Surat ul Aadiyaat

Surah: 100

Verse: 10

سورة العاديات

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوۡرِ ﴿ۙ۱۰﴾

And that within the breasts is obtained,

اور سینوں کی پوشیدہ باتیں ظاہر کر دی جائیں گی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And that which is in the breasts shall be made known, Ibn Abbas and others have said, "This means what was in their souls would be exposed and made apparent." إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَيِذٍ لَّخَبِيرٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

حصل، میز وبین یعنی سینوں کی باتوں کو ظاہر اور کھول دیا جائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] اس کی تشریح سورة الطارق کی آیت ( يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاۗىِٕرُ ۝ ۙ ) 86 ۔ الطارق :9) کے تحت حاشیہ نمبر ٧ میں گزر چکی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وحصل ما فی الصدور : دوسرے اعمال تو پہلے ہی ظاہر ہوچکے تھے، مگر دل کی نیت اور ارادے کے متعلق خیال ہوسکتا تھا کہ اسے کون جانتا ہے، تو اس وقت وہ بھی ظاہر کردیئے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(یوم ثبلی السرآئر) (الطارق : ٩)” جس دن پوشیدہ راز ظاہر کئے جائیں گے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ۝ ١٠ ۙ حصل التحصیل : إخراج اللبّ من القشور، كإخراج الذهب من حجر المعدن، والبرّ من التّبن . قال اللہ تعالی: وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ، أي : أظهر ما فيها وجمع، كإظهار اللبّ من القشر وجمعه، أو كإظهار الحاصل من الحساب، وقیل للحثالة : الحصیل، وحَصِلَ الفرس : إذا اشتکی بطنه عن أكله ، وحوصلة الطیر : ما يحصل فيه الغذاء . ( ح ص ل ) التحصیل ( تفعیل ) کے معنی چھلکے سے گو دہ اور مغز نکالنے کے ہیں مثلا معدن کے پتھروں سے سونا نکالنا بھوسے گندم کے دانوں کو الگ الگ کرنا ۔ پس آیت کریمہ : ۔ وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] کے معنی یہ ہیں کہ جو بھید سینوں میں ہیں وی اس طرح نکال کر جمع کردیئے جائیں گے ۔ جس طرح کہ چھلکے سے مغز الگ کرلیا جاتا ہے ۔ یا جیسے حساب کا حاصل ظاہر کیا جاتا ہے اور حثالۃ ( یعنی جھان ) وغیرہ کو تحصیل کہا جاتا ہے ۔ حصل الفرس گھوڑے کا حثالہ وغیرہ کھانے کی وجہ سے پیٹ کے درد میں مبتلا ہونا اور پرند کے پوئے یا سنگمانے کو حوصۃ الطیر کہا جانا ہے ۔ صدر الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ، وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] ، ثم استعیر لمقدّم الشیء كَصَدْرِ القناة، وصَدْرِ المجلس، والکتاب، والکلام، وصَدَرَهُ أَصَابَ صَدْرَهُ ، أو قَصَدَ قَصْدَهُ نحو : ظَهَرَهُ ، وكَتَفَهُ ، ومنه قيل : رجل مَصْدُورٌ: يشكو صَدْرَهُ ، وإذا عدّي صَدَرَ ب ( عن) اقتضی الانصراف، تقول : صَدَرَتِ الإبل عن الماء صَدَراً ، وقیل : الصَّدْرُ ، قال : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] ، والْمَصْدَرُ في الحقیقة : صَدَرٌ عن الماء، ولموضع المصدر، ولزمانه، وقد يقال في تعارف النّحويّين للّفظ الذي روعي فيه صدور الفعل الماضي والمستقبل عنه . ( ص در ) الصدر سینہ کو کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] میرے پروردگار اس کا م کے لئے میرا سینہ کھول دے ۔ اس کی جمع صدور آتی ہے جیسے فرمایا : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] اور جو بھید دلوں میں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے ۔ وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ ہر چیز کے اعلیٰ ( اگلے ) حصہ کو صدر کہنے لگے ہیں جیسے صدرالقناۃ ( نیزے کا بھالا ) صدر المجلس ( رئیس مجلس ) صدر الکتاب اور صدرالکلام وغیرہ صدرہ کے معنی کسی کے سینہ پر مارنے یا اس کا قصد کرنے کے ہیں جیسا کہ ظھرہ وکتفہ کے معنی کسی کی پیٹھ یا کندھے پر مارنا کے آتے ہیں ۔ اور اسی سے رجل مصدور کا محاورہ ہے ۔ یعنی وہ شخص جو سینہ کی بیماری میں مبتلا ہو پھر جب صدر کا لفظ عن کے ذریعہ متعدی ہو تو معنی انصرف کو متضمن ہوتا ہے جیسے صدرن الابل عن الماء صدرا وصدرا اونٹ پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹ آئے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے ۔ اور مصدر کے اصل معنی پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹنا کے ہیں ۔ یہ ظرف مکان اور زمان کے لئے بھی آتا ہے اور علمائے نحو کی اصطلاح میں مصدر اس لفظ کو کہتے ہیں جس سے فعل ماضی اور مستقبل کا اشتقاق فرض کیا گیا ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8 That is all the intentions aims and objects, ideas and thoughts and the motives behind acts and deeds that lie hidden in the hearts will be exposed and examined in .order to sort out the good from the evil. In other words judgement will not be passed only on the apparent and superficial as to what a man practically did but the secrets hidden in the hearts also will be brought out to see what were the intentions and motives under which _ a man did what he did. If man only considers this he cannot help admitting that real and complete justice cannot be done anywhere except in the Court of God. Secular laws of the world also admit in principle that a person should not be punished merely on the basis of his apparent act but his motive for so acting also should be seen and examined. But no court of the world has the means by which it may accurately as certain the motive and intention. This can be done only by God: He alone can examine the underlying motives behind every apparent act of man as well as take the decision as to what reward or punishment he deserves. Then, as is evident from the words of the verse, this judgement will not be passed merely on the basis of the knowledge which Allah already has about the intentions and motives of the hearts, but on Resurrection Day these secrets will be exposed and brought out openly before the people and after a thorough scrutiny in the Court it will be shown what was the good in it and what was the evil. That is why the words hussila ma fis-sudur have been used. Tahsil means to bring out something in the open, and to sort out different things from one another. Thus, the use of tahsil concerning hidden secrets of the hearts contains both the meanings: to expose them and to sort out the good from the evil. This same theme has been expressed in Surah At-Tariq, thus: "The Day the hidden secrets are held to scrutiny." (v. 9)

سورة العدیات حاشیہ نمبر : 8 یعنی دلوں میں جو ارادے اور نیتیں ، جو اغراض و مقاصد ، جو خیالات و افکار ، اور ظاہری افعال کے پیچھے جو باطنی محرکات ( Motives ) چھپے ہوئے ہیں وہ سب کھول کر رکھ دیے جائیں گے اور ان کی جانچ پڑتال کر کے اچھائی کو الگ اور برائی کو الگ چھانٹ دیا جائے گا ۔ بالفاظ دیگر فیصلہ صرف ظاہر ہی کو دیکھ کر نہیں کیا جائے گا کہ انسان نے عملا کس غرض سے کیے ۔ اس بات پر اگر انسان غور کرے تو وہ یہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اصل اور مکمل انصاف خدا کی عدالت کے سوا اور کہیں نہیں ہوسکتا ۔ دنیا کے لا دینی قوانین بھی اصولی حیثیت سے یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ کسی شخص کے محض ظاہری فعل کی بنا پر اسے سزا نہ دی جائے بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس نے کس نیت سے وہ فعل کیا ہے ۔ لیکن دنیا کی کسی عدالت کے پاس بھی وہ ذرائع نہیں ہیں جن سے وہ نیت کی ٹھیک ٹھیک تحقیق کرسکے ۔ یہ صرف اور صرف خدا ہی کرسکتا ہے کہ انسان کے ہر ظاہری فعل کے پیچھے جو باطنی محرکات کارفرما رہے ہیں ان کی بھی جانچ پڑتال کرے اور اس کے بعد یہ فیصلہ کرے کہ وہ کس جزا یا سزا کا مستحق ہے ۔ پھر آیت کے الفاظ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ محض اللہ کے اس علم کی بنا پر نہیں ہوگا جو وہ دلوں کے ارادوں اور نیتوں کے بارے میں پہلے ہی سے رکھتا ہے ، بلکہ قیامت کے روز ان رازوں کو کھول کر علانیہ سامنے رکھ دیا جائے گا اور کھلی عدالت میں جانچ پڑتال کر کے یہ دکھا دیا جائے گا کہ ان میں خیر کیا تھی اور شر کیا تھا ۔ اسی لیے وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ تحصیل کے معنی کسی چیز کو نکال باہر لانے کے بھی ہیں ، مثلا چھلکا اتار کر مغز نکالنا ، اور مختلف قسم کی چیزوں کو چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کرنے کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ لہذا دلوں میں چھپے ہوئے اسرار کی تحصیل میں یہ دونوں باتیں شامل ہیں ۔ ان کو کھول کر ظاہر کردینا بھی اور ان کو چھانٹ کر برائی اور بھلائی کو الگ کردینا بھی ۔ یہی مضمون سورہ طارق میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاۗىِٕرُ جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی ( آیت 9 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: یعنی مُردوں کو قبروں سے نکال دیا جائے گا، اور لوگوں کے سینوں میں چھپے راز کُھل جائیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(100:10) وحصل ما فی الصدور۔ اس کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے۔ حصل ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب تحصیل (تفعیل) مصدر سے۔ جس کے معنی چھلکے سے گودا نکالنے کے ہیں۔ ما موصولہ فی الصدور اس کا صلہ، موصول و صلہ مل کر حصل کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔ وہ حاصل کیا گیا۔ وہ ظاہر کیا گیا۔ اور جو کچھ سینوں میں ہے اسے ظاہر کیا جائے گا۔ سینوں کے راز ّشکارا کر دئیے جائیں گے۔ (لوگوں کے پوشیدہ افعال، خگیہ ارادے، مخفی نیتیں، سربستہ راز، قلبی جذبات، باطنی کیفیات سب ظاہر کر دئیے جائیں گے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَ حُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِۙ٠٠١٠﴾ اور سینوں میں جو کچھ چھپا رکھا ہے وہ سب ظاہر کردیا جائے گا جو کوئی گناہ بری نیت مال کی محبت، دنیا کی الفت دل میں چھپائے ہوئے تھے قیامت کے دن سب کو ظاہر کردیا جائے گا، یوں تو آج بھی اسی دنیا میں ہر ایک کے احوال اور اعمال اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ پوری طرح سب حالات سے باخبر ہے چونکہ وہ حساب کا دن ہوگا اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہ کو اس دن پوری طرح بندوں کے حالات کی خبر ہوگی۔ نیز بندوں پر بھی ان کے اعمال واضح ہوجائیں گے جسے گزشتہ سورت کے آخر میں واضح فرما دیا ہے۔ والحمد للہ تعالیٰ علی ما انعم واکرم من الآ لاء والنعم

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) جور جو کچھ سینوں میں پوشیدہ ہے وہ سب آشکارا کردیا جائے گا یعنی دلوں کی تمام مخفی باتیں اور سینوں کے تمام راز ظاہر ہوجائیں گے خواہ وہ خیر ہوں یا شر ہوں۔