Surat Younus

Surah: 10

Verse: 59

سورة يونس

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ لَکُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ فَجَعَلۡتُمۡ مِّنۡہُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا ؕ قُلۡ آٰللّٰہُ اَذِنَ لَکُمۡ اَمۡ عَلَی اللّٰہِ تَفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۹﴾

Say, "Have you seen what Allah has sent down to you of provision of which you have made [some] lawful and [some] unlawful?" Say, "Has Allah permitted you [to do so], or do you invent [something] about Allah ?"

آپ کہیے کہ یہ تو بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لئے جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دے لیا آپ پوچھئے کہ کیا تم کو اللہ نے حکم دیا تھا یا اللہ پر افترا ہی کرتے ہو؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

None can make Anything Lawful or Unlawful except Allah or Those Whom Allah has allowed to do so Allah says; قُلْ أَرَأَيْتُم مَّا أَنزَلَ اللّهُ لَكُم مِّن رِّزْقٍ فَجَعَلْتُم مِّنْهُ حَرَامًا وَحَلَلاً قُلْ اللّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللّهِ تَفْتَرُونَ Say: "Tell me, what provision Allah has sent down to you! And you have made of it lawful and unlawful." Say: "Has Allah permitted you (to do so), or do you invent a lie against Allah!" Ibn Abbas, Mujahid, Ad-Dahhak, Qatadah, Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and others said: "This Ayah was revealed to criticize the idolators for what they used to make lawful and unlawful. Like the Bahirah, Sa'ibah and Wasilah." As Allah said: وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالاٌّنْعَامِ نَصِيباً And they assign to Allah a share of the tilth and cattle which He has created. (6:136) Imam Ahmad recorded a narration from Malik bin Nadlah who said, "I came to Allah's Messenger while in filthy clothes. He said, هَلْ لَكَ مَالٌ Do you have wealth? I answered, `Yes.' He said, مِنْ أَيِّ الْمَالِ what kind of wealth? I answered, `All kinds; camels, slaves, horses, sheep.' So he said, إِذَا اَتَاكَ اللَّهُ مَالاً فَلْيُرَ عَلَيْك If Allah gives you wealth, then let it be seen on you. Then he said, هَلْ تُنْتَجُ إِبْلُكَ صِحَاحًا اذَانُهَا فَتَعْمِدَ إِلَى مُوسًى فَتَقْطَعَ اذَانَهَا فَتَقُولُ هَذِهِ بُحْرٌ وَتَشُقُّ جُلُودَهَا وَتَقُولُ هَذِهِ صُرُمٌ وَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِك It is not that your camels are born with healthy ears, you take a knife and cut them, then say, "This is a Bahr," tear its skin, then say, `This is a Sarm," and prohibit them for yourself and your family. I replied, `Yes.' He said, فَإِنَّ مَا اتَاكَ اللهُ لَكَ حِلٌّ سَاعِدُ اللهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ وَمُوسَى الله أَحَدُ مِنْ مُوسَاك What Allah has given you is lawful. Allah's Forearm is stronger than your forearm, and Allah's knife is sharper then your knife." And he mentioned the Hadith in its complete form, and the chain for this Hadith is a strong, good chain. Allah criticized those who make lawful what Allah has made unlawful or vice verse. This is because they are based on mere desires and false opinions that are not supported with evidence or proof. Allah then warned them with a promise of the Day of Resurrection. He asked:

بغیر شرعی دلیل کے حلال و حرام کی مذمت مشرکوں نے بعض جانور مخصوص نام رکھ کر اپنے لیے حرام قرار دے رکھے تھے اس عمل کی تردید میں یہ آیتیں ہیں ۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور چوپایوں میں یہ کچھ نہ کچھ حصہ تو اس کا کرتے ہیں ۔ مسند احمد میں ہے ۔ حضرت عوف بن مالک بن فضلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا ، تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا کہ کس قسم کا مال؟ میں نے کہا اونٹ ، غلام ، گھوڑے ، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے ۔ آپ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے رکھا ہے تو اس کا اثر بھی تیرے جسم پر ظاہر ہونا چاہیے ۔ پھر آپ نے پوچھا کہ تیرے ہاں اونٹنیاں بچے بھی دیتی ہیں؟ میں نے کہا ہاں ۔ فرمایا وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں پھر تو اپنے ہاتھ میں چھری لے کر کسی کا کان کاٹ کے اس کا نام بحیرہ رکھ لیتا ہے ۔ کسی کی کھال کاٹ کر حرام نام رکھ لیتا ہے ۔ پھر اسے اپنے اوپر اور اپنے والوں پر حرام سمجھ لیتا ہے؟ میں نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سن اللہ نے تجھے جو دیا ہے وہ حلال ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا بازو تیرے بازو سے قوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چھری تیری چھری سے بہت زیادہ تیز ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے فعل کی پوری مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں ۔ انہیں اللہ نے قیامت کے عذاب کے سے دھمکایا ہے اور فرمایا ہے کہ ان کا کیا خیال ہے؟ یہ کس ہوا میں ہیں ۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ بےبس ہو کر قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر اپنا فضل وکرم ہی کرتا ہے ۔ وہ دنیا میں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا ۔ اسی کا فضل ہے کہ اس نے دنیا میں بہت سی نفع کی چیزیں لوگوں کے لیے حلال کردی ہیں ۔ صرف انہیں چیزوں کو حرام فرمایا ہے ۔ جو بندوں کو نقصان پہنچانے والی اور ان کے حق میں مضر ہیں ۔ دنیوی طور پر یا اُخروی طور پر ۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کر کے اللہ کی نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ اپنی جانوں کو خود تنگی میں ڈالتے ہیں ۔ مشرک لوگ اسی طرح از خود احکام گھڑ لیا کرتے تھے اور انہیں شریعت سمجھ بیٹھتے تھے ۔ اہل کتاب نے بھی اپنے دین میں ایسی ہی بدعتیں ایجاد کر لی تھیں ۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے قیامت کے دن اولیا اللہ کی تین قسمیں کر کے انہیں جناب باری کے سامنے لایا جائے گا ۔ پہلے قسم والوں میں سے ایک سے سوال ہوگا کہ تم لوگوں نے یہ نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دیں گے کہ پروردگار تو نے جنت بنائی اس میں درخت لگائے ، ان درختوں میں پھل پیدا کئے ، وہاں نہریں جاری کیں ، حوریں پیدا کیں اور نعمتیں تیار کیں ، پس اسی جنت کے شوق میں ہم راتوں کو بیدار رہے اور دنوں کو بھوک پیاس اٹھائی ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو تمہارے اعمال جنت کے حاصل کرنے کے لیے تھے ۔ میں تمہیں جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور یہ میرا خاص فضل ہے کہ جہنم سے تمہیں نجات دیتا ہوں ۔ گو یہ بھی میرا فضل ہی ہے کہ میں تمہیں جنت میں پہنچاتا ہوں پس یہ اور اس کے سب ساتھی بہشت بریں میں داخل ہو جائیں گے ۔ پھر دوسری قسم کے لوگوں میں سے ایک سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ نیکیاں کیسے کیں؟ وہ کہے گا پروردگار تو نے جہنم کو پیدا کیا ۔ اپنے دشمنوں اور نافرمانوں کے لیے وہاں طوق و زنجیر ، حرارت ، آگ ، گرم پانی اور گرم ہوا کا عذاب رکھا وہاں طرح طرح کے روح فرسا دکھ دینے والے عذاب تیار کئے ۔ پس میں راتوں کو جاگتا رہا ، دنوں کو بھوکا پیاسا رہا ، صرف اس جہنم سے ڈر کر تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ۔ میں نے تجھے اس جہنم سے آزاد کیا اور تجھ پر میرا یہ خاص فضل ہے کہ تجھے اپنی جنت میں لے جاتا ہوں پس یہ اور اس کے ساتھی سب جنت میں چلے جائیں گے پھر تیسری قسم کے لوگوں میں سے ایک کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تم نے نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دے گا کہ صرف تیری محبت میں اور تیرے شوق میں ۔ تیری عزت کی قسم میں راتوں کو عبادت میں جاگتا رہا اور دنوں کو روزے رکھ کر بھوک پیاس سہتا رہا ، یہ سب صرف تیرے شوق اور تیری محبت کے لیے تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے یہ اعمال صرف میری محبت اور میرے اشتیاق میں ہی کئے ۔ لے اب میرا دیدار کر لے ۔ اسوقت اللہ تعالیٰ جل جلالہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنا دیدار کرائے گا ، فرمائے گا دیکھ لے ، یہ ہوں میں ، پھر فرمائے گا یہ میرا خاص فضل ہے کہ میں تجھے جہنم سے بچاتا ہوں اور جنت میں پہنچاتا ہوں میرے فرشتے تیرے پاس پہنچتے رہیں گے اور میں خود بھی تجھ پر سلام کہا کروں گا ، پس وہ مع اپنے ساتھیوں کے جنت میں چلا جائے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

59۔ 1 اس سے مراد وہی بعض جانوروں کا حرام کرنا جو مشرکین اپنے بتوں کے ناموں پر چھوڑ کر کیا کرتے ہیں تھے، جس کی تفصیل سورة انعام میں گزر چکی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٣] رزق وسیع تر مفہوم :۔ رزق سے عموماً کھانے پینے کی چیزیں ہی مراد لیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ لفظ بڑے وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً آپ یہ دعا مانگتے تھے۔ && اللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ عِلْمًا نَافِعًا && (یا اللہ مجھے نفع دینے والا علم عطا فرما) اسی طرح ایک مشہور دعا ہے۔ && اَللّٰھُمَّ اَرِِنَا الْحَقَّ حَقًا وَارْ زُقْنَا اِتَّبَاعَہُ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً وَارْزُقْنَا اِجْتِنَابِہُ && اس پہلی دعا میں رزق کا لفظ عطا کرنے یا عطیہ کے معنوں میں آیا ہے۔ اور دوسری دعا میں توفیق عطا کرنے کے معنوں میں اور اصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انسان کی جسمانی یا روحانی تربیت میں کوئی ضرورت پوری کرتی ہو وہ رزق ہے چناچہ (وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ ۝ ۙ ) 2 ۔ البقرة :3) میں بھی رزق سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں جس سے صدقہ فرضی یا نفلی ادا کیا جائے بلکہ اگر اللہ نے علم عطا کیا ہے تو وہ بھی رزق ہے اور اسے بھی خرچ کیا جائے یعنی دوسروں کو سکھلایا جائے اور اگر صحت عطا کی ہے تو کمزوروں کی مدد کرکے صحت سے صدقہ ادا کیا جائے گا۔ [٧٤] حلال وحرام اطلاق صرف کھانے پینے کی اشیاء تک محدود نہیں اور یہ اختیار صرف اللہ کو ہے :۔ کھانے پینے کی چیزوں اور جانوروں میں سے جو کچھ اللہ نے حرام کیا ہے اس کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر آچکا ہے اور جو کچھ مشرکوں اور رسم و رواج کے پرستاروں نے از خود حرام بنا لیا تھا اس کا ذکر سورة مائدہ کی آیت نمبر ١٠٣ اور سورة انعام کی آیت نمبر ١٤٣ میں گذر چکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کا اختیار تو صرف اللہ کو ہے ان لوگوں کو کس نے یہ اختیار دیا تھا کہ جس چیز کو یہ چاہیں حرام قرار دے لیں اور چاہیں تو حرام چیز کو حلال بنالیں۔ پھر یہ بات یہاں تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ وہ اس پر مذہبی تقدس کا لبادہ بھی چڑھا دیتے ہیں اور اسے اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں کہ یہ اللہ کا یا شریعت کا حکم ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ آیا وہ اس نسبت کو کسی الہامی کتاب سے پیش کرسکتے ہیں ؟ اور ایسا نہیں کرسکتے تو صاف واضح ہے کہ یہ اللہ پر افتراء ہے لہذا یہ دوہرے مجرم ہوئے۔ یہ معاملہ تو کھانے پینے کی چیزوں کا تھا جبکہ اللہ نے اور بھی بہت سی چیزیں حرام کی ہیں جن میں سے سرفہرست شرک ہے اور جو لوگ شرک کو حلال بنالیں اور اس پر مذہبی تقدس کا لبادہ چڑھا کر انھیں اللہ کی طرف منسوب کردیں نیز وہ لوگ جو اخلاقی و تمدنی حدود وقیود میں کسی چیز کو اپنی خواہش کے مطابق حلال اور حرام بنالیتے ہیں جیسا کہ مشرکین مکہ حرمت والے مہینوں کو حلال بنا لیا کرتے تھے وہ سب اس آیت کے ضمن میں آتے ہیں اور ایسی حرام سے حلال اور حلال سے حرام کردہ چیزیں بیشمار ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ ۔۔ : مشرکین اور یہود نے اپنے پاس سے کئی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کر رکھا تھا، ان سے سوال ہے کہ بتاؤ تم نے یہ حلال و حرام کس کے کہنے پر قرار دیے ہیں ؟ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے، مثلاً مشرکین کے متعلق دیکھیے سورة مائدہ (١٠٣) ، انعام (١١٨ تا ١٢١ اور ١٣٦ تا ١٤٠) اور یہود کے متعلق دیکھیے سورة آل عمران (٩٣) اور ان کے فوائد۔ اَمْ عَلَي اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ اپنی خواہشوں سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا افتراء علی اللہ، یعنی اللہ پر بہتان باندھنا ہے۔ (ابن کثیر) قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان مقلد حضرات کے لیے سخت تنبیہ ہے جو فتویٰ صادر فرمانے کی کرسی پر براجمان ہوجاتے ہیں اور حلال و حرام اور جائز و ناجائز ہونے کے فتوے صادر کرتے ہیں، حالانکہ وہ قرآن و حدیث کا علم نہیں رکھتے، ان کے علم کی رسائی صرف یہاں تک ہوتی ہے کہ امت کے کسی ایک شخص نے جو بات کہہ دی ہے اسے نقل کردیتے ہیں، گویا انھوں نے اس شخص کو شارع (اللہ اور اس کے رسول) کی حیثیت دے رکھی ہے، کتاب و سنت کے جس حکم پر اس نے عمل کیا اس پر یہ بھی عمل کریں گے اور جو چیز اسے نہیں پہنچی یا پہنچی مگر وہ اسے ٹھیک طرح سمجھ نہ سکا یا سمجھا مگر اپنے اجتہاد و ترجیح میں غلطی کر بیٹھا، وہ ان کی نظر میں منسوخ ہے اور اس کا حکم ختم ہے، حالانکہ جس کی یہ لوگ تقلید کر رہے ہیں وہ بھی شریعت اور اس کے احکام کا اسی طرح پابند تھا جس طرح خود یہ لوگ۔ اس نے اجتہاد سے کام لیا اور جس رائے پر پہنچا اسے بیان کردیا۔ اگر اس نے غلطی نہیں کی تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور اگر غلطی کی تو اکہرا اجر پائے گا۔ وہ شخص تو اپنی جگہ معذور ہے، مگر یہ حضرات کسی طرح بھی معذور قرار نہیں دیے جاسکتے جنھوں نے اس کی آراء کو ایک مستقل شریعت اور قابل عمل دلیل بنا لیا۔ اہل علم کے نزدیک کسی مجتہد کی تقلید کرتے ہوئے اس کے اجتہاد پر عمل کرنا صحیح نہیں۔ (شوکانی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the third verse (59), warning has been given to people who introduce their personal opinion in the serious matter of Halal (lawful) and Haram (unlawful). They would, at will, declare something to be Halal and dub something to be Haram - without any authority of the Qur&an, and Sunnah. A severe warning of no less a punishment than that of the day of Qiyamah has been given to those who commit this crime (60). This tells us that the fact of something being Halal or Haram does not depend on human opinion. Instead of that, it is the special right and prerogative of Allah Ta` ala and His Messenger. Without their injunctions, it is not permissible to call something either حلال Halal or حرام Haram.

تیسری آیت میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو حلال و حرام کے معاملہ میں اپنی ذاتی رائے کو دخل دیتے ہیں، اور قرآن و سنت کی سند کے بغیر جس چیز کو چاہا حلال قرار دے دیا جس کو چاہا حرام کہہ دیا، اس پر قیامت کی شدید وعید ذکر کی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز یا کسی فعل کے حلال یا حرام ہونے کا اصل مدار انسانی رائے پر نہیں بلکہ وہ خالص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حق ہے ان کے احکام کے بغیر کسی چیز کو نہ حلال کہنا جائز ہے نہ حرام۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللہُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْہُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا۝ ٠ ۭ قُلْ اٰۗللہُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَي اللہِ تَفْتَرُوْنَ۝ ٥٩ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو حرم الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك : وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] ، وقیل : بل کان حراما عليهم من جهة القهر لا بالتسخیر الإلهي، وقوله تعالی: إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ [ المائدة/ 72] ، فهذا من جهة القهر بالمنع، وکذلک قوله تعالی: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الْكافِرِينَ [ الأعراف/ 50] ، والمُحرَّم بالشرع : کتحریم بيع الطعام بالطعام متفاضلا، وقوله عزّ وجلّ : وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُساری تُفادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْراجُهُمْ [ البقرة/ 85] ، فهذا کان محرّما عليهم بحکم شرعهم، ونحو قوله تعالی: قُلْ : لا أَجِدُ فِي ما أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلى طاعِمٍ يَطْعَمُهُ ... الآية [ الأنعام/ 145] ، وَعَلَى الَّذِينَ هادُوا حَرَّمْنا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ [ الأنعام/ 146] ، وسوط مُحَرَّم : لم يدبغ جلده، كأنه لم يحلّ بالدباغ الذي اقتضاه قول النبي صلّى اللہ عليه وسلم : «أيّما إهاب دبغ فقد طهر» . وقیل : بل المحرّم الذي لم يليّن، والحَرَمُ : سمّي بذلک لتحریم اللہ تعالیٰ فيه كثيرا مما ليس بمحرّم في غيره من المواضع وکذلک الشهر الحرام، وقیل : رجل حَرَام و حلال، ومحلّ ومُحْرِم، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضاتَ أَزْواجِكَ [ التحریم/ 1] ، أي : لم تحکم بتحریم ذلک ؟ وكلّ تحریم ليس من قبل اللہ تعالیٰ فلیس بشیء، نحو : وَأَنْعامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُها [ الأنعام/ 138] ، وقوله تعالی: بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ [ الواقعة/ 67] ، أي : ممنوعون من جهة الجدّ ، وقوله : لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [ الذاریات/ 19] ، أي : الذي لم يوسّع عليه الرزق کما وسّع علی غيره . ومن قال : أراد به الکلب فلم يعن أنّ ذلک اسم الکلب کما ظنّه بعض من ردّ عليه، وإنما ذلک منه ضرب مثال بشیء، لأنّ الکلب کثيرا ما يحرمه الناس، أي : يمنعونه . والمَحْرَمَة والمَحْرُمَة والحُرْمَة، واستحرمت الماعز کناية عن إرادتها الفحل . ( ح ر م ) الحرام ( ح ر م ) الحرام وہ ہے جس سے روک دیا گیا ہو خواہ یہ ممانعت تسخیری یا جبری ، یا عقل کی رو س ہو اور یا پھر شرع کی جانب سے ہو اور یا اس شخص کی جانب سے ہو جو حکم شرع کو بجالاتا ہے پس آیت کریمہ ؛۔ وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر ( دوائیوں کے ) دودھ حرام کردیتے تھے ۔ میں حرمت تسخیری مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] اور جس بستی ( والوں ) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ ( وہ دنیا کی طرف رجوع کریں ۔ کو بھی اسی معنی پر حمل کیا گیا ہے اور بعض کے نزدیک آیت کریمہ ؛فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لئے حرام کردیا گیا ۔ میں بھی تحریم تسخیری مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ منع جبری پر محمول ہے اور آیت کریمہ :۔ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ [ المائدة/ 72] جو شخص خدا کے ساتھ شرگ کریگا ۔ خدا اس پر بہشت کو حرام کردے گا ۔ میں بھی حرمت جبری مراد ہے اسی طرح آیت :۔ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الْكافِرِينَ [ الأعراف/ 50] کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کا فروں پر حرام کردیا ہے ۔ میں تحریم بواسطہ منع جبری ہے اور حرمت شرعی جیسے (77) آنحضرت نے طعام کی طعام کے ساتھ بیع میں تفاضل کو حرام قرار دیا ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛ وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُساری تُفادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْراجُهُمْ [ البقرة/ 85] اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہوکر آئیں تو بدلادے کر ان کو چھڑی ابھی لیتے ہو حالانکہ ان کے نکال دینا ہی تم پر حرام تھا ۔ میں بھی تحریم شرعی مراد ہے کیونکہ ان کی شریعت میں یہ چیزیں ان پر حرام کردی گئی ۔ تھیں ۔ نیز تحریم شرعی کے متعلق فرمایا ۔ قُلْ : لا أَجِدُ فِي ما أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلى طاعِمٍ يَطْعَمُهُ ... الآية [ الأنعام/ 145] الآیۃ کہو کہ ج و احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان کو کوئی چیز جسے کھانے والا حرام نہیں پاتا ۔ وَعَلَى الَّذِينَ هادُوا حَرَّمْنا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ [ الأنعام/ 146] اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے ۔ سوط محرم بےدباغت چمڑے کا گوڑا ۔ گویا دباغت سے وہ حلال نہیں ہوا جو کہ حدیث کل اھاب دبغ فقد طھر کا مقتضی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ محرم اس کوڑے کو کہتے ہیں ۔ جو نرم نہ کیا گیا ہو ۔ الحرم کو حرام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اس کے اندر بہت سی چیزیں حرام کردی ہیں جو دوسری جگہ حرام نہیں ہیں اور یہی معنی الشہر الحرام کے ہیں یعنی وہ شخص جو حالت احرام میں ہو اس کے بالمقابل رجل حلال ومحل ہے اور آیت کریمہ : يا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضاتَ أَزْواجِكَ [ التحریم/ 1] کے معنی یہ ہیں کہ تم اس چیز کی تحریم کا حکم کیون لگاتے ہو جو اللہ نے حرام نہیں کی کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے حرام نہ کی ہو وہ کسی کے حرام کرنے سے حرام نہیں ہوجاتی جیسا کہ آیت : ۔ وَأَنْعامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُها [ الأنعام/ 138] اور ( بعض ) چار پائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹھ پر چڑھنا حرام کردیا گیا ہے ۔ میں مذکور ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ [ الواقعة/ 67] بلکہ ہم ( برکشتہ نصیب ) بےنصیب ہیں ان کے محروم ہونے سے بد نصیبی مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ : لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [ الذاریات/ 19] مانگنے والے اور نہ مانگنے ( دونوں ) میں محروم سے مراد وہ شخص ہے جو خوشحالی اور وسعت رزق سے محروم ہو اور بعض نے کہا ہے المحروم سے کتا مراد ہے تو اس کے معنی نہیں ہیں کہ محروم کتے کو کہتے ہیں جیسا ان کی تردید کرنے والوں نے سمجھا ہے بلکہ انہوں نے کتے کو بطور مثال ذکر کیا ہے کیونکہ عام طور پر کتے کو لوگ دور ہٹاتے ہیں اور اسے کچھ نہیں دیتے ۔ المحرمۃ والمحرمۃ کے معنی حرمت کے ہیں ۔ استحرمت الما ر عذ بکری نے نر کی خواہش کی دیہ حرمۃ سے ہے جس کے معنی بکری کی جنس خواہش کے ہیں ۔ حلَال حَلَّ الشیء حلالًا، قال اللہ تعالی: وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالًا طَيِّباً [ المائدة/ 88] ، وقال تعالی: هذا حَلالٌ وَهذا حَرامٌ [ النحل/ 116] ( ح ل ل ) الحل اصل میں حل کے معنی گرہ کشائی کے ہیں ۔ حل ( ض ) اشئی حلا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز کے حلال ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالًا طَيِّباً [ المائدة/ 88] اور جو حلال طیب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ ۔ هذا حَلالٌ وَهذا حَرامٌ [ النحل/ 116] کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، ( ف ری ) الفری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جھوٹ شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی جہالت پر مبنی ہے اس لیے کہ قیاس بھی اس طرح اللہ کی عطا کردہ ایک دلیل ہے جس طرح عقل کی محبت اللہ کی عطا کردہ دلیل ہے یا جس طرح نصوص قرآنی اور سنن سب کے سب اللہ کے مہیا کردہ دلائل ہیں ۔ قیاس کرنے والا دراصل حکم پر دلالت کی صورت اور اس کے مقام کا تتبع کرتا ہے ۔ اس طرح تحلیل و تحریم کرنے والا اللہ ہوتا ہے جو اس پر دلالت قائم کردیتا ہے۔ اگر معترض اس بات کی مخالفت کرتا ہے کہ قیاس اللہ کی عطا کردہ دلیل ہے تو پھر ہمارے ساتھ اس کا مباحثہ اس کے اثبا ت کے بارے میں ہوگا ۔ جب اس کا اثبات ہوجائے گا تو اس کا اعتراض ساقط ہوجائے گا ۔ اگر اس کے اثبات پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکے گی تو اس کے بطلان کے ایجاب پر اس کی صحت کی عدم دلالت کے ذریعے اکتفا کرلیا جائے گا ۔ اسکے نتیجے میں صرف وہی شخص قیاس کی صحت کا اعتقاد کرسکے گا جو اسے اللہ کی عطا کردہ دلیل سمجھے گا جب کہ اس کی صحت پر کئی طرح کے شواہد قائم ہوچکے ہیں ۔ زیر بحث آیت کا نہ تو قیاس کے اثبات کے ساتھ تعلق ہے اور نہ ہی نفی کے ساتھ ۔ ان حضرات نے قیاس کی نفی پر قول باری وما اتاکم الرسول فخذوہ وما نھا کم عنہ فانتھوا اور رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو اور جس بات سے تمہیں روکیں اس سے رک جائو سے بھی استدلال کیا ہے۔ یہ استدلال بھی سابقہ استدلال کے مشابہ ہے اس لیے کہ مشابہ کرنیوالے قیاس کے ذریعے وہی بات کہتے ہیں جو ہمیں اللہ کے رسول نے دی ہے اور اللہ نے اس پر کتاب و سنت اور اجماع امت کے دلائل کی حجت قائم کردی ہے ۔ اس بنا پر اس آیت کا بھی قیاس کی نفی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٩) آپ ان مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ یہ تو بتلاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمہارے لیے کھیتیاں اور جانور پیدا کیے تھے پھر تم نے اس کے کچھ حصہ سے فائدہ حاصل کرنا عورتوں پر حرام کردیا یعنی بحیرہ، سائبہ اور حام اور مردوں کے لیے حلال قرار دے لیا تو آپ ان سے پو چھیے کیا اس چیز کی تمہیں تمہارے پروردگار نے اجازت دی تھی یا محض اللہ تعالیٰ پر اپنی ہی طرف سے جھوٹ باندھتے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(قُلْ ا آ للّٰہُ اَذِنَ لَکُمْ اَمْ عَلَی اللّٰہِ تَفْتَرُوْنَ ) سورۃ الانعام میں ان چیزوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے جنہیں وہ لوگ ازخود حرام یا حلال قرار دے لیتے تھے۔ سورة المائدۃ میں بھی ان کی خود ساختہ شریعت کا ذکر ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :60 اردو زبان میں رزق کا اطلاق صرف کھانے پینے کی چیزوں پر ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہاں گرفت صرف اس قانون سازی پر کی گئی ہے جو دستر خوان کی چھوٹی سی دنیا میں مذہبی اوہام یا رسم و رواج کی بنا پر لوگوں نے کر ڈالی ہے ۔ اس غلط فہمی میں جہلا اور عوام ہی نہیں علماء تک مبتلا ہیں ۔ حالانکہ عربی زبان میں رزق محض خوراک کے معنی تک محدود نہیں ہے بلکہ عطاء اور بخشش اور نصیب کے معنی میں عام ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی دنیا میں انسان کو دیا ہے وہ سب اس کا رزق ہے ، حتی کہ اولاد تک رزق ہے ۔ اسماء الرجال کی کتابوں میں بکثرت راویوں کے نام رزق اور رُزَیق اور رزق اللہ ملتے ہیں جس کے معنی تقریبا وہی ہیں جو اردو میں اللہ دیے کے معنی ہیں ۔ مشہور دعا ہے ۔ مشہور دعا ہے اللھم ارنا الحق حقا و ارزقنا اتباعہ ، یعنی ہم پر حق واضح کر اور ہمیں اس کی اتباع کی توفیق دے ۔ محاورے میں بولا جاتا ہے رُزِقَ علمًا فلاں شخص کو علم دیا گیا ہے ۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر حاملہ کے پیٹ میں ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ پیدا ہونے والے کا رزق اور اس کی مدت عمر اور اس کا کام لکھ دیتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہاں رزق سے مراد صرف وہ خوراک ہی نہیں ہے جو اس بچے کو آئندہ ملنے والی ہے بلکہ وہ سب کچھ ہے جو اسے دنیا میں دیا جائےگا ۔ خود قرآن میں ہے وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ ، جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ پس رزق کو محض دستر خوان کی سرحدوں تک محدود سمجھنا اور یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ کو صرف ان پابندیوں اور آزادیوں پر اعتراض ہے جو کھانے پینے کی چیزوں کے معاملہ میں لوگوں نے بطور خود اختیار کر لی ہیں ، سخت غلطی ہے ۔ اور یہ کوئی معمولی غلطی نہیں ہے ۔ اس کی بدولت خدا کے دین کی ایک بہت بڑی اصولی تعلیم لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی ہے ۔ یہ اسی غلطی کا تو نتیجہ ہے کہ کھانے پینے کی چیز و حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کا معاملہ تو ایک دینی معاملہ سمجھا جاتا ہے ، لیکن تمدن کے وسیع تر معاملات میں اگر یہ اصول طے کر لیا جائے کہ انسان خود اپنے لیے حدود مقرر کرنے کا حق رکھتا ہے ، اور اسی بنا پر خدا اور اس کی کتاب سے بے نیاز ہو کر قانون سازی کی جانے لگے ، تو عامی تو درکنار ، علمائے دین و مفتیان شرع متین اور مفسرین قرآن و شیوخ حدیث تک کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ چیز بھی دین سے اسی طرح ٹکراتی ہے جس طرح ماکولات و مشروبات میں شریعت الہٰی سے بے نیاز ہو کر جائز و ناجائز کے حدود بطور خود مقرر کر لینا ۔ سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :61 یعنی تمہیں کچھ احساس بھِ ہے کہ یہ کتنا سخت باغیانہ جرم ہے جو تم کر رہے ہو ۔ رزق اللہ کا ہے اور تم خود اللہ کے ہو ، پھر یہ حق آخر تمہیں کہاں سے حاصل ہو گیا کہ اللہ کی املاک میں اپنے تصرف ، استعمال اور انتفاع کے لیے خود حد بندیاں مقرر کرو؟ کوئی نوکر اگر یہ دعویٰ کرے کہ آقا کے مال میں اپنے تصرف اور اختیارات کی حدیں اسے خود مقرر کر لینے کا حق ہے اور اس معاملہ میں آقا کے کچھ بولنے کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے تو اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ تمہارا اپنا ملازم اگر تمہارے گھر میں اور تمہارے گھر کی سب چیزوں میں اپنے عمل اور استعمال کے لیے اس آزادی و خود مختاری کا دعویٰ کرے تو تم اس کے ساتھ کیا معاملہ کرو گے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نوکر کا معاملہ تو دوسرا ہی ہے جو سرے سے یہی نہیں مانتا کہ وہ کسی کا نوکر ہے اور کوئی اس کا آقا بھی ہے اور یہ کسی اور کا مال ہے جو اسکے تصرف میں ہے ۔ اس بد معاش غاصب کی پوزیشن یہاں زیر بحث نہیں ہے ۔ یہاں سوال اس نوکر کی پوزیشن کا ہے جو خود مان رہا ہے کہ وہ کسی کا نوکر ہے اور یہ بھی مانتا ہے کہ مال اسی کا ہے جس کا وہ نوکر ہے اور پھر کہتا ہے کہ اس مال میں اپنے تصرف کے حدود مقرر کر لینے کا حق مجھے آپ ہی حاصل ہے اور آقا سے کچھ ہوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :62 یعنی تمہاری یہ پوزیشن صرف اسی صورت میں صحیح ہو سکتی تھی کہ آقا نے خود تم کو مجاز کر دیا ہوتا کہ میرے مال میں تم جس طرح چاہو تصرف کرو اپنے عمل اور استعمال کے حدود ، قوانین ، ضوابط سب کچھ بنا لینے کے جملہ حقوق میں نے تمہیں سونپے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تمہارے پاس واقعی اس کو کوئی سند ہے کہ آقا نے تم کو یہ اختیارات دے دیے ہیں؟ یا تم بغیر کسی سند کے یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ وہ تمام حقوق تمہیں سونپ چکا ہے؟ اگر پہلی صورت ہے تو براہ کرم وہ سند دکھاؤ ، ورنہ بصورت دیگر یہ کھلی بات ہے کہ تم بغاوت پر جھوٹ اور افترا پردازی کا مزید جرم کر رہے ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

26: عرب کے مشرکین نے مختلف جانوروں کو بتوں کے ناموں پر کر کے انہیں خواہ مخواہ حرام قرار دے دیا تھا، جس کی تفصیل سورۃ انعام (139،138:5) میں گذری ہے۔ یہ ان کی اس بدعملی کی طرف اشارہ ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٩۔ ٦٠۔ اوپر قرآن شریف کی نعمت کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ ان مشرکوں نے فقط اسی نعمت کا انکار نہیں کیا بلکہ یہ لوگ تو اللہ کی اور نعمتوں کے بھی منکر اور ناشکر گزار ہیں کیوں کہ ان لوگوں نے بعض چیزیں اپنے اوپر حرام کرلی ہیں اور بعض حلال تو یہ حلال و حرام کس طرح کا ہے کیا اپنی ہی خواہش اور ہوا و ہوس سے انہوں نے یہ حکم لگایا ہے یا یہ اعتقاد کر کے یہ حکم خدا کا ہے اگر اپنے نفس کی خواہش سے یہ حلال و حرام کرلیا ہے تو یہ کوئی عقلمند نہیں پسند کرنے کا کہ جس چیز کو جی چاہا حلال کرلیا اور جس کو جی چاہا حرام سمجھ لیا اب باقی رہی یہ بات کہ خدا کے حکم سے انہوں نے کسی چیز کو حلال اور کسی چیز کو حرام سمجھا ہے تو بتلاؤ یہ کس ذریعہ سے ان کو معلوم ہوا کس رسول نے انہیں بتلایا کیوں کہ خدا کا پیغام کسی کو معلوم نہیں ہوسکتا ہے مگر رسول کے وسیلہ سے اور اگر رسول نے انہیں نہیں بتلایا ہے تو خدا پر گویا جھوٹا الزام رکھتے ہیں قیامت کے دن اس کے عوض میں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ اس سے انہیں ڈرنا چاہیے۔ مسند امام احمد میں ایک حدیث ہے کہ مالک بن نضلہ (رض) ایک روز حضرت رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بالکل ہی میلے کچیلے حال میں آئے آپ نے فرمایا کہ کیا تیرے پاس کچھ مال نہیں ہے مالک نے کہا ہاں ہے آپ نے فرمایا کیا ہے انہوں نے کہا بہت مال ہے اونٹ ہیں بکریاں ہیں گھو ڑے ہیں غلام ہیں غرض کہ ہر طرح کا سامان ہے آپ نے فرمایا کہ جب اللہ نے ایسا مالا مال تجھے کیا ہے تو اس کا اثر بھی تجھ پر کچھ ہونا چاہیے تھا پھر فرمایا کہ تیرے اونٹ جب بچے دیتے ہیں تو تو ان کے اچھے بھلے کانوں کو استرہ سے کاٹ ڈالتا ہے اور اس کا بحیرہ نام رکھتا ہے۔ (جاہلیت کے زمانہ میں یہ رواج تھا کہ گھر کا جانور جب کوئی بچہ دیتا تھا تو اس کے کان کاٹ ڈالتے تھے یا کھال میں ایک شگاف دیتے تھے جب کان کاٹتے تھے تو اس جانور کو بحیرہ کہتے تھے اور کھال میں جس کے شگاف لگاتے تھے اس کا نام حام رکھا کرتے تھے بہر حال اس بحیرہ اور حام کو رام سمجھتے تھے اس کا ذبح کرنا اور گوشت کھانا بالکل ناجائز خیال کرتے تھے۔ چناچہ ہندومت میں ہندوؤں کے ہاں ایک دستور ہے۔ بیل چھوڑ دیتے ہیں اس کو مارنا بھی گناہ سمجھتے ہیں، غرض پھر آپ نے مالک بن نضلہ (رض) سے فرمایا کہ یاد رکھ خدا کا استرہ تیرے استرے سے کہیں زیادہ تیز ہے اس کے دست قدرت میں تیرے ہاتھوں سے کہیں بڑھ کر قوت ہے۔ ١ ؎ حاصل یہ ہے کہ اللہ نے جتنی نعمتیں اپنے بندوں پر اتاری ہیں سب حلال ہیں اپنے جی اور خواہش سے ان کو حرام کرنا صریحاً جرم ہے اور جو چیزیں اس نے حرام کردی ہیں ان کو حلال سمجھنا بہت ہی بڑا گناہ ہے خدا نے اپنے فضل سے جو چیزیں حلال کی ہیں یہ اس کا بڑا احسان ہے اور اس کے اس احسان کو نہ ماننا بڑی ناشکری ہے۔ مالک بن نضلہ (رض) کی اس حدیث کی سند کو حافظ ابن کثیر (رض) نے معتبر قرار دیا ہے یہ حدیث آیتوں کی گویا تفسیر ہے کیوں کہ اس میں نعمت کی ناشکری اور زبردستی بعض چیزوں کے حرام ٹھہرانے کی مذمت ہے اور یہی مضمون آیتوں کا ہے یہ مالک بن نضلہ (رض) پھر اسلام لائے صحابہ میں ان کا شمار ہے اور حدیث کی صحاح کی کتابوں میں ان سے روایتیں ہیں مشرکین مکہ نے جو چیزیں اپنی طرف سے حرام ٹھہرائی تھیں ان کی تفصیل سوہ مائدہ اور سورة انعام میں گزر چکی ہے اور اس باب میں جو حدیثیں ہیں وہ بھی انہی سورتوں میں ذکر کردی گئی ہیں۔ ١ ؎ سیر ابن کثیر ٤٢١ ج ٢ ایضاً

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:59) قل۔ ای قل لکفار مکۃ (الخازن) (اے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کفار مکہ سے کہہ دیجئے۔ ارء یتم۔ بھلا بتاؤ تو سہی۔ (نیز ملاحظہ ہو 10:50) ۔ ما انزل اللہ۔ میں ما موصولہ ہے یعنی جو رزق اللہ تعالیٰ تمہیں دیتا ہے۔ فجعلتم منہ حراما وحلالا۔ تم (خودہی) بعض کو حرام اور بعض کو حلال کردیتے ہو۔ جیسے کہ کفار کا قول تھا۔ وقالوا ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا (6:139) یعنی کافروں نے کہا کہ جو ان مواشی کے پیٹ میں ہے وہ خالصۃً ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ تفترون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم جھوٹ باندھتے ہو۔ جھوٹے طور پر منسوب کرتے ہو۔ افتراء (افتعال) سے فری یفری فری (ضرب) فری علیہ الکذب۔ کسی نے ذمہ جھوٹی بات اور بہتان لگا دینا۔ یعنی معنی باب افتعال سے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 ۔ جیسے سائبہ، وصیلہ اور حام کو حرام اور حام کو حرام اور مردار کو حلال ٹھہرالیا۔ ان چیزوں کا بیان سورة مائدہ اور انعام میں گزر چکا ہے۔ 1 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنی خواہشوں سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا افتراء علی اللہ ہے۔ (ابن کثیر) ۔ قاضی شوکانی فرماتے ہیں : ” اس آیت میں ان مقلد حضرات کے لئے سخت تنبیہ ہے جو افتا کی کرسی پر براجمان ہوجاتے ہیں اور حلال و حرام و جواز و عدم جواز کے فتو سے صادر کرتے ہیں حالانکہ ان کا مبلغ علم صرف اتنا ہوتا ہے کہ امت کے کسی ایک شخص نے جو بات کہدی ہے اسے نقل کردیتے ہیں گویا انہوں نے اس شخص کو ایک شارع کی حیثیت دے رکھی ہے کتاب و سنت کے جس حکم پر اس نے عمل کیا اس پر یہ بھی عمل کریں گے اور جو چیز اسے انہیں پہنچی یا پہنچی مگر وہ اسے ٹھیک طرح سمجھ نہ سکا یا سمجھا مگر اپنے اجتہاد و ترجیح میں غلطی کر بیٹھا وہ ان کی نظر میں منسوخ اور مرفوع الحکم ہے حالانکہ جس کی یہ لوگ تقلید کر رہے ہیں وہ بھی اس شریعت اور اس کے احکام کا اسی طرح پابند تھا جس طرح خود یہ لوگ۔ اس نے اجتہاد سے کام لیا اور جس رائے پر پہنچا اسے بیان کردیا۔ اگر اس نے غلطی نہیں کی تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور اگر غلطی کی تو اکہرا اجر پائے گا۔ وہ شخص تو اپنی جگہ معذور ہے مگر یہ حضرات کسی طرح بھی معذور قرار نہیں دئے جاسکتے جنہوں نے اس کی آراء کو ایک مستقل شریعت اور قابل عمل دلیل بنا لیا۔ اہل علم کے نزدیک کسی مجتہد کی تقلید کی بنا پر اس کے اجتہاد پر عمل کرنا صحیح نہیں ہے۔ (شوکانی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 60 جعلتم (تم نے بنا لیا) اللہ (کیا اللہ نے ؟ ) اذن (اجازت دی ہے) تفترون (تم گھڑتے ہو، تم بناتے ہو) ظن (گمان خیال) ذو فضل (فضل و کرم والا) لایشکرون (وہ شکر نہیں کرتے ہیں، وہ قدر نہیں کرتے ہیں) تشریح آیت نمبر 59 تا 60 اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کو بالکل واضح طریقہ سے ارشاد فرما دیا ہے کہ ” ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً “ یعنی اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ اللہ نے تم سب کے لئے رزق کو نازل کیا ہے۔ یہاں رزق سے مراد صرف کھانے پینے کی چیزیں ہی نہیں بلکہ ہر وہ نعمت مراد ہے جس کو ہر شخص استعمال کرتا ہے۔ البتہ اس میں بعض چیزوں کے استعمال کو سختی سے منع کردیا۔ کونسی چیز انسان کے لئے منع ہے یا حرام ہے اللہ نے اس کی ایک فہرست بھی عطا فرما دی ہے۔ اس کے مطابق ہر وہ چیز حلال ہے جس کو اللہ اور اس کے رسول نے پسند فرمایا ہے اور جس چیز سے منع کردیا وہ قیامت تک ہر انسان کے لئے حرام ہے۔ کفار و مشرکین عرب اور یہودی علماء نے اپنی طرف سے حلال اور حرام کی ایک فہرست بنا رکھی تھی اور ان کا سراسر جھوٹا دعویٰ یہ تھا کہ ہم جس چیز کو حرام کہہ رہے ہیں وہ وہی چیزیں ہیں جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ مثلاً ٭… انہوں نے بحیرہ اور سائبہ جانوروں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ ٭… اپنی کھیتی باڑی کے ایک حصے کو بتوں کے نام مخصوص کر کے یہ کہتے کہ یہ ان بتوں کے لئے ہے اس میں سے کھانا یا استعمال کرنا قطعاً حرام ہے۔ ٭… بعض مردار جانوروں کو حلال قرار دے رکھا تھا۔ غرض یہ کہ بغیر کسی دلیل کے جس چیز کو چاہتے حرام قرار دے لیتے اور جس چیز کو چاہتے حلال بتا دیتے تھے اور الزم اللہ پر لگا دیتے اور کہتے کہ اس کا حکم ہمیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کہہ دیجیے کہ یہ سب کچھ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے اس میں تمہیں کس نے اس بات کا اختیار دے دیا ہے کہ اپنی طرف سے گھڑ کر جس چیز کو چاہا حلال قرار دیدیا اور جس چیز کو چاہا حرام قرار دے لیا۔ فرمایا کہ کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے یا تم نے دوسروں پر دھونس جمانے کے لئے اللہ کے نام کا ناجائز استعمال کر رکھا ہے۔ یہ ایسی حرکت ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے اور اس جرم پر قیامت کے دن سخت سزا دی جائے گی۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر بےانتہا فضل و کرم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے اور قدر نہیں کرتے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید دنیا کی دولت سے بےبہا گنا بہتر ہے۔ لیکن دنیا دار لوگ اس کے مقابلہ میں دنیا کے مال کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ دنیا کی ہوس میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ اللہ کے حلال کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حلال کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرلینے والوں سے پوچھیں کہ انہوں نے کبھی غور کیا کہ انہیں کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حرام و حلال کو تبدیل کریں۔ کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی اجازت دی ہے ؟ یا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔ کیا انہوں نے اس کی سزا پر کبھی غور کیا ہے کہ قیامت کے دن ان پر کیا گزرے گی۔ منکرین اسلام سے جب یہ بات پوچھی جائے تو وہ اپنی حرام خوری، بےحیائی اور کفرو شرک کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں جس بناء پر انہیں بین السطور وارننگ دی گئی ہے کہ دنیا میں تم حرام و حلال کی تمیز کیے بغیر مزے اڑا رہے ہو۔ لیکن قیامت کے دن تمہیں اس کی سزا بھگتنا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بےحدو حساب فضل و کرم کرتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔ حلال و حرام کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کا شاید اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں حرام قرار دی ہیں اس میں بھی اس کا فضل کار فرما ہے۔ حرام و حلال کی فہرست پر انسان غور کرے تو وہ بےساختہ پکار اٹھے گا کہ واقعی جن چیزوں کو حرام قرار دیا گیا وہ نہ صرف جسمانی اعتبار سے نقصان دہ ہیں بلکہ روحانی حوالے سے بھی انتہا درجے کی مضر ہیں۔ درندوں کا گوشت اسی لیے کھانے سے منع کیا گیا کہ ان میں شفقت اور مہربانی کا جذبہ کم ہوتا ہے اگر ان کا گوشت کھانے کی اجازت ہوتی تو انسانوں میں درندگی کے آثار بڑھ جاتے۔ خنزیر کا گوشت اس لیے حرام قراردیا یہ پرلے درجے کا بےغیرت جانور ہے۔ جانوروں میں کوئی ایسا جانور نہیں، جو اپنی جنم دینے والی مادہ کے ساتھ جفتی کرنے کے لیے تیار ہو۔ لیکن خنزیر اپنے جنم دینے والی مادہ کے ساتھ بھی جفتی کرلیتا ہے۔ جہاں تک غیر اللہ کے نام دی ہوئی چیز کھانے کا معاملہ ہے اس کا تعلق روحانی اور ایمانی غیرت کے ساتھ ہے جس کے کھانے کی توقع توحید کی غیرت رکھنے والے شخص سے نہیں کی جاتی۔ یہاں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے فضل کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس فرمان کی دوسری وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کا ذکر فرما کر اشارہ دیا ہے کہ اگر دنیا میں حلال و حرام کے بارے میں اللہ کی حدود توڑنے والوں کو اللہ تعالیٰ نہیں پکڑتا جو اللہ کا عظیم فضل ہے۔ اس میں اس کی حکمت یہ ہے کہ شاید لوگ توبہ کرلیں تیسری وجہ بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بیشمار چیزیں حلال فرمائی ہیں مگر ان کے مقابلے میں حرام چیزوں کی فہرست بالکل مختصر رکھی ہے۔ ہر چیز کا مالک اور عطا کرنے والا صرف اللہ ہے۔ مگر مشرک اسے کسی اور کی عطا سمجھتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بر خلاف کسی مزار یا بت وغیرہ کے نام پر دیتا ہے۔ ایسی چیز کو توحید کی غیرت رکھنے والا شخص کس طرح کھا یا استعمال کرسکتا ہے۔ اسی غیرت کے پیش نظر غیر اللہ کے نام پر وقف کی ہوئی چیز کو کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ مسائل ١۔ کچھ لوگ اپنی مرضی سے حلال و حرام بنا لیتے ہیں۔ جو اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ پر افترا باندھنے والے قیامت کے دن عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر اپنا فضل کرم نازل فرماتا ہے۔ ٤۔ اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والوں کا انجام : ١۔ ان لوگوں کا قیامت کے بارے میں کیا حال ہوگیا جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ (یونس : ٦٠) ٢۔ بیشک وہ لوگ جو اللہ پر افترا بازی کرتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔ (النحل : ١١٦) ٣۔ اس شخص سے بڑا ظالم کوئی نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (ہود : ١٨) ٤۔ اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (العنکبوت : ٦٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل ارء یتم ما انزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حرامًا وحللاً (اے محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! ) آپ (مکہ کے کافروں سے) کہہ دیجئے کہ یہ بتلاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے فائدہ کیلئے جو رزق اتارا تھا ‘ سو تم نے (ازخود) اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حصہ حلال قرار دے لیا۔ اَنْزَلَاتارا ‘ یعنی پیدا کیا۔ تخلیق کو اتارنا فرمایا کیونکہ ان چیزوں کی تخلیق بالائی ذریعہ یعنی بارش سے ہوتی ہے اور بارش اوپر ہی سے اترتی ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ تخلیق کائنات سے پہلے اللہ نے پیدا کی جانے والی چیزوں کو لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ اب تحریر لوح کے مطابق تخلیق رزق ہوتی ہے ‘ گویا رزق لوح محفوظ سے اترتا ہے۔ رزق سے مراد ہے کھیتی یا مویشی دودھ والے۔ لَکُمْ کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ نے یہ چیزیں تمہارے لئے حلال بنائی تھیں مگر تم نے (ازخود) ان میں سے کسی کو حلال بنا لیا اور کسی کو حرام۔ کافروں نے کہا تھا : ھٰذِہٖ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ یہ چوپائے ہیں اور کھیتیاں ہیں جو ممنوع ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا : مَا فِیْ بُطُوْنِ ھٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا ان جانوروں کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے وہ مردوں کیلئے خصوصیت کے ساتھ حلال ہے ‘ عورتوں کیلئے حرام ہے۔ انہوں نے بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام (مختلف اقسام کے سانڈوں) کو بھی حرام قرار دے رکھا تھا۔ قل اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون۔ آپ ان سے پوچھئے کہ کیا (اس حرام حلال بنانے کی) اللہ نے تم کو اجازت دی ہے (کہ اس کے حکم سے ایسا کر رہے ہو) یا اللہ پر تم دروغ بندی کر رہے ہو کہ اس خود ساختہ تحلیل و تحریم کی نسبت اللہ کی طرف کر رہے ہو۔ مراد یہ ہے کہ اللہ نے تم کو اس کی اجازت نہیں دی۔ تم خود اللہ پر تہمت تراشی کر رہے ہو اور جھوٹ کہہ رہے ہو کہ اللہ نے ہم کو اس کا حکم دیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اپنی طرف سے کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا اللہ تعالیٰ پر افتراء ہے اللہ جل شانہ نے بندوں کو پیدا فرمایا ان کو رزق بھی عطا فرمایا۔ ان کی ہدایت کے لئے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور اپنی کتابیں نازل فرمائیں۔ اللہ کے رسولوں اور اللہ کی کتابوں نے احکام بتائے اور حلال و حرام کی وہ تفصیلات بتائیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہیں خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دین کو کامل فرما دیا اور آپ پر قرآن مجید نازل فرمایا قرآن و حدیث میں حرام و حلال کی تفصیلات موجود ہیں۔ مشرکین نے جو اپنی طرف سے حرام و حلال تجویز کر رکھا ہے اس کی بھی تردید فرمائی اور امت محمد یہ علیہ صاحبہ الصلوات والتحیہ کیلئے بھی پیش بندی فرما دی کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات سے ہٹ کر اپنے طور پر حرام و حلال قرار نہ دیں اور واضح طور پر بتادیا کہ تحلیل وتحریم یعنی حلال و حرام قرار دینے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے بندوں کو اس میں دخل دینا حرام ہے اور اصول بندگی کے خلاف ہے۔ اللہ نے جو رزق نازل فرمایا ہے تم نے اس میں سے بطور خود بعض کو حلال اور بعض کو حرام کیوں قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ کا حق تم نے کیسے استعمال کرلیا۔ کیا اللہ نے تمہیں تحلیل وتحریم کی اجازت دی ہے۔ یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو۔ حلال وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ حلال قرار دے اور حرام وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ حرام قرار دے۔ تمہارا اپنے پاس سے یوں کہنا کہ فلاں چیز حلال اور فلاں چیز حرام ہے یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت باندھنا اور افتراء کرنا ہے۔ جو کچھ اس نے حلال و حرام قرار دیا ہے اس کے خلاف جو تم کہتے ہو اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ یہ تحلیل وتحریم اللہ نے کی ہے کیونکہ تحلیل وتحریم کا حق اسی کو ہے۔ مخلوق کے حرام کہنے سے کوئی چیز حرام نہیں ہوجاتی اور مخلوق کے حلال کہنے سے حرام چیز حلال نہیں ہوجاتی۔ مشرکین عرب نے بعض جانوروں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ جس کا ذکر سورة مائدہ کی آیت (مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنْ م بَحِیْرَۃٍ وَّلَا سَآءِبَۃٍ ) کی تفسیر میں اور سورة انعام کی آیت (وَقَالُوْا ھٰذِہٖ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ) (الآیۃ) کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ امت محمد یہ علی صاحبہ الصلوٰۃ والتحیہ میں بھی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے تحلیل وتحریم کو دانستہ یا نا دانستہ طور اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو عقیدۃً تو حلال کو حرام نہیں سمجھتے لیکن ان کا عمل اس کے خلاف ہوتا ہے۔ بعض چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتے ہیں اور ان سے اسی طرح بچتے ہیں جیسے حرام سے بچا جاتا ہے۔ نیاز فاتحہ کا جن لوگوں میں رواج ہے وہ لوگ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا (رض) کے ایصال ثواب کے عنوان سے جو کھانا پکاتے ہیں وہ اول تو بدعت ہے پھر اس کے بارے میں یہ قانون بنا رکھا ہے کہ اس سے صرف لڑکیاں کھائیں گی ‘ لڑکے نہیں کھائیں گے۔ اللہ کی شریعت میں جو چیز سب کے لئے حلال ہے اسے لڑکوں کے لئے حرام قرار دینا وہی مشرکین والی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں تغییر اور تبدیلی کردی اور حلال کو اپنے پاس سے حرام قرار دے دیا ‘ اس طرح کی بہت سی چیزیں پیروں ‘ فقیروں اور اہل بدعت میں مروج ہیں۔ دوسری آیت میں ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اللہ کے قوانین میں تصرف کرتے ہیں۔ حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیتے ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کے بارے میں ان کا کیا گمان ہے۔ کیا انہیں روز قیامت کا یقین نہیں ہے ؟ اسی یقین کے نہ ہونے کی بنیاد پر اللہ کے نازل فرمودہ رزق میں اپنی طرف سے حلت و حرمت تجویز کرتے ہیں ایسے نڈر ہوگئے ہیں کہ انہیں آخرت کے مؤاخذہ کا کچھ بھی دھیان نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

76: یہ توحید پر ساتویں عقلی دلیل ہے اور اسے بھی شرک فعلی ہی کی نفی مقصود ہے اور یہ چھٹی دلیل سے متعلق ہے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور ان میں وہی متصرف و مختار ہے تو اب تم بتاؤ اللہ نے رزق کی جو انواع و اقسام تم کو عطا فرمائی ہیں ان میں تم نے اپنی مرضی سے تحلیل وتحریم کیوں کی ہے ؟ کیا اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی ہے یا تم اپنے فعل کو اللہ کی طرف منسوب کر کے اس پر بہتان تراشی کرتے ہو۔ مشرکین بعض اوقات اپنے مشرکانہ افعال کو اللہ کی طرف منسوب کر کے کہہ دیتے تھے کہ اللہ نے ہمیں ان کا حکم دیا ہے “ ان اللہ امرنا بھا ” حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ پر سراسر افتراء ہے۔ مشرکین اپنے معبودوں کی خوشنودی کے لیے کئی قسم کے چوپائے نامزد کر کے چھوڑ دیتے اور کھیتوں اور غلوں سے بھی اپنے معبودوں کا حصہ مقرر کردیتے ان چوپایوں (سائبہ بحریوہ وغیرہ) اور غلہ کے حصوں کا استعمال حرام قرار دیدیتے بعض مادہ جانوروں کے بارے میں وہ اعلان کردیتے کہ ان سے زندہ بچہ پیدا ہو تو وہ مردوں کے لیے حلالا اور عورتوں کے لیے حرام ہے اور اگر مردہ پیدا ہو تو سب کے لیے حلال جیسا کہ اس کی تفصیل سورة مائدہ رکوع 14 تا 16 میں گذر چکی ہے۔ یہاں مشرکین کو اسی خود ساختہ تحلیل و تحریم پر سرزنش فرمائی۔ “ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَلَالًا وَّ حَرَامًا وقال مجاھد ھو ما حکموا به من تحریم البحیرة والسائبة والوصیلة والحام وقال الضحاک ھو قول اللہ تعالیٰ وَ جَعَلُوْا لِلّٰه مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا ” (قرطبی ج 8 ص 355، معالم ج 3 ص 195) “ اي فبغضتموہ و قسمتموہ الی حرام و حلال و قلتم (ھٰذہٖ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ) و (مَا فِیْ بُطُوْنِ ھٰذِه الْاَنْعَامِ خَا لِصَةً لِّذُکُوْرِنَا وَ مُحَرَّمًا عَلیٰ اَزَوَاجِنَا) الی غیر ذلک ” روح ج 11 ص 142 ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

59 اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان سے فرما دیجئے بھلا دیکھو تو سہی اللہ تعالیٰ نے جو روزی تمہارے لئے نازل فرمائی اور جو رزق اس نے تمہارے فائدہ کے لئے اتارا تھا تم نے اس میں سے کچھ حصے کو حلال اور کچھ حصے کو حرام تجویز کرلیا ہے اور قرار دیدیا ہے آپ ان سے دریافت کیجئے کیا اللہ تعالیٰ نے تم کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے یا تم محض اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتے ہو اور اس پر افتراء کرتے ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں عطا فرمائی تھیں اشفاع کے لئے تم نے ان میں سے بعض کو حلال بعض کو حرام قرار دے لیا خدا کی پیدا کردہ چیزوں میں حلال و حرام کرنا خدا ہی کے حکم سے ہوسکتا ہے یا تو اللہ تعالیٰ کا حکم دکھلائو اور اگر نہیں ہے تو یہ کہو کہ اللہ پر افترا کیا ہے۔