Surat Younus
Surah: 10
Verse: 63
سورة يونس
الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾
Those who believed and were fearing Allah
یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ( برائیوں سے ) پرہیز رکھتے ہیں ۔
الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾
Those who believed and were fearing Allah
یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ( برائیوں سے ) پرہیز رکھتے ہیں ۔
الَّذِينَ امَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ Those who believed, and have Taqwa. Ibn Jarir recorded that Abu Hurayrah said that Allah's Messenger said: إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ عِبَادًا يَغْبِطُهُمُ الاَْنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاء Among the servants of Allah there will be those whom the Prophets and the martyrs will consider fortunate. It was said: "Who are these, O Messenger of Allah, so we may love them?" He said: هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا فِي اللهِ مِنْ غَيْرِ أَمْوَالٍ وَلاَ أَنْسَابٍ وُجُوهُهُمْ نُورٌ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ لاَ يَخَافُون إِذَا خَافَ النَّاسُ وَلاَ يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاس These are people who loved one another for the sake of Allah without any other interest like money or kinship. Their faces will be light, upon platforms of light. They shall have no fear (on that Day) when fear shall come upon people. Nor shall they grieve when others grieve. Then he recited: أَلا إِنَّ أَوْلِيَاء اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ Behold!! Verily, the Awliya' (friends and allies) of Allah, no fear shall come upon them nor shall they grieve. The True Dream is a Form of Good News Ibn Jarir narrated from Ubadah bin As-Samit that he (recited) to Allah's Messenger:
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ : کچھ لوگوں نے اولیاء اللہ کچھ انوکھی قسم کے مافوق الفطرت آدمیوں کو سمجھ رکھا ہے، جن سے عجیب و غریب کرامتیں اور شعبدے ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق پھر یہ بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے کہ دیکھا جائے ان کا عقیدہ کیا ہے ؟ وہ موحد ہیں یا مشرک، وہ نماز بھی پڑھتے ہیں یا نہیں، پاک دامن اور حلال و حرام کا خیال رکھنے والے بھی ہیں یا نہیں۔ حالانکہ اس قسم کی چیزیں اور شعبدے تو شیطانوں اور ان کے چیلوں مثلاً ہندو جوگیوں سے بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ مسمریزم اور ہپناٹزم کے ماہرین بھی لوگوں کو بیوقوف بناتے رہتے ہیں، خواہ وہ غیر مسلم ہی ہوں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء، یعنی دوستوں کی پہچان خود بتائی کہ ” الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “ یعنی وہ لوگ جنھوں نے قرآن و سنت کے مطابق اپنے اعتقاد کو درست کرلیا۔ ” وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ “ اور ہمیشہ گناہوں سے بچتے رہے اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرماں برداری کرتے رہے۔ لفظ ” کَانَ “ تقویٰ کے استمرار اور ہمیشگی پر دلالت کر رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ ہر انسان جو عقیدہ و عمل درست کرلے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرلے وہ اللہ کا ولی ہے۔ لیکن لوگ جنگلوں اور پہاڑوں کے عافیت خانوں میں یا خانقاہوں کے حجروں میں ولیوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں، مگر اللہ کے راستے میں جان و مال قربان کرنے والوں سے بڑھ کر اللہ کا ولی (دوست) کون ہوسکتا ہے۔ ولی وہ نہیں جسے سرخاب کا پر لگا ہوا ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ خود اپنے فرمان کے مطابق تمام اہل ایمان کا ولی ہے، فرمایا : (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) [ البقرۃ : ٢٥٧] ” اللہ ان لوگوں کا ولی (دوست) ہے جو ایمان لائے۔ “ اور دیکھیے سورة مائدہ (٥٥) اور یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ جن کا ولی ہے وہ اللہ کے ولی ہیں، کیونکہ دوستی دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں ہی کا ولی ہے، دشمنوں کا ولی ہرگز نہیں۔ پھر دوستی اور دشمنی کے درمیان کوئی مرتبہ نہیں، کوئی بھی شخص یا اللہ کا دوست ہوگا یا دشمن، اب آپ خود سوچ لیں کہ آپ اللہ کے دوست ہیں یا دشمن۔ اللہ کے یہ دوست ہر طبقے میں موجود ہیں، علماء، تاجر، صنعت کار، مزدور، کاشت کار، غرض ضروری نہیں کہ پیر یا مولوی ہی ولی ہو، بلکہ ہر طبقے میں ایمان اور تقویٰ والے لوگ اللہ کے ولی ہیں۔ البتہ ایسا شخص جو غیب کی باتیں بتاتا ہو، یا کائنات میں قدرت و اختیار رکھنے کی ڈینگ مارتا ہو، یا لوگ اس کے سامنے اس کی یہ شان بیان کرتے ہوں اور وہ چپ رہ کر ان کی تائید کرتا ہو، وہ رحمٰن کا ولی ہرگز نہیں، وہ تو شیطان کا ولی ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ اولیاء کے درجے یقیناً مختلف ہیں، اللہ کے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسی خلت، ولایت اور دوستی دوسرے رسولوں کو بھی حاصل نہیں ہوسکی، عام آدمی کو کیسے مل سکتی ہے، پھر انبیاء میں بھی درجے ہیں، فرمایا : (تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ ) [ البقرۃ : ٢٥٣ ] ” یہ رسول، ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ “ اسی طرح اہل ایمان کے ایمان و تقویٰ کے فرق کے مطابق ان کی ولایت میں بھی فرق ہوگا، ہاں کوئی بھی مخلص مومن اللہ کی ولایت سے یکسر محروم نہیں اور یہ دوستی اپنے درجے کے مطابق قیامت کے دن کسی نہ کسی وقت ضرور کام آئے گی۔ پھر کافر بھی خواہش کریں گے کہ کاش ! ہم کسی درجے کے بھی مسلمان ہوتے، فرمایا : (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ ) [ الحجر : ٢ ] ” کسی وقت چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاش ! وہ مسلمان ہوتے۔ “ یعنی جن کے دل میں ذرہ برابر یا اس سے بھی کم ایمان ہوگا وہ جہنم سے نکل کر جنت میں جائیں گے تو کفار چاہیں گے کاش ! دنیا میں ہم بھی مسلم بن جاتے، خواہ کسی درجے کے، تاکہ ہمیشہ کے لیے تو جہنم میں نہ رہتے۔
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ ٦٣ ۭ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔
آیت ٦٣ (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ) اور یہ تقویٰ کس طرح اہل ایمان کو درجہ بدرجہ بلند سے بلند کرتا چلا جاتا ہے اس کی تفصیل ہم سورة المائدۃ کی اس آیت کے ضمن میں پڑھ چکے ہیں : (اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ )
ف 6 ۔ یعنی انہوں نے قرآن و سنت کے مطابق اپنے اعتقاد کو درست کیا۔ 7 ۔ یعنی تنیک اعمال کرتے اور گناہوں سے بچتے رہے۔ اُو پر کی آیت میں اولیا اللہ (اللہ کے دوستوں) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ انہیں نہ کوئی ڈر ہوگا اور نہ غم۔ اس آیت میں اولیاء اللہ کی خود تشریح فرمادی اور وہ یہ کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا عقیدہ قرآن و سنت کی مطابق درست ہے اور جن میں تقویٰ پایا جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ ہر انسان جو اپنے اندر عقیدہ و عمل کی صحت پیدا کرلے گا وہ اللہ کا ولی ہوسکتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ عقیدہ و عمل میں اخلاص کے اعتبار سے لوگوں کے مراتب ہوں گے۔ حضرت ابن عباس (رض) وغیرہ سے ارشاد نبوی منقول ہے کہ ” اولئا اللہ “ وہ ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آئے۔ (درمنشور) عام لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے جس سے کوئی امر فرق عادت صادر ہو وہ اللہ کا ولی ہوتا ہے جو سراسر غلط ہے۔ خرق عادت امور تو شیطانوں سے بھی صادر ہوجات ہیں۔
الذین امنوا سے اشارہ فرمایا : اولیا اللہ وہ ہیں جو ایمان لے آئے ‘ یعنی حقیقت ایمان ان کے اندر پیدا ہوگئی۔ ایمان کا محل قلب ہے۔ کمال ایمان یہ ہے کہ اللہ کی یاد سے دل میں اطمینان پیدا ہوجائے ‘ اللہ کے ذکر سے لمحہ بھر غافل نہ ہو ‘ کسی دوسرے کی طرف توجہ ہی نہ ہو۔ دوسرے مرتبہ کی طرف اشارہ فرمایا۔ وکانوا یتقون۔ اور (شرک و معاصی سے) پرہیز رکھتے ہیں۔ یعنی اللہ کے اوامرو نواہی کی ظاہری اور باطنی ہر طرح پابندی کرتے ہیں۔ ابو داؤد نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : اللہ کے بندوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نہ انبیاء ہیں نہ شہدا لیکن قیامت کے دن ان کے مرتبۂ قرب کو دیکھ کر انبیاء اور شہدا ان پر رشک کریں گے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا : جو بندگان خدا سے محض اللہ کیلئے محبت رکھتے ہیں۔ اس میں نہ ان کی باہم رشتہ داریاں ہیں نہ مالی لین دین (کہ قرابت یا مالی لالچ کی وجہ سے ایک کو دوسرے سے محبت ہو) خدا کی قسم ! انکے چہرے (قیامت کے دن جسم) نور ہوں گے ‘ بالائے نور۔ جب اور لوگوں کو (عذاب کا) خوف ہوگا ‘ ان کو خوف نہ ہوگا۔ جب اور لوگ غم میں مبتلا ہوں گے ‘ وہ غمگین نہیں ہوں گے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : اَلاآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَ خوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھمْ یَحزَنُوْنَ بغوی نے ابو مالک اشعری کی روایت سے بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے اور بیہقی نے شعب الایمان میں یہی لکھا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) سے آیت الاآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ کا معنی دریافت کیا گیا۔ فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں۔ ابن مردویہ نے حضرت جابر کی روایت سے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ حصول ولایت کے ذرائع مرتبۂ ولایت کا حصول رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی پرتو اندازی سے ہوتا ہے ‘ خواہ عکس رسالت براہ راست پڑے ‘ یا کسی ایک واسطہ سے ‘ یا چند واسطوں سے۔ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) یا آپ کے نائبوں سے محبت اور ان کی ہم نشینی و اطاعت حصول ولایت کیلئے ضروری ہے ۔ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے قلب ‘ نفس اور جسم کا رنگ ولی کے قلب ‘ قالب اور جسم پر ان ہی دونوں اوصاف کی وجہ سے چڑھ جاتا ہے اور یہی صبغۃ اللہ ہے جس کے متعلق فرمایا : صِبْغَۃَ اللّٰہِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً طریق مسنون کے مطابق ذکر اللہ کی کثرت عکس پذیری کیلئے مددگار ہوتی ہے ‘ اس سے دل کا میل دور ہوجاتا ہے اور آئینۂ قلب کی صفائی ہو کر عکس پذیری کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : ہر چیز کی منجھائی ہوتی ہے اور دل کو مانجھنے والا اللہ کا ذکر ہے۔ رواہ البیہقی۔ عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص ۔ امام مالک ‘ امام احمد اور بیہقی نے حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے بیان کیا ‘ حضرت معاذ نے فرمایا : میں نے خود ‘ خود حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ نے فرمایا : جو دو آدمی میرے لئے باہم محبت کرتے ہیں ‘ میرے لئے مل کر بیٹھتے ہیں ‘ میرے لئے خرچ کرتے ہیں ‘ ان سے میری محبت واجب ہوجاتی ہے۔ امام احمد ‘ طبرانی اور حاکم نے حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے بھی یہ حدیث بیان کی ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے آیا ہے کہ ایک شخص نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! اس شخص کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے مگر اس قوم (کے عمل) تک اس کی رسائی نہیں ہوتی۔ فرمایا : آدمی کا شمار انہی لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی۔ رسائی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے عمل اس قوم کے اعمال کی طرح نہ ہو سکے ہوں۔ صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث آئی ہے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں لکھا ہے کہ حضرت ابو رزین نے بیان کیا : مجھ سے رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : میں تجھے بتاؤں کہ اس کام کا مدار کس چیز پر ہے جس سے تجھے دنیا اور آخرت کی بھلائی مل جائے (مدار خیر یہ ہے کہ اہل ذکر کی مجلسوں میں حاضری کی پابندی کر اور تنہائی ہو تو جہاں تک ہو سکے اللہ کے ذکر سے زبان کو ہلاتا رہ اور اللہ کے واسطے محبت اور اللہ کے واسطے نفرت کر (یعنی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے لوگوں سے محبت و عداوت رکھ ‘ ذاتی غرض کوئی نہ ہو) ۔ امام احمد اور ابو داؤد نے حضرت ابو ذر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے پیارا عمل یہ ہے کہ اللہ کی خوشنودی کیلئے محبت اور بغض کیا جائے۔ اللہ کا محبوب کون ہے اولیاء میں ایک جماعت اللہ کی محبوبیت کے درجہ پر بھی فائز ہوجاتی ہے۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : اللہ جب کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبرئیل کو طلب فرما کر حکم دیتا ہے : میں فلاں بندہ سے محبت کرتا ہوں ‘ تو بھی اس سے محبت کر۔ حسب الحکم حضرت جبرئیل اس بندے سے پیار کرنے لگتے ہیں ‘ پھر حضرت جبرئیل آسمان پر (اہل سمٰوات کو) ندا دیتے ہیں کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے ‘ تم بھی اس سے محبت کرو۔ حسب الارشاد اہل سماء اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر زمین (والوں) میں اس کو مقبولیت عطا کردی جاتی ہے۔ اور جب اللہ کسی بندہ سے نفرت کرتا ہے تو حضرت جبریل کو طلب فرما کر حکم دیتا ہے : میں فلاں شخص سے نفرت کرتا ہوں ‘ تو بھی اس سے نفرت کر۔ حسب الحکم حضرت جبرئیل اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ‘ پھر آسمان والوں کو حضرت جبرئیل ندا کرتے اور کہتے ہیں : اللہ فلاں شخص سے نفرت کرتا ہے ‘ تم بھی اس سے نفرت کرو۔ لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ‘ پھر زمین والوں میں سے اس سے نفرت پیدا کردی جاتی ہے (اور زمین والے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں) ۔ فصل اولیاء اللہ کی علامات کیا ہیں ؟ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) سے دریافت کیا گیا : اولیاء اللہ کون ہوتے ہیں ؟ فرمایا : جن کو دیکھنے سے اللہ کی یاد ہوتی ہے (بغوی) ۔ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میرے بندوں میں میرے اولیاء وہ ہیں جن کی یاد میرے ذکر سے اور میری یاد ان کا ذکر کرنے سے ہوتی ہے (بغوی) ۔ حضرت اسماء بنت یزید نے رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کو فرماتے سنا : سنو ! کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے اچھے کون لوگ ہیں ؟ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! ضرور فرمائیے۔ فرمایا : جن کو دیکھنے سے اللہ کی یاد ہوتی ہے (رواہ ابن ماجہ) ۔ فائدہ : اس کا گریہ ہے کہ اولیاء اللہ کو اللہ سے قرب اور بےکیف مصاحبت حاصل ہوتی ہے ‘ اسی وجہ سے ان کی ہم نشینی گویا اللہ کی ہم نشینی اور ان کا دیدار اللہ کی یاد دلانے والا اور ان کا ذکر اللہ کے ذکر کا موجب ہوتا ہے۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے سورج کے سامنے رکھا ہوا آئینہ جو سورج کی شعاعوں سے جگمگا جاتا ہے اور اس آئینہ کے سامنے جو چیز رکھی جاتی ہے آئینہ کی عکس ریزی سے وہ چیز بھی روشن ہوجاتی ہے ‘ بلکہ اگر روئی کو اس آئینے کے سامنے زیادہ قریب رکھا جائے تو آئینہ کے قرب کی وجہ سے روئی جل جاتی ہے اور سورج چونکہ دور ہوتا ہے ‘ اسلئے دھوپ میں روئی نہیں جلتی۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ اللہ نے اولیاء کے اندر اثر پذیری اور اثر اندازی کی قوی طاقت رکھی ہے۔ اللہ سے قرب اور بےکیف مناسبت رکھنے کی وجہ سے اولیاء میں اثر پذیری کی صلاحیت زیادہ قوی ہوتی ہے اور جنسیت نوعیت اور شخصیت کے اشتراک کی وجہ سے دوسرے ہم جنس ‘ ہم نوع اور مناسب التشخص افراد پر اثر اندازی کی استعداد بھی ان میں قوی ہوتی ہے۔ یہی تأثر و تاثیر کا تعلق اس امر کا باعث ہوتا ہے کہ ان کا حضور ‘ اللہ کے سامنے حضور کا ذریعہ اور ان کو دیکھنا اور ان کے ساتھ بیٹھنا اللہ کی یاد کا موجب ہوتا ہے ‘ مگر شرط یہ ہے کہ دیکھنے والے اور بیٹھنے والے کے دل میں انکار نہ ہو (منکروں کو کوئی فیض حاصل نہیں ہوتا) وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ اللہ ایمان و اطاعت کی حدود سے نکل جانے والوں کو ہدایت نہیں کرتا۔ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کا ارشاد ہے کہ اللہ نے فرمایا : جس نے میرے ولی سے دشمنی کی ‘ میں نے اس کو (اپنی طرف سے) جنگ کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ رواہ البخاری عن ابی ہریرۃ حضرت حنظلہ نے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! جب ہم آپ کی خدمت میں موجود ہوتے ہیں اور آپ دوزخ اور جنت کی ہم کو یاد دلاتے ہیں تو گویا ہم اپنی آنکھوں سے جنت و دوزخ کو دیکھ لیتے ہیں ‘ لیکن جب آپ کے پاس سے نکل کر ہم باہر جاتے ہیں اور بیویوں ‘ بچوں اور زمینوں کے جھگڑوں میں مشغول ہوجاتے ہیں تو بہت کچھ (جنت و دوزخ کو) بھول جاتے ہیں۔ فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ہر وقت تم اسی حالت پر رہو ‘ جس حالت پر میرے پاس اور میرے نصیحت کرنے کے وقت ہوتے ہو تو فرشتے تمہارے بستروں پر اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کریں ‘ مگر حنظلہ ! وقت ‘ وقت ہوتا ہے (ایک حضور کا وقت ‘ ایک غیبوبت کا وقت) یہ الفاظ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے تین مرتبہ فرمائے۔ رواہ مسلم فائدہ : عام لوگ کشف و کرامت کو ولایت کی خصوصی نشانی سمجھتے ہیں ‘ مگر یہ غلط ہے۔ بہت سے اولیاء کشف و کرامت سے خالی ہوتے ہیں اور کبھی بطور استدراج دوسرے لوگوں میں اولیاء کے علاوہ بھی خرق عادات اور انکشافات غیبی پایا جاتا ہے (اسلئے کشف و کرامت معیار ولایت نہیں ہے ( اگر بعض اولیاء سے اتفاقاً کشف و کرامت کا ظہور ہوجائے تو اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ کشف و کرامت معیار ولایت ہے۔ اللہ نے اپنے رسول مکرم ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کو خطاب کر کے فرمایا : قلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَيَّ آپ کہہ دیجئے کہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ میں تم جیسا انسان ہوں (مگر مجھے یہ امتیاز ہے کہ) میرے پاس وحی آتی ہے۔ دوسری جگہ خطاب کر کے فرمایا : قُلْ لَّوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْٓہُ اگر میں غیب داں ہوتا تو کثیر بھلائی سمیٹ لیتا اور برائی مجھے چھو بھی نہ جاتی۔ ایک جگہ اور خطاب فرمایا ہے : قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِ آپ کہہ دیجئے کہ معجزات تو اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ صوفیاء کرام کا قول ہے : کرامت تو مردوں کا حیض ہے ‘ اس کو چھپانا ہی ضروری ہے۔ کرامت کی وجہ سے ایک ولی کو دوسرے ولی پر فضیلت نہیں ہوتی ‘ اسی لئے جن اولیاء کے ہاتھوں سے کرامات کا ظہور زیادہ ہوا ان کو اپنے اس فعل پر ندامت ہوئی۔
80: یہ اولیاء اللہ کی نشانیاں ہیں جن سے انہیں بآسانی پہچانا جاسکتا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کی دو صفتیں بیان فرمائی ہیں جو تمام صفات ولایت کی جامع ہیں۔ (1) “ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ” اس سے اعتقاد صحیح کی طرف اشارہ ہے یعنی ان کے تمام عقائد کتاب و سنت کے مطابق ہوں اور ان میں شریعت سے سرِ مو انحرف نہ ہو۔ (2) ۔ “ وَ کَانُوْا یَّتَّقُوْنَ ” اور وہ متقی ہوں یعنی ان کے تمام اعمال و اخلاق شریعت اسلامیہ کے عین مطابق ہوں۔ کتب عقائد میں اس کی تفصیل موجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ “ ولی اللہ من یکون اٰتیا بالاعتقاد الصحیح المبنی علی الدلیل ویکون اتیا بالاعمال الصالحة علی وفق ما وردت به الشریعة ” (کبیر ج 17 ص 126) ۔