Surat ul Aadiyaat

Surah: 100

Verse: 11

سورة العاديات

اِنَّ رَبَّہُمۡ بِہِمۡ یَوۡمَئِذٍ لَّخَبِیۡرٌ ٪﴿۱۱﴾  25

Indeed, their Lord with them, that Day, is [fully] Acquainted.

بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, that Day their Lord will be Well-Acquainted with them. meaning, He knows all of that they used to do, and He will compensate them for it with the most deserving reward. He does not do even the slightest amount of injustice. This is the end of the Tafsir of Surah Al-`Adiyat, and all praise and thanks are due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 یعنی جو رب ان کو قبروں سے نکال لے گا ان کے سینوں کے رازوں کو ظاہر کر دے گا اس کے متعلق ہر شخص جان سکتا ہے کہ وہ کتنا باخبر ہے ؟ اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں پھر وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔ یہ گویا ان اشخاص کو تنبیہ ہے جو رب کی نعمتیں تو استعمال کرتے ہیں لیکن اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے، اسکی ناشکری کرتے ہیں۔ اسی طرح مال کی محبت میں گرفتار ہو کر مال کے وہ حقوق ادا نہیں کرتے جو اللہ نے اس میں دوسرے لوگوں کے رکھے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] اللہ تو آج بھی، پہلے بھی اور اس وقت بھی یعنی ہر وقت بندوں کے اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دن تمام لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ اللہ دنیا کی زندگی میں بھی ان کے احوال سے پوری طرح باخبر تھا اور آج بھی پوری طرح باخبر ہے۔ لہذا کسی شخص کو انکار کی گنجائش نہ رہے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ان ربھم بھم یومئذ لخیر : اس آیت پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ تو ہمیشہ ہی بندوں کے حالات سے باخبر ہے، پھر اس دن کو خاص کیوں فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دن جب ظاہری اعضا سے سر زد ہونے والے اعمال کے علاوہ دلوں کے اعمال ظاہر کر کے ان کی بھی جزا و سزا دی جائے گی، تو اگر پہلے کسی کو شک تھا تو اس دن وہ بھی والے اعمال کے علاوہ دلوں کے اعمال ظاہر کر کے ان کی بھی جزا و سزا دی جائے گی، تو اگر پہلے کسی کو شک تھا تو اس دن وہ بھی دور ہوجائے گا کہ یقیناً ان کا رب ان کے متعلق خوب خبر رکھنے والا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ رَبَّہُمْ بِہِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌ۝ ١١ ۧ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا دن ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یا ددلاؤ۔ میں ایام کی لفظ جلالت کی طرف اضافت تشریفی ہے اور ا یام سے وہ زمانہ مراد ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضلو انعام کے سمندر بہا دیئے تھے ۔ خبر الخُبْرُ : العلم بالأشياء المعلومة من جهة الخَبَر، وخَبَرْتُهُ خُبْراً وخِبْرَة، وأَخْبَرْتُ : أعلمت بما حصل لي من الخبر، وقیل الخِبْرَة المعرفة ببواطن الأمر، والخَبَار والخَبْرَاء : الأرض اللّيِّنة « وقد يقال ذلک لما فيها من الشّجر، والمخابرة : مزارعة الخبار بشیء معلوم، والخَبِيرُ : الأكّار فيه، والخبر : المزادة العظیمة، وشبّهت بها النّاقة فسمّيت خبرا، وقوله تعالی: وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] ، أي : عالم بأخبار أعمالکم، وقیل أي : عالم ببواطن أمورکم، وقیل : خبیر بمعنی مخبر، کقوله : فَيُنَبِّئُكُمْ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ [ المائدة/ 105] ، وقال تعالی: وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] ، قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبارِكُمْ [ التوبة/ 94] ، أي : من أحوالکم التي نخبر عنها . ( خ ب ر ) الخبر ۔ جو باتیں بذریعہ خبر کے معلوم ہوسکیں ان کے جاننے کا نام ، ، خبر ، ، ہے کہا جاتا ہے ۔ خبرتہ خبرۃ واخبرت ۔ جو خبر مجھے حاصل ہوئی تھی اس کی میں نے اطلاع دی ۔ بعض نے کہا ہے کہ خبرۃ کا لفظ کسی معاملہ کی باطنی حقیقت کو جاننے پر بولا جاتا ہے ۔ الخبارو الخبرآء نرم زمین ۔ اور کبھی درختوں والی زمین پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ المخابرۃ ۔ بٹائی پر کاشت کرنا ۔ اسی سے کسان کو ِِ ، ، خبیر ، ، کہاجاتا ہے ۔ الخبر۔ چھوٹا توشہ دان ۔ تشبیہ کے طور پر زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کو بھی خبر کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ :۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] اور جو کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی حقیقت کو جانتا ہے :۔ اور بعض نے کہا ہے کہ وہ تمہارے باطن امور سے واقف ہے ۔ اور بعض نے خبیر بمعنی مخیر کہا ہے ۔ جیسا کہ آیت ۔ فَيُنَبِّئُكُمْ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ [ المائدة/ 105] پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائیگا سے مفہوم ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] اور تمہارے حالات جانچ لیں ۔ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبارِكُمْ [ التوبة/ 94] خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتادئے ہیں ۔ یعنی تمہارے احوال سے ہمیں آگاہ کردیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ ١{ اِنَّ رَبَّہُمْ بِہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ ۔ } ” یقینا ان کا رب اس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا۔ “ اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام اعمال و افعال کا علم ہے اور اس دن وہ ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے لے گا ۔ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا ۔ آمین ! انذارِ آخرت کے مضمون کی حامل ان سورتوں میں سے ہر سورت کی تلاوت کے بعد یہ دعا ضرور کرنی چاہیے کہ اے اللہ ! تو ہم سے آسان حساب لینا اور اپنی خصوصی رحمت سے ہمارے گناہوں کو معاف کردینا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9 That is, He will be knowing full well who is who, and what punishment or reward he deserves.

سورة العدیات حاشیہ نمبر : 9 یعنی اس کو خوب معلوم ہوگا کہ کون کیا ہے اور کس سزا یا جزا کا مستحق ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(100:11) ان ربھم بھم یومئذ لخبیر : ان حرف تحقیق، حرف مشبہ بالفعل، ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان : لخبیر اس کی خبر باقی کلام متعلق خبر۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اذا بعثر تا فی الصدور جملہ شرطیہ ہو اور ان ربھم بھم یومئذ لخبیر۔ واجب شرط۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ شرط اور جواب شرط فعل یعلم کا مفعول ہو۔ ترجمہ ہوگا :۔ یقینا ان کا رب ان سے اس دن خوب باخبر ہوگا۔ (اگرچہ اللہ تعالیٰ آج بھی ان کے حالات سے اچھی طرح واقف ہے لیکن اس روز کی آگاہی اور باخبری کی کیفیت اس روز جداگانہ ہوگی۔ (ضیاء القرآن) زجاج کا بیان ہے کہ :۔ خبیر سے مراد ہے بدلہ دینے والا۔ سو مطلب یہ ہے کہ ان کا رب اس دن بدلہ دے گا۔ (تفسیر مظہری)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 14 لفظی ترجمہ یہ ہے ” بیشک ان کا رب ان سے اس دن خوب باخبر ہوگا۔ “ لیکن مطلب یہی ہے کہ ان کی خوب خبر لے گا۔ اس کی مثال دوسرے مقام پر یہ ہے : اولئک الذین یعلم اللہ مافی قلوبھم۔ “ (نساء 63) اس کا بھی نقشی ترجمہ یہ ہے کہ ’ داللہ ان کے دلوں کی باتوں کو جانتا ہے۔ “ لیکن مطلب یہی ہے کہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیئے بغیر نہ چھوڑے گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سب لوگ رب کی طرف لوٹنے والے ہیں اور اس دن ان کے امور ، ان کے رازوں اور ان کے حالات سے اللہ نہایت ہی اچھی طرح خبردار ہوگا۔ اس دن کی قید نہیں ہے ، اللہ تو ہر وقت اور ہر دن ان حالات سے خبردار ہے۔ لیکن یہاں ” یومئذ “ کا لفظ نہایت موثر ہے۔ اور اس کے آثار انسان کو اس دن کے بارے میں چوکنا کردیتے ہی۔ یہ کہ اللہ اس دن خبردار ہوگا یعنی کوئی سزا سے نہ بچ سکے گا۔ حساب و کتاب نہایت علم وخبرداری پر مبنی ہوگا۔ یہی ضمنی مفہم ہی یہاں اہمیت رکھتا ہے۔ غرض یہ پوری سورت ایک مسلسل منظر ہے۔ ایک خوفناک وہیبت ناک منظر ، معانی ، الفاظ اور انداز بیان سب کچھ بدل جاتا ہے اور یہ منظر اختتام پذیر ہوتا ہے اور یہ قرآن کے معجزانداز کلام کا ایک مخصوص پہلو ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) بے شک اس دن ان کا پروردگار ان کے تمام احوال سے باخبر اور آگاہ ہے۔ یعنی یوں تو ہر وقت بندے کے ظاہر اور پوشیدہ حال سے اللہ تعالیٰ آگاہ ہے اور اس کا علم بندے کے ظاہر و باطن کو محیط ہے لیکن اس دن اس کا علم سب پر ظاہر ہوجائے گا جبکہ وہ ہر ایک کو اس کے کئے کی پاداش دے گا یا صلہ عطا فرمائے گا۔ اگر انسان اس دن یقین کرتا تو اپنی کنودیت یعنی کفران نعمت اور حب مال اور اپنی بخیلی سے باز آجاتا اور اللہ تعالیٰ کافرماں بردار اور شکرگزار ہوجاتا۔ تم تفسیر سورة العادیات