Surat Younus

Surah: 10

Verse: 70

سورة يونس

مَتَاعٌ فِی الدُّنۡیَا ثُمَّ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ نُذِیۡقُہُمُ الۡعَذَابَ الشَّدِیۡدَ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ ﴿٪۷۰﴾  12 الثلٰثۃ

[For them is brief] enjoyment in this world; then to Us is their return; then We will make them taste the severe punishment because they used to disbelieve

یہ دنیا میں تھوڑا سا عیش ہے پھر ہمارے پاس ان کو آنا ہے پھر ہم ان کو ان کے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ... (A brief) enjoyment in this world! meaning, only a short period, ... ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ... and then unto Us will be their return, on the Day of Resurrection; ... ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ Then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve. meaning, `We shall make them taste the painful punishment because of their Kufr and lies about Allah.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ ۔۔ : بس زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اللہ پر بہتان باندھ کر دنیا کا تھوڑا سا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ تنوین تقلیل کے لیے ہے، کیونکہ ساری دنیا بھی حاصل کرلیں تو وہ ختم ہونے والی ہے، لہٰذا نہایت کم اور بےوقعت ہے، پھر انھیں واپس تو ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ ” اِلَیْنَا “ پہلے لانے سے حصر پیدا ہوا، جس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں اور نہیں جاسکتے، پھر ہم انھیں ان کی کفریات کی بہت سخت سزا چکھائیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِيْقُھُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيْدَ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ۝ ٧٠ ۧ متع ( سامان) وكلّ ما ينتفع به علی وجه ما فهو مَتَاعٌ ومُتْعَةٌ ، وعلی هذا قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] أي : طعامهم، فسمّاه مَتَاعاً ، وقیل : وعاء هم، وکلاهما متاع، وهما متلازمان، فإنّ الطّعام کان في الوعاء . ( م ت ع ) المتوع ہر وہ چیز جس سے کسی قسم کا نفع حاصل کیا جائے اسے متاع ومتعۃ کہا جاتا ہے اس معنی کے لحاظ آیت کریمہ : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا ۔ میں غلہ کو متاع کہا ہے اور بعض نے غلہ کے تھیلے بابور یاں مراد لئے ہیں اور یہ دونوں متاع میں داخل اور باہم متلا زم ہیں کیونکہ غلہ ہمیشہ تھیلوں ہی میں ڈالا جاتا ہے دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے ذوق الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له : الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] ( ذ و ق ) الذاق ( ن ) کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ اختیار کیا ہے اس لئے کہ عرف میں اگرچہ یہ قلیل چیز کھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر لغوی معنی کے اعتبار سے اس میں معنی کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا معنی عموم کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا منعی عموم کے پیش نظر عذاب کے لئے یہ لفظ اختیار کیا ہے ۔ تاکہ قلیل وکثیر ہر قسم کے عذاب کو شامل ہوجائے قرآن میں بالعموم یہ لفظ عذاب کے ساتھ آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] تاکہ ( ہمیشہ ) عذاب کا مزہ چکھتے رہیں ۔ شدید والشِّدَّةُ تستعمل في العقد، وفي البدن، وفي قوی النّفس، وفي العذاب، قال : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] ، عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ، يعني : جبریل عليه السلام، ( ش دد ) الشد اور شدۃ کا لفظ عہد ، بدن قوائے نفس اور عذاب سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے ۔ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا ؛نہایت قوت والے سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٠) یہ دنیا میں چند روزہ زندگی گزار رہے ہیں، پھر مرنے کے بعد ان کو ہمارے ہی پاس آنا ہے، پھر ہم ان کو ان کے قرآن اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے بدلے سخت سزا کا مزہ چکھائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٠ (مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُہُمْ ) دنیا کی چند روزہ زندگی کا فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں کچھ ساز و سامان دے دیا گیا ہے ‘ پھر ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہوگی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:70) متاع فی الدنیا۔ فی الدنیا متعلق بہ متاع ہے۔ اور یہ مبتداء بھی ہوسکتا ہے اور خبر بھی۔ اگر اسے مبتداء لیا جائے تو خبر محذوف مانی جائے گی اور اس کی تقدیر ہوگی۔ لہم متاع فی الدنیا۔ ان کے لئے دنیا میں (چند روز) سازوسامان ہے۔ (اس کے مزے اڑالیں) اور اگر متاع کو خبر لیا جائے تو مبتدا کو محذوف مانا جائے گا اور اس کی تقدیر ہوگی۔ افتراء ہم اوحیاتھم متاع فی الدنیا۔ ان کی بہتان بازی اور ان کی (یہ چند روزہ) زندگی دنیا کا (ہی) سازوسامان ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 ۔ بس زیادہ سے زیادہ یہ کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ کر کچھ دنیا کمالیں پھر موت کے عبد ان کفریات کی خوف سزا ملے گی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

متاع فی الدنیا یہ دنیا میں (چند روزہ) تھوڑا سا عیش ہے۔ یعنی یہ دورغ بندی دنیا میں کچھ مزہ اڑانے کا سبب ہوجائے گی۔ اس طریقے سے وہ کفر کی حالت میں اپنی ریاست کو قائم رکھ سکیں گے۔ یا ان کی زندگی دنیوی متاع حقیر ہے۔ ثم الینا مرجعھم ثم نذیقھم العذاب الشدید بما کانوا یکفرون۔ پھر (موت کے بعد) ان کی واپسی ہماری ہی طرف ہوگی ‘ پھر ان کے کفر کی پاداش میں ہم ان کو عذاب شدید کا مزہ چکھائیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِیْقُھُمُ الْعَذَاب الشَّدِیْدَ بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ) (دنیا میں تھوڑا سا نفع ہے پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کی وجہ سے سخت عذاب چکھا دیں گے) اس میں اس شبہ کا جواب ہے کہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ مشرک اور کاذب اور مفتری آرام و راحت میں ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے حکومتیں بھی ہیں اس طرح تو وہ کامیاب نظر آتے ہیں۔ جو اب میں ارشاد فرمایا کہ یہ تھوڑی سی دنیاوی زندگی ہے اس میں تھوڑا سا عیش کرلیں گے پھر ہمارے پاس آئیں گے وہاں کفر کا سخت عذاب چکھیں گے۔ اس عذاب کے سامنے یہ ذرا سا چند روزہ دنیا کا عیش کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا ‘ جو دوزخ میں جائے (اور وہ بھی ہمیشہ کیلئے) وہ کیسے کامیاب ہوسکتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

70 دنیا میں ان کے لئے تھوڑا سا چند روزہ عیش ہے پھر ان کو ہمارے ہی پاس آنا اور ہماری ہی طرف لوٹنا ہے پھر ہم اس کفر کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے یعنی دنیا میں چند روزہ فائدہ اور عیش اٹھالیں پھر مرنے کے بعد ان کا مرجع ہماری طرف ہے اور پھر ہم ان کو سخت سزا دیں گے۔