اور تاریخ کا حساب مشاہدہ اور تجربہ سے معلوم ہے بخلاف شمس کے کہ اس کے حسابات سوائے ریاضی والوں کے کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکتا، اس لئے اس آیت میں شمس و قمر دونوں کا ذکر کرنے کے بعد جب ان کی منازل مقرر کرنے کا ذکر فرمایا تو بضمیر مفرد قدرہ ارشاد فرما کر منازل صرف قمر کی بیان فرمائی گئیں۔ اور چونکہ احکام اسلام میں ہر جگہ ہر موقع پر اس کی رعایت رکھی گئی ہے کہ ان کی ادائیگی شخص کے لئے آسان ہو خواہ وہ کوئی لکھا پڑھا آدمی ہو یا ان پڑھ شہری ہو یا دیہاتی، اسی لئے عموماً احکام اسلامیہ میں قمری سن اور مہینہ اور تاریخوں کا اعتبار کیا گیا ہے، نماز، روزہ، حج، زکوٰة، اور عدت وغیرہ اسلامی فرائض و احکام میں قمری حساب ہی رکھا گیا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ شمسی حساب رکھنا یا استعمال کرنا ناجائز ہے بلکہ اس کا اختیار ہے کہ کوئی شخص نماز، روزہ، حج، زکوٰة اور عدت کے معاملہ میں تو قمری حساب شریعت کے مطابق استعمال کرے مگر اپنے کاروبار، تجارت وغیرہ میں شمسی استعمال کرے، شرط یہ ہے کہ مجموعی طور پر مسلمانوں میں قمری حساب جاری رہے تاکہ رمضان اور حج وغیرہ کے اوقات معلوم ہوتے رہیں، ایسا نہ ہو کہ اسے جنوری فروری وغیرہ کے سوا کوئی مہینے ہی معلوم نہ ہوں، فقہاء رحمہم اللہ نے قمری حساب باقی رکھنے کو مسلمانوں کے ذمہ فرض کفایہ قرار دیا ہے۔ اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ سنت انبیاء اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور خلفائے راشدین میں قمری ہی حساب استعمال کیا گیا ہے اس کا اتباع موجب برکت وثواب ہے۔ غرض آیت مذکورہ میں اللہ جل شانہ کی قدرت اور حکمت کاملہ کا بیان ہے کہ اس نے روشنی کے دو عظیم الشان خزانے مناسب حال پیدا فرمائے اور پھر ہر ایک کی رفتار کے لئے ایسے پیمانے مقرر فرما دیئے جن سے سال مہینہ تاریخ اور اوقات کے ایک ایک منٹ کا حساب معلوم کیا جاسکتا ہے، نہ کبھی ان کی رفتار میں فرق آتا ہے نہ کبھی آگے پیچھے ہوتے ہیں، نہ ان خدا ساز مشینوں میں کبھی مرمت کا وقفہ ہوتا ہے نہ ان کو گریسنگ کی ضرورت ہوتی ہے، نہ وہ کبھی گھستی ٹوٹتی ہیں، جس شان سے ازل میں چلا دیا تھا چل رہی ہیں۔ اس کے بعد آخر آیت میں اسی پر مزید تنبیہ کے لئے فرمایا (آیت) مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ ، یعنی ان سب چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان میں بڑی بڑی حکمتیں اور انسان کے لئے بیشمار فوائد مضمر ہیں، وہ یہ دلائل ان لوگوں کو صاف صاف بتلا رہے ہیں جو عقل و دانش رکھتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ھُوَالَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ۝ ٠ ۭ مَا خَلَقَ اللہُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ۝ ٠ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۝ ٥ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے ۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں ۔ شمس یومنا واشمس ۔ دن کا دھوپ ولا ہونا شمس فلان شماسا گھوڑے کا بدکنا ایک جگہ پر قرار نہ پکڑناز ۔ گویا قرار نہ پکڑنے ہیں میں سورج کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔ ضوأ الضَّوْءُ : ما انتشر من الأجسام النّيّرة، ويقال : ضَاءَتِ النارُ ، وأَضَاءَتْ ، وأَضَاءَهَا غيرُها . قال تعالی: فَلَمَّا أَضاءَتْ ما حَوْلَهُ [ البقرة/ 17] ، كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، يَكادُ زَيْتُها يُضِيءُ [ النور/ 35] ، يَأْتِيكُمْ بِضِياءٍ [ القصص/ 71] ، وسَمَّى كُتُبَهُ المُهْتَدَى بها ضِيَاءً في نحو قوله : وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ وَضِياءً وَذِكْراً لِلْمُتَّقِينَ [ الأنبیاء/ 48] . ( ض و ء ) الضوء ۔ کے معنی نور اور روشنی کے ہیں ضائت النار واضائت : آگ روشن ہوگئی اور اضائت ( افعال ) کے معنی روشن کرنا بھی آتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ & فَلَمَّا أَضاءَتْ ما حَوْلَهُ [ البقرة/ 17] جب آگ نے اس کے ارد گرد کی چیزیں روشن کردیں ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی چمکتی اور ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ يَأْتِيكُمْ بِضِياءٍ [ القصص/ 71] جو تم کو روشنی لادے ۔ اور سماوی کتابوں کو جو انسان کی رہنمائی کے لئے نازل کی گئی ہیں ضیاء سے تعبیر فرمایا ہے ۔ چناچہ ( تورات کے متعلق ) فرمایا :۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ وَضِياءً وَذِكْراً لِلْمُتَّقِينَ [ الأنبیاء/ 48] وَذِكْراً لِلْمُتَّقِينَ [ الأنبیاء/ 48] اور ہم نے موسٰی اور ہارون کو ( ہدایت اور گمراہی میں ) فرق کردینے والی اور ( سرتاپا ) روشنی اور نصیحت ( کی کتاب ) عطاکی ۔ قمر القَمَرُ : قَمَرُ السّماء . يقال عند الامتلاء وذلک بعد الثالثة، قيل : وسمّي بذلک لأنه يَقْمُرُ ضوء الکواکب ويفوز به . قال : هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ( ق م ر ) القمر ۔ چاند جب پورا ہورہا ہو تو اسے قمر کہا جاتا ہے اور یہ حالت تیسری رات کے بعد ہوتی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ چاندکو قمر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ستاروں کی روشنی کو خیاہ کردیتا ہے اور ان پر غالب آجا تا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا ۔ ( منازل) ، جمع منزل، اسم مکان من نزل ينزل باب ضرب وزنه فعل بکسر العین لأن مضارعه مکسور العین . ( عدد) ، الاسم من عدّ يعدّ باب نصر وزنه فعل بفتحتین، جمعه أعداد زنة أفعال . حسب الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً وحُسْبَاناً ، قال تعالی: لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] ، وقیل : لا يعلم حسبانه إلا الله، ( ح س ب ) الحساب کے معنی گنتے اور شمار کرنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ حسبت ( ض ) قرآن میں ہے : ۔ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] اور برسوں کا شمار اور حساب جان لو ۔ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔ اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ تفصیل : ما فيه قطع الحکم، وحکم فَيْصَلٌ ، ولسان مِفْصَلٌ. قال : وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْناهُ تَفْصِيلًا[ الإسراء/ 12] ، الر كِتابٌ أُحْكِمَتْ آياتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ [هود/ 1] ( ف ص ل ) الفصل التفصیل واضح کردینا کھولکر بیان کردینا چناچہ فرمایا : وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْناهُ تَفْصِيلًا[ الإسراء/ 12] اور ہم نے ہر چیز بخوبی ) تفصیل کردی ہے ۔ اور آیت کریمہ : الر كِتابٌ أُحْكِمَتْ آياتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ [هود/ 1] یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم و خیبر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہیں ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥) تاکہ اس طرح لوگوں کو جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور حقوق اللہ انصاف کے ساتھ ادا کیے ایسے لوگوں کو بدلہ میں جنت دے اور جن لوگوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار کیا ان کو کھولتا ہوا پانی ملے گا اور ایسا دردناک عذاب ہوگا جس کی شدت ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی کیوں کہ وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کا انکار کرتے تھے۔ وہ اللہ ایسا ہے جس نے تمام جہانوں کو دن میں روشنی کے لیے سورج اور ررات کو روشنی کے لیے چاند دیا اور ان کی چال کے لیے منزلیں رکھیں تاکہ تم برسوں مہینوں اور دونوں کی گنتی اور حساب رکھ سکو۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے بیان کرنے کے لیے پیدا کی ہیں اور یہ دلائل قرآنیہ ان لوگوں کو جو کہ تصدیق کرتے ہیں، واضح علامات توحید بیان کررہے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ (ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا) ” وہی ہے جس نے بنایا سورج کو چمکدار اور چاند کو نور “ یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ سورج کے اندر جاری احتراق یعنی جلنے (combustion) کے عمل کی وجہ سے جو روشنی پیدا (generate) ہو رہی ہے اس کے لیے ” ضیاء “ جبکہ منعکس (reflect) ہو کر آنے والی روشنی کے لیے ” نور “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ سورج اور چاند کی روشنی کے لیے قرآن حکیم نے دو مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں ‘ اس لیے کہ سورج کی اپنی چمک ہے اور چاند کی روشنی ایک انعکاس ہے۔ (وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ط) ” اور اس نے اس (چاند) کی منزلیں مقرر کردیں تاکہ تمہیں معلوم ہو گنتی برسوں کی اور تم (معاملات زندگی میں) حساب کرسکو۔ “ (مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ الاَّ بالْحَقِّج یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ) ” اللہ نے یہ سب کچھ پیدا نہیں کیا مگر حق کے ساتھ ‘ اور وہ تفصیل بیان کرتا ہے اپنی آیات کی ان لوگوں کے لیے جو علم حاصل کرنا چاہیں۔ “ یعنی یہ کائنات ایک بےمقصد تخلیق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ‘ بامقصد اور نتیجہ خیز تخلیق ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: اس کائنات کے جن حقائق کی طرف قرآن کریم اشارہ فرماتا ہے اس سے دو باتیں ثابت کرنی مقصود ہوتی ہیں، ایک یہ کہ کائنات کا یہ محیر العقول نظام جس میں چاند سورج ایسے نپے تلے حساب کے پابند ہو کر اپنا کام کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی نشانی ہے، اس بات کو مشرکین عرب بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں، قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو ذات اتنے عظیم الشان کاموں پر قادر ہو اسے اپنی خدائی میں آخر کسی اور شریک کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے، لہذا یہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دیتی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ ساری کائنات بے مقصد پیدا نہیں کی گئی، اگر اس دنیوی زندگی کے بعد آخرت کی ابدی زندگی نہ ہو جس میں نیک لوگوں کو اچھا صلہ اور برے لوگوں کو برائی کا بدلہ نہ ملے تو اس کائنات کی پیدائش بے مقصد ہو کر رہ جاتی ہے، لہذا یہی کائنات توحید کے ساتھ ساتھ آخرت کی ضرورت بھی ثابت کرتی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥۔ ٦۔ اللہ پاک نے زمین و آسمان اور جو جو چیزیں دنیا میں ہیں ان سب کو اپنے بندے کے فائدے کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے فرمایا کہ آفتاب کو الگ چمک بخشی ہے جس کے سبب سے دن ہے اور چاند کو الگ روشنی دی ہے اور وہ راتوں کو نکلا کرتا ہے چاند کے لئے منزلیں مقرر کیں جس میں وہ برابر آتا جاتا رہتا ہے کبھی گھٹ جاتا ہے کبھی بڑھ جاتا ہے اور پورا ہو کر پھر گھٹنے لگتا ہے یہاں تک کہ بالکل نہیں دکھائی دیتا پھر ایک یا دو روز میں ہلال بن کر نکلتا ہے اسی کے سبب سے لوگ مہینوں اور سال کا حساب کرتے ہیں تو جو لوگ عقل و شعور رکھتے ہیں ان سب باتوں پر غور کر کے خدا پر ایمان لاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ وحدہ لا شریک ہے جس نے ایسی نشانیاں بنائی ہیں۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں چاند اور سورج کے منہ آسمان کی طرف ہیں اور پشت زمین کی ہے۔ ١ ؎ شرع میں اسی چاند کے دورہ کے حساب سے مہینہ شروع ہوتا ہے اور ختم ہوتا ہے۔ سورج کے حساب سے نہیں پھر فرمایا کہ دن اور رات کا الٹ پھیر بھی خدا سے ڈرنے والوں کے واسطے ایک نشانی ہے کہ جب دن ہوتا ہے تو رات نہیں ہوتی اور جب رات ہے تو دن نہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ رات سے دن بڑا ہوتا ہے اور کبھی دن سے رات بڑی ہوتی ہے کبھی دونوں برابر ہوجاتے ہیں تو سمجھ دار کے لئے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ بیشک کوئی اس کا بنانے والا ہے۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے ٢ ؎ کہ چاند کی اٹھائیس منزلیں اور بارہ برج ہیں ان منزلوں میں سے جب ایک منزل کو چاند طے کرتا ہے تو ایک رات ہوتی ہے اور پوری منزلیں اور برج جب طے ہوجاتے ہیں تو ایک مہینہ ہوتا ہے چاند اور سورج سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو بڑے معجزوں کا بھی تعلق ہے۔ چاند کا معجزہ تو شق القمر کا معجزہ ہے جس کا پورا ذکر تو سورة القمر میں آوے گا مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ صحیح بخاری و مسلم میں انس بن مالک (رض) کی روایت ہے جس میں یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شق القمر کا معجزہ چاہا اور اس معجزہ کا ظہور اس وقت کے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوا جنہوں نے چاند کے دو ٹکڑے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ سورج کے متعلق اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ معجزہ ہے جس کا ذکر قیامت کی علامات کی صحیح حدیثوں میں ہے۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں ابوذر (رض) کی اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اب تو سورج ہر روز غروب کے وقت عرش معلی کے نیچے جا کر سجدہ کرتا ہے اور اس کو حسب دستور دوسرے روز مشرق سے نکلنے کا حکم ہوجاتا ہے لیکن قیامت کے قریب ایک روز اللہ کے حکم سے وہ مغرب سے نکلے گا۔ اس کے بعد کسی کی توبہ اور کسی کا نیک عمل پھر قبول نہ ہوگا۔ جس طرح چاند کی گردش سے مہینہ اور سال کا حساب معلوم ہوتا ہے اسی طرح سورج کی گردش سے جاڑے کی گرمی اور برسات کا موسم پیدا ہوتا ہے جس کو دنیا کے کاموں میں بڑا دخل ہے غروب کے وقت سورج کے عرش معلے کے نیچے جانے اور سجدہ کرنے کا ذکر جو اوپر کی روایتوں میں ہے اس سے ان اہل ہیئت کا قول ضعیف ٹھہرتا ہے جو سورج کی حرکت کے قائل نہیں چناچہ زیادہ تفصیل اس کی سورة یٰسین میں آوے گی۔ غرض جس اللہ نے سورج چاند کو اس حالت پر پیدا کیا یہ سورج چاند اسی کے تابع ہیں ان میں اصلی کوئی تاثیر نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے جو لوگ سورج چاند میں کسی طرح کی مستقل تاثیر کا اعتقاد رکھ کر سورج چاند کی پوجا کرتے ہیں وہ بڑی غلطی پر ہیں اسی واسطے { حم السجدہ } میں فرمایا { الا تسجد للشمس ولا لقمر واسجدوا للہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون } (٣١: ٣٧) مطلب اس کا وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اصل تعظیم کے قابل وہی ہے اس کی عبادت میں جو لوگ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ بڑی غلطی پر ہیں کیوں کہ ان کی عبادت کی سب محنت رائیگاں ہے اس لئے فرمایا کہ جو سمجھ دار متقی لوگ ہیں ان کے حق میں تو سورج چاند دن رات اور سب مخلوقات اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں اور جو لوگ ناسمجھی سے شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں وہ اللہ کی قدرت کو بھول کر ان چیزوں سے اس طرح کے کام لیتے ہیں جن کاموں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا نہیں کیا۔ مثلاً نہ سورج چاند پوجا کے لئے پیدا کئے گئے ہیں نہ رات دن ایسے خلاف شریعت کاموں میں صرف کرنے کے لئے۔ ١ ؎ تفسیر فتح البیان ص ٣٣١۔ ٢ ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص ١٥٤۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:5) ضیائ۔ چمک ۔ روشنی ۔ چمکنا۔ روشن ہونا۔ اجوف وادی ہے۔ اور مہموز اللام۔ اصل میں ضواء تھا۔ چونکہ واؤ کا ماقبل مکسور ہے اس لئے اس کو یاء سے بدل دیا۔ ضیاء یا تو مصدر ہے۔ جیسے قام سے قیام اور صام سے صیام یا ضوء کی جمع ہے جیسے سوط سے سیاط اور حوض سے حیاض لیکن نورا (جو چاند کی صفت میں آیا ہے) سے اس کا مصدر ہونا ہی زیادہ مناسب ہے۔ مصدر کی صورت میں بمعنی اسم فاعل بھی ہوسکتا ہے روشن کنندہ۔ جعل الشمس ضیائ۔ ای ذات ضیائ۔ روشی والا۔ روشن۔ درخشاں۔ ضیاء اس روشنی کو کہتے ہیں جو بالذات ہو (لسان) ۔ نورا۔ ای ذانور (غور والا) منیرا۔ چمکدار۔ نور اس روشنی کو کہتے ہیں جو بالواسطہ ہو۔ (لسان العرب) ۔ قدر اللہ لہ الامر۔ اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا فیصلہ کرنا۔ یا اس کا حکم عائد کرنا۔ قدر الشیء بالشیء کسی چیز کو کسی دوسری چیز پر قیاس کرنا۔ مقرر کرنا۔ تقدیر میں لکھ دینا۔ مقدر کردینا۔ آیۃ ہذا میں منزلیں مقرر کرنا۔ جیسا کہ قرآن میں اور جگہ آیا ہے وقدر فیہا السیر (34:18) اور ان میں سفر کی منزلیں ایک اندازے پر مقرر کردیں۔ اور والقمر قدرنہ منازل (36:39) اور ہم نے حساب سے چاند کی منزلیں مقرر کردیں۔ بعض کے نزدیک یہ ضمیر واحد مذکر غائب القمر کے لئے ہے اور منازل سے مراد یہاں چاند کی مختلف منزلیں ہیں جو ایک ماہ میں طے کرتا ہے۔ چاند کو اس لئے مختص کیا گیا ہے کہ بہ نسبت سورج کے اس کی گردش عام فہم ہے اور اسی پر مہینے اور سال مرتب کئے جاتے ہیں اور یہی حساب شرع میں رائج ہے۔ الحساب۔ حساب الاوقات۔ ساعات۔ ایام ۔ شہور وغیرہ کا حساب۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8۔ یعنی ہر روز بتدریج گھٹا بڑھتا ہے۔ (وحیدی) ۔ 9۔ کیونکہ جن لوگوں کو سمجھ نہیں ان کو یہ بیان کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ (وحیدی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 6 ضیاء (روشنی، چمک، اجالا) نور (چمک دار، روشن) قدر (اس نے مقرر کردیا) السنین (سن) سال، کئی برس ، یفصل (وہ تفصیل بیان کرتا ہے، کھول کر بیان کرتا ہے) تشریح : آیت نمبر 5 تا 6 جو شخص بھی غور و فکر کی صلاحیتوں سے کام لے کر ذرا بھی تدبیر رکے گا اس کو اس کائنات میں ایک خاص نظم و ضبط نظر آئے گا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ اس پورے نظام کائنات کو کوئی ہستی ہے جو چلا رہی ہے۔ حکومتیں، افراد، موسم اور حالات بدلتے رہتے ہیں لنکا اللہ کے نظام میں کبھی تبدیلی نہیں آتی۔ سورج دھک رہا ہے، چاند چمک رہا ہے، ستارے اپنی روشنی بکھیر رہے ہیں رات اور دن آسمان و زمین اسی طرح اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں جس طرح آج سے ہزاروں سال پہلے کام کر رہے تھے۔ ماہ و سال کا ایک کیلنڈر اپنے سامنے رکھ لیجیے پھر دیکھیے کہ سورج چاند کے نظم و انتظام میں ایک منٹ اور ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں ہوگا۔ اس سے زیادہ اور کیا نظم اور انتظام ہوگا کہ اگر آپ کے پاس ایسے آلات موجود ہوں جن سے موسم کی تبدیلیوں کا مطالعہ کرسکیں تو آپ ایک مہینہ پہلے بھی اس کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ کب اور کہاں بارش ہوگی اور کہاں سورج نکلے گا وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ جن لوگوں کے پاس یہ ذرائع موجود ہیں وہ لوگ بتاتے رہتے ہیں کہ فلاح وقت بادل چھائے رہیں گے فلاں وقت بارش ہوگی یا نہیں ہوگی۔ اس میں انسان کا صرف اتنا ہی کمال ہے کہ وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے اس کو بیان کر دے ورنہ چاند سورج اور ستاروں اور ان کی رفتار میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اللہ وہ ہے جو ” حی وقیوم “ ہے اور وہ تنہا اس نظام کائنات کو چلا رہا ہے۔ اہل علم وتقویٰ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اللہ کے ہر کام میں ایک مصلحت ہے۔ نظم و انتظام اور مقصدیت ہے۔ اس نے ایک ذرے کو بھی بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ اس کی کائنات ہے وہ جب تک چاہے گا اس انتظام کو چلائے گا اور جب چاہے گا زمین و آسمان اور کائنات کی تمام صلاحیتوں کو لپیٹ کر رکھ دے گا اور درہم برہم کر دے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ مزل سے مراد وہ مسافت ہے جس کو کوئی کو کب شب وروز میں قطع کرلے خواہ وہ مسافت خلا ہو یا ملا ہو اور اس معنی کر آفتاب بھی ذی منازل ہے لیکن چونکہ قمر کی چال بہ نسبت سورج کے سریع ہے اور اس کا منازل کو طے کرنا محسوس ہے اس لیے اس کے سیر منازل کی تخصیص مناسب ہوئی اور اس اعتبار سے قمر کی انتیس یا تیس منزلیں ہوئیں مگر چونکہ اٹھائیس رات سے زیادہ نظر نہیں آتا اس لیے اٹھائیس منزلیں اس کی مشہور ہیں اور ہرچند کہ شمس وقمر دونوں عدد سنین اور حساب کے آلات میں سے ہیں لین آفتاب کا دورہ ایک سال میں پورا ہونے کی وجہ سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ عددالسنین کو شمس کے متعلق کہا جائے اور اس سے چھوٹے حساب کو قمر کے متعلق کہا جائے اور اسی واسطے حساب کا لفظ بڑھایا گیا بطور تعمیم بعد تخصیص کے۔ 3۔ یوں تو غیر اہل علم وغیرہ تقوی کے لیے بھی دلائل بیان کیے گئے ہیں مگر تخصیص باعتبار انتفاع کے ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیت میں مرنے کے بعد جی اٹھنے کی یہ دلیل دی تھی کہ وہ ذات تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھائے گی جس نے ابتدا میں تمہیں پیدا کیا اب شمس و قمر کے حوالے سے موت کے بعد اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور اختیار کی دلیل سنو۔ وہی ایک ذات ہے جس نے زمین و آسمان اور انسان کو پیدا کیا۔ وہی ذات ہے جس نے سورج کو روشنی دی اور چاند کو چاندنی عطا فرمائی۔ سورج کی روشنی ہلکی سرخ اور تیز گرم ہوتی ہے۔ چاند کی روشنی سفید ٹھنڈی اور پر کشش ہوتی ہے۔ جس وجہ سے کچھ فصلیں سورج کی تیز روشنی میں اور کچھ فصلیں چاند کی پر کشش روشنی میں تیار ہوتی ہیں۔ دنیا کو دونوں قسم کی روشنی کی ضرورت تھی۔ جس کا دائمی انتظام کردیا گیا ہے۔ چاند اور سورج دو ہیں۔ لیکن خبر واحد کی لائی گئی جس میں اشارہ ہے کہ تم چاند کے حساب سے اپنے معاملات متعین کرو۔ اسی لیے مسلمانوں کی تقویم کی بنیاد چاند پر رکھی گئی ہے۔ پھر ان کی منازل متعین کیں جن پر یہ دن رات سفر کرتے ہیں۔ اے لوگو ! جن کے مطابق تم اپنی زندگی کا حساب و کتاب اور دینی معاملات کو چلاتے ہو جس طرح کہ رمضان کے روزے، حج کی ادائیگی، صبح و شام کی نمازوں کا وقت یہ تمام امور شمسی حساب کی بجائے قمری حساب کی بنیاد پر مقرر اور ادا کیے جاتے ہیں۔ ایک معمولی عقل رکھنے والا انسان غور کرے تو اسے معلوم ہوجائے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس نظام کو کوئی پیدا کرنے والا اور چلانے والا نہیں۔ جب چاند اور سورج جیسے عظیم سیارے رات اور دن کا لامحدود نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت اور قبضہ میں ہے اور وہی رات دن کو ایک دوسرے کے پیچھے لاتا ہے۔ کبھی رات طویل تر ہوجاتی ہے اور کبھی دن رات کے وجود کو چھوٹا کردیتا ہے۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ رات اور دن وقت کے اعتبار سے یکساں ہوجاتے ہیں۔ اسی نظام کے مطابق ہی انسان کی زندگی ہے۔ پہلے چھوٹا ہوتا ہے پھر جوان ہو کر بھرپور صلاحیتوں کا پیکر بن جاتا ہے۔ آخر عمر میں بچوں کی طرح کمزور اور دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کبھی تندرستی کبھی بیماری کبھی خوشحالی اور تنگدستی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ گویا کہ شمس و قمر کا غروب اور طلوع ہونا۔ زندگی اور موت اور جی اٹھنے کی واضح دلیل ہے۔ اسی طرح یہ اس بات کی واضح اور ٹھوس دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی موت کے بعد انہیں زندہ کرنے پر قاد رہے اور ان سے حساب ضرور لے گا۔ (اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدِ وَلاَ لِحَیَاتِہٖ وَلَکِنَّھُمَا اٰیَتَانِ مِنْ اٰیَات اللّٰہِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ یُخَوِّفُ بِھَا عِبَادَہٗ ) ۔ )[ رواہ البخاری : کتاب الصلٰوۃ، باب قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” سورج اور چاند کو کسی کی موت و زیست سے گر ہن نہیں لگتا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے دو نشانیاں ہیں، ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ “ مسائل ١۔ سورج کو ضیاء اور چاند کو چاندنی اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے۔ ٢۔ سورج اور چاند کی منازل اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں۔ ٣۔ چاند اور سورج کی گردش اس لیے مقرر کی گئی کہ لوگ اس سے ایام، ماہ اور سال کا حساب لگائیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ جاننے والوں کے لیے اپنی نشانیاں کھول کر بیان کرتا ہے۔ ٥۔ رات اور دن کا مختلف ہونا اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ٦۔ آسمانوں و زمین کی تخلیق اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں۔ تفسیر بالقرآن لیل و نہار کی گردش اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں : ١۔ دن اور ات کے مختلف ہونے اور زمین و آسمان کی پیدائش میں نشانیاں ہیں۔ (یونس : ٦) ٢۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش، دن اور رات کی گردش، سمندر میں کشتیوں کے چلنے، آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : ١٦٤) ٣۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش اور دن رات کے مختلف ہونے میں نشانیاں ہیں۔ (آل عمران : ١٩٠) ٤۔ رات اور دن کے مختلف ہونے، آسمان سے رزق اتارنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (الجاثیۃ : ٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ھو الذی جعل الشمس ضیآء اللہ وہی ہے جس نے آفتاب کو روشنی والا بنایا۔ ضیاءً سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی ذات۔ ضیاءٍ روشنی والا۔ ضیاءً قیام کی طرح مصدر ہے یا سیاط کی طرح جمع ہے۔ اس کا واحد ضوء ہے جیس سیاطکا واحد سَوْطہے۔ والقمر نورًا اور چاند کو نور والا۔ نور کا لفظ معنی کے اعتبار سے ضوء سے عام ہے۔ نور کے اعلیٰ مرتبہ کا نام ضوء ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ براہ راست روشنی کو ضوء اور بالواسطہ روشنی کو نور کہتے ہیں (اور چاند کا نور چونکہ آفتاب کا عکس پڑنے سے حاصل ہوتا ہے ‘ اسلئے شمس کے ساتھ ضیاء اور قمر کے ساتھ نور کا لفظ استعمال کیا) ۔ وقدرہ منازل اور اس (کی چال) کیلئے منزلیں مقرر کیں۔ یعنی چاند اور سیورج میں سے ہر ایک کی منازل سیر مقرر کردیں ‘ یا ہر ایک کو منازل والا بنا دیا (یعنی منازل سے پہلے مضاف محذوف ہے) یا ہٗ کی ضمیر چاند کی طرف راجع ہے۔ صرف چاند کی منازل کا تذکرہ اسلئے کیا کہ سیر قمر کی منزلیں نظروں کے سامنے ہیں۔ اس کے علاوہ روزہ ‘ زکوٰۃ ‘ حج وغیرہ کے احکام اسی کی رفتار سے وابستہ ہیں۔ آئندہ آیت میں تقرر منازل قمر کی علت یہی بیان فرمائی ہے۔ لتعلموا عدد السنین تاکہ تم جان لو برسوں کی گنتی۔ یعنی چاند کی رفتار سے مہینوں کی گنتی کر کے برسوں کی گنتی جان لو۔ والحساب اور (اپنے معاملات میں دنوں اور مہینوں کے اوقات کے) حساب کو جان لو۔ ما خلق اللہ ذلک الا بالحق اللہ نے اس مخلوق کو نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ۔ یعنی اپنی حکمت کاملہ کے مطابق اپنی کاریگری اور قدرت کو ظاہر کرنے کیلئے۔ یفصل الایت لقوم یعلمون یہ دلائل ان لوگوں کو صاف صاف بتا رہے ہیں جو دانش رکھتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو روشن بنایا ‘ منزلیں مقرر فرمائیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جان لو ان آیات میں مزید مظاہر قدرت بیان فرمائے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول آفتاب کی روشنی کا اور پھر چاند کی روشنی کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو سراپا روشنی بنایا۔ ان کی روشنی کا تذکرہ فرماتے ہوئے آفتاب کے لئے لفظ ضَیَاءً اور چاند کے لئے لفظ نُوْرًا استعمال فرمایا۔ علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ ضیاء بڑی اور قوی روشنی کو کہتے ہیں اور نور قوی اور ضعیف ہر روشنی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا آفتاب کے لئے لفظ ضیاء استعمال میں لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے آفتاب کو زیادہ قوی روشنی دی جب وہ طلوع ہوتا ہے تو رات چلی جاتی ہے اور دن آجاتا ہے دن میں چونکہ چلنے پھرنے اور کاروبار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے دن کو بہت زیادہ روشن بنایا اور رات کو سکون اور آرام کے لئے بنایا ہے۔ جیسا کہ سورة قصص میں فرمایا (وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ ) (اور اس کی ایک یہ رحمت ہے کہ اس نے دن بنایا اور رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور تاکہ تم اللہ کے رزق کو تلاش کرو) چونکہ آرام و سکون کے لئے دھیمی روشنی کی ضرورت ہے اس لئے چاند کو ضعیف روشنی عطا فرمائی جس کے لئے لفظ نور استعمال فرمایا۔ پھر فرمایا (وَقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ) (اور اس کے لئے منزلیں مقرر کردیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلو) اس میں واحد کی ضمیر استعمال فرمائی ہے بظاہر قَدَّرَہٗ کی ضمیر مفرد قمر کی طرف راجع ہے کیونکہ وہ قریب ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ قَدَّرَہٗ میں مفعول کی ضمیر لفظوں میں تو مفرد ہی ہے لیکن شمس وقمر دونوں کی طرف راجع ہے۔ اور عربی محاورات بتاویل کل واحد اس طرح ضمیریں لوٹانا درست ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے شمس وقمر دونوں کی رفتار کے لیے منزلیں مقرر فرمائی انہیں منزلوں کو وہ طے کرتے ہیں اور ان کے لیے جو حدود مقرر فرمائی ہیں ان سے آگے نہیں نکل سکتے چاند اپنی منزلیں انتیس یا تیس دنوں میں قطع کرتا ہے اور جب وہ مغرب کی طرف سے بصورت ہلال طلوع ہوتا ہے تو مہینہ شروع ہوتا ہے۔ آفتاب کی بھی منزلیں مقرر ہیں۔ وہ مقررہ حدود کے اندر ہی سفر کرسکتا ہے۔ سورة یٰسین میں فرمایا۔ (وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَا اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ) (اور آفتاب اپنے ٹھکانہ کی طرف چلتا رہتا ہے یہ مقرر کردینا ہے اس کا جو زبردست ہے علم والا ہے اور ہم نے چاند کے لئے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی ‘ نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے ‘ اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور دونوں ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں) اللہ تعالیٰ نے شمس وقمر کو پیدا فرمایا ان کو روشنی دی ان کے لئے منزلیں مقرر فرمائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ اور وحدانیت کے دلائل میں سے ہے ‘ پھر جو منزلیں مقرر فرمائیں اس سے بندوں کا یہ نفع بھی متعلق فرما دیا کہ وہ ان کے ذریعہ یہ معلوم کرلیتے ہیں کہ فلاں معاملہ یا معاہدہ کو کتنے برس گزر گئے اور میعاد پورا ہونے میں کتنے برس باقی ہیں۔ آفتاب کی منازل کا پتہ تو اہل رصد کو ہی ہوسکتا ہے لیکن چاند کے طلوع اور غروب اور گھٹنے بڑھنے سے عام طور سے تاریخ کا پتہ چل جاتا ہے ‘ پڑھا لکھا شہری دیہاتی ہر شخص آسانی سے مہینہ کی ابتداء اور انتہا سمجھ لیتا ہے اور شرعاً احکام شرعیہ میں چاند کے مہینوں ہی کا اعتبار کیا جاتا ہے زکوٰۃ کی ادائیگی بھی چاند ہی کے اعتبار سے بارہ مہینے گزرنے پر فرض ہوتی ہے ‘ اور رمضان کا مہینہ بھی چاند ہی کے حساب سے پہچانا جاتا ہے جو قمری سال کا نواں مہینہ ہے ‘ اور حج بھی چاند ہی کے حساب سے ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو ہوتا ہے عدت کے مہینوں میں بھی چاند کا اعتبار ہوتا ہے۔ اسی لئے فقہاء نے لکھا ہے کہ چاند کا حساب باقی رکھنا فرض کفایہ ہے۔ (گود نیاوی معاملات میں شمسی سال سے حساب رکھا جائے تو یہ بھی جائز ہے) پھر فرمایا (مَا خَلَقَ اللّٰہ ذٰلِکَ اِلَّا بالْحَقِّ ) (اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں یوں ہی بےفائدہ پیدا نہیں فرمائی ہیں) ان کی تخلیق میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں۔ (یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ) (اللہ تعالیٰ دانش مندوں کے لئے خوب واضح طریقہ پر دلائل بیان فرماتا ہے) کیونکہ جو بےعلم ہیں یا بےعلموں کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں وہ ان دلائل سے مستفید نہیں ہوتے پھر فرمایا (اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ ) (بلاشبہ رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اور ان سب چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمینوں میں پیدا فرمائی ہیں ان لوگوں کے لئے دلائل ہیں جو ڈرتے ہیں) رات کے بعد دن کا آنا، دن کے بعد رات کا آنا اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کی واضح دلیل موجود ہے۔ ان کا الٹ پھیر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اور اس کے اختیار سے ہے وہ چاہے تو دن سرمدی ہوجائے یعنی ہمیشہ دن ہی دن رہے اور وہ چاہے تو ہمیشہ رات ہی رات رہے۔ لیکن اس نے بندوں کی مصلحت کے لئے ایسا نہیں کیا ‘ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ پیدا فرمایا ہے اس کا ایک ایک ذرہ اپنے پیدا کرنے والے کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس کی وحدانیت کی اور تدبیر محکم کی گواہی دیتا ہے ان چیزوں کو دیکھ کر وہ لوگ نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہیں جو خالق ومالک جل مجدہ سے ڈرتے ہیں جو منکرین ہیں نہ ان میں تقویٰ ہے ‘ نہ ایمان ہے نہ یقین ہے یہ لوگ دلائل سے متاثر اور مستفید نہیں ہوتے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13:“ ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الخ ” یہ نفی شرک فی التصرف پر دوسری عقلی دلیل ہے، خبر معرفہ ہونے کی وجہ سے مفید حصر ہے یعنی صلہ میں جن کاموں کا ذکر کیا گیا ہے ان سب کا فاعل صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں، نظام شمسی، نظام عالم کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اس لیے یہاں خصوصیت سے اس کا ذکر کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا اور ان کو روشنی عطا فرمائی اور چاند کے دورے کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ اس کے دوسرے سے مہینوں اور سالوں کی تعداد معلوم ہوسکے۔ ماہِ رمضان، ذی الحجہ اور دیگر مہینوں اور دنوں کی تعیین ہوسکے جن سے اسلامی احکام متعلق ہیں نیز دنیوی کاروبار اور معاملات کے اوقات کا اندازہ ہوسکے۔ سورج کو ضیاء اور چاند کو نور فرمایا کیونکہ لفظ نور عام ہے اور ضیاء خاص ہے یعنی نور کا سب سے قوی فرد بالفاظ دیگر روشنی کی کامل اور تام کیفیت کا نام ضوء ہے بعض نے کہا ہے ذاتی روشنی کو ضوء اور مستعار روشنی کو نور کہا گیا۔ “ والنور اعم من الضوء فانه اقوی افراد النور وقیل ما بالذات ضوء وما بالعرض نور ” (مظہری ج 5 ص 9) “ فالنور اسم لاصل ھذه الکیفیة والضوء اسم لھذه الکیفیة اذا کانت کاملة تامة قویة فلھذا خص الشمس بالضیاء لانھا اقوي و اکمل من النور وخص القمر بالنور لانه اضعف من الضیاء الخ ” (خازن ج 3 ص 174) 14: لفظ “ الحق ” مختلف معنوں کیلئے آتا ہے (1) بمعنی سچائی اور صداقت، باطل کے مقابلہ میں جیسا کہ فرمایا “ بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلَ ” (انبیاء رکوع 2) ۔ (2) کبھی لہو اور عبث کے مقابلے میں آتا ہے۔ “ وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ ۔ مَا خَلَقْنٰھُمَا اِلَّا بِالْحَقِّ الایة ” (دخان رکوع 2) ۔ یہاں دونوں معنوں کا احتمال ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان، شمس و قمر اور سارا نظام کائنات سب سے بڑی سچائی (توحید) کے ساتھ پیدا کیا ہے اور یہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر شاہد عدل ہے۔ اگر باء بمعنی لام ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ سب کچھ حق وصداقت کے اظہار اور بیان کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ “ اي لبیان الحق و الباطل ” (ابن عباس ص 131) ۔ دوسرے احتمال پر مطلب یہ ہوگا کہ یہ ساری کائنات محض عبث اور بےفائدہ پیدا نہیں کی گئی بلکہ اس کے پیدا کرنے میں بہت حکمتیں اور فائدے ہیں سب سے اہم و اعظم فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ بندگانِ خدا اس کارخانہ عالم کی ہر چیز میں غور و فکر کریں اور اس سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ پر استدلال کریں۔ “ یعنی للحق و اظھار قدرته و دلائل وحدانیته و لم یخلق ذلک باطلًا و لا عبثاً ” (خازن ج 3 ص 175) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

5 وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آفتاب کو چمکدار اور چاند کو روشن اور نورانی بنایا اور اس کے لئے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم لوگ ان اجرام علویہ کے ذریعے برسوں کی گنتی اور اوقات کے حساب معلوم کرسکو اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں کمال حکمت اور اپنی قدرت کے اظہار کے لئے پیدا کی ہیں عبث اور بیکار نہیں پیدا کیں اللہ تعالیٰ اپنی توحید کے دلائل ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے جو لوگ صحیح سمجھ رکھتے ہیں۔ چاند کے لئے منزلیں مقرر ہیں ہر روز ایک منزل طے کرتا ہے چاند اور سورج کی اس گردش سے جہاں اور بیشمار فوائد ہیں منجملہ ان کے برسوں کا شمار اور حساب کے اوقات وغیرہ معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کمال حکمت کے ساتھ اس نظام کو قائم کیا ہے۔ ذلک تقدیر العزیز العلیم۔ بہرحال ! یو توحید الٰہی کے دلائل جو مفصل بیان کئے جاتے ہیں یہ ان ہی کے لئے مفید ہوسکتے ہیں جو عقل و دانش سے کام لیتے ہیں۔