Surat Younus
Surah: 10
Verse: 86
سورة يونس
وَ نَجِّنَا بِرَحۡمَتِکَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۶﴾
And save us by Your mercy from the disbelieving people."
اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے ۔
وَ نَجِّنَا بِرَحۡمَتِکَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۶﴾
And save us by Your mercy from the disbelieving people."
اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے ۔
وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ ... And save us by Your mercy, means save us through Your mercy and beneficence ... مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ from the disbelieving folk. meaning, from those who denied the truth and covered it. We truly have believed in You and put our trust in You.
86۔ 1 اللہ پر توکل کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے بارگاہ الٰہی میں دعائیں بھی کیں۔ اور یقینا اہل ایمان کے لئے یہ ایک بہت بڑا ہتھیار بھی ہے اور سہارا بھی۔
وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ٨٦ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے نجات دی ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔
لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 86 ذریۃ (اولاد، لوگ) ان یفتھم (یہ کہ وہ کسی آزمائش یا تکلیف میں نہ پڑجائیں) عال (غلبہ وقوت رکھنے والا) المسرفین (حد سے بڑھنے والے) تو کلوا (تم بھروسہ کرو، تو کل کرو) لاتجعلنا (تو ہمیں نہ بنانا نجنا (ہم کو نجات دے ) تشریح : آیت نمبر 83 تا 86 حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص تن تنہا اتنی جرأت نہیں رکھتا کہ وہ معاشرہ کے ہر جھوٹ اور باطل سے ٹکرا جائے لیکن جب بھی حق اور سچائی کی بات کہی جاتی ہے تو کچھ سعادت مند لوگ اس سچائی کو دل سے قبول کرلیتے ہیں وہ اس کا اظہار تو نہیں کرسکتے لیکن جب ماحول سازگار ہوتا ہے تو وہ اس قلبی کیفیت کا اظہار کرتے ہیں اور پھر فوج در فوج اس تحریک کو قبول کرتے چلے جاتے ہیں۔ فرعون ایک انتہائی ظالم و جابر حکمراں تھا جس نے ظلم و ستم بربریت اور بد اخلاقی کے ہر ہتھیار کو بنی اسرائیل کے خلاف بےدریغ استعمال کیا، بین اسرائیل کی نسل کو ختم کرنے کے لئے اس نے ماؤں کی گود سے ان کے بیٹوں کو چھین چھین کر ذبح کرنا شروع کردیا، وہ لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ اس کے ظلم و ستم سے بنی اسرائیل اس قدر فوف زدہ تھے کہ اتنے بڑے ظلم و جبر کے سامنے وہ اف تک کرنے کی جرأت نہیں رکھتے تھے اور تڑپ کر رہ جاتے تھے مگر اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب ظلم اپنی حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر اس کو مٹانے کے لئے اہل ایمان اور حق و صداقت کے پیکر صاحب کردار لوگوں کو کھڑا کر دیات ہے وہ اگرچہ بظاہر کمزور ہوتے ہیں لیکن ان کے دل میں ایمان کی روشنی سے وہ طاقت آجاتی ہے جس سے وہ بڑی سے بڑی طاقت کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔ ان کے ایمان و اخلاص کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ وہ اسباب پیدا فرما دیتا ہے جس سے ان کے راستے کی ہر رکاوٹ دور ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے اس ظلم و بربریت کے مقابلے میں حضرت موسیٰ اور ان کے بڑے بھائی حضرت ہارون کو بھیج دیا۔ حضرت موسیٰ نے ایک ہی بات فرمائی کہ ایمان ہی وہ قوت ہے جس کے ذریعے فرعون کے ظلم کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے مگر بنی اسرائیل سچائیک و ماننے کے باوجود اس قدر خوف و دہشت میں مبتلا تھے کہ وہ حضرت موسیٰ کا کھل کر ساتھ نہیں دے سکتے تھے جب فرعون کے دربار میں جادوگروں نے برملا اپنے ایمان کا اظار کیا اور انہوں نے سزا کا ہر خوف دل سے نکال کر اپنے مومن ہونے کا اعلان کیا تو فرعون اس جرأت و ہمت پر حیران رہ گیا اور پھر اس نے اور اس کے سرداروں نے بھی کھل کر ظلم کی انتہا کردی اور وہ مظالم ڈھائے جس کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ حضرت موسیٰ ان صاحبان ایمان بنی اسرائیل کو ایک ہی بات سمجھاتے کہ اگر تم مومن ہو تو گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ اللہ بہت طاقت والا ہے۔ اس کی طاقت کے سامن کسی کی کوئی طاقت و قوت نہیں ہے۔ اس پر بھروسہ کرو، وہی سننے والا اور تمہاری مدد کرنے والا ہے۔ ان اہل ایمان کا بھی یہی جواب ہوتا تھا کہ ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور یہ دعائیں کرتے تھے کہ اے اللہ ہمارے وجود کو خیر اور سلامتی کا ذریعہ بنا دے اور ہمیں ان ظالموں کا چارہ بننے سے محفوظ فرما۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس فریاد کو سن کر ان کو وہ طاقت عطا فرمائی کہ فرعون اور اس کی خوشامدی درباری خاک میں مل گئے۔ ان آیات میں فرعون کے جس ظلم و ستم، بربریت اور انسانیت سوز حرکتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے وہیں ان آیات میں کفار عرب کو یہ اشارہ بھی دے دیا ہے کہ ایمان و اخلاص کے سامنے فرعون جیسی طاقت تباہ و برباد ہوگئی۔ اگر تم بھی فرعون کے راستے پر چلتے ہوئے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے جاں نثار صحابہ کرام پر ظلم و ستم کرو گے تو یاد رکھو یہ ظلم کی کالی رات بہت جلد ختم ہونے والی ہے اللہ پر ایمان اور تولک رکھنے والے اگرچہ خالی ہاتھ ہوتے ہیں ان کے پاس دنیاوی کوئی طاقت نہیں ہوتی لیکن وہ بڑی سے بڑی طاقت کو ملیا میٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اللہ کی سنت یہی ہے کہ وہ مظلوموں کے ذریعہ ظالموں اور ان کے ظلم کو مٹا کر چھوڑتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں اعلان نبوت کے بعد نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام پر کفار و مشرکین نے جو مظالم ڈھائے اور ظلم کی انتہا کردی صحابہ کرام کے ایمان کی طاقت ایک سیلاب بن کر ان کفار کو بہا کرلے گئی اور فتح مکہ کے دن وہ ظالم اپنی سزا کے اعلان کے منتظر تھے مگر نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو پیغمبر انسانیت ہیں یہ کہہ کر سب کو حیرت میں ڈال دیا کہ ” جائو تم سب آزاد ہو، آج تم سے کوئی انتقام اور بدلہ نہیں لیاج ائے گا۔ “ اللہ نے یہ دکھا دیا کہ بالآخر وہی لوگ کامیاب و بامراد ہوتے ہیں جو ایمان، عمل صالح اور تقویٰ پر پرہیز گاری کے پیکر ہوتے ہیں۔
5۔ یعنی جب تک ہم پر ان کی حکومت مقدر ہے ظلم نہ کرنے پائیں اور پھر ان کی حکومت ہی کے دائرہ سے نکال دیجیے۔
ونجنا برحمتک من القوم الکٰفرین۔ اور ہم کو ان کافروں کے گروہ سے اپنی رحمت سے نجات عطا کر۔ یعنی ان کی مکاری اور سازش اور نحوست سے نجات دے۔ دعا سے پہلے توکل کا ذکر کرنا بتا رہا ہے کہ دعا کرنے والے پر سب سے پہلے اللہ پر بھروسہ رکھنا لازم ہے تاکہ اس کی دعا قبول ہو سکے۔ میں کہتا ہوں : صوفی کیلئے توکل تو ان صفات میں سے ہے جو صوفی کے اندر ہونی لازم ہیں۔ دعاء تو لوازم میں سے نہیں ‘ بیرونی عوارض میں سے ہے (اگر صوفی دعاء کرتا ہے تو بہتر ہے۔ صوفیت کا حال اس کا مقتضی ہے لیکن لازم نہیں ‘ اور توکل صوفی کی لازمی خصوصیت ہے) ۔